• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوۂ بدر کبریٰ - اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کے پاؤں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھا جس کا رخ اس کے ساتھیوں کی طرف تھا لیکن اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا اور اس میں داخل ہوا ہی چاہتا تھا تاکہ اپنی قسم پوری کر لے اتنے میں حضرت حمزہؓ نے دوسری ضرب لگائی اور وہ حوض کے اندر ہی ڈھیر ہو گیا۔
مبارزت:
یہ اس معرکے کا پہلا قتل تھا اور اس سے جنگ کی آگ بھڑک اُٹھی، چنانچہ اس کے بعد قریش کے تین بہترین شہسوار نکلے جو سب کے سب ایک ہی خاندان کے تھے۔ ایک عُتبہ اور دوسرا اس کا بھائی شیبہ جو دونوں ربیعہ کے بیٹے تھے اور تیسرا ولید جو عتبہ کا بیٹا تھا۔ انہوں نے اپنی صف سے الگ ہوتے ہی دعوت مُبارزت دی۔ مقابلے کے لیے انصار کے تین جوان نکلے۔ ایک عوفؓ، دوسرے معوذؓ - یہ دونوں حارث کے بیٹے تھے اوران کی ماں کا نام عفراء تھا - تیسرے عبد اللہ بن رواحہ۔ قریشیوں نے کہا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: انصار کی ایک جماعت ہیں۔ قریشیوں نے کہا: آپ لوگ شریف مد مقابل ہیں لیکن ہمیں آپ سے سروکار نہیں۔ ہم تو اپنے چچیرے بھائیوں کو چاہتے ہیں، پھر ان کے منادی نے آواز لگائی: محمد! صلی اللہ علیہ وسلم ... ہمارے پاس قوم کے ہمسروں کو بھیجو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عبیدہؓ بن حارثؓ! اٹھو۔ حمزہؓ! اٹھئے۔ علی! اٹھو۔ جب یہ لوگ اُٹھے اور قریشیوں کے قریب پہنچے تو انہوں نے پوچھا: آپ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے اپنا تعارف کرایا۔ قریشیوں نے کہا: ہاں آپ لوگ شریف مد مقابل ہیں، اس کے بعد معرکہ آرائی ہوئی۔ حضرت عبیدہ نے - جو سب سے معمر تھے - عتبہ بن ربیعہ سے مقابلہ کیا، حضرت حمزہؓ نے شیبہ سے اور حضرت علیؓ نے ولید سے۔ (ابن ہشام۔ مسند احمد ابو داؤد کی روایت اس سے مختلف ہے۔ (مشکوٰۃ ۲/۳۴۳) اور وہ یہ ہے کہ عبیدہ نے ولید سے مبارزت کی، علی نے شیبہ سے اور حمزہ نے عتبہ سے۔ حضرت حمزہؓ اور حضرت علیؓ نے تو اپنے اپنے مقابل کو جھٹ مار لیا لیکن حضرت عبیدہ اور ان کے مدِّ مقابل کے درمیان ایک ایک وار کا تبادلہ ہوا اور دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کو گہرا زخم لگایا۔ اتنے میں حضرت علیؓ اور حضرت حمزہؓ اپنے اپنے شکار سے فارغ ہو کر آ گئے، آتے ہی عتبہ پر ٹوٹ پڑے، اس کا کام تمام کیا اور حضرت عبیدہ کو اٹھا لائے۔ ان کا پاؤں کٹ گیا تھا اورآواز بند ہو گئی تھی جو مسلسل بند ہی رہی یہاں تک کہ جنگ کے چوتھے یا پانچویں دن جب مسلمان مدینہ واپس ہوتے ہوئے وادیٔ صفراء سے گزر رہے تھے ان کا انتقال ہو گیا۔
حضرت علیؓ اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی:
هَـٰذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَ‌بِّهِمْ ۖ (۲۲: ۱۹)
''یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ہے۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عام ہجوم:
اس مبارزت کا انجام مشرکین کے لیے ایک برا آغاز تھا وہ ایک ہی جست میں اپنے تین بہترین شہ سواروں اور کمانڈروں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، اس لیے انہوں نے غیظ و غضب سے بے قابو ہو کر ایک آدمی کی طرح یکبارگی حملہ کر دیا۔
دوسری طرف مسلمان اپنے رب سے نصرت اور مدد کی دعا کرنے اور اس کے حضور اخلاص و تضرع اپنانے کے بعد اپنی اپنی جگہوں پر جمے اور دفاعی موقف اختیار کیے مشرکین کے تابڑ توڑ حملوں کو روک رہے تھے اور انہیں خاصا نقصان پہنچا رہے تھے۔ زبان پر أحد أحد کا کلمہ تھا۔
رسول اللہ ﷺ کی دعا:
ادھر رسول اللہ ﷺ صفیں درست کر کے واپس آتے ہی اپنے پاک پروردگار سے نصرت و مدد کا وعدہ پورا کرنے کی دعا مانگنے لگے۔ آپ ﷺ کی دعا یہ تھی :
اللّٰہم انجز لی ما وعدتنی، اللّٰہم أنشدک عہدک ووعدک
''اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرا عہد اور تیرے وعدے کا سوال کر رہا ہوں۔''
جب گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی، نہایت زور کا رَن پڑا اور لڑائی شباب پر آ گئی تو آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی :
اللہم إن تہلک ہذہ العصابۃ الیوم لا تعبد اللہم إن شئت لم تعبد بعد الیوم أبداً
''اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت کبھی نہ کی جائے۔''
آپ ﷺ نے خوب تضرع کے ساتھ دعا کی یہاں تک کہ دونوں کندھوں سے چادر گر گئی۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے چادر درست کی اور عرض پرداز ہوئے: ''اے اللہ کے رسول! بس فرمائیے! آپ نے اپنے رب سے بڑے الحاح کے ساتھ دعا فرما لی۔'' ادھر اللہ نے فرشتوں کو وحی کی کہ :
أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا ۚ سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا الرُّ‌عْبَ (۸: ۱۲)
''میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہل ایمان کے قدم جماؤ، میں کافروں کے دل میں رُعب ڈال دوں گا۔''
اور رسول اللہ ﷺ کے پاس وحی بھیجی کہ :
إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَ‌بَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْ‌دِفِينَ ﴿٩﴾ (۸: ۹)
''میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے۔''
فرشتوں کا نزول:
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو ایک جھپکی آئی۔ پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا اور فرمایا: ''ابو بکر خوش ہو جاؤ، یہ جبریل ؑہیں، گرد و غبار میں اٹے ہوئے۔'' ابن اسحاق کی روایت میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ابوبکر خوش ہو جاؤ، تمہارے پاس اللہ کی مدد آ گئی۔ یہ جبریل علیہ السلام ہیں اپنے گھوڑے کی لگام تھامے اور اس کے آگے آگے چلتے ہوئے آ رہے ہیں اور گرد و غبار میں اَٹے ہوئے ہیں۔''
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ چھپر کے دروازے سے باہر تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے زرہ پہن رکھی تھی۔ آپ ﷺ پُرجوش طور پر آگے بڑھ رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے :
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ‌ ﴿٤٥﴾ (۵۴: ۴۵)
''عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔''
اس کے بعد آپ ﷺ نے ایک مٹھی کنکریلی مٹی لی اور قریش کی طرف رُخ کر کے فرمایا: شاھتِ الوجوہ۔ "چہرے بگڑ جائیں" اور ساتھ ہی مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینک دی۔ پھر مشرکین میں سے کوئی بھی نہیں تھا جس کی دونوں آنکھوں، نتھنے اور منہ میں اس ایک مٹھی مٹی سے کچھ نہ کچھ گیا نہ ہو۔ اسی کی بابت اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَمَا رَ‌مَيْتَ إِذْ رَ‌مَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَ‌مَىٰ (۸: ۱۷)
''جب آپ (ﷺ) نے پھینکا تو درحقیقت آپ (ﷺ) نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جوابی حملہ:
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جوابی حملے کا حکم اور جنگ کی ترغیب دیتے ہو ئے فرمایا: ''شدوا'' چڑھ دوڑو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! ان سے جو آدمی بھی ڈٹ کر، ثواب سمجھ کر، آگے بڑھ کر اور پیچھے نہ ہٹ کر لڑے گا اور مارا جائے گا اللہ اسے ضرور جنت میں داخل کرے گا۔''
آپ ﷺ نے قتال پر ابھارتے ہوئے یہ بھی فرمایا: اس جنت کی طرف اٹھو جس کی پہنائیاں آسمانوں اور زمین کے برابر ہیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات سن کر) عمیر بن حمام نے کہا: بہت خوب بہت خوب۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم بہت خوب بہت خوب، کیوں کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ مجھے توقع ہے کہ میں بھی اسی جنت والوں میں سے ہوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم بھی اسی جنت والوں میں سے ہو۔ اس کے بعد وہ اپنے توشہ دان سے کچھ کھجوریں نکال کر کھانے لگے۔ پھر بولے: اگر میں اتنی دیر تک زندہ رہا کہ اپنی کھجوریں کھا لوں تو یہ تو لمبی زندگی ہو جائے گی، چنانچہ ان کے پاس جو کھجوریں تھیں انہیں پھینک دیا، پھر مشرکین سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔ (مسلم ۲/۱۳۹ مشکوٰۃ ۲/۳۳۱)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسی طرح مشہور خاتون عفراء کے صاحبزادے عوف بن حارث نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! پروردگار اپنے بندے کی کس بات سے (خوش ہو کر) مسکراتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس بات سے کہ بندہ خالی جسم (بغیر حفاظتی ہتھیار پہنے) اپنا ہاتھ دشمن کے اندر ڈبو دے'' یہ سن کر عوف نے اپنے بدن سے زِرہ اتار پھینکی اور تلوار لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔
جس وقت رسول اللہ ﷺ نے جوابی حملے کا حکم صادر فرمایا، دشمن کے حملوں کی تیزی جا چکی تھی اور ان کا جوش و خروش سرد پڑ رہا تھا۔ اس لیے یہ باحکمت منصوبہ مسلمانوں کی پوزیشن مضبوط کرنے میں بہت مؤثر ثابت ہوا، کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جب حملہ آور ہونے کا حکم ملا اور ابھی ان کا جوشِ جہاد شباب پر تھا تو انہوں نے نہایت سخت تند اور صفایا کن حملہ کیا۔ وہ صفوں کی صفیں درہم برہم کرتے اور گردنیں کاٹتے آگے بڑھے۔ ان کے جوش و خروش میں یہ دیکھ کر مزید تیز ی آ گئی کہ رسول اللہ ﷺ بہ نفس نفیس زرہ پہنے تیز تیز چلتے تشریف لا رہے ہیں اور پورے یقین و صراحت کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ ''عنقریب یہ جتھہ شکست کھا جائے گا، اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گا۔'' اس لیے مسلمانوں نے نہایت پُرجوش و پُرخروش لڑائی لڑی، اور فرشتوں نے بھی ان کی مدد فرمائی۔ چنانچہ ابن سعد کی روایت میں حضرت عکرمہؓ سے مروی ہے کہ اس دن آدمی کا سر کٹ کر گرتا اور یہ پتا نہ چلتا کہ اسے کس نے مارا۔ اور آدمی کا ہاتھ کٹ کر گرتا اور یہ پتہ نہ چلتا کہ اسے کس نے کاٹا۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک مشرک کا تعاقب کر رہا تھا کہ اچانک اس مشرک کے اوپر کوڑے مارنے کی آواز آئی۔ اور ایک شہسوار کی آواز سنائی پڑی جو کہہ رہا تھا کہ حیزوم! آگے بڑھ۔ مسلمان نے مشرک کو اپنے آگے دیکھا کہ وہ چِت گرا، لپک کر دیکھا تو اس کی ناک پر چوٹ کا نشان تھا، چہرہ پھٹا ہوا تھا جیسے کوڑے سے مارا گیا ہو اور یہ سب کا سب ہرا پڑ گیا تھا۔ اس انصاری مسلمان نے آکر رسول اللہ ﷺ سے یہ ماجرا بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم سچ کہتے ہو، یہ تیسرے آسمان کی مدد تھی۔'' (مسلم ۲/۹۳ وغیرہ)
ابو داؤد مازنی کہتے ہیں کہ میں ایک مشرک کو مارنے کے لیے دوڑ رہا تھا کہ اچانک اس کا سر میری تلوار پہنچنے سے پہلے ہی کٹ کر گر گیا۔ میں سمجھ گیا کہ اسے میرے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہے۔
ایک انصاری حضرت عباسؓ بن عبد المطلب کو قید کر کے لایا تو حضرت عباسؓ کہنے لگے: ''واللہ! مجھے اس نے قید نہیں کیا ہے، مجھے تو ایک بے بال کے سر والے آدمی نے قید کیا ہے جو نہایت خوبرو تھا اور چتکبرے گھوڑے پر سوار تھا۔ اب میں اسے لوگوں میں نہیں دیکھ رہا ہوں۔'' انصاری نے کہا: ''اے اللہ کے رسول! انہیں میں نے قید کیا ہے۔'' آپ ﷺ نے فرمایا: خاموش رہو۔ اللہ نے ایک بزرگ فرشتے سے تمہاری مدد فرمائی ہے۔
حضرت علیؓ کا ارشاد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے روز مجھ سے اور ابو بکرؓ سے کہا: تم میں سے ایک
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کے ساتھ جبرئیل اور دوسرے کے ساتھ میکائیل ؑ ہیں اور اسرافیل بھی ایک عظیم فرشتہ ہیں جو جنگ میں آیا کرتے ہیں۔ (مسند احمد ۱/۱۴۷، بزارح ۱۴۶۷ مستدرک حاکم ۳/۱۳۴، انہوں نے اسے صحیح کہا ہے۔ اور ذہبی نے موافقت کی ہے، مسند ابو یعلی ۱/۲۸۴ ح ۳۴۰)
میدان سے ابلیس کا فرار:
جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ ابلیس لعین، سراقہ بن مالک بن جعشم مدلجی کی شکل میں آیا تھا اور مشرکین سے اب تک جدا نہیں ہوا تھا، لیکن جب اس نے مشرکین کے خلاف فرشتوں کی کاروائیاں دیکھیں تو اُلٹے پاؤں پلٹ کر بھاگنے لگا، مگر حارث بن ہشام نے اسے پکڑ لیا، وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ واقعی سراقہ ہی ہے، لیکن ابلیس نے حارث کے سینے پر ایسا گھونسا مارا کہ وہ گر گیا اور ابلیس نکل بھاگا۔ مشرکین کہنے لگے: سراقہ کہا ں جا رہے ہو؟ کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم ہمارے مدد گار ہو ہم سے جدا نہ ہو گے؟ اس نے کہا: میں وہ چیز دیکھ رہا ہوں جسے تم نہیں دیکھتے۔ مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے، اور اللہ بڑی سخت سزا والا ہے۔ اس کے بعد بھاگ کر سمندر میں جا رہا۔
شکست فاش:
تھوڑی دیر بعد مشرکین کے لشکر میں ناکامی اور اضطراب کے آثار نمودار ہو گئے، ان کی صفیں مسلمانوں کے سخت اور تابڑ توڑ حملوں سے درہم برہم ہونے لگیں اور معرکہ اپنے انجام کے قریب جا پہنچا۔ پھر مشرکین کے جھتے بے ترتیبی کے ساتھ پیچھے ہٹے اور ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں نے مارتے کاٹتے اور پکڑتے باندھتے ان کا پیچھا کیا، یہاں تک کہ ان کو بھرپور شکست ہو گئی۔
ابو جہل کی اکڑ:
لیکن طاغوت اکبر ابو جہل نے جب اپنی صفوں میں اضطراب کی ابتدائی علامتیں دیکھیں تو چاہا کہ اس سیلاب کے سامنے ڈٹ جائے۔ چنانچہ وہ اپنے لشکر کو للکارتا ہوا اکڑ اور تکبر کے ساتھ کہتا جا رہا تھا کہ سراقہ کی کنارہ کشی سے تمہیں پست ہمت نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس نے محمد (ﷺ) کے ساتھ پہلے سے ساز باز کر رکھی تھی۔ تم پر عتبہ، شیبہ اور ولید کے قتل کا ہول بھی سوارنہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان لوگوں نے جلد بازی سے کام لیا تھا۔ لات و عزی کی قسم! ہم واپس نہ ہوں گے یہاں تک کہ انہیں رسیوں میں جکڑ لیں۔ دیکھو! تمہارا کوئی آدمی ان کے کسی آدمی کو قتل نہ کرے بلکہ انہیں پکڑو اور گرفتار کرو تاکہ ہم ان کی بُری حرکت کا انہیں مزہ چکھائیں۔
لیکن اسے اس غرور کی حقیقت کا بہت جلد پتہ لگ گیا کیونکہ چند ہی لمحے بعد مسلمانوں کے جوابی حملے کی تندی کے سامنے مشرکین کی صفیں پھٹنا شروع ہو گئیں، البتہ ابو جہل اب بھی اپنے گرد مشرکین کا ایک غول لیے جما ہوا تھا۔ اس غول نے ابو جہل کے چاروں طرف تلواروں کی باڑھ اور نیزوں کا جنگل قائم کر رکھا تھا، لیکن اسلامی ہجوم کی آندھی نے اس باڑھ کو بھی بکھیر دیا اور اس جنگل کو بھی اکھیڑ دیا۔ اس کے بعد یہ طاغوتِ اکبر دکھائی پڑا۔ مسلمانوں
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نے دیکھا کہ وہ ایک گھوڑے پر چکر کاٹ رہا ہے۔ ادھر اس کی موت دو انصاری جوانوں کے ہاتھوں اس کا خون چوسنے کی منتظر تھی۔
ابو جہل کا قتل:
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا بیان ہے کہ میں جنگ بدر کے روز صف کے اندر تھا کہ اچانک مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دائیں بائیں دو نوعمرجوان ہیں۔ گویا ان کی موجودگی سے میں حیران ہو گیا کہ اتنے میں ایک نے اپنے ساتھی سے چھپا کر مجھ سے کہا: ''چچا جان! مجھے ابو جہل کو دکھلا دیجیے۔'' میں نے کہا: بھتیجے! تم اسے کیا کرو گے؟ اس نے کہا: ''مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا وجود اس کے وجود سے الگ نہ ہو گا یہاں تک کہ ہم میں جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مر جائے۔'' وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس پر تعجب ہوا۔ اتنے میں دوسرے شخص نے مجھے اشارے سے متوجہ کر کے یہی بات کہی۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے چند ہی لمحوں بعد دیکھا کہ ابو جہل لوگوں کے درمیان چکر کاٹ رہا ہے۔ میں نے کہا: ''ارے دیکھتے نہیں! یہ رہا تم دونوں کا شکار جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے۔'' ان کا بیان ہے کہ یہ سنتے ہی وہ دونوں اپنی تلواریں لیے جھپٹ پڑے اور اسے مار کر قتل کر دیا۔ پھر پلٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کس نے قتل کیا ہے؟ دونوں نے کہا: میں نے قتل کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی اپنی تلواریں صاف کر چکے ہو؟ بولے نہیں۔ آپ ﷺ نے دونوں کی تلواریں دیکھیں اور فرمایا: تم دونوں نے قتل کیا ہے۔ البتہ ابو جہل کا سامان معاذ بن عَمرو بن جموح کو دیا۔ دونوں حملہ آوروں کا نام معاذ بن عَمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء ہے۔ (صحیح بخاری ۱/۴۴۴، ۲/۵۶۸ مشکوٰۃ ۲/۳۵۲۔ دوسری روایات میں دوسرا نام معوذ بن عَفراء بتایا گیا ہے۔ (ابن ہشام ۱/۶۳۵) نیز ابو جہل کا سامان صرف ایک ہی آدمی کو اس لیے دیا گیا کہ بعد میں حضرت معاذ (معوذ) بن عفراء اسی جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔ البتہ ابو جہل کی تلوار حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو دی گئی کیونکہ ان ہی نے اس (ابو جہل) کا سر تن سے جدا کیا تھا۔ (دیکھئے: سنن ابی داؤد باب من اجاز علی جریح الخ ۲/۳۷۳ ))
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ معاذ بن عمرو بن جموح نے بتلایا کہ میں نے مشرکین کو سنا وہ ابو جہل کے بارے میں جو گھنے درختوں جیسی - نیزوں اور تلواروں کی - باڑھ میں تھا کہہ رہے تھے: ابو الحکم تک کسی کی رسائی نہ ہو۔ معاذؓ بن عمرو کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ بات سنی تو اسے اپنے نشانے پر لے لیا اور اس کی سمت جما رہا۔ جب گنجائش ملی تو میں نے حملہ کر دیا اور ایسی ضرب لگائی کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے اڑ گیا۔ واللہ! جس وقت یہ پاؤں اڑا ہے تو میں اس کی تشبیہ صرف اس گٹھلی سے دے سکتا ہوں جو موسل کی مار پڑنے سے جھٹک کر اڑ جائے۔ ان کا بیان ہے کہ ادھر میں نے ابو جہل کو مارا اور ادھر اس کے بیٹے عکرمہ نے میرے کندھے پر تلوار چلائی جس سے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
میرا ہاتھ کٹ کر میرے بازو کے چمڑے سے لٹک گیا اور لڑائی میں مخل ہونے لگا۔ میں اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے سارا دن لڑا، لیکن جب وہ مجھے اذیت پہنچانے لگا تو میں نے اس پر اپنا پاؤں رکھا اور اسے زور سے کھینچ کر الگ کر دیا (حضرت معاذؓ بن عمرو بن جموح حضرت عثمانؓ کے دور خلافت تک زندہ رہے) اس کے بعد ابو جہل کے پاس معوذؓ بن عفراء پہنچے۔ وہ زخمی تھا۔ انہوں نے اسے ایسی ضرب لگائی کہ وہ وہیں ڈھیر ہو گیا صرف سانس آتی جاتی رہی۔ اس کے بعد معوذ بن عفراء بھی لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔
جب معرکہ ختم ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کون ہے جو دیکھے کہ ابو جہل کا انجام کیا ہوا۔'' اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی تلاش میں بکھر گئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اسے اس حالت میں پایا کہ ابھی سانس آ جا رہی تھی۔ انہوں نے اس کی گردن پر پاؤں رکھا اور سر کاٹنے کے لیے ڈاڑھی پکڑی اور فرمایا: او اللہ کے دشمن! آخر اللہ نے تجھے رسوا کیا نا؟ اس نے کہا: ''مجھے کاہے کو رسوا کیا؟ کیا جس شخص کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی بلند پایہ کوئی آدمی ہے''؟ ''یا جس کو تم لوگوں نے قتل کیا ہے اس سے بھی اوپر کوئی آدمی ہے؟'' پھر بولا: ''کاش! مجھے کسانوں کے بجائے کسی اور نے قتل کیا ہوتا۔'' اس کے بعد کہنے لگا: ''مجھے بتاؤ آج فتح کس کی ہوئی؟ ''حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن مسعود سے - جو اس کی گردن پر پاؤں رکھ چکے تھے - کہنے لگا: او بکری کے چرواہے! تو بڑی اونچی اور مشکل جگہ پر چڑھ گیا۔ واضح رہے کہ عبد اللہ بن مسعودؓ مکے میں بکریاں چرایا کرتے تھے۔
اس گفتگو کے بعد عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر کاٹ لیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لا کر حاضر کر تے ہوئے عرض کیا: ''یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ! یہ رہا اللہ کے دشمن ابو جہل کا سر۔'' آپ ﷺ نے تین بار فرمایا: ''واقعی۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔'' اس کے بعد فرمایا :
اللہ أکبر، الحمد للہ الذی صدق وعدہ ونصر عبدہ وہزم الأحزاب وحدہ
''اللہ اکبر، تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد فرمائی، اور تنہا سارے گروہوں کو شکست دی۔''
پھر فرمایا: چلو مجھے اس کی لاش دکھاؤ۔ ہم نے آپ ﷺ کو لے جا کر لاش دکھائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ اس امت کا فرعون ہے۔
ایمان کے تابناک نقوش:
حضرت عمیر بن الحمام اور حضرت عوف بن حارث ابن عَفراء کے ایمان افروز کارناموں کا ذکر پچھلے صفحات میں آ چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معرکے میں قدم قدم پر ایسے مناظر پیش آئے جن میں عقیدے کی قوت اور اصول کی پختگی نمایاں اور جلوہ گر تھی۔ اس معرکے میں باپ اور بیٹے میں بھائی اور بھائی میں صف آرائی ہوئی۔ اصولوں کے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اختلاف پر تلواریں بے نیام ہوئیں اور مظلوم و مقہور نے ظالم و قاہر سے ٹکرا کر اپنے غصے کی آگ بجھائی۔
ابن اسحاق نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ''مجھے معلوم ہے کہ بنو ہاشم وغیرہ کے کچھ لوگ زبردستی میدانِ جنگ میں لائے گئے ہیں۔ انھیں ہماری جنگ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ لہٰذا بنو ہاشم کا کوئی آدمی کسی کی زد میں آ جائے تو وہ اسے قتل نہ کرے۔ ابو البختری بن ہشام کسی کی زد میں آ جائے تو وہ اُسے قتل نہ کرے اور عباس بن عبد المطلبؓ کسی کی زد میں آ جائیں تو وہ بھی انہیں قتل نہ کرے کیونکہ وہ بالجبر لائے گئے ہیں۔'' اس پر عُتبہ کے صاحبزادے حضرت ابو حذیفہؓ نے کہا: ''کیا ہم اپنے باپ بیٹوں، بھائیوں اور کنبے قبیلے کے لوگوں کو قتل کریں گے اور عباس کو چھوڑ دیں گے اللہ کی قسم! اگر اس سے میری مڈ بھیڑ ہو گئی تو میں تو اسے تلوار کی لگام پہنا دوں گا'' یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے عمر بن خطابؓ سے فرمایا: کیا رسول اللہ ﷺ کے چچا کے چہرے پر تلوار ماری جائے گی؟ حضرت عمرؓ نے کہا: ''یارسول اللہ! مجھے چھوڑیے میں تلوارسے اِس کی گردن آڑا دوں۔ کیونکہ واللہ! یہ شخص منافق ہو گیا ہے۔''
بعد میں ابو حذیفہؓ کہا کرتے تھے، اس دن میں نے جو بات کہہ دی تھی اس کی وجہ سے میں مطمئن نہیں ہوں۔ برابر خوف لگا رہتا ہے۔ صرف یہی صورت ہے کہ میری شہادت اس کا کفارہ بن جائے اور بالآخر وہ یمامہ کی جنگ میں شہید ہو ہی گئے۔
ابو البختری کو قتل کرنے سے اس لیے منع کیا گیا تھا کہ مکے میں یہ شخص سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی ایذا رسانی سے اپنا ہاتھ روکے ہوئے تھا۔ آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچاتا تھا اور نہ اس کی طرف سے کوئی ناگوار بات سننے میں آئی تھی، اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے بنی ہاشم اور بنی مطلب کے بائیکاٹ کا صحیفہ چاک کیا تھا۔
لیکن ان سب کے باوجود ابو البختری قتل کر دیا گیا۔ ہوا یہ کہ حضرت مجذرؓ بن زیاد بلوی سے اس کی مڈ بھیڑ ہو گئی۔ اس کے ساتھ اس کا ایک اور ساتھی بھی تھا۔ دونوں ساتھ ساتھ لڑ رہے تھے۔ حضرت مجذرؓ نے کہا: ''ابوالبختری! رسول اللہ ﷺ نے ہمیں آپ کو قتل کرنے سے منع کیا ہے۔'' اس نے کہا: اور میرا ساتھی؟ حضرت مجذرؓ نے کہا: نہیں، واللہ! ہم آپ کے ساتھی کو نہیں چھوڑ سکتے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! تب میں اور وہ دونوں مریں گے۔ اس کے بعد دونوں نے لڑائی شروع کر دی۔ مجذرؓ نے مجبورا ً اسے بھی قتل کر دیا۔
مکے کے اندر جاہلیت کے زمانے سے حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ اور اُمیہ بن خلف میں باہم دوستی تھی۔ جنگ بدر کے روز امیہ اپنے لڑکے علی کا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا کہ اتنے میں ادھر سے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا گزر ہوا۔ وہ دشمن سے کچھ زِرہیں چھین کر لادے لیے جا رہے تھے۔ اُمیہ نے انہیں دیکھ کر کہا: ''کیا تمہیں میری ضرورت ہے؟ میں تمہاری ان زِرہوں سے بہتر ہوں۔ آج جیسا منظر تو میں نے دیکھا نہیں۔ کیا تمہیں دودھ کی حاجت نہیں؟" ...مطلب یہ تھا کہ جو مجھے قید کرے گا میں اسے فدیے میں خوب دودھیل اونٹنیاں دوں گا...یہ سن کر عبد الرحمن بن عوفؓ نے زِرہیں پھینک دیں اور دونوں کو گرفتار کر کے آگے بڑھے۔
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کہتے ہیں کہ میں امیہ اور اس کے بیٹے کے درمیان چل رہا تھا کہ اُمیہ نے پوچھا: آپ لوگوں میں وہ کون سا آدمی تھا جو اپنے سینے پر شتر مرغ کا پَر لگائے ہوئے تھا؟ میں نے کہا: وہ حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ تھے۔ اُمیہ نے کہا: یہی شخص ہے جس نے ہماری اندر تباہی مچا رکھی تھی۔
حضرت عبد الرحمنؓ کہتے ہیں کہ واللہ! میں ان دونوں کو لیے جا رہا تھا کہ اچانک حضرت بلالؓ نے امیہ کو میرے ساتھ دیکھ لیا - یاد رہے کہ امیہ حضرت بلالؓ کو مکے میں ستایا کرتا تھا...حضرت بلالؓ نے کہا: اوہو! کفار کا سرغنہ، امیہ بن خلف! اب یا تو میں بچوں گا یا یہ بچے گا۔ میں نے کہا: اے بلالؓ! یہ میرا قیدی ہے، انہوں نے کہا: اب یا تو میں رہوں گا یا یہ رہے گا۔ پھر نہایت بلند آواز سے پکارا :''اے اللہ کے انصارو! یہ رہا کفار کا سرغنہ اُمیہ بن خلف، اب یا تو میں رہوں گا یا یہ رہے گا۔'' حضرت عبد الرحمنؓ کہتے ہیں کہ اتنے میں لوگوں نے ہمیں کنگن کی طرح گھیرے میں لے لیا۔ میں ان کا بچاؤ کر رہا تھا مگر ایک آدمی نے تلوار سونت کر اس کے بیٹے کے پاؤں پر ضرب لگائی اور وہ تیورا کر گر گیا۔ اُدھر اُمیہ نے اتنے زور کی چیخ ماری کہ میں نے ویسی چیخ کبھی سنی ہی نہ تھی۔ میں نے کہا: نکل بھاگو، مگر آج بھاگنے کی گنجائش نہیں، اللہ کی قسم! میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا۔ حضرت عبد الرحمنؓ کا بیان ہے کہ لوگوں نے اپنی تلواروں سے ان دونوں کو کاٹ کر ان کا کام تمام کر دیا۔ اس کے بعد حضرت عبد الرحمنؓ کہا کرتے تھے: ''اللہ بلالؓ پر رحم کرے۔ میری زِرہیں بھی گئیں اور میرے قیدی کے بارے میں مجھے تڑپا بھی دیا۔''
زاد المعاد میں علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ عبد الرحمنؓ بن عوف نے اُمیہ بن خلف سے کہا کہ گھٹنوں کے بل بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا اور حضرت عبد الرحمنؓ نے اپنے آپ کو اس کے اوپر ڈال لیا، لیکن لوگوں نے نیچے سے تلوار مار کر اُمیہ کو قتل کر دیا۔ بعض تلواروں سے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا پاؤں بھی زخمی ہو گیا۔
امام بخاری نے عبد الرحمن بن عوف سے روایت کی ہے ان کا بیان ہے کہ میں نے امیہ بن خلف سے طے کیا تھا کہ وہ مکہ میں میرے اموال و متعلقات کی حفاظت کرے گا اور میں مدینہ میں اس کے اموال و متعلقات کی حفاظت کروں گا۔ بدر کے دن جب لوگوں نے راحت اختیار کی تو میں ایک پہاڑ کی طرف نکلا کہ اسے (قیدیوں میں) سمیٹ لوں۔ لیکن بلال نے اسے دیکھ لیا اور نکل کر انصار کی ایک مجلس پر جا کر کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: امیہ بن خلف ہے، اب یا تو وہ رہے گا یا میں رہوں گا۔ اس پر انصار کے ایک گروہ نے ان کے ساتھ نکل کر ہمارا پیچھا کر لیا۔ جب میں نے دیکھا کہ وہ ہمیں پا لیں گے تو میں نے امیہ کے بیٹے کو پیچھے چھوڑ دیا تاکہ وہ اسی میں مشغول رہیں۔ مگر انہوں نے اسے قتل کر کے پھر ہمارا پیچھا کر لیا۔ امیہ بھاری بھرکم آدمی تھا۔ جب انہوں نے ہمیں پا لیا تو میں نے اس سے کہا: بیٹھ جاؤ، وہ بیٹھ گیا اور میں نے اپنے آپ کو اس کے اوپر ڈال لیا۔ تاکہ اسے بچا سکوں۔ مگر لوگوں نے میرے نیچے سے تلوار مار مار کر اسے قتل کر دیا۔ کسی کی تلوار میرے پاؤں میں بھی جا لگی۔ چنانچہ عبد الرحمنؓ اپنے پاؤں کی پشت پر اس کا نشان دکھایا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری، کتاب الوکالہ ۱/۳۱۸ زاد المعاد ۲/۸۹)
حضرت عمر بن خطابؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ کو قتل کیا اور قرابت کی کوئی پروا نہ کی۔ بلکہ مدینہ آئے تو رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس کو قید میں پا کر کہا: اے عباس! اسلام لائیے، واللہ آپ اسلام لائیں تو یہ میرے نزدیک خطاب کے بھی اسلام لانے سے زیادہ پسند ہے اور ایسا صرف اس لیے ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو آپ کا اسلام لانا پسند ہے۔ (مستدرک حاکم (فتح القدیر للشوکانی ۲/۳۲۷ ))
حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنے بیٹے عبد الرحمن کو - جو اس وقت مشرکین کے ہمراہ تھے - پکار کر کہا: اوخبیث! میرا مال کہاں ہے ؟ عبد الر حمن نے کہا:
لم یبق غیر شکۃ ویعبوب
وصارم یقتل ضلال الشیب
''ہتھیار، تیز رو گھوڑے اور اس تلوار کے سوا کچھ باقی نہیں جو بڑھاپے کی گمراہی کا خاتمہ کرتی ہے۔''
جس وقت مسلمانوں نے مشرکین کی گرفتاری شروع کی رسول اللہ ﷺ چھپر میں تشریف فرما تھے اور حضرت سعد بن معاذؓ تلوار حمائل کیے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت سعدؓ کے چہرے پر لوگوں کی اس حرکت کا ناگوار اثر پڑ رہا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اے سعد! واللہ! ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تم کو مسلمانوں کا یہ کام ناگوار ہے۔'' انہوں نے کہا: جی ہاں! اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول! یہ اہل شرک کے ساتھ پہلا معرکہ ہے جس کا موقع اللہ نے ہمیں فراہم کیا ہے۔ اس لیے اہلِ شرک کو باقی چھوڑنے کے بجائے مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ انہیں خوب قتل کیا جائے اور اچھی طرح کچل دیا جائے۔''
اس جنگ میں حضرت عکاشہ بن محصن اسدیؓ کی تلوار ٹوٹ گئی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے انہیں لکڑی کا ایک پھٹا تھما دیا اور فرمایا: عکاشہؓ! اسی سے لڑائی کرو۔ عکاشہؓ نے اسے رسو ل اللہ ﷺ سے لے کر ہلایا تو وہ ایک لمبی، مضبوط اور چم چم کرتی ہوئی سفید تلوار میں تبدیل ہو گیا۔ پھر انہوں نے اسی سے لڑائی کی یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ اس تلوار کا نام
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عون ...یعنی مدد ...رکھا گیا تھا۔ یہ تلوار مستقلاً حضرت عکاشہؓ کے پاس رہی اوروہ اسی کو لڑائیوں میں استعمال کرتے رہے یہاں تک کہ دَورِ صدیقی میں مرتدین کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ اس وقت بھی یہ تلوار اُن کے پاس ہی تھی۔
خاتمۂ جنگ کے بعد حضرت مُصعب بن عمیر عبدریؓ اپنے بھائی ابو عزیر بن عُمیر عبدری کے پاس سے گزرے۔ ابو عزیز نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی تھی اور اس وقت ایک انصاری صحابی اِس کا ہاتھ باندھ رہے تھے۔ حضرت مصعبؓ نے اس انصاری سے کہا: ''اس شخص کے ذریعے اپنے ہاتھ مضبوط کرنا، اس کی ماں بڑی مالدار ہے وہ غالبا تمہیں اچھا فدیہ دے گی۔'' اس پر ابو عزیز نے اپنے بھائی مُصعبؓ سے کہا: کیا میرے بارے میں تمہاری یہی وصیت ہے؟ حضرت مصعب نے فرمایا: (ہاں) تمہارے بجائے یہ ...انصاری ...میرا بھائی ہے۔
(جب مشرکین کی لاشوں کو کنویں میں ڈالنے کا حکم دیا گیا اور عتبہ بن ربیعہ کو کنویں کی طرف گھسیٹ کر لے جایا جانے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے صاحبزادے حضرت ابو حذیفہؓ کے چہرے پر نظر ڈالی، دیکھا تو غمزدہ تھے، چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ابو حذیفہ! غالبا اپنے والد کے سلسلے میں تمہارے دل کے اندر کچھ احساسات ہیں؟'' انہوں نے کہا: '' نہیں واللہ، یا رسول اللہ ! میرے اندر اپنے باپ کے بارے میں اور ان کے قتل کے بارے میں ذرا بھی لرزش نہیں۔ البتہ میںاپنے باپ کے متعلق جانتا تھا کہ ان میں سوجھ بوجھ ہے۔ دور اندیشی اور فضل و کمال ہے، اس لیے میں آس لگائے بیٹھا تھا کہ یہ خوبیاں انہیں اسلام تک پہنچا دیں گی، لیکن اب ان کا انجام دیکھ کر اور اپنی توقع کے خلاف کفر پر ان کا خاتمہ دیکھ کر مجھے افسوس ہے۔'' اس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت حذیفہؓ کے حق میں دعائے خیر فرمائی اور ان سے بھلی بات کہی۔
فریقین کے مقتولین:
یہ معرکہ، مشرکین کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح مبین پر ختم ہوا۔ اور اس میں چودہ مسلمان شہید ہوئے۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے، لیکن مشرکین کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر قید کیے گئے جو عموماً قائد، سردار اوربڑے بڑے سربرآوردہ حضرات تھے۔
خاتمۂ جنگ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مقتولین کے پاس کھڑے ہو کر فرمایا: تم لوگ اپنے نبی کے لیے کتنا برا کنبہ اور قبیلہ تھے۔ تم نے مجھے جھٹلایا جبکہ اوروں نے میری تصدیق کی۔ تم نے مجھے بے یار و مددگار چھوڑا جبکہ اوروں نے میری تائید کی۔ تم نے مجھے نکالا جبکہ اوروں نے مجھے پناہ دی۔'' اس کے بعد آپ نے حکم دیا اور انہیں گھسیٹ کر بدر کے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا۔
حضرت ابو طلحہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے حکم سے بدر کے روز قریش کے چوبیس بڑے بڑے سرداروں کی لاشیں بدر کے ایک گندے خبیث کنویں میں پھینک دی گئیں۔ آپ ﷺ کا دستورتھا کہ آپ جب کسی قوم پر فتح یاب ہوتے تو تین دن میدانِ جنگ میں قیام فرماتے تھے۔ چنانچہ جب بدر میں تیسرا دن آیا تو آپ ﷺ کے حسب الحکم آپ ﷺ کی سواری پر کجاوہ کسا گیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ پیدل چلے اور پیچھے پیچھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی چلے یہاں تک کہ آپ ﷺ کنویں کی بار پر کھڑے ہو گئے۔ پھر انہیں ان کا اور ان کے باپ کا نام لے لے کر پکارنا شروع کیا۔ اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں! کیا تمہیں یہ بات خوش آتی ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی ہوتی؟ کیونکہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے ہم نے برحق پایا تو کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے برحق پایا؟ حضرت عمرؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ایسے جسموں سے کیا باتیں کر رہے ہیں جن میں رُوح ہی نہیں؟ نبی ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اسے تم لوگ ان سے زیادہ نہیں سن رہے ہو۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تم لوگ ان سے زیادہ سننے والے نہیں لیکن یہ لوگ جواب نہیں دے سکتے۔ (متفق علیہ۔ مشکوٰۃ ۲/۳۴۵)
مکے میں شکست کی خبر:
مشرکین نے میدانِ بدر سے غیر منظم شکل میں بھاگتے ہوئے تتر بتر ہو کر گھبراہٹ کے عالم میں مکے کا رخ کیا۔ شرم و ندامت کے سبب ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس طرح مکے میں داخل ہوں۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جو شخص قریش کی شکست کی خبر لے کر مکے وارد ہوا وہ حَیْسمان بن عبد اللہ خزاعی تھا۔ لوگوں نے اس سے دریافت کیا کہ پیچھے کی کیا خبر ہے؟ اس نے کہا: عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو الحکم بن ہشام، اُمیہ بن خلف ...اور مزید کچھ سرداروں کا نام لیتے ہوئے ...یہ سب قتل کر دیئے گئے۔ جب اس نے مقتولین کی فہرست میں اشراف قریش کو گنانا شروع کیا تو صفوان بن اُمیہ نے جو حطیم میں بیٹھا تھا کہا: اللہ کی قسم! اگر یہ ہوش میں ہے تو اس سے میرے متعلق پوچھو۔ لوگوں نے پوچھا: صفوان بن امیہ کا کیا ہوا؟ اس نے کہا: وہ تو وہ دیکھو! حطیم میں بیٹھا ہوا ہے۔ واللہ! اس کے باپ اور اس کے بھائی کو قتل ہوتے ہوئے میں نے خود دیکھا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کے مولیٰ ابو رافعؓ کا بیان ہے کہ میں ان دنوں حضرت عباسؓ کا غلام تھا۔ ہمارے گھر میں اسلام داخل ہو چکا تھا۔ حضرت عباسؓ مسلمان ہو چکے تھے، امّ الفضلؓ مسلمان ہو چکی تھیں، میں بھی مسلمان ہو چکا تھا، البتہ حضرت عباسؓ نے اپنا اسلا م چھپا رکھا تھا۔ ادھر ابو لہب جنگ بدر میں حاضر نہ ہوا تھا۔ جب اسے خبر ملی تو اللہ نے اس پر ذلت و روسیاہی طاری کر دی اور ہمیں اپنے اندر قوت و عزت محسوس ہوئی۔ میں کمزور آدمی تھا تیر بنایا کرتا تھا اور زمزم کے حجرے میں بیٹھا تیر کے دستے چھیلتا رہتا تھا۔ واللہ! اس وقت میں حجرے میں بیٹھا اپنے تیر چھیل رہا تھا۔ میرے پاس اُم الفضلؓ بیٹھی ہوئی تھیں اور جو خبر آئی تھی اس سے ہم
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
شاداں و فرحاں تھے کہ اتنے میں ابو لہب اپنے دونوں پاؤں بری طرح گھسیٹتا ہوا آپہنچا اور حجرے کے کنارے پر بیٹھ گیا۔ اس کی پیٹھ میری پیٹھ کی طرف تھی۔ ابھی وہ بیٹھا ہی ہوا تھا کہ اچانک شور ہوا: یہ ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب آ گیا۔ ابو لہب نے اس سے کہا: میرے پاس آؤ، میری عمر کی قسم! تمہارے پاس خبر ہے۔ وہ ابو لہب کے پاس بیٹھ گیا۔ لوگ کھڑے تھے۔ ابو لہب نے کہا: بھتیجے بتاؤ لوگوں کا کیا حال رہا؟ اس نے کہا: کچھ نہیں۔ بس لوگوں سے ہماری مڈ بھیڑ ہوئی اور ہم نے اپنے کندھے ان کے حوالے کر دیئے۔ وہ ہمیں جیسے چاہتے تھے قتل کرتے تھے اور جیسے چاہتے تھے قید کرتے تھے، اور اللہ کی قسم! میں اس کے باوجود لوگوں کو ملامت نہیں کر سکتا۔ درحقیقت ہماری مڈ بھیڑ کچھ ایسے گورے چٹے لوگوں سے ہوئی تھی جو آسمان و زمین کے درمیان چتکبرے گھوڑوں پر سوار تھے۔ اللہ کی قسم! نہ وہ کسی چیز کو چھوڑتے تھے اور نہ کوئی چیز ان کے مقابل ٹک پاتی تھی۔
ابو رافعؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے خیمے کا کنارہ اٹھایا، پھر کہا: وہ اللہ کی قسم فرشتے تھے؟ یہ سن کر ابو لہب نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور میرے چہرے پر زور دار تھپڑ رسید کیا۔ میں اس سے لڑ پڑا۔ لیکن اس نے مجھے اٹھا کر زمین پر پٹک دیا۔ پھر میرے اوپر گھٹنے کے بل بیٹھ کر مجھے مارنے لگا۔ میں کمزور جو ٹھہرا، لیکن اُم الفضل نے اٹھ کر خیمے کا ایک کھمبا لیا اور اسے ایسی ضرب ماری کہ سر میں بُری چوٹ آ گئی اور ساتھ ہی بولیں: اس کا مالک نہیں ہے اس لیے اسے کمزور سمجھ رکھا ہے؟ ابو لہب رسوا ہو کر اٹھا اور چلا گیا۔ اس کے بعد اللہ کی قسم صرف سات راتیں گزری تھیں کہ اللہ نے اسے عدسہ (ایک قسم کے طاعون) میں مبتلا کر دیا اور اس کا خاتمہ کر دیا۔ عدسہ کی گلٹی کو عرب بہت منحوس سمجھتے تھے، چنانچہ (مرنے کے بعد) اس کے بیٹوں نے بھی اسے یوں ہی چھوڑ دیا اور وہ تین روز تک بے گور و کفن پڑا رہا۔ کوئی اس کے قریب نہ جاتا تھا اور نہ اس کی تدفین کی کوشش کرتا تھا۔ جب اس کے بیٹوں کو خطرہ محسوس ہوا کہ اس طرح چھوڑنے پر لوگ انہیں ملامت کریں گے تو ایک گڑھا کھود کر اسی میں لکڑی سے اس کی لاش دھکیل دی اور دور ہی سے پتھر پھینک پھینک کر چھپا دی۔
غرض اس طرح اہل مکہ کو میدان بدر کی شکست فاش کی خبر ملی اور ان کی طبیعت پر اس کا نہایت برا اثر پڑا حتیٰ کہ انہوں نے مقتولین پر نوحہ کرنے کی ممانعت کر دی تاکہ مسلمانوں کو اس کے غم پر خوش ہونے کا موقع نہ ملے۔
اس سلسلے کا ایک دلچسپ واقعہ یہ ہے کہ جنگ بدر میں اسود بن عبد المطلب کے تین بیٹے مار گئے، اس لیے وہ ان پر رونا چاہتا تھا۔ وہ اندھا آدمی تھا۔ ایک رات اس نے نوحہ کرنے والی عورت کی آواز سنی۔ جھٹ اپنے غلام کو بھیجا اور کہا: ''ذرا، دیکھو! کیا نوحہ کرنے کی اجازت مل گئی ہے؟ کیا قریش اپنے مقتولین پر رو رہے ہیں تاکہ میں بھی ... اپنے بیٹے ...ابو حکیمہ پر روؤں، کیونکہ میرا سینہ جل رہا ہے۔'' غلام نے واپس آ کر بتایا کہ یہ عورت تو اپنے گم شدہ اُونٹ پر رو رہی ہے۔ اسود یہ سن کر اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا اور بے اختیار کہہ پڑا :
أتبـکی أن یضـل لہـا بعیــر ویمنعہـا مـن النوم السہــود
فلا تبکی علی بکـر ولکــن علی بدر تقـاصرت الجـدود
علي بدر سراۃ بنی ہصیـص ومخـزوم ورہـط أبی الولیـد
وبـکی إن بکیت علی عقیل وبکي حارثاً أســد الأســود
وبکیہــم ولا تسمي جمیعاً وما لأبی حـکیـمۃ من ندیــد
ألا قد سـاد بعــدہم رجال ولولا یـوم بــدر لم یسـودوا
''کیا وہ اس بات پر روتی ہے کہ اس کا اونٹ غائب ہو گیا؟ اور اس پر بے خوابی نے اس کی نیند حرام کر رکھی ہے؟ تو اونٹ پر نہ رو بلکہ بدر پر رو جہاں قسمتیں پھوٹ گئیں۔ ہاں ہاں! بدر پر رو جہاں بنی ہصیص، بنی مخزوم اور ابو الولید کے قبیلے کے سربرآوردہ افراد ہیں۔ اگر رونا ہی ہے تو عقیل پر رو اور حارث پر رو جو شیروں کا شیر تھا، تو ان لوگوں پر رو اور سب کا نام نہ لے اور ابو حکیمہ کا تو کوئی ہمسر ہی نہ تھا۔ دیکھو! ان کے بعد ایسے ایسے لوگ سردار ہو گئے کہ اگر بدر کا دن نہ ہوتا تو وہ سردار نہ ہو سکتے تھے۔''
مدینے میں فتح کی خوش خبری:
ادھر مسلمانوں کی فتح مکمل ہو چکی تو رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کو جلد از جلد خوشخبری دینے کے لیے دو قاصد روانہ فرمائے۔ ایک حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ جنہیں عوالی (بالائی مدینہ) کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا اور دوسرے حضرت زید بن حارثہؓ جنہیں زیرین مدینہ کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا۔
اس دوران یہود اور منافقین نے جھوٹے پروپیگنڈے کر کر کے مدینے میں ہلچل بپا کر رکھی تھی یہاں تک کہ یہ خبر بھی اڑا رکھی تھی کہ نبی ﷺ قتل کر دیئے گئے ہیں، چنانچہ جب ایک منافق نے حضرت زید بن حارثہؓ کو نبی ﷺ کی اونٹنی قَصْوَاء پر سوار آتے دیکھا تو بول پڑا: ''واقعی محمد ﷺ قتل کر دیئے گئے ہیں۔ دیکھو! یہ تو انھی کی اونٹنی ہے۔ ہم اسے پہچانتے ہیں، اور یہ زید بن حارثہؓ ہے، شکست کھا کر بھاگا ہے اور اس قدر مرعوب ہے کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہے۔'' بہرحال جب دونوں قاصد پہنچے تو مسلمانوں نے انہیں گھیر لیا اور ان سے تفصیلات سننے لگے حتیٰ کہ انہیں یقین آ گیا کہ مسلمان فتح یاب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ہر طرف مسرت و شادمانی کی لہر دوڑ گئی اور مدینے کے دَر و بام تہلیل و تکبیر کے نعروں سے گونج اُٹھے اور جو سربرآوردہ مسلمان مدینے میں رہ گئے تھے وہ رسول اللہ ﷺ کو اس فتح مبین کی مبارک باد دینے کے لیے بدر کے راستے پر نکل پڑے۔
حضرت اُسامہ بن زیدؓ کا بیان ہے کہ ہمارے پاس اس وقت خبر پہنچی جب رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کو، جو حضرت عثمانؓ کے عقد میں تھیں، دفن کر کے قبر پر مٹی برابر کر چکے تھے۔ ان کی تیمار داری کے لیے حضرت عثمانؓ کے ساتھ مجھے بھی رسول اللہ ﷺ نے مدینے ہی میں چھوڑ دیا تھا۔
 
Top