• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت و مرد کا ازدواجی رشتہ

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
285
ری ایکشن اسکور
499
پوائنٹ
120
حیدرآبادی بھائی میرے خیال سے آپکو تبلیغی جماعت کے بارے میں ایسا نہیں کہنا چاہیئے- مزاح صرف اپنے حد تک رہے تو بہترین ہے- امید ہے آپ میری بات کو مثبت لیں گے- اگر میرے الفاظ آپکی طبیعت پر گراں گزرے تو معذرت چاہتا ہوں-
پاشا بھائی، میں بالکل ایسا کہوں گا اور ہزار بار کہوں گا۔ کیونکہ اس کے پیچھے میرے سینکڑوں ذاتی تجربات رہے ہیں۔ اور آپ مجھے میرے اظہار رائے سے روکنے کا حق نہیں رکھتے۔
ہاں، اگر یہ الفاظ آپ کی طبیعت پر گراں گزرتے ہیں تو آپ سے ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں۔
 
شمولیت
مئی 23، 2013
پیغامات
213
ری ایکشن اسکور
381
پوائنٹ
90
پاشا بھائی، میں بالکل ایسا کہوں گا اور ہزار بار کہوں گا۔ کیونکہ اس کے پیچھے میرے سینکڑوں ذاتی تجربات رہے ہیں۔ اور آپ مجھے میرے اظہار رائے سے روکنے کا حق نہیں رکھتے۔
ہاں، اگر یہ الفاظ آپ کی طبیعت پر گراں گزرتے ہیں تو آپ سے ذاتی طور پر معذرت خواہ ہوں۔
جیسے آپکی مرضی حیدرآبادی بھائی- میں کون ہوتا ہوں آپکو روکنے والا- شاید میں نے آپ کے ذاتی معاملے میں مداخلت کی ہے تو اس کے لیئے میں تہ دل سے حیدرآبادی بھائی
 

سرفراز فیضی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 22، 2011
پیغامات
1,091
ری ایکشن اسکور
3,806
پوائنٹ
376
عورت اپنی زندگی شوہر، بچوں رشتے داروں اور سہیلیوں کیلے وقف کر دیتی ہے اور اگر اس کے خلوص، محبت، ایثار اور قربانی کی قدر نہ کی جائے تو اس کا شیشۂ دل چور چور ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی وہ زندگی سے مایوس ہوجاتی ہے، لیکن خلوص پر مبنی تحسین و ستائش کا ایک لفظ اس کی تمام تکان اور افسردگی کو کافور کر دیتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مرد بھی اپنے خاندان سے محبت کرتا ہے لیکن اس کی محبت جذباتی کم اور عقلی زیادہ ہوتی ہے اور پھر اس کی محبت کا دائرہ زیادہ وسیع ہوتا ہے۔
کیا اسی وجہ سے عورت محبت کے لفظی اظہار کو زیادہ اہمیت دیتی ہے مرد کے برعکس؟
 

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
285
ری ایکشن اسکور
499
پوائنٹ
120
عورت اپنی زندگی شوہر، بچوں رشتے داروں اور سہیلیوں کیلے وقف کر دیتی ہے اور اگر اس کے خلوص، محبت، ایثار اور قربانی کی قدر نہ کی جائے تو اس کا شیشۂ دل چور چور ہوجاتا ہے اور کبھی کبھی وہ زندگی سے مایوس ہوجاتی ہے، لیکن خلوص پر مبنی تحسین و ستائش کا ایک لفظ اس کی تمام تکان اور افسردگی کو کافور کر دیتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ مرد بھی اپنے خاندان سے محبت کرتا ہے لیکن اس کی محبت جذباتی کم اور عقلی زیادہ ہوتی ہے اور پھر اس کی محبت کا دائرہ زیادہ وسیع ہوتا ہے۔
کیا اسی وجہ سے عورت محبت کے لفظی اظہار کو زیادہ اہمیت دیتی ہے مرد کے برعکس؟
بھائی ملین ڈالر کا سوال ہے آپ کا۔
مصنف حضرت تو اللہ کو پیارے ہو گئے ورنہ انہی سے پوچھ لیتا کہ ان سے ملاقاتیں بھی تھیں۔
عرصہ گزارنے کے بعد آج تک ہمیں بھی آپ کی طرح یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر اس "لفظی اظہار" میں خاص بات ہے کیا؟
بندہ عام وقت عموماً جتنا کھانے کی عادت ہے اتنا کھاتا ہے مگر کبھی حد سے زیادہ کھا لے تو شریک سفر کو سمجھنا چاہیے کہ ضرور آج کا کھانا زبردست بنا ہے۔ بندہ کسی تنخواہ پر بغیر پوچھے کچھ زیور دلا دے یا شاپنگ کروا دے تو اسے دلی لگاؤ اور محبت کا اظہار سمجھنا چاہیے۔ مگر پتا نہیں کیوں پھر بھی "زبانی اظہار" ضروری سمجھا جاتا ہے؟ :P
فورم ہی کے ایک خاص رکن نے ایک مرتبہ یہی سمجھایا تھا کہ آپ کچھ بھی عمل کر لیں مگر زبانی اظہار بھی ضروری ہے ، کبھی جھوٹ موٹ ہی سہی مگر زبانی اظہار کر کے خود دیکھ لیجئے گا۔ خیر صاحب ہم نے کیا اور ان کی دوراندیشی اور تجربہ کاری کے قائل ہو گئے ;)
 

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
285
ری ایکشن اسکور
499
پوائنٹ
120
دنیا کی نہایت سادہ، کھلی اور فطری حقیقت جنس ہے اور یہی ہمارے لئے سب سے بڑا راز بنی ہوئی ہے ۔ سماج نے اس کے اطراف تقدس اور توہم کا ایک ایسا حصار باندھ دیا ہے کہ کوئی فرد اس میں داخل نہیں ہو سکتا، خصوصاً جنس کے تعلق سے جس مجرمانہ رمزیت اور خاموشی سے کام لیا گیا ہے اس کے مضر نتائج سے آج انسان لرزہ براندام ہے ۔ جنسی مسائل کے بارے میں معلومات پر کڑی نگرانی رکھنے کا ایک برا نتیجہ بھی ہے کہ جنسی تعلیم و تربیت کے نا اہل ذرائع آزاد ہو گئے اور نوجوان فطری تجسس کی اپنے انداز میں تشفی کرنے لگے۔ سستے جنسی ادب، گندہ افسانوں، فحش تصویروں اور پردہ سمیں کی عریانیوں نے بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کے دل میں ایسی بارود بچھادی جو بھڑک اٹھنے کیلئے کسی دیا سلائی کی محتاج نہیں، لیکن ستم تو یہ ہے کہ معصوم اور متجسس نوجوانوں کیلئے قحبہ خانے مکتب بن گئے اور استاد کی جگہ اناڑی اور بگڑے دوستوں اور سہلیوں نے لے لی۔

ہمیں ماننا پڑے گا کہ ہمارے سماج میں گھر سے لے کر جامعات تک کوئی ایسا ادارہ نہیں جس نے تربیت جنسی کا انتظام کیا ہوا یا کم ازکم اس کی وکالت کی ہو۔ ہمیں یہ بھی اعتراف ہے کہ ہم نے جنسی مسائل سے متعلق اپنی پود میں وہ صحیح شعور پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، جس پر اس کی شخصیت کی تعمیر کا انحصار ہے۔ جنسی جبلت کو اتنی اہمیت بھی نہیں دی گئی جس کی علم سلیم متقاضی ہے بلکہ اسے غیر فطری میلان سمجھ کر دبایا گیا اور موسم کی چیز خیال کرکے اپنی اولاد کو اس کے چھکنے سے بازرکھا گیا۔ انتہا یہ ہے کہ آج بھی جنسی علم ایک ہوا بنا ہوا ہے اور وہ یا تو ممنوعہ کتابوں میں قید ہے یا معلمین اخلاق کے ضمیروں میں ایک گناہ کی طرح چھپا پڑا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ کوتاہیاں اور نادانیاں رنگ لائے بغیر نہ رہیں، سلگتے شباب بھڑک اٹھے اور دہکتی جوانیاں اپنی ہی آگ میں جل کر ڈھیر ہوگئیں۔ اب خاکستر میں کچھ چنگاریاں بھی باقی رہ گئی ہیں جو نفسی امراض کے چنگل میں دم توڑ رہی ہیں۔

اگر ہم جنسی جبلت کو مرکزی ا ور بنیادی جبلت نہ بھی سمجھیں تب بھی ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ افسانوی دنیا کے علاوہ حقیقی دنیا میں بھی اس کا کافی اثر ہے۔ وہ نوع انسان کے آدھے افکار اور توانائیوں پر چھائی ہوئی ہے۔ اور اس کی بہت سی کوششوں کی منزل بنی ہوئی ہے۔ وہ کبھی اہم واقعات پر مخالف انداز میں اثر ڈالتی ہے۔ کبھی اہم مشاغل میں خلل پیدا کردیتی ہے۔ کبھی بہترین دماغوں کو پراگندہ کردیتی ہے۔ کبھی دانشوروں کی سنجیدہ بات کو مضحکہ خیز بنادیتی ہے اور کبھی محققین کی علمی دریافتوں میں روڈا بن جاتی ہے۔ بعض اوقات تو فلسفیانہ مسودوں سے عشقیہ خطوط اور کاکل خمدار برآمد ہوئے! غرض کہ آئے دن کے قتل و خون اور صحت، دولت اور آسودگی کی قربانیوں میں اس جبلت کا بڑا ہاتھ ہے اور اس نے مسلمہ راست بازوں، وفاداروں، زاہدوں اور سنیاسیوں کو اپنے ضمیر سے محروم کردیا ہے۔ وہ ایک کپٹی شیطان کی طرح ہر چیز کو اپنی فطرت سے منحرف کردینا چاہتی ہے۔ اس لئے عقل اور تجربہ کا یہ تقاضہ ہے کہ جنسی رجحان کو بے لگام نہ چھوڑا جائے بلکہ صحیح تربیت جنسی کے ذریعہ اس میں تعمیری صلاحیت پیدا کی جائے، کیونکہ جسم ، دماغ اور روح کے متوازن نشوونما سے انسان اپنے لئے ایک نصب العین پیدا کرسکتا ہے اور سچی قدروں کے سرمایہ سے مالا مال کرسکتا ہے۔

تعمیر نیوز : جنس کی ضرورت و اہمیت - قسط:13
 

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
285
ری ایکشن اسکور
499
پوائنٹ
120
ازدواجی زندگی کو خوشحال بنانے کی ضرورت اس قدر شدت سے کبھی محسوس نہیں کی گئی تھی جتنی آج کل سمجھی جا رہی ہے۔ بیشتر لوگ جو حصول مسرت کی توقع میں شادی کرتے ہیں اکثر سخت مایوسی سے دوچار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں دوبارہ آزادی حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

شادی شدہ زندگی کو دلچسپ ، دلفریب اور پائیدار بنانا کوئی آسان کام نہیں ۔ اصل میں یہ ایک ایسا مستقل کارنامہ ہوتا ہے، جو ایک خود غرض ، پست ہمت اور بزدل شخص کی طاقت سے باہر ہے ۔ ازدواجی زندگی کے مسئلے بے حد پیچیدہ ہوتے ہیں اور انہیں حل کرنے کے لئے صبر، استقلال اور ہمدردی کی سخت ضرورت ہے ۔
بعض لوگ جنسی تربیت کی حد تک یہ کہتے ہیں کہ کیا اس کے لئے فطرت کافی نہیں ہے؟ کیا فطرت جنس کے بارے میں انسان کی بہترین استاد نہیں ہے؟ اس کا بس یہی ایک جواب ہے کہ نہیں !
فطرت قطعاً کافی نہیں ہے ۔ ہر انسانی فعل کے تعلق سے یہ تسلیم کیاجاچکا ہے کہ تربیت کا حصول لازمی ہے۔ ایک بلی جانتی ہے کہ اپنے نوزائیدہ بچوں کی پرورش کیونکر کرے اور انہیں تربیت کیونکر دے لیکن اشرف المخلوقات کی ماں کو جب تک تعلیم اور تربیت نہ دی جائے وہ نہیں جانتی کہ بچوں کو کیونکر سنبھالے اور تربیت دے ۔ یہ تعلیم و تربیت وہ یا تو کسی سے راست حاصل کرتی ہے یا دوسری ماؤں کو دیکھ کر اپنی قوت مشاہدہ کے ذریعہ حاصل کرتی ہے ۔ بلی اپنے سارے فرائض طبعاً یا فطرتاً پورے کرتی ہے، لیکن انسان کی ماں کو پیچیدہ فرائض کی تکمیل کے لئے تعلیم و تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔

۔۔۔۔ شوہر کی اگر پہلی شادی نہیں ہے تو وہ اس معاملہ خاص میں اپنی معلومات ضرور رکھتا ہے جو ایک دوشیزہ سے زیادہ ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ مرد بے باک، دست دراز اور اپنے کو دبانے کی طرف سے قدرتاً بے پروا ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اپنے گھر میں ہے اور جانتا ہے کہ مذہب، قانون اور سوسائٹی نے اسے اجازت دے رکھی ہے کہ وہ آج کی رات جس طرح چاہے بسر کرے اور اپنی مرضٰ کے مطابق لطف اندوز ہو اور اپنی بیوی سے جو چاہے سلوک کرے۔
دوسری طرف نو عمر عورت ہے جس کی عمر کا بیش تر حصہ چار دیواری میں عورتوں کے ساتھ بسر ہوا ہے۔ اس نے کسی اجنبی مرد سے بات چیت نہیں کی۔ وہ شرم و حجاب کے لحاظ سے پہلے دن کی نئی دلہن ہے ۔ ماں باپ کا گھر ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر آئی ہے ۔ بالکل اجنبی جگہ آئی ہے ، ان ساری باتوں سے بڑھ کر وہ اپنی دوشیزگی کے چھن جانے کے تعلق سے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی خائف ہے ۔ اب ان حالات کے پیش نظر یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ دلہا کو دلہن کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہئے ۔

۔۔۔۔اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ شادی کے بعد عورت اور مرد ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے ایسے محرم ہوتے ہیں جس کے مثال دنیا کے کسی رشتے میں نہیں ملتی ۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ شوہر اور بیوی کے جو تعلقات برسوں کی یکجائی کے بعد پیدا ہوتے ہیں وہ پہلی رات کے پہلے ہی گھنٹے سے فرض کرلئے جائیں ۔ ان تعلقات کی ابتداء تو بڑی متانت، بڑی تہذیب اور شائستگی سے ہونی چاہئے ۔
شوہر کو چاہئے کہ پہلے بیوی سے گفتگو کرے ۔ گفتگو میں موانست پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے میکے کا ذکر ہو ۔ بھائیوں، بہنوں اور دوسرے رشتے داروں کے تعلق سے بات چیت کی جائے۔ پھر اس کی تعلیم و تربیت کے بارے میں معلومات لی جائے۔ اس کی عادات کا ذکر ہو، پسند، ناپسند کا پتہ چلایاجائے اس کے محبوب مشاغل کی دریافت کی جائے ۔ اس کی مرغوب اشیاء کی تحقیق کی جائے۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات پر تبصرے ہوں ۔ اگر سلیقے سے گفتگو کی جائے گی تو جانبین میں بہت جلد بے تکلفی پیدا ہوجائے گی۔ پھر اگر بتدریج جذبات کو عیاں کیاجائے گا تو چنداں مضائقہ نہیں اور فریق ثانی کے لئے بے لطفی کا باعث نہیں ہوگا ۔

۔۔۔۔۔ بہر حال یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ بیوی صرف شباب کے عارضی ولولوں کی آماجگاہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ ایک رفیق ہے جو زندگی کے رنج وراحت ، نشیب و فراز اور سرد و گرم میں ساتھ دینے کے لئے حاصل کی گئی ہے ۔ پس پہلی رات صرف جذبات پروری میں بسر کرنے کے لئے نہیں ہے ۔ بلکہ اس رات باہم ایسی گفتگو ہونی چاہئے جس سے جانبین ایک دسرے کے ہمدرد اور غمگسار بنیں ۔ ایک دوسرے کے تعلق سے حسن ظن پیدا ہو۔ بیوی شوہر کو پا کر یہ نہ محسوس کرے کہ اگر اس نے ماں باپ ، بھائی بہن اور اس گھر کو خیرآباد کہا جس میں وہ پل کر جوان ہوئی تو اس کا بدل اس کو کچھ نہیں ملا اور اگرا س نے بہت کچھ کھویا ہے تو بہت کچھ پایا بھی ہے ۔
اور شوہر کے دل میں یہ خیال جاگزیں ہو کہ اس نے جس ہستی کو اپنا شریک زندگی بنایا ہے اور تمام عمر جس کا بار اٹھانے کی ذمہ داری لی ہے ، وہ ہر طرح اس کی اہل ہے ۔ اور اس سودے میں اسے کسی طرح خسارہ کا احتمال نہیں ہے ۔ اگر پہلی رات ان خوشگوار توقعات کی بنیاد پر بسر کی جائے گی تو یقیناًیہ اک دوسرے کی دلکشی اور دل آویزی کا باعث ہوگی ۔ اور پھر تمام عمر عیش و آرام اور دائمی مسرتوں کے ساتھ گزرے گی ۔

تعمیر نیوز : یادگار - فیصلہ کن رات - قسط:19
 
Top