محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,079
- ری ایکشن اسکور
- 35
- پوائنٹ
- 111
نماز جنازہ کی مسنون دعاؤں میں میت کے مذکر ؍مؤنث کے اعتبار سے صیغوں کی تبدیلی کی جا سکتی ہے،یعنی آدمی کے لیے مذکر کے صیغوں اور عورت کے لیے مؤنث کے صیغوں اور ضمیروں کے ساتھ دعا کی جائے۔
سيدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ بيان كرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَتَعَلَّمُهَا فَقَالَ بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا )السلسلة الصحيحة: 199)
’’ جس شخص کو جب کبھی کوئی مصیبت یاغم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت اور غم کو دور کر کے اس کی جگہ خوشی عطاء فرمائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں اے اللہ! میں آپ غلام ابن غلام ہوں ، آپ کی باندی کا بیٹاہوں میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میری ذات پر آپ ہیکا حکم چلتاہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل وانصاف والاہے، میں آپ کو آپ کے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتاہوں کہ جو آپ نے اپنے لیے خودتجویزکیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ آپ قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کانور،غم میں روشنی اور پریشانی کی دوری کا ذریعہ بنادیں ، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم اس دعاء کو سیکھ لیں ، فرمایا کیوں نہیں ، جو بھی اس دعاء کو سنے اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے سیکھ لے۔‘‘
صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (سنن أبي داود، الجنائز: 3202) (صحیح)
’’رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مسلمان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، جبکہ عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے یوں کہا : مِنْ ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ( اے اللہ ! فلاں بن فلاں تیرے ذمے ( کفالت ) میں ہے اور تیری ہمسائیگی اور امان میں آ گیا ہے ۔ سو تو اسے قبر کی آزمائش اور آگ کے عذاب سے محفوظ فر دے ‘ تو اپنے وعدے وفا کرنے والا اور حق والا ہے ۔ اے اللہ ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فر ‘ بلاشبہ تو بہت ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔)
فلان بن فلان کی جگہ میت کا نام لیا جائے گا۔
والله أعلم بالصواب.
سيدنا عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ بيان كرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَتَعَلَّمُهَا فَقَالَ بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا )السلسلة الصحيحة: 199)
’’ جس شخص کو جب کبھی کوئی مصیبت یاغم لاحق ہو اور وہ یہ کلمات کہہ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت اور غم کو دور کر کے اس کی جگہ خوشی عطاء فرمائیں گے، وہ کلمات یہ ہیں اے اللہ! میں آپ غلام ابن غلام ہوں ، آپ کی باندی کا بیٹاہوں میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، میری ذات پر آپ ہیکا حکم چلتاہے، میری ذات کے متعلق آپ کا فیصلہ عدل وانصاف والاہے، میں آپ کو آپ کے ہر اس نام کا واسطہ دے کر کہتاہوں کہ جو آپ نے اپنے لیے خودتجویزکیا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو وہ نام سکھایا، یا اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنے پاس علم غیب میں ہی اسے محفوظ رکھا، کہ آپ قرآن کریم کو میرے دل کی بہار، سینے کانور،غم میں روشنی اور پریشانی کی دوری کا ذریعہ بنادیں ، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا ہم اس دعاء کو سیکھ لیں ، فرمایا کیوں نہیں ، جو بھی اس دعاء کو سنے اس کے لئے مناسب ہے کہ اسے سیکھ لے۔‘‘
- مذکورہ دعا کے شروع والے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے الفاظ یوں بتائے: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ (اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہوں)۔ ظاہری بات ہے، اگر یہی دعا کرنے والی عورت ہو تو وہ اس طرح دعا کرے گی: اللَّهُمَّ إِنِّي أَمَتُكَ وَبِنتُ عَبْدِكَ وَبِنتُ أَمَتِكَ (اے اللہ! میں تیری بندی، تیرے بندے کی بیٹی اور تیری بندی کی بیٹی ہوں)۔
- واضح رہے کہ اگر مؤنث کے لیے صیغے یا ضمیریں تبدیل نا بھی کی جائیں تو بھی جائزہے ، اس وقت انسان اپنے ذہن میں میت کا تصور رکھے گا کیونکہ عورت بھی میت ہے۔
- میت کا نام لے کر بھی دعا کی جا سکتی ہے۔
صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِنْ ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (سنن أبي داود، الجنائز: 3202) (صحیح)
’’رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک مسلمان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا: اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ فَقِهِ فِتْنَةَ الْقَبْرِ، جبکہ عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے یوں کہا : مِنْ ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَمْدِ اللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ( اے اللہ ! فلاں بن فلاں تیرے ذمے ( کفالت ) میں ہے اور تیری ہمسائیگی اور امان میں آ گیا ہے ۔ سو تو اسے قبر کی آزمائش اور آگ کے عذاب سے محفوظ فر دے ‘ تو اپنے وعدے وفا کرنے والا اور حق والا ہے ۔ اے اللہ ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فر ‘ بلاشبہ تو بہت ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔)
فلان بن فلان کی جگہ میت کا نام لیا جائے گا۔
والله أعلم بالصواب.