• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوۂ بدر کبریٰ - اسلام کا پہلا فیصلہ کن معرکہ

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مالِ غنیمت کا مسئلہ:
رسول اللہ ﷺ نے معرکہ ختم ہونے کے بعد تین دن بدر میں قیام فرمایا، اور ابھی آپ ﷺ نے میدانِ جنگ سے کوچ نہیں فرمایا تھا کہ مالِ غنیمت کے بارے میں لشکر کے اندر اختلاف پڑ گیا اور جب یہ اختلاف شدت اختیار کر گیا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کے پاس جو کچھ ہے وہ آپ ﷺ کے حوالے کر دے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم کی تعمیل کی اور اس کے بعد اللہ نے وحی کے ذریعہ اس مسئلے کا حل نازل فرمایا۔
حضرت عبادہ بن صامتؓ کا بیان ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مدینے سے نکلے اور بدر میں پہنچے۔ لوگوں سے جنگ ہوئی اور اللہ نے دشمن کو شکست دی۔ پھر ایک گروہ ان کے تعاقب میں لگ گیا اور انہیں کھدیڑنے اور قتل کرنے لگا اور ایک گروہ مالِ غنیمت پر ٹوٹ پڑا اور اسے بٹورنے اور سمیٹنے لگا اور ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ کے گرد گھیرا ڈالے رکھا کہ مبادا دشمن دھوکے سے آپ ﷺ کو کوئی اذیت پہنچا دے۔ جب رات آئی اور لوگ پلٹ پلٹ کر ایک دوسرے کے پاس پہنچے تو مالِ غنیمت جمع کرنے والوں نے کہا کہ ہم نے اسے جمع کیا ہے، لہٰذا اس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ دشمن کا تعاقب کرنے والوں نے کہا: ''تم لوگ ہم سے بڑھ کر اس کے حق دار نہیں کیونکہ اس مال سے دشمن کو بھگانے اور دور رکھنے کا کام ہم نے کیا تھا۔'' اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت فرما رہے تھے انہوں نے کہا: ''ہمیں یہ خطرہ تھا کہ دشمن آپ کو غفلت میں پا کر کوئی اذیت نہ پہنچا دے اس لیے ہم آپ ﷺ کی حفاظت میں مشغول رہے۔'' اس پراللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ ۖ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١﴾ (۸: ۱)
''لوگ آپ ﷺ سے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دو غنیمت اللہ اور رسول ﷺ کے لیے ہے، پس اللہ سے ڈرو، اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کر لو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اگر واقعی تم لوگ مومن ہو۔''
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مالِ غنیمت کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ ( مسند احمد ۵ / ۳۲۳ ، ۳۲۴ حاکم ۲/۳۲۶)
اسلامی لشکر مدینے کی راہ میں:
رسول اللہ ﷺ تین روز بدر میں قیام فرما کر مدینے کے لیے چل پڑے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ مشرک قیدی بھی تھے اور مشرکین سے حاصل کیا ہوا مالِ غنیمت بھی۔ آپ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن کعبؓ کو اس کی نگرانی سونپی تھی۔ جب آپ ﷺ وادیٔ صفراء کے درّے سے باہر نکلے تو درّے اور نازیہ کے درمیان ایک ٹیلے پر پڑاؤ ڈالا اور وہیں خمس (پانچواں حصہ) علیحدہ کر کے باقی مال غنیمت مسلمانوں پر برابر تقسیم کر دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اور وادیٔ صفراء ہی میں آپ ﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ نضر بن حارث کو قتل کر دیا جائے۔ اس شخص نے جنگ بدر میں مشرکین کا پرچم اُٹھا رکھا تھا اور یہ قریش کے اکابر مجرمین میں سے تھا۔ اسلام دشمنی اور رسول اللہ ﷺ کی ایذاء رسانی میں حد درجہ بڑھا ہوا تھا۔ آپ ﷺ کے حکم پر حضرت علیؓ نے اس کی گردن مار دی۔
اس کے بعد آپ ﷺ عرق الظبیہ پہنچے تو عقبہ بن ابی معیط کے قتل کا حکم صادر فرمایا۔ یہ شخص جس طرح رسول اللہ ﷺ کو ایذاء پہنچایا کرتا تھا اس کا کچھ ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔ یہی شخص ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کی پیٹھ پر نماز کی حالت میں اونٹ کی اوجھ ڈالی تھی اور اسی شخص نے آپ ﷺ کی گردن پہ چادر لپیٹ کر آپ ﷺ کو قتل کرنا چاہا تھا اور اگر ابو بکرؓ بروقت نہ گئے ہوتے تو اس نے (اپنی دانست میں تو) آپ ﷺ کا گلا گھونٹ کر مار ہی ڈالا تھا۔ جب نبی ﷺ نے اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا تو کہنے لگا: ''اے محمد! بچوں کے لیے کون ہے؟'' آپ نے فرمایا: آگ (یہ حدیث کتب صحاح میں مروی ہے، مثلاً: دیکھئے: سنن ابی داؤد مع شرح عون المعبود ۳/۱۲) اس کے بعد حضرت عاصم بن ثابت انصاریؓ نے - اور کہا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ نے - اس کی گردن مار دی۔
جنگی نقطۂ نظر سے ان دونوں طاغوتوں کا قتل کیا جانا ضروری تھا کیونکہ یہ صرف جنگی قیدی نہ تھے بلکہ جدید اصطلاح کی روسے جنگی مجرم بھی تھے۔
تہنیت کے وفود:
اس کے بعد آپ ﷺ مقامِ رَوحاء پہنچے تو ان مسلمان سربراہوں سے ملاقات ہوئی جو دونوں قاصدوں سے فتح کی بشارت سن کر آپ ﷺ کا استقبال کرنے اور آپ ﷺ کو فتح کی مبارک باد پیش کرنے کے لیے مدینے سے نکل پڑے تھے۔ جب انہوں نے مبارک پیش کی تو حضرت سلمہ بن سلامہؓ نے کہا: ''آپ لوگ ہمیں کاہے کی مبارک باد دے رہے ہیں ہمارا ٹکراؤ تو اللہ کی قسم! گنجے سر کے بوڑھوں سے ہوا تھا جو اونٹ جیسے تھے۔'' اس پر رسول اللہ ﷺ نے مسکرا کر فرمایا: بھتیجے! یہی لوگ سربرآوردگانِ قوم تھے۔
اس کے بعد حضرت اسید بن حضیرؓ عرض پر داز ہوئے: ''یارسول اللہ! (ﷺ) اللہ کی حمد ہے کہ اس نے آپ کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشی۔ واللہ! میں یہ سمجھتے ہوئے بدر سے پیچھے نہ رہا تھا کہ آپ کا ٹکراؤ دشمن سے ہو گا ، میں تو سمجھ رہا تھا کہ بس قافلے کا معاملہ ہے، اور اگر میں یہ سمجھتا کہ دشمن سے سابقہ پڑے گا تو میں پیچھے نہ رہتا۔'' رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' سچ کہتے ہو۔''
اس کے بعد آپ ﷺ مدینہ منورہ میں اس طرح مظفر و منصور داخل ہوئے کہ شہر اور گرد و پیش کے سارے دشمنوں پر آپ ﷺ کی دھاک بیٹھ چکی تھی۔ اس فتح کے اثر سے مدینے کے بہت سے لوگ حلقۂ بگوش اسلام ہوئے اور اسی موقع پر عبد اللہ بن اُبی اور اس کے ساتھیوں نے بھی دکھاوے کے لیے اسلام قبول کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آپ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے ایک دن بعد قیدیوں کی آمد آمد ہوئی۔ آپ نے انہیں صحابہ کرامؓ پر تقسیم فرما دیا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت فرمائی۔ اس وصیت کا نتیجہ یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خود کھجور کھاتے تھے لیکن قیدیوں کو روٹی پیش کرتے تھے۔ (واضح رہے کہ مدینے میں کھجور بے حیثیت چیز تھی اور روٹی خاصی گراں قیمت)
قیدیوں کا قضیہ:
جب رسول اللہ ﷺ مدینہ پہنچ گئے تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا: ''یا رسول اللہ! (ﷺ) یہ لوگ چچیرے بھائی اور کنبے قبیلے کے لوگ ہیں۔ میری رائے ہے کہ آپ ﷺ ان سے فدیہ لے لیں۔ اس طرح جو کچھ ہم لیں گے وہ کفارکے خلاف ہماری قوت کا ذریعہ ہو گا اور یہ بھی متوقع ہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے دے اور وہ ہمارے بازو بن جائیں۔''
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ابن خطاب! تمہاری کیا رائے ہے؟ ''انہوں نے کہا: ''واللہ! میری وہ رائے نہیں ہے جو ابو بکرؓ کی ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں کو...جو حضرت عمرؓ کا قریبی تھا - میرے حوالے کر دیں اور میں اس کی گردن ماروں۔ عقیل بن ابی طالب کو علیؓ کے حوالے کریں اور وہ اس کی گردن ماریں اور فلاں کو جو حمزہؓ کا بھائی ہے حمزہؓ کے حوالے کریں اور وہ اس کی گردن مار دیں یہاں تک کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے نرم گوشہ نہیں ہے، اور یہ حضرات مشرکین کے صنادِید و ائمہ اور قائدین ہیں۔''
حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو بکرؓ کی بات پسند فرمائی اور میری بات پسند نہیں فرمائی، چنانچہ قیدیوں سے فدیہ لینا طے کر لیا۔ اس کے بعد جب اگلا دن آیا تو میں صبح ہی صبح رسول اللہ ﷺ اور ابو بکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ دونوں رو رہے تھے۔ میں نے کہا: ''اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں؟ اگر مجھے بھی رونے کی وجہ ملی تو روؤں گا اور اگر نہ مل سکی تو آپ حضرات کے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔'' رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''فدیہ قبول کرنے کی وجہ سے تمہارے اصحاب پر جو چیز پیش کی گئی ہے۔ اسی کی وجہ سے رو رہا ہوں۔'' اور آپ ﷺ نے ایک قریبی درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مجھ پر ان کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب پیش کیا گیا۔ (تاریخ عمر بن خطاب ابن جوزی۔ ص ۳۶) اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی:
مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَن يَكُونَ لَهُ أَسْرَ‌ىٰ حَتَّىٰ يُثْخِنَ فِي الْأَرْ‌ضِ ۚ تُرِ‌يدُونَ عَرَ‌ضَ الدُّنْيَا وَاللَّـهُ يُرِ‌يدُ الْآخِرَ‌ةَ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿٦٧﴾ لَّوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللَّـهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٦٨﴾ (۸: ۶۷،۶۸)
''کسی نبی کے لیے درست نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں اچھی طرح خونریزی کر لے۔ تم لوگ دنیا کا سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتا ہے، اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ اگر اللہ کی طرف سے نوشتہ سبقت نہ کر چکا ہوتا تو تم لوگوں نے جو کچھ لیا ہے اس پر تم کو سخت عذاب پکڑ لیتا۔''
اور اللہ کی طرف سے جو نوشتہ سبقت کر چکا تھا وہ یہ تھا: إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً (۴۷: ۴) یعنی ''مشرکین کو جنگ میں قیدی کرنے کے بعد یا تو احسان کرو یا فدیہ لے لو۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
چونکہ اس نوشتے میں قیدیوں سے فدیہ لینے کی اجازت دی گئی ہے، اس لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو قبولِ فدیہ پر سزا نہیں دی گئی بلکہ صرف سرزنش کی گئی اور یہ بھی اِس لیے کہ انہوں نے کفار کو اچھی طرح کچلنے سے پہلے قیدی بنا لیا تھا، اور کہا جاتا ہے کہ آیت مذکورہ بعد میں نازل ہوئی اور جو نوشتہ اللہ کی طرف سے سبقت کر چکا تھا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ تھا کہ اس امت کے لیے مال غنیمت حلال ہے یا کہ اہل بدر کے لیے رحمت و مغفرت ہے۔
بہرحال چونکہ حضرت ابو بکرؓ کی رائے کے مطابق معاملہ طے ہو چکا تھا، اس لیے مشرکین سے فدیہ لیا گیا۔ فدیہ کی مقدار چار ہزار اور تین ہزار درہم سے لے کر ایک ہزار درہم تک تھی۔ اہل مکہ لکھنا پڑھنا بھی جانتے تھے جبکہ اہل مدینہ لکھنے پڑھنے سے واقف نہ تھے، اس لیے طے کیا گیا کہ جس کے پاس فدیہ نہ ہو وہ مدینے کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ جب یہ بچے اچھی طرح سیکھ جائیں تو یہی اس کا فدیہ ہو گا۔
رسول اللہ ﷺ نے قیدیوں پر احسان بھی فرمایا اور انہیں فدیہ لیے بغیر رہا کر دیا۔ اس فہرست میں مطلب بن حنطب، صیفی بن ابی رفاعہ اور ابو عزہ جمحی کے نام آتے ہیں۔ آخر الذکر کو آئندہ جنگ احد میں قید اور قتل کیا گیا۔ (تفصیل آگے آرہی ہے)
آپ ﷺ نے اپنے داماد ابو العاص کو بھی اس شرط پر بلا فدیہ چھو ڑ دیا کہ وہ حضرت زینبؓ کی راہ نہ روکیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت زینبؓ نے ابو العاص کے فدیے میں کچھ مال بھیجا تھا جس میں ایک ہار بھی تھا۔ یہ ہار درحقیقت خدیجہ ؓ کا تھا اور جب انہوں نے حضرت زینبؓ کو ابو العاص کے پاس رخصت کیا تھا تو یہ ہار انہیں دے دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ ﷺ پر بڑی رِقت طاری ہو گئی اور آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اجازت چاہی کہ ابو العاص کو چھوڑ دیں۔ صحابہ نے اسے بسر و چشم قبول کر لیا اور رسول اللہ ﷺ نے ابو لعاص کو اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ حضرت زینبؓ کی راہ چھوڑ دیں گے۔ چنانچہ حضرت ابو العاص نے ان کا راستہ چھوڑ دیا اور حضرت زینبؓ نے ہجرت فرمائی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت زیدؓ بن حارثہ اور ایک انصاری صحابی کو بھیج دیا کہ تم دونوں بطن یا جج میں رہنا۔ جب زینبؓ تمہارے پاس سے گزریں تو ساتھ ہو لینا۔ یہ دونوں حضرات تشریف لے گئے اور حضرت زینبؓ کو ساتھ لے کر مدینہ واپس آئے۔ حضرت زینبؓ کی ہجرت کا واقعہ بڑا طویل اور المناک ہے۔
قیدیوں میں سہیل بن عمرو بھی تھا جو بڑا زبان آور خطیب تھا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: ''اے اللہ کے رسول! سہیل بن عمرو کے اگلے دو دانت تڑوا دیجیے اس کی زبان لپٹ جایا کرے گی اور وہ کسی جگہ خطیب بن کر آپ کے خلاف کبھی کھڑا نہ ہو سکے گا۔'' لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان کی یہ گزارش مسترد کر دی کیونکہ یہ مثلے کے ضمن میں آتا ہے جس پر قیامت کے روز اللہ کی طرف سے پکڑ کا خطرہ تھا۔
حضرت سعد بن نعمانؓ عمرہ کرنے کے لیے نکلے تو انہیں ابو سفیان نے قید کر لیا۔ ابو سفیان کا بیٹا عمرو بھی جنگ بدر کے قیدیوں میں تھا۔ چنانچہ عمرو کو ابو سفیان کے حوالے کر دیا گیا اور اس نے حضرت سعدؓ کو چھوڑ دیا۔
قرآن کا تبصرہ:
اسی غزوے کے تعلق سے سورۂ انفال نازل ہوئی جو درحقیقت اس غزوے پر ایک الٰہی تبصرہ ہے ...اگر یہ تعبیر صحیح ہو ...اور یہ تبصرہ بادشاہوں اور کمانڈروں وغیرہ کے فاتحانہ تبصروں سے بالکل ہی جداگانہ ہے۔ اس تبصرے کی چند باتیں مختصراً یہ ہیں:
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے مسلمانوں کی نظر ان کو تاہیوں اور اخلاقی کمزوریوں کی طرف مبذول کرائی جو ان میں فی الجملہ باقی رہ گئیں تھیں۔ اور جن میں سے بعض بعض کا اظہار اس موقع پر ہو گیا تھا۔ اس توجہ دہانی کا مقصود یہ تھا کہ مسلمان اپنے آپ کو ان کمزوریوں سے پاک صاف کر کے کا مل ترین بن جائیں۔
اس کے بعد اس فتح میں اللہ تعالیٰ کی جو تائید اور غیبی مدد شامل تھی، اس کا ذکر فرمایا۔ اس کا مقصود یہ تھا کہ مسلمان اپنی شجاعت و بسالت کے فریب میں نہ آ جائیں۔ جس کے نتیجے میں مزاج و طبائع پر غرور و تکبر کا تسلط ہو جاتا ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کریں اور اس کے اور پیغمبر ﷺ کے اطاعت کیش رہیں۔
پھر ان بلند اغراض و مقاصد کا تذکرہ کیا گیا ہے جن کے لیے رسول اللہ ﷺ نے اس خوفناک اور خون ریز معرکے میں قدم رکھا تھا اور اسی ضمن میں ان اخلاق و اوصاف کی نشان دہی کی گئی ہے جو معرکوں میں فتح کا سبب بنتے ہیں۔
پھر مشرکین و منافقین کو اور یہود اور جنگی قیدیوں کو مخاطب کر کے فصیح و بلیغ نصیحت فرمائی گئی ہے تاکہ وہ حق کے سامنے جھک جائیں اور اس کے پابند بن جائیں۔
اس کے بعد مسلمانوں کو مالِ غنیمت کے معاملے میں مخاطب کرتے ہوئے انہیں اس مسئلے کے تمام بنیادی قواعد و اصول سمجھائے اور بتائے گئے ہیں۔
پھر اس مرحلے پر اسلامی دعوت کو جنگ و صلح کے جن قوانین کی ضرورت تھی ان کی توضیح اور مشروعیت ہے تاکہ مسلمانوں کی جنگ اور اہل جاہلیت کی جنگ میں امتیاز قائم ہو جائے، اور اخلاق و کردار کے میدان میں مسلمانوں کو برتری حاصل رہے، اور دنیا اچھی طرح جان لے کہ اسلام محض ایک نظر یہ نہیں ہے بلکہ وہ جن اصولوں اور ضابطوں کا داعی ہے ان کے مطابق اپنے ماننے والوں کی عملی تربیت بھی کرتا ہے۔
پھر اسلامی حکومت کے قوانین کی کئی دفعات بیان کی گئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کے دائرے میں بسنے والے مسلمان اور اس دائرے سے باہر رہنے والے مسلمانوں میں کیا فرق ہے۔
متفرق واقعات:
۲ھ میں رمضان کا روزہ اور صدقۂ فطر فرض کیا گیا اور زکوٰۃ کے مختلف نصابوں کی تفصیلاً تعیین کی گئی۔ صدقۂ فطر کی فرضیت اور زکوٰۃ کے نصاب کی تعیین سے اس بوجھ اور مشقت میں بڑی کمی آ گئی جس سے فقراء مہاجرین کی ایک بڑی تعداد دوچار تھی، کیونکہ وہ طلب رزق کے لیے زمین میں دوڑ دھوپ کے امکانات سے محروم تھے۔
پھر نہایت نفیس موقع اور خوشگوار اتفاق یہ تھا کہ مسلمانوں نے اپنی زندگی میں پہلی عید جو منائی وہ شوال ۲ھ کی عید تھی جو جنگ بدر کی فتح مبین کے بعد پیش آئی۔ کتنی خوشگوار تھی یہ عید سعید جس کی سعادت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سر فتح و عزت کا تاج رکھنے کے بعد عطا فرمائی اور کتنا ایمان افروز تھا اس نماز عید کا منظر جسے مسلمانوں نے اپنے گھروں سے نکل کر تکبیر و توحید اور تحمید و تسبیح کی آوازیں بلند کرتے ہوئے میدان میں جا کر ادا کیا تھا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ مسلمانوں کے دل اللہ کی دی ہوئی نعمتوں اور اس کی کی ہوئی تائید کے سبب اس کی رحمت و رضوان کے شوق سے لبریز اور اس کی طرف رغبت کے جذبات سے معمور تھے اور ان کی پیشانیاں اس کے شکر و سپاس کی ادائیگی کے لیے جھکی ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کا ذکر اس آیت میں فرمایا ہے :
وَاذْكُرُ‌وا إِذْ أَنتُمْ قَلِيلٌ مُّسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْ‌ضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَآوَاكُمْ وَأَيَّدَكُم بِنَصْرِ‌هِ وَرَ‌زَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ (۸: ۲۶)
''اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے، زمین میں کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے، پس اس نے تمہیں ٹھکانا مرحمت فرمایا اور اپنی مدد کے ذریعے تمہاری تائید کی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں سے روزی دی تاکہ تم لوگ اس کا شکر ادا کرو۔''


****​
 
Top