- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کے پاؤں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھا جس کا رخ اس کے ساتھیوں کی طرف تھا لیکن اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا اور اس میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا تاکہ اپنی قسم پوری کر لے اتنے میں حضرت حمزہؓ نے دوسری ضرب لگائی اور وہ حوض کے اندر ہی ڈھیر ہو گیا۔
مبارزت:
یہ اس معرکے کا پہلا قتل تھا اور اس سے جنگ کی آگ بھڑک اُٹھی، چنانچہ اس کے بعد قریش کے تین بہترین شہسوار نکلے جو سب کے سب ایک ہی خاندان کے تھے۔ ایک عُتبہ اور دوسرا اس کا بھائی شیبہ جو دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور تیسرا ولید جو عتبہ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اپنی صف سے الگ ہوتے ہی دعوت مُبارزت دی۔ مقابلے کے لیے انصار کے تین جوان نکلے۔ ایک عوفؓ، دوسرے معوذؓ - یہ دونوں حارث کے بیٹے تھے اوران کی ماں کا نام عفراء تھا - تیسرے عبد اللہ بن رواحہ۔ قریشیوں نے کہا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: انصار کی ایک جماعت ہیں۔ قریشیوں نے کہا: آپ لوگ شریف مد مقابل ہیں لیکن ہمیں آپ سے سروکار نہیں۔ ہم تو اپنے چچیرے بھائیوں کو چاہتے ہیں، پھر ان کے منادی نے آواز لگائی: محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ... ہمارے پاس قوم کے ہمسروں کو بھیجو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عبیدہؓ بن حارثؓ! اٹھو۔ حمزہؓ! اٹھئے۔ علی! اٹھو۔ جب یہ لوگ اُٹھے اور قریشیوں کے قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا: آپ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ قریشیوں نے کہا: ہاں آپ لوگ شریف مد مقابل ہیں، اس کے بعد معرکہ آرائی ہوئی۔ حضرت عبیدہ نے - جو سب سے معمر تھے - عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ کیا، حضرت حمزہؓ نے شیبہ سے اور حضرت علیؓ نے ولید سے۔ (ابن ہشام۔ مسند احمد ابو داؤد کی روایت اس سے مختلف ہے۔ (مشکوٰۃ ۲/۳۴۳) اور وہ یہ ہے کہ عبیدہ نے ولید سے مبارزت کی، علی نے شیبہ سے اور حمزہ نے عتبہ سے۔ حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے تو اپنے اپنے مقابل کو جھٹ مار لیا لیکن حضرت عبیدہ اور ان کے مدِّ مقابل کے درمیان ایک ایک وار کا تبادلہ ہوا اور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو گہرا زخم لگایا۔ اتنے میں حضرت علیؓ اور حضرت حمزہؓ اپنے اپنے شکار سے فارغ ہو کر آ گئے، آتے ہی عتبہ پر ٹوٹ پڑے، اس کا کام تمام کیا اور حضرت عبیدہ کو اٹھا لائے۔ ان کا پاؤں کٹ گیا تھا اورآواز بند ہو گئی تھی جو مسلسل بند ہی رہی یہاں تک کہ جنگ کے چوتھے یا پانچویں دن جب مسلمان مدینہ واپس ہوتے ہوئے وادیٔ صفراء سے گزر رہے تھے ان کا انتقال ہو گیا۔
حضرت علیؓ اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی:
هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ ۖ (۲۲: ۱۹)
''یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ہے۔''
مبارزت:
یہ اس معرکے کا پہلا قتل تھا اور اس سے جنگ کی آگ بھڑک اُٹھی، چنانچہ اس کے بعد قریش کے تین بہترین شہسوار نکلے جو سب کے سب ایک ہی خاندان کے تھے۔ ایک عُتبہ اور دوسرا اس کا بھائی شیبہ جو دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور تیسرا ولید جو عتبہ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اپنی صف سے الگ ہوتے ہی دعوت مُبارزت دی۔ مقابلے کے لیے انصار کے تین جوان نکلے۔ ایک عوفؓ، دوسرے معوذؓ - یہ دونوں حارث کے بیٹے تھے اوران کی ماں کا نام عفراء تھا - تیسرے عبد اللہ بن رواحہ۔ قریشیوں نے کہا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: انصار کی ایک جماعت ہیں۔ قریشیوں نے کہا: آپ لوگ شریف مد مقابل ہیں لیکن ہمیں آپ سے سروکار نہیں۔ ہم تو اپنے چچیرے بھائیوں کو چاہتے ہیں، پھر ان کے منادی نے آواز لگائی: محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ... ہمارے پاس قوم کے ہمسروں کو بھیجو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عبیدہؓ بن حارثؓ! اٹھو۔ حمزہؓ! اٹھئے۔ علی! اٹھو۔ جب یہ لوگ اُٹھے اور قریشیوں کے قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا: آپ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ قریشیوں نے کہا: ہاں آپ لوگ شریف مد مقابل ہیں، اس کے بعد معرکہ آرائی ہوئی۔ حضرت عبیدہ نے - جو سب سے معمر تھے - عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ کیا، حضرت حمزہؓ نے شیبہ سے اور حضرت علیؓ نے ولید سے۔ (ابن ہشام۔ مسند احمد ابو داؤد کی روایت اس سے مختلف ہے۔ (مشکوٰۃ ۲/۳۴۳) اور وہ یہ ہے کہ عبیدہ نے ولید سے مبارزت کی، علی نے شیبہ سے اور حمزہ نے عتبہ سے۔ حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے تو اپنے اپنے مقابل کو جھٹ مار لیا لیکن حضرت عبیدہ اور ان کے مدِّ مقابل کے درمیان ایک ایک وار کا تبادلہ ہوا اور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو گہرا زخم لگایا۔ اتنے میں حضرت علیؓ اور حضرت حمزہؓ اپنے اپنے شکار سے فارغ ہو کر آ گئے، آتے ہی عتبہ پر ٹوٹ پڑے، اس کا کام تمام کیا اور حضرت عبیدہ کو اٹھا لائے۔ ان کا پاؤں کٹ گیا تھا اورآواز بند ہو گئی تھی جو مسلسل بند ہی رہی یہاں تک کہ جنگ کے چوتھے یا پانچویں دن جب مسلمان مدینہ واپس ہوتے ہوئے وادیٔ صفراء سے گزر رہے تھے ان کا انتقال ہو گیا۔
حضرت علیؓ اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی:
هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ ۖ (۲۲: ۱۹)
''یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ہے۔''