• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علی رضی اللہ کا ذکر عبادت ہے ! نعوذ باللہ شیعہ روافضی کے جھوٹ اور مکاریاں

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
وقال السيوطي في الآلئ " قلت له متابع عن الاعمش قال الشيرازي في الالقاب انبانا ابو علي زاهر بن احمد حدثنا ابو عبد الله محمد بن مخلد حدثنا احمد بن الحجاج بن الصلت حدثنا محمد بن مبارك استوية حدثنا منصور بن ابي الاسود عن الاعمش به . " انتهى كلام السيوطي
آپ کو اس جھوٹی روایت کے متابع بھی ملے تو ’’ موضوعات ‘‘ میں ۔۔۔شاید آپ کو علم نہیں ’’اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة ‘‘ جھوٹی حدیثوں کا مجموعہ ہے ۔
اور :
شیرازی کے ذکر کردہ اس متابع میں ’’ مَنْصُور بْن أبي الْأسود ‘‘ بڑے شیعوں میں سے ایک ہے،
علامہ ذہبی میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں :
’’ كان من الشيعة الكبار ‘‘یعنی بڑا شیعہ تھا ۔
اور یہ روایت اس کے فاسد مذہب کی تائید میں ہے ،لہذا مردود ہے ،
اور اس روایت کے ایک راوی ۔۔أَحْمَد بْن الْحجَّاج بْن الصَّلْت ۔۔کی کسی سے توثیق منقول نہیں ۔
مجھے اس کے بارے جرح وتعدیل نہیں مل سکی ۔اگر آپ کے علم میں ہو پیش کریں
 
Last edited:

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
2- عاصم بن عمرو البجلي : روى متابعته في فضائل الخلفاء ج1 ص67 رقم 38
حدثنا محمد بن الحسن بن محمد بن الحسين بن ابي الحسين ، ثنا احمد بن جعفر بن اصرم ثنا علي بن المثنى ثنا عاصم بن عمر البجلي
عن الاعمش عن ابراهيم عن علقمة عن عبد الله قال : قال رسول الله (ص) النظر الى وجه علي عبادة " وذكرها السيوطي في اللآلئ
پہلی بات تو وہی کہ :
آپ کو اس جھوٹی روایت کے متابع بھی ملے تو ’’ موضوعات ‘‘ میں ۔۔۔شاید آپ کو علم نہیں ’’اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة ‘‘ جھوٹی حدیثوں کا مجموعہ ہے ۔
دوسری بات یہ کہ :
اس متابعت میں ’’ علی بن المثنی ‘‘ کوفی ضعیف ہے ۔
علامہ الذہبی ’’ میزان ‘‘ میں نقل کرتے ہیں :
علي بن المثنى الكوفي. عن أبي إسحاق.
ضعفه الأزدي.
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
3- وتابعه عبيد الله بن موسى ( من رجال الستة )
قال ابو نعيم في فضائل الخلفاء ج1 ص67 رقم 38
بعد ان روى الحديث عن عاصم بن عمرو البجلي عن الاعمش عن ابراهيم قال :
" ورواه عبيد الله بن موسى ومنصور بن ابي الاسود ويحيى بن عيسى الرملي عن الاعمش مثله " انتهى
والرجل من رجال الستة البخاري ومسلم والترمذي وابو داود والنسائي وابن ماجة
یہ بھی محض جھوٹ ہے ،
امام حاکم نے المستدرک میں اسی روایت کو درج کیا ہے اور تلخیص المستدرک میں امام الذہبی کہتے ہیں :

حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ، ثنا صالح بن مقاتل بن صالح، ثنا محمد بن عبد بن عتبة، ثنا عبد الله بن محمد بن سالم، ثنا يحيى بن عيسى الرملي، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن علقمة، عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «النظر إلى وجه علي عبادة» تابعه عمرو بن مرة، عن إبراهيم النخعي
[التعليق - من تلخيص الذهبي] 4682 - وذا موضوع

یعنی یہ روایت بالکل جھوٹی ،اور گھڑی ہوئی ہے ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,533
پوائنٹ
791
4- متابعة الثوري : الظاهر والله العالم – بقرينة الراوي والمروي – انه سفيان الثوري وهو من رجال الستة
وهذه المتابعة اخرجها ابن عساكر في تاريخه ج42 ص352
" وروي عن الاعمش عن ابي وائل عن عبد الله أخبرناه أبو الحسين الخطيب وأبو الحسن المقدسي قالا أنا أبو عبد الله بن أبي الحديد أنا مسدد بن علي نا إسماعيل بن القاسم الحلبي نا أبو أحمد العباس بن الفضل بن جعفر المكي نا أبو بكر محمد بن هارون بن حسان المعروف بابن البرقي نا حماد بن المبارك نا أبو نعيم نا الثوري عن الأعمش عن أبي وائل عن عبد الله بن مسعود عن النبي ( صلى الله عليه وسلم ) قال النظر إلى وجه علي بن أبي طالب عبادة "
اس میں بھی کئی خرابیاں ہیں ،فی الحال ایک عرض کئے دیتا ہوں :
اس کے ایک راوی ’’ حماد بن المبارک ‘‘ مجہول ہے ذہبی ؒ میزان میں لکھتتے ہیں :
حماد بن المبارك، بغدادي، لا يعرف.
 

آصف حسین

مبتدی
شمولیت
جنوری 27، 2016
پیغامات
24
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
25
محترم اسحاق سلفی بہتریں کاوش ہے لیکن اصول الحدیث کو اپنی من مانی کے لے استعمال کیا آپ نے

آپ نے اوپر کہا ہے شیرازی " کبار من شیعہ " تھا لہذا اسکی روایت مردود ہے

کاش آپ نے شیخ معلمی کی تنکیل پڑھی ہوتی تو ایسی بات نہ کرتے ۔ وہ کہتے ہے کہ کسی راوی کا بدعتی ہونا روایت کی صحت کے لے مضر نہیں اگر چہ وہ روایت اسکے مذھب کی حمایت میں بھی ہو۔ اور امام ذھبی نے اسکے لے شیعہ کا لفظ استعمال کیا ہے نہ کہ رافضی کا ۔۔۔ دونوں میں امام ذھبء کے نزدیک فرق ہے ۔میذان اعتدال کے پہلے ہی جلد میں ابان بن تغلب کے زیل میں اس بات کو انہوں نے نقل کیا ہے



دوسرا اشکال جو آپ نے لایا اس روایت کے بارے میں وہ یہ کہ احمد بن الحجاج بن الصلت کی توثیق نہیں ملی ۔ تو عرض ہے ابن حجر نے انکی ایک روایت کے بارے میں لسان میزان میں یوں کہا :

أحمد بن الحجاج بن الصلت عن سعدويه بإسناد الصحاح مرفوعا يختم هذا الأمر بغلام۔۔۔۔۔۔۔ الخ


اور ایک بچگانہ اعتراض یہ تھا کہ میں نے الموضوعات سے متابعت دکھائی تو اپکو بتاتا چلوں کہ کوئی بھی ضعیف روایات کی کتاب ہو ۔۔۔ وہ حتمی نہیں تحقیق سے بہت سی احادیث صحیح یا حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے جیسا کہ الموضوعات لابن جوزی میں دیکھا جا سکھتا ہے


اس حدیث کے تمام طرق اس لنک پر دیکھے جا سکھتے ہے ۔11 اصحب سے یہ حدیث نقل ہوئی ہے جیسا کہ امام سیوطی نے نقل کیا ہے


http://al-hadi.us/religion/research/ahlulbayt/6_24.html
 

آصف حسین

مبتدی
شمولیت
جنوری 27، 2016
پیغامات
24
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
25
آپ نے امام ذھبی کا قول مستدرک الحاکم کی ایک روایت کے بارے میں لایا کہ انہوں نے اسے موضوع قرار دیا جبکہ امام حاکم ، امام ابن حجر الھیثمی وغیرھم اسکو صحیح حسن مانتے تھے ۔۔۔اگر امام ذھبی کی ہی اندھی تقلید آپ کر رہے ہو تو یہ لیں امام ذھبی نے مستدرک کی تلخیص میں اس والی روایت کے زیل میں کچھ نہیں کہا ہے


4683 - حدثنا أبو بكر محمد بن يحيى القاري ثنا المسيب بن زهير الضبي ثنا عاصم بن علي ثنا المسعودي عن عمرو بن مرة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم النظر إلى وجه علي عبادة

المستدرك [ جزء 3 - صفحة 153 ]
 

آصف حسین

مبتدی
شمولیت
جنوری 27، 2016
پیغامات
24
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
25
اب ھمارے اشکال کا بھی جواب دیں آپ نے اس حدیث " ما انا علينا و اصحابي " کو صحیح کہا ۔۔۔ لیکن ابھی تک عبد الرحمنا بن انعم الافریقی کی توثیق نہیں دی ۔۔۔ عجیب منطق ہے آپکی امام علی کے فضائل کو ضعیف ثابت کرنے کے لے کتنی محنت کی جا رہی ہے لیکن باقی اصحاب کے فضائل آنکھ بند کر کے نقل کئے جا رہے ہے ۔۔۔۔۔ یہ نصب نہیں تو کیا ہے
 
شمولیت
ستمبر 21، 2015
پیغامات
2,696
ری ایکشن اسکور
755
پوائنٹ
290
محترم آصف صاحب
خليفة المسلمين الرابع ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کثیر ہیں اور ہم انکو تسلیم بهی کرتے ہیں ، آپ سے علمی بحث احادیث نبوی پر هو رہی هے نا کہ حب علی پر ۔ هماری باتوں کو پہلے بغور سمجہیں اور جیسا کہ آپ سے کہا تہا کہ آپ موضوع پر قائم رہیں تو آپ حب علی پر نا جائیں ۔ حب علی همارے پاس کسی سے کم نہیں اگر غلو هٹا دیا جائے ۔
احادیث کی بابت آپ اس فورم پر جو کہنا چاہتے ہیں وہ کہیں ۔ پیش کریں ۔ کہیں سے بهی کاپی پیسٹ کریں لیکن دلیل قطعی لائیں ۔
ہم آپکے بیانات کو اس فورم پر دیکهنا چاہتے ہیں ۔
 
Top