• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عورت کااحرام

شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,020
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
96
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حج یا عمرہ میں عورتوں کے لیے احرام کے کوئی خاص کپڑے نہیں ہیں، وہ عام کپڑے پہن سکتی ہے، لیکن ان کے لیے دستانے پہننا منع ہے۔ اسی طرح نقاب کرنا بھی منع ہے۔

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وَلَا تَنْتَقِبْ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ وَلَا تَلْبَسْ الْقُفَّازَيْنِ (صحيح البخاري، جزاء الصيد: 1838)
’’محرم عورت نقاب اور دستانے بھی نہ پہنے۔‘‘
  • عورت کو حالت احرام میں نقاب پہننے سے منع کیا گیا ہے، اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہے کہ وہ اپنا چہرہ نہیں ڈھانپے گی، بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ اجنبی مردوں سے نقاب کیے بغیر اپنے چہرے کو ڈھانپے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا سَدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا فَإِذَا جَاوَزُونَا كَشَفْنَاهُ (سنن أبي داود، المناسك: 1833)
’’ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام سے ہوتی تھیں اور قافلے والے ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم اپنے پردے کی چادر کو سر سے چہرے پر لٹکا لیتیں۔ جب وہ گزر جاتے تو چہرہ کھول لیتی تھیں۔‘‘

والله أعلم بالصواب.
 
Top