• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عمومی گفتگو (گرائمر کلاس)

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
عبدہ بھائی مجھے بھی پڑھنے کی اجازت ہے؟
آپ کو پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی
کیونکہ آپ تو خود عربی پڑھا رہے ہیں۔ میں نے خضرحیات بھائی کو مشورہ دیا تھا کہ اگر آپ مصروف ہیں تو اشماریہ سے عربی سیکھنے کے لئے استفادہ کیا جائے کیونکہ وہ حق فورم پر عربی کی کلاسیں لے رہے ہیں۔ جس پر خضر حیات بھائی نے کہا کہ ہمارا انداز مختلف ہوگا۔ اور الحمدللہ واقعی ایسا ہے۔ میرا خیال ہے کہ عبدہ بھائی اور آپ سے بیک وقت استفادہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے جس بات کو عبدہ بھائی بہتر نہ سمجھا سکیں اسکی وضاحت آپ اپنی کلاسز میں بہتر انداز سے کردیں۔ اگر آپ اپنے حق فورم پر عربی سکھانے کے دھاگوں کا لنک یہاں لگادیں تو میرے خیال سے اچھا ہوگا۔ان شاء اللہ
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

عبدہ بھائی آپ نے لکھا ہے کہ فاعل کی پہچان اس پر پیش کی موجودگی اور مفعول کی پہچان اس پر زبر کی علامت ہونا ہے۔ اس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ اعراب کے بغیر جملے کے صحیح معنی سمجھنا ممکن نہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ذہن میں یہ سوال آیا ہے کہ عموماٌ عربی کتابوں کی تحریریں بغیر اعراب کے ہوتی ہیں تو وہاں معنوں کا تعین بغیر اعراب کے کیسے کیا جاتا ہے؟
 

ماریہ انعام

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 12، 2013
پیغامات
498
ری ایکشن اسکور
372
پوائنٹ
164
اعراب کی ضرورت ہم عجمیوں کو ہے ۔عرب اہلِ زبان ہیں وہ اس کے بغیر ہی عبارت سمجھ لیتے ہیں بلکہ گرائمر میں مہارت رکھنے والے عجمی حضرات بھی اعراب کے بغیر ہی عربی عبارت سمجھ لیتے ہیں ۔ابتدا میں قرآن پر نقطے بھی نہیں تھے ۔دائرہ اسلام میں عجمیوں کی آمد کے پیشِ نظر حجاج دور میں لگوائے گئے تھے۔
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عبدہ بھائی آپ نے لکھا ہے کہ فاعل کی پہچان اس پر پیش کی موجودگی اور مفعول کی پہچان اس پر زبر کی علامت ہونا ہے۔ اس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ اعراب کے بغیر جملے کے صحیح معنی سمجھنا ممکن نہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ ذہن میں یہ سوال آیا ہے کہ عموماٌ عربی کتابوں کی تحریریں بغیر اعراب کے ہوتی ہیں تو وہاں معنوں کا تعین بغیر اعراب کے کیسے کیا جاتا ہے؟
جزاک اللہ محترم بھائی پہلے تو آپ کی اوپرمحترم اشماریہ بھائی کے حوالے سے تجویز پر مکمل اتفاق ہے
دوسرا جہاں تک آپ کے اوپر سوال کا تعلق ہے تو محترم بھائی انہیں چیزوں کو ہی تفصیل سے پڑھانے کے لئے یہ کلاس شروع کیا گئی ہے مگر اسکی جگہ چونکہ تدریس کا دھاگہ ہے یہاں پھر بات کہیں سے کہیں چلی جائے گی اس لیے وہاں پر بات ہو گی ان شاءاللہ وہاں آپ بھائی جتنے زیادہ سوال کریں گے کلاس اتنی ہی زیادہ مفید ہو گی کیونکہ ہو سکتا ہے ایک عالم ایک چیز کو اپنے ذہن کے مطابق معمولی جان رہا ہو مگر مبتدی کے لئے وہ عجیب ہو اسکے لئے کلاس ممبران کا ایک علیحدہ پی ایم کے ذریعہ باہمی مذاکرہ کے بندوبست بھی کروں گا تاکہ وہاں بے تکلفی سے اسباق بارے بات ہو سکے پس آپ سب بھائیوں سے درخواست ہے کہ وہاں زیادہ سے زیادہ سوال و جواب کرنے ہیں میں محترم انس بھائی محترم خضر بھائی اور محترم اشماریہ بھائی جیسے لوگوں کی مدد سے جواب دیتا رہوں گا اللہ قبول کرے امین
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
اعراب کی ضرورت ہم عجمیوں کو ہے ۔عرب اہلِ زبان ہیں وہ اس کے بغیر ہی عبارت سمجھ لیتے ہیں بلکہ گرائمر میں مہارت رکھنے والے عجمی حضرات بھی اعراب کے بغیر ہی عربی عبارت سمجھ لیتے ہیں ۔
جزاک اللہ بہنا واقعی اکثر اعراب کی اہل زبان یا اہل علم کو ضرورت نہیں پڑتی البتہ کبھی گرائمر یا سیاق و سباق جاننے کے باوجود ایک سے زیادہ اعراب کا احتمال ہوتا ہے پس وہاں اعراب نا گزیر ہوتا ہے لیکن بہنا یہ ساری تفصیل ان شاءاللہ اپنی اصل جگہ یعنی تدریس کے دھاگہ یا مذاکرہ کے پی ایم میں بہتر ہو گی جو ایک دو دن میں محترم شاکر بھائی کی طرف سے معاملہ فائنل ہونے پر بنا دیا جائے گا اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو امین
 
  • پسند
Reactions: Dua

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

میں ابھی بھی اپنی بات نہیں سمجھا سکا۔ دیکھیں بعض اوقات انسان کسی لفظ کی ادائیگی میں ایسی غلطی کرتا ہے کہ سامنے والا اسکے کہنے کا مطلب بھی نہیں سمجھ پاتا۔جب وہ اس لفظ کی ادائیگی درست کرتا ہے تب بات سمجھ میں آتی ہے۔ جیسے کوئی شخص ایک جملہ کہتا ہے اس میں کچھ الفاظ کو غلط بول جاتا ہے تو سامنے والا شخص دو تین صحیح جملے بول کر اس سے پوچھتا ہے کہ کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو۔ پھر وہ شخص ان جملوں میں سے صحیح جملہ جو اس کا مقصد ہوتا ہے کی نشاندہی کردیتا ہے۔ جیسے عربی میں ایک لفظ ’’ید‘‘ ہے یعنی ہاتھ۔ اب جس شخص نے یہ لفظ کبھی سنا نہ ہوگا وہ اسے بعض اوقات پیش کی آواز سے پڑھے گا اور کبھی زیر کی آواز سے بھی پڑھ سکتا ہے اور ظاہر ہے جب وہ شخص اس لفظ کو بولے گا تو سننے والا سمجھ ہی نہیں سکے گا کہ وہ کیا بول رہا ہے؟
اب میں یہ چاہتا ہوں کہ جس طرح بعض ویب سائٹس اور سی ڈی وغیرہ میں انگریزی الفاظ کی آڈیو بھی موجود ہوتی ہے تاکہ سننے والا جان سکے کہ اس لفظ کو یوں بولا جاتا ہے۔ کیا اسی طرح عربی زبان میں بھی ایسا کوئی کام کیا گیا ہے کہ لغت vocabulary کی ادائیگی pronunciation بھی آڈیو کی صورت میں موجود ہو تاکہ پڑھنے اور کہنے والا ’’ید‘‘ کو پیش اور زیر سے نہ پڑھے بلکہ زبر کی آواز ہی سے پڑھے۔
اسکی مثال دیکھیں یہاں آغاز ہی میں آڈیو کی صورت میں بتایا گیا ہے کہ لفظ pronunciation کیسے ادا کرنا ہے۔
https://www.google.com.pk/webhp?source=search_app&gws_rd=cr&ei=wVtGU7DBHsLXOfjWgZgI#q=pronunciation
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,777
ری ایکشن اسکور
8,421
پوائنٹ
964
شاہد بھائی نے جو مسئلہ اٹھایا ہے یقینا اس کا حل ان شاء اللہ دوران کورس ان کوسمجھ آجائے گا ۔
بہر صورت اب بات چل نکلی ہے تو ذرا وضاحت کرنے میں کوئی حرج نہیں :
کہ عربی کلمات پر جو حرکات ( زیر زبر پیش ) پڑھی جاتی ہیں اس کی دو قسمیں ہیں :
پہلی قسم : ہر کلمہ کے آخری حرف کی حرکت ۔ اس کو آپ اعرابی حرکت کہہ سکتے ہیں ۔
دوسری قسم : آخری سے پہلے حروف کی حرکات ۔
'' مَحَمَّدٌ ''
اس لفظ میں ’’ د ‘‘ پر موجود پیش پہلی قسم سے ہے ۔ جبکہ اس سے پہلے م ، ح ،م پر موجود حرکتیں دوسری قسم سے ہیں ۔
پہلی قسم کی حرکات کو جاننے کے لیے اس میں غلطی سے بچنے کے لیے علم النحو پڑھا جاتا ہے ۔
جبکہ دوسری قسم کی حرکات جاننے کے لیے علم الصرف پڑھا جاتا ہے ۔
جو کہ ان شاء اللہ دونوں آپ کو عبدہ بھائی پڑھائیں گے ۔
شاہد بھائی کا حالیہ سوال کا تعلق بھی دوسری قسم یعنی علم الصرف سے تعلق رکھتا ہے ۔
چونکہ عربی زبان بہت ہی وسیع ذخیرہ الفاظ رکھتی ہے اس لیے صرف مروجہ قواعد صرف پڑہنے کے باوجود پھر بھی بہت سارے الفاظ کی حرکات جاننے کی حاجت رہتی ہے ۔
اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دو چیزیں معاون ثابت ہوسکتیں ہیں :
1۔ عربی لغات ( ڈکشنریاں ) کا زیادہ سے زیادہ استعمال ۔ آپ کو کسی بھی لفظ کا تلفظ نہیں آتا آپ عربی لغت دیکھیں وہاں انہوں نے حرکات لگا کر سمجھایا ہوگا ۔
2۔ عربی تقاریر ، مکالمات ، مباحثے ، بول چال اہل زبان سے سنیں ۔ آہستہ آہستہ الفاظ کا صحیح ( یا مروجہ ) تلفظ ذہن میں بیٹھ جائے گا ۔
آن لائن اس طرح کی کوئی ویب سائٹ یا سوفٹ ویر جو بول کر تلفظ بتائیں ، میرے علم میں نہیں ۔ لیکن امید ہے کہ ہوں گے ضرور ۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
745
پوائنٹ
290
آپ کو پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی
کیونکہ آپ تو خود عربی پڑھا رہے ہیں۔ میں نے خضرحیات بھائی کو مشورہ دیا تھا کہ اگر آپ مصروف ہیں تو اشماریہ سے عربی سیکھنے کے لئے استفادہ کیا جائے کیونکہ وہ حق فورم پر عربی کی کلاسیں لے رہے ہیں۔ جس پر خضر حیات بھائی نے کہا کہ ہمارا انداز مختلف ہوگا۔ اور الحمدللہ واقعی ایسا ہے۔ میرا خیال ہے کہ عبدہ بھائی اور آپ سے بیک وقت استفادہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ ہوسکتا ہے جس بات کو عبدہ بھائی بہتر نہ سمجھا سکیں اسکی وضاحت آپ اپنی کلاسز میں بہتر انداز سے کردیں۔ اگر آپ اپنے حق فورم پر عربی سکھانے کے دھاگوں کا لنک یہاں لگادیں تو میرے خیال سے اچھا ہوگا۔ان شاء اللہ
جزاک اللہ محترم بھائی پہلے تو آپ کی اوپرمحترم اشماریہ بھائی کے حوالے سے تجویز پر مکمل اتفاق ہے
دوسرا جہاں تک آپ کے اوپر سوال کا تعلق ہے تو محترم بھائی انہیں چیزوں کو ہی تفصیل سے پڑھانے کے لئے یہ کلاس شروع کیا گئی ہے مگر اسکی جگہ چونکہ تدریس کا دھاگہ ہے یہاں پھر بات کہیں سے کہیں چلی جائے گی اس لیے وہاں پر بات ہو گی ان شاءاللہ وہاں آپ بھائی جتنے زیادہ سوال کریں گے کلاس اتنی ہی زیادہ مفید ہو گی کیونکہ ہو سکتا ہے ایک عالم ایک چیز کو اپنے ذہن کے مطابق معمولی جان رہا ہو مگر مبتدی کے لئے وہ عجیب ہو اسکے لئے کلاس ممبران کا ایک علیحدہ پی ایم کے ذریعہ باہمی مذاکرہ کے بندوبست بھی کروں گا تاکہ وہاں بے تکلفی سے اسباق بارے بات ہو سکے پس آپ سب بھائیوں سے درخواست ہے کہ وہاں زیادہ سے زیادہ سوال و جواب کرنے ہیں میں محترم انس بھائی محترم خضر بھائی اور محترم اشماریہ بھائی جیسے لوگوں کی مدد سے جواب دیتا رہوں گا اللہ قبول کرے امین
میں اپنی مصروفیت کی وجہ سے کلاسز درست طور پر لے نہیں پا رہا اور کچھ وہاں سیکھنے والوں کے حوصلے اور جذبے کی کمی بھی ہے۔ اس لیے میرے لنک دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔
اور عبدہ بھائی تو ماشاء اللہ بہت عمدہ انداز میں پڑھا رہے ہیں۔
عبدہ بھائی اگر مجھے اجازت مل جائے تو میرے علم میں اضافہ ہوگا۔ باقی امتحانوں وغیرہ میں میں شریک نہیں ہوں گا کیوں کہ یہ بے ایمانی ہوگی۔
شاکر بھائی یہ لکھنے والے پیڈ کو دیکھ لیجیے۔ میرے ہر اسپیس کے ساتھ لکھائی سے پہلے خالی جگہ کا اضافہ ہو رہا ہے۔
 

شاہد نذیر

سینئر رکن
شمولیت
فروری 17، 2011
پیغامات
1,953
ری ایکشن اسکور
6,242
پوائنٹ
412
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

اگرچہ میں نے ابھی عربی سکھانے کے لئے یہاں دی گئی کتابوں کو نہیں دیکھا لیکن امید ہے کہ پڑھنے والوں کے لئے فائدہ مند ہونگی۔ اس لئے میں اس کا لنک دے رہا ہوں۔
http://islamic-forum.net/index.php?showtopic=14806
 

Dua

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 30، 2013
پیغامات
2,579
ری ایکشن اسکور
4,431
پوائنٹ
463
السلام علیکم
اگرچہ بنیادی طور پر ہم عربی گرامر کے اصولوں سے واقفیت حاصل کر رہیں ہیں ، مگر
ایک بات بیان کرنا ضروری ہے کہ اس وقت ہم 3 طرح کی گرامر سیکھ رہے ہیں ۔
1۔عربی گرامر
2۔انگلش گرامر
3۔اردو گرامر
ماشاء اللہ ، تبارک اللہ
اللہ تعالی استاد محترم کو بے شمار اجر و ثواب سے نوازے کہ یہ اس قدر محنت سے ہمیں پڑھا رہے ہیں۔
جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین
 
Top