- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
مالِ غنیمت کا مسئلہ:
رسول اللہ ﷺ نے معرکہ ختم ہونے کے بعد تین دن بدر میں قیام فرمایا، اور ابھی آپ ﷺ نے میدانِ جنگ سے کوچ نہیں فرمایا تھا کہ مالِ غنیمت کے بارے میں لشکر کے اندر اختلاف پڑ گیا اور جب یہ اختلاف شدت اختیار کر گیا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کے پاس جو کچھ ہے وہ آپ ﷺ کے حوالے کر دے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم کی تعمیل کی اور اس کے بعد اللہ نے وحی کے ذریعہ اس مسئلے کا حل نازل فرمایا۔
حضرت عبادہ بن صامتؓ کا بیان ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مدینے سے نکلے اور بدر میں پہنچے۔ لوگوں سے جنگ ہوئی اور اللہ نے دشمن کو شکست دی۔ پھر ایک گروہ ان کے تعاقب میں لگ گیا اور انہیں کھدیڑنے اور قتل کرنے لگا اور ایک گروہ مالِ غنیمت پر ٹوٹ پڑا اور اسے بٹورنے اور سمیٹنے لگا اور ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ کے گرد گھیرا ڈالے رکھا کہ مبادا دشمن دھوکے سے آپ ﷺ کو کوئی اذیت پہنچا دے۔ جب رات آئی اور لوگ پلٹ پلٹ کر ایک دوسرے کے پاس پہنچے تو مالِ غنیمت جمع کرنے والوں نے کہا کہ ہم نے اسے جمع کیا ہے، لہٰذا اس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ دشمن کا تعاقب کرنے والوں نے کہا: ''تم لوگ ہم سے بڑھ کر اس کے حق دار نہیں کیونکہ اس مال سے دشمن کو بھگانے اور دور رکھنے کا کام ہم نے کیا تھا۔'' اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت فرما رہے تھے انہوں نے کہا: ''ہمیں یہ خطرہ تھا کہ دشمن آپ کو غفلت میں پا کر کوئی اذیت نہ پہنچا دے اس لیے ہم آپ ﷺ کی حفاظت میں مشغول رہے۔'' اس پراللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ ۖ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّـهِ وَالرَّسُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١﴾ (۸: ۱)
''لوگ آپ ﷺ سے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دو غنیمت اللہ اور رسول ﷺ کے لیے ہے، پس اللہ سے ڈرو، اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کر لو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اگر واقعی تم لوگ مومن ہو۔''
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مالِ غنیمت کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ ( مسند احمد ۵ / ۳۲۳ ، ۳۲۴ حاکم ۲/۳۲۶)
اسلامی لشکر مدینے کی راہ میں:
رسول اللہ ﷺ تین روز بدر میں قیام فرما کر مدینے کے لیے چل پڑے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ مشرک قیدی بھی تھے اور مشرکین سے حاصل کیا ہوا مالِ غنیمت بھی۔ آپ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن کعبؓ کو اس کی نگرانی سونپی تھی۔ جب آپ ﷺ وادیٔ صفراء کے درّے سے باہر نکلے تو درّے اور نازیہ کے درمیان ایک ٹیلے پر پڑاؤ ڈالا اور وہیں خمس (پانچواں حصہ) علیحدہ کر کے باقی مال غنیمت مسلمانوں پر برابر تقسیم کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ نے معرکہ ختم ہونے کے بعد تین دن بدر میں قیام فرمایا، اور ابھی آپ ﷺ نے میدانِ جنگ سے کوچ نہیں فرمایا تھا کہ مالِ غنیمت کے بارے میں لشکر کے اندر اختلاف پڑ گیا اور جب یہ اختلاف شدت اختیار کر گیا تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ جس کے پاس جو کچھ ہے وہ آپ ﷺ کے حوالے کر دے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس حکم کی تعمیل کی اور اس کے بعد اللہ نے وحی کے ذریعہ اس مسئلے کا حل نازل فرمایا۔
حضرت عبادہ بن صامتؓ کا بیان ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مدینے سے نکلے اور بدر میں پہنچے۔ لوگوں سے جنگ ہوئی اور اللہ نے دشمن کو شکست دی۔ پھر ایک گروہ ان کے تعاقب میں لگ گیا اور انہیں کھدیڑنے اور قتل کرنے لگا اور ایک گروہ مالِ غنیمت پر ٹوٹ پڑا اور اسے بٹورنے اور سمیٹنے لگا اور ایک گروہ نے رسول اللہ ﷺ کے گرد گھیرا ڈالے رکھا کہ مبادا دشمن دھوکے سے آپ ﷺ کو کوئی اذیت پہنچا دے۔ جب رات آئی اور لوگ پلٹ پلٹ کر ایک دوسرے کے پاس پہنچے تو مالِ غنیمت جمع کرنے والوں نے کہا کہ ہم نے اسے جمع کیا ہے، لہٰذا اس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ دشمن کا تعاقب کرنے والوں نے کہا: ''تم لوگ ہم سے بڑھ کر اس کے حق دار نہیں کیونکہ اس مال سے دشمن کو بھگانے اور دور رکھنے کا کام ہم نے کیا تھا۔'' اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت فرما رہے تھے انہوں نے کہا: ''ہمیں یہ خطرہ تھا کہ دشمن آپ کو غفلت میں پا کر کوئی اذیت نہ پہنچا دے اس لیے ہم آپ ﷺ کی حفاظت میں مشغول رہے۔'' اس پراللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنفَالِ ۖ قُلِ الْأَنفَالُ لِلَّـهِ وَالرَّسُولِ ۖ فَاتَّقُوا اللَّـهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۖ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١﴾ (۸: ۱)
''لوگ آپ ﷺ سے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں، کہہ دو غنیمت اللہ اور رسول ﷺ کے لیے ہے، پس اللہ سے ڈرو، اور اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح کر لو اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اگر واقعی تم لوگ مومن ہو۔''
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مالِ غنیمت کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرما دیا۔ ( مسند احمد ۵ / ۳۲۳ ، ۳۲۴ حاکم ۲/۳۲۶)
اسلامی لشکر مدینے کی راہ میں:
رسول اللہ ﷺ تین روز بدر میں قیام فرما کر مدینے کے لیے چل پڑے۔ آپ ﷺ کے ہمراہ مشرک قیدی بھی تھے اور مشرکین سے حاصل کیا ہوا مالِ غنیمت بھی۔ آپ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن کعبؓ کو اس کی نگرانی سونپی تھی۔ جب آپ ﷺ وادیٔ صفراء کے درّے سے باہر نکلے تو درّے اور نازیہ کے درمیان ایک ٹیلے پر پڑاؤ ڈالا اور وہیں خمس (پانچواں حصہ) علیحدہ کر کے باقی مال غنیمت مسلمانوں پر برابر تقسیم کر دیا۔