ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 909
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
عورت کا دوسری عورتوں اور اپنے محارم کے سامنے شلوار اور تنگ پتلون پہننے کا شرعی حکم
بسم الله والحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله أحسن الله إليكم و جزاكم الله خير الجزاء على مجهودكم الطيب في هذا المنتدى الكريم
سؤالي عن حكم لبس المرأة المسلمة للسروال والبنطال. فبعض النساء هداهن الله يلبسن السروال في المنزل أمام الأبناء ويلبسن البنطال في المناسبات أمام النساء. فما هو حكم ذلك جزاكم الله خيرا مع ذكر الدليل من الكتاب والسنة. وفقكم الله لما يحب ويرضى. السائل: أبو محمد
میرا سوال مسلمان عورت کے لیے شلوار اور پتلون پہننے کے شرعی حکم کے متعلق ہے۔ بعض خواتین، اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت عطا فرمائے، گھر میں اپنے بچوں کے سامنے شلوار پہنتی ہیں اور تقریبات میں دوسری عورتوں کے سامنے پتلون پہن کر آتی ہیں۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ براہ کرم کتاب و سنت سے دلیل ذکر کرتے ہوئے وضاحت فرمائیں۔
الجواب: أخي السائل بارك الله فيك ..
إن كان البنطال الذي تلبسه المرأة ضيقا بحيث يصف أعضاءها ويجسد عورتها فمثل هذا البنطال لا يجوز للمرأة لبسه إلا أمام من يجوز لها أن تظهر عورتها أمامه وهو الزوج فقط، ولا يجوز لها لبسه أمام غيره من الأولاد أو النساء
پہلی صورت: اگر پتلون تنگ ہو اور عورت کے جسم کے اعضا اور اس کے قابل ستر حصوں کی ساخت کو نمایاں کرتی ہو، تو ایسی پتلون پہننا جائز نہیں، سوائے شوہر کے سامنے۔
ایسی پتلون عورت کے لیے صرف شوہر کے سامنے پہننا جائز ہے، کیونکہ وہی شخص ہے جس کے سامنے عورت کے لیے اپنی شرم گاہ کو ظاہر کرنا جائز ہے۔ شوہر کے علاوہ دوسرے لوگوں، خواہ وہ اس کے بچے ہوں یا دوسری عورتیں، ان کے سامنے ایسی پتلون پہننا جائز نہیں۔
اس سلسلے میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَلَا الْمَرْأَةُ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ»
ترجمہ: ’’کوئی مرد دوسرے مرد کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھے اور نہ کوئی عورت دوسری عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھے۔‘‘
علامہ نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
«فِيهِ تَحْرِيمُ نَظَرِ الرَّجُلِ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَالْمَرْأَةِ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَهَذَا لَا خِلَافَ فِيهِ. وَكَذَلِكَ نَظَرُ الرَّجُلِ إِلَى عَوْرَةِ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةِ إِلَى عَوْرَةِ الرَّجُلِ حَرَامٌ بِالْإِجْمَاعِ»
ترجمہ: ’’اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد کے لیے دوسرے مرد کی شرم گاہ کی طرف دیکھنا اور عورت کے لیے دوسری عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھنا حرام ہے، اور اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں۔ اسی طرح مرد کا عورت کی شرم گاہ کی طرف دیکھنا اور عورت کا مرد کی شرم گاہ کی طرف دیکھنا بھی اجماع کی رو سے حرام ہے۔‘‘
وقد فُسِّر قول النبي صلى الله عليه وسلم: "كاسيات عاريات" بلبس الملابس الضيقة؛ فهي ساترة عن الرؤية لكنها مبدية لمفاتن المرأة، والراجح من أقوال العلماء أن عورة المرأة على
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان کی تشریح میں بعض اہل علم نے تنگ لباس پہننے کو بھی شامل کیا ہے: «كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ» ’’لباس پہننے کے باوجود برہنہ عورتیں۔‘‘ اس سے مراد ایسی عورتیں بھی لی گئی ہیں جو بظاہر لباس پہنتی ہیں، لیکن ان کے کپڑے اس قدر تنگ ہوتے ہیں کہ ان کے جسم کی ساخت اور جسمانی خدوخال نمایاں ہوجاتے ہیں۔ اس طرح لباس بظاہر جسم کو ڈھانپتا ہے، لیکن عورت کے جسم کے محاسن اور خدوخال کو ظاہر کرتا ہے۔
المرأة وعلى سائر محارمها - سوى الزوج - هي ما لا تظهره ثياب المهنة والخدمة كالفخذين والبطن والظهر والبنطال الضيق سيجسد الفخذين فيكون كالمظهر لهما ...
عورت کا دوسری عورتوں اور اپنے شوہر کے علاوہ دیگر تمام محارم کے سامنے ستر وہ ہے جسے وہ عام گھریلو کام کاج اور خدمت کے لباس میں ظاہر نہیں کرتی، مثلا رانیں، پیٹ اور پیٹھ۔ چونکہ تنگ پتلون رانوں اور جسم کے دوسرے حصوں کی ساخت کو نمایاں کرتی ہے، اس لیے وہ ان اعضا کو ظاہر کرنے کے حکم میں ہے۔
أما إن كان البنطال واسعا ولا يجسد عورة المرأة ولا يصفها فلا حرج عليها من لبسه أمام النساء ومحارمها من الرجال ... والله أعلم.
دوسری صورت: اگر پتلون کشادہ ہو اور عورت کے قابل ستر حصوں کی ساخت کو نمایاں نہ کرتی ہو، تو عورت کے لیے دوسری عورتوں اور اپنے مرد محارم کے سامنے ایسی پتلون پہننے میں کوئی حرج نہیں۔ واللہ اعلم۔
جواب دینے والے : شیخ ابو اسامہ الشامی
رکن اللجنہ الشرعيہ منبر التوحيد والجهاد
تاریخ اشاعت: 20 اکتوبر 2009ء
رکن اللجنہ الشرعيہ منبر التوحيد والجهاد
تاریخ اشاعت: 20 اکتوبر 2009ء
Last edited: