- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
غزوۂ تبوک
غزوہ فتح مکہ، حق و باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس معرکے کے بعد اہلِ عرب کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی رسالت میں کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اسی لیے حالات کی رفتار یکسر بدل گئی۔ اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو گئے۔ اس کا کچھ اندازہ ان تفصیلات سے لگ سکے گا جنہیں ہم وفود کے باب میں پیش کریں گے۔ اور کچھ اندازہ اس تعداد سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو حجۃ الوداع میں حاضر ہوئی تھی - بہرحال اب اندرونی مشکلات کا تقریباً خاتمہ ہو چکا تھا اور مسلمان شریعتِ الٰہی کی تعلیم عام کرنے اور اسلام کی دعوت پھیلانے کے لیے یکسو ہو گئے تھے۔
غزوہ کا سبب:
مگر اب ایک ایسی طاقت کا رُخ مدینہ کی طرف ہو چکا تھا جو کسی وجہ جواز کے بغیر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی۔ یہ طاقت رومیوں کی تھی جو اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑی فوجی قوت کی حیثیت رکھتی تھی۔ پچھلے اوراق میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ اس چھیڑ چھاڑ کی ابتدا شُرَحْبیل بن عمرو غسانی کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے سفیر حضرت حارث بن عُمیر ازدیؓ کے قتل سے ہوئی جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ کا پیغام لے کر بصریٰ کے حکمران کے پاس تشریف لے گئے تھے۔ یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ نبی ﷺ نے اس کے بعد حضرت زید بن حارثہؓ کی سرکردگی میں ایک لشکر بھیجا تھا جس نے رومیوں سے سر زمین موتہ میں خوفناک ٹکر لی۔ مگر یہ لشکر ان متکبر ظالموں سے انتقام لینے میں کامیاب نہ ہوا۔ البتہ اس نے دور و نزدیک کے عرب باشندوں پر نہایت بہترین اثرات چھوڑے۔
قیصر روم ان اثرات کو اور ان کے نتیجے میں عرب قبائل کے اندر روم سے آزادی اور مسلمانوں کی ہم نوائی کے لیے پیدا ہونے والے جذبات کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے لیے یقینا یہ ایک ''خطرہ'' تھا، جو قدم بہ قدم اس کی سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا اور عرب سے ملی ہوئی سرحد شام کے لیے چیلنج بنتا جا رہا تھا۔ اس لیے قیصر نے سوچا کہ مسلمانوں کی قوت کو ایک عظیم اور ناقابل شکست خطرے کی صورت اختیار کرنے سے پہلے پہلے کچل دینا ضروری ہے تاکہ روم سے متصل عرب علاقوں میں ''فتنے'' اور ''ہنگامے'' سر نہ اٹھا سکیں۔