محدث میڈیا
رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,020
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 96
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
حج یا عمرہ میں عورتوں کے لیے احرام کے کوئی خاص کپڑے نہیں ہیں، وہ عام کپڑے پہن سکتی ہے، لیکن ان کے لیے دستانے پہننا منع ہے۔ اسی طرح نقاب کرنا بھی منع ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ (صحيح البخاري، جزاء الصيد: 1838)
’’محرم عورت نقاب اور دستانے بھی نہ پہنے۔‘‘
كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ (سنن أبي داود، المناسك: 1833)
’’ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام سے ہوتی تھیں اور قافلے والے ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم اپنے پردے کی چادر کو سر سے چہرے پر لٹکا لیتیں۔ جب وہ گزر جاتے تو چہرہ کھول لیتی تھیں۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
حج یا عمرہ میں عورتوں کے لیے احرام کے کوئی خاص کپڑے نہیں ہیں، وہ عام کپڑے پہن سکتی ہے، لیکن ان کے لیے دستانے پہننا منع ہے۔ اسی طرح نقاب کرنا بھی منع ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ (صحيح البخاري، جزاء الصيد: 1838)
’’محرم عورت نقاب اور دستانے بھی نہ پہنے۔‘‘
- عورت کو حالت احرام میں نقاب پہننے سے منع کیا گیا ہے، اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ اپنا چہرہ نہیں ڈھانپے گی، بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ اجنبی مردوں سے نقاب کیے بغیر اپنے چہرے کو ڈھانپے۔
كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ (سنن أبي داود، المناسك: 1833)
’’ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام سے ہوتی تھیں اور قافلے والے ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم اپنے پردے کی چادر کو سر سے چہرے پر لٹکا لیتیں۔ جب وہ گزر جاتے تو چہرہ کھول لیتی تھیں۔‘‘
والله أعلم بالصواب.