• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عید غدیر روافض کی ایجاد کردہ بدعت اور علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ کا فیصلہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
830
ری ایکشن اسکور
226
پوائنٹ
111
عید غدیر روافض کی ایجاد کردہ بدعت اور علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ کا فیصلہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

دین اسلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکمل ہو چکا ہے۔ اس میں کسی نئی عبادت، نئے شعار یا نئی عید کا اضافہ کرنا درحقیقت شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض اور اس کے کمال میں نقص کا دعویٰ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے اہل السنۃ والجماعت نے ہر اس عمل کا سختی سے رد کیا جو کتاب و سنت اور عمل صحابہ سے ثابت نہ ہو۔

لیکن روافض نے اسلام میں بے شمار بدعات ایجاد کیں، جن میں سے ایک مشہور بدعت "عیدِ غدیر" ہے۔ وہ اٹھارہ ذوالحجہ کو ایک مذہبی تہوار اور عید کے طور پر مناتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین اور ائمہ سلف میں سے کسی ایک سے بھی اس دن کو عید قرار دینا ثابت نہیں۔

علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے اس بدعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

«قَدْ مَنَعْنَا إحْدَاثَ مَا هُوَ شِعَارٌ فِي الدِّينِ. وَمِثَالُهُ: مَا أَحْدَثَتْهُ الرَّوَافِضُ مِنْ عِيدٍ ثَالِثٍ، سَمَّوْهُ عِيدَ الْغَدِيرِ. وَكَذَلِكَ الِاجْتِمَاعُ وَإِقَامَةُ شِعَارِهِ فِي وَقْتٍ مَخْصُوصٍ عَلَى شَيْءٍ مَخْصُوصٍ، لَمْ يَثْبُتْ شَرْعًا. وَقَرِيبٌ مِنْ ذَلِكَ: أَنْ تَكُونَ الْعِبَادَةُ مِنْ جِهَةِ الشَّرْعِ مُرَتَّبَةً عَلَى وَجْهٍ مَخْصُوصٍ. فَيُرِيدُ بَعْضُ النَّاسِ: أَنْ يُحْدِثَ فِيهَا أَمْرًا آخَرَ لَمْ يَرِدْ بِهِ الشَّرْعُ، زَاعِمًا أَنَّهُ يُدْرِجُهُ تَحْتَ عُمُومٍ. فَهَذَا لَا يَسْتَقِيمُ؛ لِأَنَّ الْغَالِبَ عَلَى الْعِبَادَاتِ التَّعَبُّدُ، وَمَأْخَذُهَا التَّوْقِيفُ.»

ہم شعار دین میں نئے نئے کام ایجاد کرنے سے روکتے ہیں، جیسا کہ رافضیوں نے عید الغدیر کے نام سے تیسری عید گھڑ لی ہے۔ بطور شعار کسی خاص وقت اور ہیئت پر کوئی اجتماع قائم کرنا بدعت ہے، اسی طرح کسی خاص ہیئت اور طریقہ پر مشروع عبادت میں اس خیال سے ایک زائد چیز داخل کر دینا کہ یہ عمومی دلائل سے ثابت ہے، تو یہ بالکل درست نہیں، کیونکہ عبادات تعبدی ہیں اور ان کے دلائل توقیفی ہیں۔

[إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام لابن دقيق العيد، ص : ٢٠٢]

7437.jpg

7433.jpg

اس عبارت میں غور کیجیے! علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے عید غدیر کو صراحت کے ساتھ "مَا أَحْدَثَتْهُ الرَّوَافِضُ" یعنی روافض کی ایجاد کردہ چیز قرار دیا ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عید غدیر کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بعد میں گھڑی گئی بدعت ہے۔

اسلام میں عیدیں صرف وہی ہیں جو شریعت نے مقرر کی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچ کر اہل مدینہ کے دو تہواروں کو ختم کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان کے بدلے دو بہتر دن عطا فرمائے ہیں: عید الفطر اور عید الاضحی۔ لہٰذا جو شخص تیسری عید ایجاد کرتا ہے وہ دراصل شریعت میں اضافہ کرتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی۔

علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «وَكَذَلِكَ الِاجْتِمَاعُ وَإِقَامَةُ شِعَارِهِ فِي وَقْتٍ مَخْصُوصٍ عَلَى شَيْءٍ مَخْصُوصٍ، لَمْ يَثْبُتْ شَرْعًا» یعنی کسی مخصوص وقت میں کسی مخصوص عمل کے لیے اجتماع کرنا اور اسے شعار بنانا، جبکہ وہ شرعاً ثابت نہ ہو، ممنوع ہے۔

یہ عید غدیر منانے والوں پر براہ راست حجت ہے، کیونکہ وہ ایک مخصوص دن مقرر کرتے ہیں، اس دن مخصوص اجتماعات منعقد کرتے ہیں، مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں اور اسے مذہبی شعار کا درجہ دیتے ہیں، حالانکہ اس کی کوئی شرعی دلیل موجود نہیں۔

پھر بعض لوگ یہ شبہ پیش کرتے ہیں کہ یہ محض محبت اہل بیت کا اظہار ہے، اس لیے جائز ہے۔ اس شبہے کا جواب بھی علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ نے اپنی عبارت میں دے دیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

«فَيُرِيدُ بَعْضُ النَّاسِ أَنْ يُحْدِثَ فِيهَا أَمْرًا آخَرَ لَمْ يَرِدْ بِهِ الشَّرْعُ، زَاعِمًا أَنَّهُ يُدْرِجُهُ تَحْتَ عُمُومٍ» یعنی بعض لوگ عبادت میں ایسی نئی چیز داخل کرنا چاہتے ہیں جو شریعت میں وارد نہیں ہوئی، اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اسے کسی عمومی دلیل کے تحت شامل کر رہے ہیں۔

گویا اہل بدعت کا یہ طریقہ پرانا ہے کہ پہلے ایک نئی رسم ایجاد کرتے ہیں، پھر اسے محبت، تعظیم یا کسی عمومی فضیلت کے عنوان کے تحت جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن شریعت کا اصول یہ ہے کہ عبادات اور دینی شعائر میں اصل دلیلِ شرعی ہے، نہ کہ انسانی خواہشات اور خود ساختہ تاویلات۔

اسی لیے علامہ ابن دقیق العید رحمہ اللہ آخر میں فرماتے ہیں: «فَهَذَا لَا يَسْتَقِيمُ؛ لِأَنَّ الْغَالِبَ عَلَى الْعِبَادَاتِ التَّعَبُّدُ، وَمَأْخَذُهَا التَّوْقِيفُ» یعنی یہ درست نہیں، کیونکہ عبادات کی بنیاد محض اتباع اور توقیف پر ہے۔

پس عید غدیر نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، نہ خلفائے راشدین سے، نہ اہل بیت سے، نہ صحابہ کرام سے، نہ تابعین سے اور نہ ہی ائمہ اسلام سے۔ اس کا وجود صرف روافض کی مذہبی اختراعات میں ملتا ہے۔ لہٰذا اس بدعت کو دین سمجھنا، اس کا شعار قائم کرنا یا اس کی ترویج کرنا سلف امت کے منہج کے خلاف ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب و سنت اور فہم سلف پر ثابت قدم رکھے، بدعات و خرافات سے محفوظ فرمائے اور دین میں ہر نئی ایجاد سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم۔
 
Top