• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عوام اور علماء کرام میں خلیج !!!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
10653513_407682739370343_6144002449609267479_n.png


عوام اور علماء کرام میں خلیج !

مصنف/مقرر/مولف خالد حسین گورایہ


عوام اور علماء کرام میں خلیج مغرب کا مضبوط ترین ہتھیار

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ

بلا کسی طویل تمہید کے نفس موضوع پر آتے ہوئے ہم یہ کہنے کی جسارت کر رہے ہیں کہ اس وقت معاشرے کی شکست وریخت، تنزلی وانحطاط، بے راہ روی اور شتر بے مہاری کے جہاں دیگر اسباب ہیں وہاں مرکزی سبب اہل علم اور عوام الناس کے مابین وہ خلیج اور فاصلہ ہے جسےپر کرنے کیلئے دونوں طبقوں کی جانب سے کوئی خاطر خواہ توجہ واہمیت نہیں دی گئی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ روحانی امراض میں اضافہ ہوتا چلاگیا، جہالت بڑھتی چلی گئی۔ اہل علم کی زبانوں پر شکوہ سننے کو ملتا ہے کہ عوام علماء کی قدر داں نہیں ! اور عوام کہتے ہے اہل علم کو ہمارے مسائل سے سروکار نہیں۔

بڑا طویل عرصہ ہوا ہے اس کشمکش کو شروع ہوئے، دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں، بد ظنی، بے یقینی کی فضا چھاچکی ہے علماء اور عوام کے مابین قائم تعلق میں۔ اس اختلاف کا نقطہ آغاز جاننے کیلئے ہمیں آج سے کچھ تین چار صدیاں پیچھے جانا ہوگا۔ اس وقت مسلمان جس تہذیب کے پرستادہ اور دلدادہ ہیں وہ تہذیب ان کی نہیں غیروں کی ہے اس کا پس منظر کچھ اس طرح ہے کہ آج سے تین چار صدیاں قبل یورپ میں بادشاہ، جاگیر دار اور پوپ کے ظالمانہ اقتدار کے خلاف شدید ترین رد عمل کا زمانہ تھا جس کے نتیجے میں بادشاہت اور جاگیر داری نظام کا مکمل خاتمہ ہوا۔ پوپ جو مذہبی نمائندہ تھا اس کے کردار کو گرجے کی چار دیواری تک محدود کردیا گیا۔پوپ کو گرجے تک محدود کرنے کے بعد اجتماعی معاملات سے مذہب کے کردار کو ختم کرکے گرجے تک محدود کردیا مذہب اور اس کے احکامات پر عمل کرنا شخص کے ذاتی اور پرائیوٹ مسئلہ قرار دیا گیا اور طے یہ کردیا گیا کہ سوسائٹی اپنے اجتماعی معاملات خود ہی طے کرے گی، اسے کسی بیرونی رہنمائی کی ضرورت نہیں۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ’’ سیکولرزم ‘‘ کے نام سے ایک نیا طبقہ وجود میں آیا جوکہ رد عمل تھا پوپ اور جاگیرداری وبادشاہی نظام کے ظلم واستبداد کا۔ اس سیکولر فکر کو اس وقت مزید تقویت ملی جب مغرب میں صنعتی اور اقتصادی انقلاب آیا اور اس کے ذریعے سے مغرب دنیا پر حکمرانی کیلئے نکل کھڑا ہوا مسلمان مملکتوں کو محکموم بنانے کے بعد اس نے بنیادی طور پر دو کام کئے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے قدیم نظام حکومت اور نظام تعلیم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور دوسرا ان پر معاشی معاشرتی اور سیاسی وہ نظام مسلط کئے جو انہوں نے اپنے کند ذہن اور کچے تجربات کی روشنی میں تشکیل دئے تھے۔ نظام حکم اور نظام تعلیم کی تبدیلی اور معاشرتی وسائنسی علوم کے طوفان کے ذریعے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ سوچ بٹھا دی گئی کہ اگر آگے بڑھنا ہے تو ان علوم کو پڑھنا ہےترقی کیلئے یہ جدید علوم ناگزیر ہیں۔اگر یہ حاصل نہ کئے گئے تو مسلمان دنیا میں سب سے پیچھے رہ جائیں گے۔الغرض پھر حادثۃ فاجعہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے اپنے تہذیب، تمدن، روایات ورسومات سب کو ان علوم پر قربان کردیا۔ اپنی زبانیں بدل لیں، ثقافت کو دیس نکالا دے دیا، مذہب کو مسجد ومدرسہ تک محدود کردیا۔ اب اس کے بعد مسلمان دو طبقات میں بٹ گئے ایک وہ طبقہ جنہیں جدید تہذیب کی چکا چوند ترقی آنکھوں کو خیرہ کئے ہوئی تھی انہوں نے اپنا معاشرتی کردار بلند کرنے کیلئے انہیں مغربی افکار کا سہارا لیا جبکہ دوسرا طبقہ وہ تھا جس نے اپنے مذہب، اپنی قدیم روایات، وثقافت اور عقائد کی حفاظت کو اپنا ہدف بنایا۔یہ دو راستے تھے اگرچہ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا کہ مسلم معاشرے اور ثقافت کو ترقی دینا مضبوط کرنا مگر راہیں جدا ہونے سے ترجیحات بدل گئیں، جتنے جتنے آگے بڑھتے گئے اپنے معاشرے وتہذیب سے کٹتے چلے گئے۔ زبانیں تک بد لیں، لباس، رنگ ڈھنگ، چال ڈھال، بناؤ سینگار سب کچھ امپورٹ کیا۔ جب اس جداگانہ سفر کا آغاز ہوا تھا تو کافی عرصے تک اس طبقے میں رمق وجوش اور مذہبی وثقافتی باقیات زندہ رہیں لیکن جیسے جیسے نئی نسلیں آئیں پرانی عہد پارینہ کا حصہ بنیں تو یہ خلیج بڑھتی چلی گئی نئی نسلین اپنے ہی مسلمان بھائیوں جو قدیم روایات اور مذہب سے جڑے ہوئے تھے انہیں اجبنی سمجھنے لگیں۔جدید نظام نہ صرف ان کے دلوں میں گھر کر گیا بلکہ لوگوں کو اس کی دعوت بھی دینے لگیں پرچار بھی کرنے لگے۔ چلتے چلتے بات یہاں تک آن پہنچی کہ مذھب کو ملا ازم کہنا شروع کردیا کوئی بھی شرعی بات آتی ہے تو کہہ کر جان چھڑ ا لیتے ہیں کہ یہ مولویوں کی داستانیں ہیں۔ مذھب کو پرائیویٹ زندگی تک محدود کردیا گیا۔ پانچ وقت کی نماز اور سال میں ایک بار زکوٰۃ دے لینا ہی سب کچھ سمجھ لیا گیا۔ پہلے معاشرے، معیشت، بازاروں سے دین نکلا، پھر گھروں سے بھی نکل گیا اور اب ذات اور پرائیویٹ زندگی سے بھی نکل چکا ہے آج جاکر مساجد ومدارس میں محصور ہے اور یہاں بھی دنیا کی سیاست ڈیرے جمائے ہوئے ہے۔ ادھر دوسرے طرف کے لوگ جنہیں مذھبی اور قدیم اسلامی روایات کی حفاظت کا بیڑہ اٹھایا تھا انہوں نے کنارہ کشی اختیار کرلی معاشرہ سے انہیں زیادہ سروکار نہ رہا، بس کہیں نکاح، یا جنازہ پڑھانے کی ضرورت پڑی تو حاضری دے دی، اگر کسی نے دکان کھول لی تو وہاں قرآن کو چند گھنٹوں میں ختم کرنے پہچ گئے کسی نے مسئلہ پوچھ لیا تو ٹھیک ہے ورنہ مسجد ہے مدرسہ ہے اللہ اللہ خیر سلا۔

حاصل کلام یہ کہ جس طرح قوم نوح میں بت پرستی کا آغاز ہوا تھا اسی انداز سے مغربی افکار اور مغربی علوم نے علماء اور عوام، دینی ودنیاوی طبقات میں تفریق پیدا کردی۔

جیساکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ قوم نوح میں بت پرستی کے آغاز سے متعلق فرماتے ہیں :

’’ قوم نوح کے نیک افراد جب مرگئے تو شیطان نے ان کے عقیدت مندوں کو کہا کہ ان کی تصویریں بنا کر تم اپنے گھروں اور دکانوں میں رکھ لو تاکہ ان کی یاد تازہ رہے اور ان کے تصور سے تم بھی ان کی طرح نیکیاں کرتے رہو۔ جب یہ تصویریں بنا کر رکھنے والے فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی نسلوں کو یہ کہہ کر شرک میں ملوث کردیا کہ تمہارے آباء تو ان کی عبادت کرتے تھے جن کی تصویریں تمہارے گھروں میں لٹک رہی ہیں، چنانچہ انہوں نے ان کی پوجا شروع کردی۔ ‘‘(صحيح البخاري، حديث : 4920)

بالکل اسی طرح جدید مغربی تہذیب نے ایسا وار کیا کہ مسلمانوں کے جس طبقے نے مغربی نظام میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا تھا تاکہ اس کے ذریعے اسلام کی خدمت کی جائے اسلامی معاشرے کو دنیا کے مقابلے میں لایا جائے یہ سوچ اس وقت تک رہی جب تک اس سوچ کے افراد زندہ تھے جب وہ فوت ہوگئے تو شیطان نے ان کی اولادوں کے ذہنوں میں بات ڈال دی کہ مذھب اور مولوی ازم سے تمہارا کیا سروکار تمہارے اباؤ اجداد کی ترقی کا راز تو مغربی تہذیب ومغربی افکار میں پنہاں ہے۔ یہی تمہارے اباء واجداد کی ترقی کا باعث تھا لہذا تم جتنا اس راستےپر آگے چلتے جاؤ گے ترقی کی منزلیں طے کرتے جاؤ گے۔
دوسری طرف کا جو طبقہ تھا اس کے اخلاف یہ سمجھنے لگ گئے کہ ہمارا کام تو بس مسجد میں امامت، مدرسے میں تدریس تک محدود ہے۔ باہر نکلے تو قرآنی خوانی اور چہلم میں شرکت کرنا ہی کافی ہے۔ اسی سے انقلاب آئے گا یہیں سے دنیا بدلے گی۔الغرض اس طبقہ کی قربانیوں کا انکار نہیں کیا جاسکتا اور یقینی طور پر جو راہ انہوں نے اختیار کی بڑی اعلیٰ وارفع راہ تھی جس نے برصغیر پاک وہند میں اور دیگر استعمار سے متاثرہ ریاستوں میں علم کو، اسلام کو زندہ رکھا، مغربی تہذیب وثقافت کے تند وتیز حملوں اور طلاطم خیز موجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اور ہم یہ بات بڑے ہی عزم اور یقین سے کہتے ہیں کہ برصغیر میں اگر مدرسے نہ ہوتے تو یہاں مذھب ہندو اور مغربی ثقافت میں دب جاتا۔ یقینا اس طبقہ کی بڑی جلیل القدر خدمات ہیں اور تمام امت اس کی معترف ہے۔

ہم کیسے تیراک ہیں جاکر پوچھو ساحل والوں سے
خود تو ڈوب گئے لیکن رخ موڑ دیا طوفانوں کا

لیکن ان کامرانیوں، کاوشوں اور ان کے بیش بہا نتائج کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ عوام اور علماء، دین اور دنیا میں پیدا ہونے والی خلیج میں یہ طبقہ بھی دانستہ یا نادانستہ حصہ دار ضرور ہے۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس طبقہ کی معاشرہ سے جزوی یا کلی کنارہ کشی کے نتائج یہ نکلے کہ مغربی فکر نے تمام معاشرہ کو زہر آلود کردیا، زمانے کی زبان بدل گئی، اصطلاحات بدل گئیں، رہن سہن کے طور طریقے بدل گئے۔اب صورت حال یہ ہوچلی ہے جس کا نقشہ ’’ماہنامہ الشریعہ ‘‘ کے مضمون نگار نے بہت ہی عمدہ پیرائے میں کھینچا ہےعلماء اور مذھبی طبقہ سے متعلق کہتے ہیں :’’ یہ حضرات اپنے دامین میں حق بھی رکھتے تھے اور حق کی حفاظت کےسب دلائل بھی ان کے پاس تھے، مگر زبان وماحول کی اجنبیت، لب ولہجہ کا فرق اور مروجہ اصطلاحات سے ناواقفیت کی بنا پر سیکولرزم کے علمبرداروں سے تو دور تھے ہی، معاشرے کے عام سمجھ دار افراد کی فکر اور سوچ کو بھی زیادہ متاثر نہ کرسکے اور عوام کا جتنا کچھ تعلق انکے ساتھ رہ گیا تھا، وہ بھی محض عقیدہ کی بنیاد پر تھا‘‘

1{ (ماہنامہ الشریعہ، جلد ۱۹ شمارہ ۶ جون ۲۰۰۸)

لہٰذا سیکولر لوگوں کا وہی مطالبہ تھا جو مغرب میں پوپ سے کیا گیا تھا کہ اپنا دائرہ عمل مسجد ومدرسہ تک محدود رکھو او ر مذہب کو سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے علیحدہ رہنے دو۔
الغرض یہ داستاں بہت طویل ہے اسباب دونوں طرف موجود ہیں اب ضروت اس امر کی ہے کہ اگر اہل علم اور عوام دونوں چاہتے ہیں کہ اسلام پھیلے پھولے، معاشرہ دوبارہ قرون اولیٰ کے خطوط پر استوار ہوجائے تو دونوں طبقوں کو ا ن اسباب کا تدارک کرن اہوگا جو فریقین کے مابین دوری کا باعث بنے ہیں ان کے ازالے سے ہی اور عوام اور علماء کے ادب واحترام کے رشتے کی مضبوطی سے ہی دین ترقی کرسکتا ہے ورگرنہ ہم سب عند اللہ پکڑے جائیں گے۔۔کیونکہ امت دراصل دو طرح کے لوگوں کی اقتداء کرتی ہے۔

علماء اور امراء

دین کے معاملے میں لوگ علماء کی پیروی کرتے ہیں کیونکہ علماء اسلام کی قولی یاعملی جیسی بھی تصویر پیش کرتے ہیں عوا م اسی کی تابع ہے اور دنیاوی امورمثلا سواری، گھر، جائداد، طعام وغیرہ میں ہماری خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا معیار امرا ء کا معیار ہو۔ اس لئے استعماری سازشوں نے اہل کو بدنام کیا اور امراء کو عیاشیوں اور شاہ خرچیوں پر لگادیا۔

اب یہاں اہل علم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ جہاں مسائل ہیں انہیں دور کرنے کی کوشش کی جائے عوام الناس کے سامنے خالص عملی اور علمی کردار پیش کیا جائے، تاکہ یہ خلیج کم سے کم ہو اور عوام ایک مرتبہ پھر سے علماء کے حضور دو زانوں ہوکر بیٹھ جائیں۔

زیر نظر تحریر میں ان بنیادی اسباب کی جانب توجہ مبذول کرانےکی سعی کی گئی ہے جن کے تدارک اور اصلاح سے علماء اور عوام، دین اور دنیا میں قائم ان فاصلوں کو ختم کیا جاسکتا ہے یا کم ازکم کیا جاسکتاہے۔ قبل اس کے کہ اسلامی تشخص ہماری تہذیب وثقافت سے کلی طور پر مٹ نہ جائے۔ اسباب چونکہ دونوں طبقات میں موجود ہیں لہذا اول علماء کرام کے طبقہ سے متعلقہ اسباب ذکر کریں گے بعد ازاں عوام سے متعلق۔ باللہ نستعین وعلیہ نتوکل

اہل علم طبقہ کی جانب سے چند ایک اسباب جو ہمیں

سمجھائی دیتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔


اخلاص کی کمی :

اخلاص اعمال میں وزن پیدا کرتا ہے، اخلاص کے فقدان سے عمل کی رنگ آمیزی یا تو پھیکی پڑجائے گی یا بدنما ہوجاتی ہے۔ دیگر شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ ساتھ علم کے شعبے کو بھی گویا کہ نظر لگ گئی ہے اہل علم کا لبادہ اوڑھ کر ایسے لوگ اس شعبے میں در آئے ہیں کہ جن کے مقاصد کچھ اور ہیں آج کے علماء اور ماضی کے علماء میں موازنہ کریں تو یہ بات شدت سے کھٹکتی ہے کہ آج کے علماء میں اخلاص کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔اخلاص عمل کی روح ہے، جسے ہم نے ثانوی درجے کی جھگڑوں میں الجھ کر
جو باتنخواہ ہیں وہ تنخواہ کا رونا روتے ہیں اورجو اہل تجارت ہیں وہ وقت کی کمی کی شکایت کرتے ہیں۔کام دونوں نہیں کرنا چاہتے اور اگر کرتے ہیں تو بے گار سمجھ کر۔ تنخواہ دار عالم سمجھتا ہے کہ یہ ذمہ داریاں نظماء کی ہیں اور تجارت پیشہ علماء کا خیا ل ہوتا ہے کہ یہ ذمہ داریاں ان ائمہ، دعاة اور مدرسین کی ہیں جو اس پیشے سے منسلک ہیں۔ ایسی زبردستی کی نصیحتیں بیزاری کے علاوہ اور کیا اثر چھوڑیں گی۔


داعیانہ اوصاف کی کمی:

علماء چونکہ انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء کی سب سے بنیادی ذمہ داری دعوت وتبلیغ تھی۔ آج کے دور میں اہل علم طبقہ میں دعوت کا تصور عملاً اتنا محدود ہوگیا ہے کہ وہ اگر مدرسے کی چار دیواری سے اگر نکلتا ہے تومسجد کے منبر تک محدود ہوجاتاہے۔جبکہ مسجدوں اور مدرسوں میں آنے والے افراد کے مقابلے میں ان سے باہر افراد کی تعداد ہزاروں میں ہوتی ہے اس معاشرہ میں بسنے والے افراد کی رہنمائی کون کرے گا اور انہیں مسجدوں تک کون لیکر آئے گا؟ قصور ان کا نہیں بلکہ قصور علماء کا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک غیر ضروری چیز جس کی ایجاد ایک کمپنی کرتی ہے اس کا اتنا پرچار کرواتی ہے کہ لوگ اسے ضروری خیال کرنے لگتے ہیں اور پھر وہ ان کی زندگی کا ایک لازمہ بن جاتی ہے۔ مگر شریعت جیسی ضروری چیز پرچار نہ کرنے کی وجہ سے غیر ضروری شیٴ بن کر رہ گئی ہے پھر جب شریعت غیر ضروری ٹھہرے گی تو بھلا علماء کی ضرورت کیونکر محسوس ہوگی اور علماء بیزاری پاوٴں کیوں نہ پسارے گی۔


شرعی علوم میں عدم تعمق:

ہم جس دور میں بس رہے ہیں یہ ایسا دور ہے جس میں فتنوں کی یلغار ہے۔ جس میں محض شہوانی فتنے نہیں بلکہ شبہات کا فتنہ سر چڑھ کر بول رہاہے۔ آئے روز نت نئے عقائد ونظریات کا وجود میں آنا علماء کی ذمہ داری اس حوالے سے بڑھا دیتا ہے کہ وہ اس سب کے لئے تیار ہوں۔ مکاروں کی چالوں کو سمجھیں۔ ان فتنوں کی بیخ کنی کریں۔ اس سب کیلئے شرعی علوم میں تمعق اور ملکہ حاصل ہونا ضروری ہے۔ کتنے ایسے تھے جو غیروں کی اصلاح کیلئے نکلے اور خود شکار ہوگئے۔

رب تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے

’’{قُلْ هَذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ عَلَى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ } [يوسف: 108]


لہذا دعوت کیلئے بصیرت کی ضرورت ہے اور بصیرت علم میں تعمق سے حاصل ہوتی ہے۔ لہذا عموما دیکھا گیا ہے بہت سے طالب علمی بے بضاعتی کے سبب مناظرات ومباحثات میں کود پڑتے ہیں۔ اور مخالف کی چرگ زبانی کے باعث شکست کھاکر بہت سے لوگوں کی گمراہی کا باعث بنتے ہیں۔ لہذا اس وقت جہاں علماء اور عوام کے مابین رشتے کو مضبوط کرنے اور دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے وہیں بہت سے علوم میں تمکن حاصل کرنے اور انہیں دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

التعالم واثرہ

معاشرہ اور ثقافت سے لاعلمی :

ایک عالم دین کیلئے فقہ الواقع کا علم ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اپنے ماحول سے واقفیت کے بعد ہی ایک عالم دین کی دعوت مؤثر ہوسکتی ہے۔ ماحول سے واقفیت کو بعض لوگ کچھ غلط مفاہیم کے پیرائے میں لے جاتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک داعی اور عالم دین کو اپنے معاشرہ میں موجود لوگوں کی عادات، ان کی نفسیات، اور معاشرہ میں در آنے والا منحرف

عربی میں قاعدہ متعین ہے :

(( الحكمُ على الشيءِ فَرعٌ عَن تَصَوُّرهِ ))
ولا يَتَحقَّق ذلك إلا بمَعرفَةِ ( الواقِع ) المُحيطِ بالمسألَةِ المُرادِ بَحثُها ؛ وهذا مِن قَواعدِ الفُتيا بِخاصَّةٍ، وأصول ِ العلم ِ بعامَّةٍ .


اصلاح کو ناممکن سمجھنا :

بادشاہوں کو اصلاحی خطوط لکھنا اسلاف کا کارنامہ ہے۔
 
Last edited:
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
عوام میں پائے جانے والےعلماء سے دوری کے محرکات:
۱۔ بے دینی:

ذرائع ابلاغ میں آزادی کا جو پروپیگنڈہ ہے اس سے متاثر ہوکر لوگ اتنا آزاد ہوگئے ہیں کہ دینی پابندی بھی ان کو کھلنے لگی ہے کھانے پینے سے لے کر سونے جاگنے اور معیشت ومعاشرت تک میں اسلام کے کچھ اپنے اصول ہیں جن کو ملحوظ رکھنا ان آزاد طبع مغرب کے غلاموں کو ناگوار ہے۔ علاوہ ازیں الحاد ولادینیت، ہندومت، یہودیت، بہائی وپارسی نیز بدھسٹ اور عیسائی مشنریاں ذہنوں میں ہمہ وقت زہر گھولنے کو تیار بیٹھی ہیں جس کا نتیجہ مذہب بیزاری اور علماء بیزاری کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔


معاشرے میں دینی ودنیاوی کی طبقاتی تقسیم :

اسلام میں سب کچھ دین ہے۔ اگر دنیا ہے تو وہ بھی دین کے تابع ہے، انسان کی تخلیق کا مقصد ہی عبادت ہے۔

وما خلق الجن والانس الا الیعبدون

اگر ایک مسلمان قضائے حاجت کرتا ہے یہ بظاہر تو اس کی طبعی وفطری ضرورت ہے مگر اس کو بھی اگر وہ شرعی آداب کو سامنے رکھتے ہوئے بجا لائے گا تو ماجور ہوگا۔ جیسے بیت الخلا میں داخلے سے قبل اور نکلتے وقت دعا پڑھنا۔ بایاں پاؤں پہلے داخل کرنا۔ استنجا کے شرعی آداب کا لحاظ کرناز۔ حتیٰ کہ پنی انسانی ضرورت جو شہوت کی صورت میں ہے اس میں بھی اجر رکھا گیا

اور فرمایا

’’ فی بضع احدکم صدقۃ ‘‘ ماں باپ، بچوں کا پیٹ پالنا، رزق تلاش کرنا یہ دنیوی تقاضے کے ساتھ شرعی تقاضا ہے اگر شریعت کو نکال دیں تو ایک شخص کہہ سکتا ہے میں اپنے بچوں کا پیٹ نہیں پالتا اپنے بوڑھے ماں باپ کا خیال نہیں رکھتا، اپنی اولاد کی تربیت کا لحاظ نہیں رکھتا اسے کون پابند کرے گا اگر کہیں گے کہ قانون تو ہم کہتے ہیں احکم الحاکمین کے قانون کو نہیں مانتے اور دنیا کے لوگوں کے بنائے قوانین کا خود کو پابند کرتے ہو۔ تلک اذا قسمۃ ضیزی۔ الغرض اسلام میں دین سے ہٹ کر کوئی دنیا نہیں اگر ہے تو وہ دین کے ماتحت ہے، اسلام سکھاتا ہے بندے کو اپنی ماں سے محبت کرنا، اپنے باپ کا خیال رکھنا جس معاشرے نے دنیا کو دین سے الگ کرلیا ہے اس کی جاکر حالت دیکھ لو کہ کیسے بوڑھے ماں باپ اولڈ ہاؤسز میں سسکیاں لیکر مرتے ہیں۔ انسان مر جاتا ہے تو اسلام اس کی اولاد کی کفالت کا بندوبست کرتا ہے اس کی متروکہ دولت کو مستحقین میں عادلانہ طرز پر تقسیم کرتا ہے جسے علم میراث کے نام سے جانا جاتاہے۔ دین اور دنیا میں تفریق اسلامی نظریہ نہیں بلکہ جیسا ہم ذکر کر آئے ہیں کہ یہ سیکولر انقلاب کا نتیجہ ہے، جس نے آج پورے یورپ کو بالخصوص اور پوری دنیا کو بالعموم مادر پدر آزاد کردیا ہے۔


۲۔ مادہ پرستی:

اس وقت تمام مسلمانوں ملکوں میں بلا استثناء سرمایہ درانہ نظام کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ یہ نظام محض عوام تک محدود نہیں رہا دینی اداروں میں اپنی مکمل شان وشوکت سے موجود ہے۔

نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے :

”لکل امة فتنة وفتنة امتی المال“

ہر امت کی آزمائش اور فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔


اس وقت ہم ایسے دور سے گذر رہے ہیں جو مال کا دور ہے۔ ایک طوائف بھی معاشرے میں اس وقت شریف شمارہونے لگتی ہے جب اس کا بینک بیلنس شرافت کے حدود میں داخل ہوجائے۔مزید یہ کہ مال کمانے والے ذرائع پر ایسے لوگوں کی اجارہ داری ہے جو دین، سماج، اخلاق کی دھجیاں اڑانے پر تلے ہوئے ہیں۔ اسی لیے
شیخ سعدی نے کہا تھا :


اے زر! تو خدا نیش ولیک کم تراز خدا نیشی

اے پیسے تو خدا تو نہیں لیکن تو خدا سے کم بھی نہیں۔ چنانچہ جب ساری ضرورت مال پوری کرتا ہے تو اللہ، دین اور علماء کی ضرورت کہاں باقی رہ گئی۔ ظاہر ہے پھر علماء بیزاری تو آئے گی ہی۔ اب یہ علماء کی ذمہ داری ہے کہ” سب کچھ مال ہے“ کے فتنے کو مٹا کر ”سب کچھ دین ہے“ جیسے نعرے کو مقبول عام بنادیں۔

اب یہاں ایک معمولی سے مثال سے یہ سمجھیں کہ دینی فکر اور سوچ رکھنے والے لوگ بھی دین کو پیسے سے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر بچے کو دنیاوی اچھی تعلیم دلانی ہے تو شدید سردی میں بچے کو دور دراز معیاری اسکول میں چھوڑ کر آئیں گے۔ باپ مصرو ف ہے تو وہ اپنے بچے کیلئے ڈرائیور رکھے گا، وین لگوائے گا لیکن جب دینی تعلیم قرآں سیکھنے کی باری آئے گی تو کہیں گے مدرسے مسجد جانے کی ضرورت کیا ہے گھر میں قاری صاحب کو چند سو دے کر بلالیں گے۔ لیکن یہ ناداں یہ نہیں سمجھتے کہ شرعی علم کے حصول کیلئے تو آپ کے بچے کا مدرسے یا مسجد کی طرف اٹھنے والے ایک ایک قدم پر نیکی لکھی جاتی ہے۔ بچے کا دل مسجد سے جڑے گا۔ ’’ رجل قلبہ معلق بالمساجد ‘‘ تو مسجد اور مدرسے میں آکر بڑی حکمتیں ہیں۔ العلم یؤتی الیہ۔ طبقاتی تفریق ختم ہوگی۔ بچہ غریب بچوں کے ساتھ بیٹھے گا اس سے غریبوں کی دل جوئی ہوگی۔ امیری غریب میں خلیج کم ہوگی۔ غریبوں سے خیر خواہی کا جذبہ اس کے دل میں پید اہوگا۔ بصورت دیگر قاری صاحب چند ٹکے لیکر گھر میں تو بچوں کو پڑھا جائیں گے۔ لیکن وہ قرآن بچے کے دل میں گھر نہیں کرے گا وہ قرآن کو اپنی ضرورت نہیں سمجھے گا بلکہ یہ سمجھے گا کہ میں قرآن کی ضرورت ہوں۔ پھر اسکول کی پڑھائی کی وجہ سے والدین اپنے تمام ٹور اس کی چھٹیوں سے منسلک کریں گے لیکن قرآنی تعلیم میں اس کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ ٹور پہ جانا ہو تو قاری صاحب کو منع کردیں گے کہ آج آپ مت آئیے گا۔ الغرض جب ہم مسلمان اپنے دین سے سوتیلا سلوک کرتے ہیں تو پھر تنزلی نہیں ہوگی تو کیا ترقی ہوگی۔


۳۔ علماء کے حقوق سے ناواقفیت:

اگرچہ ہمارے دین میں علماء کی حیثیت صرف ایک قاصد اور پہنچانے والے کی ہے مگر جس طرح سے ان کا فریضہ، شریعت کو بلاکم وکاست پہنچا دینا ہے اسی طرح امت کی بھی ذمہ داری ہے کہ ان کی تعظیم اور ادب بجالانے میں کوئی کوتاہی نہ کرے اور ایک مقتدی اور رہنما کی جیسی قدر بجا لانی چاہئے۔ لیکن افسوس کہ ملت اسلامیہ کا ایک طبقہ اپنی تعظیم میں غلو کرواتا ہے اور دوسرا طبقہ حقیقی تعظیم بھی فراموش کروادیتا ہے جو علماء بیزاری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔


۴۔ تربیت کی کمی:

ہزاروں ایسے واقعات کتب سیر میں منقول ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے اساتذہ اور مشائخ کی کیسی کیسی تعظیم کی۔ یہ واقعات عوام کو بتلا کر نیز خود اپنے مشائخ اور اساتذہ کی واقعی تعظیم کرکے ہم اپنے عوام کو تربیت دیتے تو یہ عوام ہماری بھی تعظیم کرتی لیکن ہم نے اپنے لوگوں کی ایسی تربیت ہی نہیں کی کہ وہ علماء کی تعظیم کریں

بقول شاعر (قاضی عیاض)

ولکن اھانوہ فھانو ودنسو ہ محباہ بالاطماع حتی تجھما

لیکن علماء نے علم کی توہین کی تو خود رسوا ہوگئے اور حرص ولالچ سے علم کے چہرے کو آلودہ کردیا یہاں تک کہ وہ بدنما ہوگیا۔


۵۔ مغربی افکار سے اثر پذیری:

آج مغرب میں ایک استاد کا تصور کیا ہے؟صرف کلاس روم میں کتابیں پڑھانے والا۔ اس روم سے باہر اپنے شاگردوں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ چرچ کا پادری کس لیے ہے؟ صرف اتوار کو دعائیہ محفل منعقد کرنے کے لیے وغیرہ وغیرہ

بعینہ اسی طرح جمعہ، عیدین، جنازہ، قربانی، نکاح، طلاق کو چھوڑ کر مسلم معاشرے کو بھی علماء کی چنداں ضرورت نہیں اور جب نوبت یہاں تک پہنچی ہو تو بیزاری تو آنی ہی تھی پھر اس پر تعجب کس لیے۔

اسباب اور بھی ہیں جن کا احصاء یہاں ممکن نہیں۔ ضرورت اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم مذکورہ اسباب کو سمجھیں اور اس کا سد باب کریں تاکہ علماء کا کھویا ہوا قار بحال کیا جاسکے۔

مسلمانوں کی اپنے علماء سے اٹوٹ وابستگی اہل کفر کی آنکھوں میں کانٹوں‌کی طرح‌چُبھتی ہے، وہ تحقیق وجستجو کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ک دینی مدارس اور علماء ہی وہ سرچشمہ ہیں‌جہاں سے اسلام کی اشاعت کا کام سرانجام پاتا ہے اور جو مسلمانوں‌کو اسلام سے مربوط رکھنے اور ان کو انحراف سے بچانے میں نہایت ہی اہم اور غیر معمولی کردار ادا کر رہے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو الحاد و بددینی کے طوفان کو تھامے ہوئے ہیں اور یہی وہ پشتے ہیں‌جو مادیت و انحراف کے سیلاب کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں،

جاری ہے !
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
اس دوری کیلئے استمعار نے جو ہتھیار استعمال کئے وہ مندرجہ ذیل ہیں :

علماء اور مدارس پر بنیاد پرستی، دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا الزام لگایا

ان حالات میں امت کا فریضہ ہے کہ وہ مدارس کے نظام کو تقویت پہنچائیں، علماء سے ان کا ارتباط گہرا ہو، دینی اداروں کو ان کا تعاون اور اعتماد حاصل رہے۔ بدقسمتی سے بعض حضرات اپنی نا سمجھی اور نادانی کی وجہ سے ایسی باتیں‌کہہ جاتے اور لکھ جاتے ہیں جن سے مدارس اور اہلِ مدارس کی بے وزنی ہوتی ہے۔ بعض اخبارات میں اس طرح‌کے کچھ مراسلے کا تمسخر کیا گیا ہے۔ ایسی باتوں سے امت کو نقصان ہی پہنچے گا۔ اللہ کا شکر ہے کہ عام طور پر مسلمان ایسی خدا ناترسانہ باتوں کا اثر قبول نہیں‌کرتے اور ان شاء اللہ ہمارے غیرت مند اور با شعور مسلمان بھائی اس طرح‌کی بے سروپا باتوں پر توجہ بھی نہیں دیں گے۔

اس طرح کی باتیں کہہ اور لکھ کر دراصل ہم اپنے دشمنوں کو طاقت پہنچاتے ہیں۔ مسلمانوں کو ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ وہ مادیت کے پرستار نہیں ہیں، وہ خدائے واحد کے پرستار ہیں، ان کے لیے دنیا سے بڑھ کر دین ہے، ان کی منزل اس جہانِ فانی سے آگے ہے، اور ان کے دین کا تحفظ علماء سے ارتباط اور مدارس کی بقاء میں ہے۔ علماء اور مدارس کی مثال سرحد پر متعین ان فوجیوں‌کی ہے جو دشمن سے آپ کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کو کمزور کرنا اپنے آپ کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

علمی طبقے سے منسوب کچھ لوگ بھی اس فیلڈ کو بدنام کرنے پر لگے ہوئے ہیں، جو اپنے مفادات کے حصول کیلئے علم اور علماء کو بدنام کرتے ہیں مولویانہ حسد ایسی جڑیں مضبوط کر چکاہے کہ دوسرے کی بے عزتی کرکے اپنی عزت بنانے کا مشغلہ بنا لیا گیا ہے۔ پنے بڑوں کی، معاصرین کی نجی اور پرسنل قسم کی غلطیوں کو بھی یہ قطعی نظر انداز نہیں کرتے بلکہ عوام میں ذائقہ لے لے کر اپنی پارسائی کے حوالے سے رہنما یان دین کی جگ ہنسائی اپنا ایمانی فریضہ تصورکرتے ہیں۔

ابوحازم کہتے ہیں کہ اگلے زمانے میں علماء کی حالت یہ تھی کہ عالم اپنے سے بڑے عالم کو دیکھتا تو نہایت خوش ہوتا، برابر والے سے ملتا تو علمی مذاکرہ کرتا، ادنی سے سامنا ہوتا تو گھمنڈ سے کام نہ کرتا لیکن ہمارے اس زمانے کی حالت یہ ہے کہ عالم اپنے سے بڑے عالم میں کیڑے نکالتا ہے تاکہ لوگ متنفر ہوکر اسے چھوڑ دیں، برابر والے سے مذاکرہ نہیں کرتا اور ادنی کو پاتے ہی اکڑنے لگتا ہے(جامع بیان العلم وفضلہ مترجم)

ہمارے معزز علماء خواہ وہ جامعات کے نظماء ہوں یا تنظیموں کے رہنما کبھی یہ فکر نہیں کرتے کہ اپنے علماء سے باعزت انداز سے کام لیں تاکہ سماج میں ان کا وقار محفوظ ہو، نہ تو یہی فکر رکھتے ہیں کہ کسی طرح ان کے مسائل حل ہوں بلکہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے مسائل حل نہ ہوں تاکہ وہ علی حالہ سڑک پر موجود رہیں۔ الامن رحم اللہ

بعض دفعہ بعض جگہوں پر علماء سے کچھ ایسے کام بھی لیے جاتے ہیں جو سماجی حیثیت سے پست ہوتے ہیں، اپنی اصل کے اعتبار سے جواز کے حدود میں کوئی بھی کام پست نہیں ہوتا ایک ہی کام کہیں پست ہوتا اور کہیں پست نہیں ہوتا، یہ سماجی روےئے پر منحصر ہے اس لیے سماجی نفسیات کا لحاظ ضروری ہے علماء کرام نے ”خوارم المروٴة“ کی شرط یوں ہی نہیں لگائی ہے۔

اسی طرح سے قلیل مشاہرہ بھی علماء کی قدر پیمائی کرنے لگ جاتا ہے۔ بادی النظر میں یہ دونوں باتیں آپ کو عجیب لگ سکتی ہیں مگر ذرا سے غور وفکر کے بعد مصرع ہاتھ آجائے گا۔

ہم عصر زبان سے عدم واقفیت نے ایک بڑے طبقے کے نزدیک ہم علماء کو بے وزن کردیا ہے اگر مکمل سچائی سے کام لیتے ہوئے میں اظہار خیال کروں تو صاف ستھری بات یہ ہے کہ” وہ ہم کو جاہل سمجھتے ہیں“۔حالانکہ کسی کے کچھ سمجھنے اور نہ سمجھنے پر ہمارا کوئی معاملہ موقوف نہیں ہے اصل یہ ہے کہ خود ہم کو دینی حوالے سے ہم عصر زبان کی حد درجہ ضرورت ہے کہ نہیں۔

فقہی کنفیوژن سے بھی عوام میں اضطرابی کیفیت جنم لیتی ہے۔ خصوصاً علماء اہل حدیث کے یہاں بیان مسائل میں ممکنہ فقہی اتحاد نہیں ہوتا۔ یہ تو بڑی خوبی کی بات ہے کہ علماء اہل الحدیث قرآن وسنت کی روشنی میں بے لاگ طور پر مسائل بیان کرتے ہیں اور علم نہ ہونے پر سیدھی سی خاموشی اختیار کرتے ہیں مگر بعض بے اعتدالیاں ہیں جن سے ماحول مکدر ہوجاتا ہے حتی کہ تھوڑی سی سوجھ بوجھ رکھنے والی عوام بھی فتوے دے مارتی ہے۔گویا

یہ جوئے شیر تو ہم بھی نکال سکتے ہیں
مزہ تو جب ہے کہ فرہاد شعر کہنے لگے

ہمارا سماجی تانا بانا، مادیت کا عروج، علم وفن کے معانی میں تبدیلی، شخصیت، عزت، مقام ومرتبہ کے مفاہیم میں بدلاوٴ، خود ہمارے سٹہ باز عالموں کا رویہ، مجاوری اور بابائی کے پیشوں اور جھاڑ پھونک کی صنعت نے ایسا پراگندہ ماحول تیار کیا ہے جسے بدلناخلاف ممکن ہے۔

ذمہ داریوں کی ادائیگی میں بہت سے مقامات پر کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ قرون اولیٰ کے فتنے اپنی قوت اور شوکت کے باوجود پسپائی اس وجہ سے اختیار کرگئے کہ اس وقت عوام کا علماء سے تعلق مضبوط تھا، جیسے کوئی فتنہ سر اٹھاتا اہل علم لوگوں کا ہاتھ تھام لیتے اور انہیں فتنے سے نکال لیتے۔

امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

الفتن إذا أقبلت عرفها كل العالم وإذا أدبرت عرفها كل الجاهل

فتنہ جب سر اٹھاتا ہے تو ہر عالم اسے پہچان لیتا ہے اور جب تباہی مچا کر چلا جاتا ہے تو پھر جاہل کو پتہ چلتا ہے کہ یہ فتنہ تھا۔

یہ بھی مغربی نظریاتی جنگ کا ایک بہت بڑا ہتھیار تھا جس میں انہوں نے اہل علم اور عوام کے مابین سوچی سمجھی سازش سے فاصلے پیدا کئے دونوں طرف بد اعتمادی کی فضا کو ہوا دی۔ اور مسلمان اس کے ادراک کئے بغیر اس کا شکار ہوگئے۔

میمون بن مہران رحمہ اللہ

ميمون بن مهران يقول : بنفسي العلماء هم ضالتي في كل بلدة وهم بغيتي إذا لم أجدهم، وجدت صلاح قلبي في مجالسة العلماء (جامع بیان العلم وفضلہ ج ۱ ص ۲۱۱)


۔۔۔۔۔۔ ہر شہر میں وہ میرے کمشدہ زیور ہیں، اگر مجھے نہ ملیں تو وہ میرے مقصد ہیں، میں نے اپنے دل کی صلاح علماء کی مجلس میں بیٹھ کر کی ہے۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
اہل علم کے عوام پر حقوق :

علماء کرام کے عوام الناس پر بے شمار حقوق بروئے شریعت لازم ہوتے ہیں جن میں چند حقوق تو ایسے ہیں جن میں تمام مسلمان شامل ہیں اور اہل علم بدرجہ اولیٰ اس میں آئیں گے

کیونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے

’’ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء ‘

ان میں سے ان پر سلام کرنا، ان کی غیبت سے خود کو بچانا،ان کی دعوت کو قبول کرنا، چھینک کا جواب دینا، بیمار پرسی کرنا، وفات پر جنازہ میں شرکت کرنا وغیرہ اور چند حقوق ایسے ہیں جو اہل علم کیلئے خاص ہیں جن میں معروف میں ا ن کی اطاعت کرنا، ان کی باتوں کے خلاف چلنے سے گریز کرنا، اور اگر ان سے کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو اس باب میں انہیں معذور سمجھنا،

سیدنا امیر المؤمنین جناب علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ عالم کے حقوق سے متعلق فرماتے ہیں :

(من حق العالم عليك أن تسلم على القوم عامة، وتخصه دونهم بالتحية، وأن تجلس أمامه، ولا تشيرن عنده بيدك، ولا تغمزن بعيتيك، ولا تقولن قال فلان : خلافا لقوله، ولا تغتابن عنده أحدا، ولا تسار في مجلسه، ولا تأخذ بثوبه، ولا تلح عليه إذا كسل، ولا تعرض من طول صحبته فإنما هو بمنزلة النخلة تنتظر متى يسقط عليك منها شئ، وان المؤمن العالم لأعظم أجرا من الصائم القائم الغازي في سبيل الله، وإذا مات العالم انثلمت في الإسلام ثلمة لا يسدها شئ إلى يوم القيامة) (الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي رحمه الله ج 1 ص199)

آپ پر عالم کے حقوق میں سے یہ حق ہے کہ لوگوں پر عمومی سلام کرو اور عالم دین سے خصوصی طور پر تحیہ بھیجو، اس کے سامنے ادب سے بیٹھو، اس کی مجلس میں ہاتھوں سے اشارے نہ کرو، آنکھیں مت جھپکو، اس کے سامنے یہ مت کہو کہ فلاں یہ کہتا فلاں یہ کہتا ہے۔ تاکہ اس کی مخالفت نہ ہو، اس کے پاس کسی کی غیبت مت کرو، اس کی مجلس میں سرگوشیاں مت کرو، اس کے کپڑے مت کھینچو۔ اگر وہ باعث سستی کوئی چیز نہ دے تو اصرار مت کرو، اس کی صحبت سے مت اکتاؤ کیونکہ اس کی مثال کھجور کی ہے کچھ پتہ نہیں کہ کس وقت کوی کھجور آپ پر گر پڑے۔ ایک عالم دین مومن روزہ دار اور غازی سے بڑھ کر اجر پانے والا ہے جب عالم دین فوت ہونے سے اسلام میں ایسا زخم لگتا ہے جو تاقیامت مندمل نہ ہوگا۔

لہٰذا اہل علم کی تحقیر سے بچنا، انہیں رسوا وذلیل کرنا، غیور اہل علم کی اطاعت کرنا ان کے مشوروں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اہل علم سے متعلق فرماتے ہیں :

(العلماء هم في الأرض بمنزلة النجوم في السماء بهم يهتدي الحيران في الظلماء، وحاجةُ الناس إليهم أعظمُ من حاجتهم إلى الطعام والشراب وطاعتهم أفرض عليهم من طاعة الأمهات والآباء بنص الكتاب قال تعالى : يا أيها الذين آمنوا أطيعوا لله وأطيعوا الرسول وأولى الأمر منكم ) (النساء : 59 )

سیدنا عبد اللہ بن عباس سے ایک روایت میں اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ اور تابعین میں حسن بصری ابو العالیہ اور عطاء بن ابی رباح ضحاک اور مجاہد ( ایک روایت میں )فرماتے ہیں" أولو الأمر" سے مراد علماء کرام ہیں۔امام احمد سے بھی ایک روایت میں یہی مروی ہے۔ اور ابو ھریرہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ (ایک روایت میں ) اور زید بن اسلم اور سدی اور مقاتل :" هم الأمراء " اس سے مراد امراء ہیں اور امام احمد سے ایک روایت میں یہی منقول ہے۔

حقیقۃ امراء کی اطاعت اس وقت ہوگی جب وہ علم کے مقتضی کے مطابق حکم دیں تو ان کی اطاعت علماء کی اطاعت کے تابع ہے، تو اطاعت معروف میں ہوگی جو بروئے علم واجب ہوتی ہے۔ تو جیسا کہ علماء کی اطاعت رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کے تابع ہے اسی طرح امراء کی اطاعت علماء کی اطاعت کے تابع ہے، اور جیساکہ اسلام کے قیام دونوں فریقوں یعنی علماء اور امراء کے ذریعہ ممکن ہوتاہے، اور تمام لوگ ان دونوں گروہوں کے تابع ہیں لہذا عالم انسانی کی اصلاح ان دونوں طبقوں کی اصلاح پر مبنی ہے اور اس کی تباہی اور فساد ان دونوں گروہوں کے فساد وتباہی پر مبنی ہے۔

علماء کرام کے خصوصی حقوق میں سے تیسرا حق یہ ہے کہ :

شرعی مسائل میں ان سے راہنمائی لیں اور پیچیدہ مسائل میں ان سے رجوع کریں۔

فرمان باری تعالیٰ ہے :

{فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ } [النحل: 43]

نیز فرمایا :

{وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا}[النساء: 83 ]


چوتھا حق :

ان کی پیروی اور اقتدا کی جائے اور ان کا توقیر واحترام بجا لایا جائے۔

علماء کرام کی عزت، احترام توقیر وتقدیر کا شرعا حکم دیا گیا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے بڑے کا ادب نہ کرے، ہمارے چھوٹے پر شفقت نہ کرے۔ اور ہمارے عالم کا حق نہ پہچانے۔ ‘‘ (حاکم)


اور فرمایا :

اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ سفید ریش بوڑھے مسلمان اور حامل قرآن کا اکرام کیا جائے، ہاں اس میں غلو اور جفوت نہیں ہونی چاہئے، اور عدل کرنے والے سلطان کا اکرام کیا جائے۔ ‘‘ (ابوداود)


سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک شعر میں فرماتے ہیں :

ما الفضل إلا لأهل العلم إنهـــم على الهدى لمن استهدى أدلاء

پانچواں حق :

اہل علم کیلئے دعا کرنا اور ان کیلئے اللہ تعالیٰ سے استغفار طلب کرنا۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :

وإن العالم ليستغفرُ له مَنْ فى السموات ومن فى الأرض حتى الحيتانُ فى الماء‘‘۔

ایک مقام پر آپ نے فرمایا :

من صنع إليكم معروفا فكافئوه فإن لم تجدوا ما تكافئونه به، فا دعوا له حتى تروا أنكم قد كافأتموه. رواه أبو دواد وغيره.


تو علماء کرام جو معروف کرتے ہیں اس سے بڑھ کر کیا چیز ہوسکتی ہے۔

چھٹا حق :

اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے اور انہیں معذورسمجھا جائے۔

وہ لوگ معصوم نہیں ہے

پیارے پیغمبر نے فرمایا :

کل بنی آدم خطاء وخير الخطائين التوابون۔‘‘

ہو بنی آدم غلطی کرنے والا ہے اور سب سے زیادہ بہتر وہ ہے جو غلطی کرکے توبہ کرلتے ہیں۔

http://www.islamfort.com/index.php/articles/item/4727-awam-aur-ulma-main-khaleej
 
Last edited:

ایک گنہگار

مبتدی
شمولیت
اگست 28، 2014
پیغامات
72
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
18
سر اہلحدیث اور غیر مقلد کو علماء کے پاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں. کسی کے مقلد ہونا سخت منع ہے. وہ لوگ اپنی ہی تحقیق پر انحصار کرتے ہیں.
 

ایک گنہگار

مبتدی
شمولیت
اگست 28، 2014
پیغامات
72
ری ایکشن اسکور
26
پوائنٹ
18
انتظامیہ سے گزارش ہے کہ میرے comment اس دھاگے میں سے ختم کر دیں. اس سے اگر کسی بهی مسلمان بهائی بہن کو تکلیف ہوئی ہو تو میں اللہ سے توبہ کرتا ہوں. اور اس شخص سے معافی مانگتا ہوں. <br />اس دھاگے اور اس میں شریک کردہ سب معلومات سے عند اللہ دستبردار ہوتا ہوں.<br /><br />انتظامیہ سے گزارش ہے کہ اس دھاگے میں سے میرے comments کو ختم کر دیں.<br /><br />جزاکم اللہ خیراً.<br/>
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,235
پوائنٹ
402
خالد حسین گورایہ صاحب باصلاحیت نوجوان ساتھی ہیں جو اس وقت کراچی سے سہ ماہی رسالہ البیان بھی نکال رہے ہیں اور کچھ شمارے تو بہت ہی جاندار ہیں بالخصوص اقتصادیات پر خاص نمبر بہت کمال کا ہے
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,235
پوائنٹ
402
اس اقتصادیات نمبر کے کچھ موضوعات میں سکین کر کے فورم میں اپلوڈ کروں گا
 
Top