• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوۂ تبوک

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غزوۂ تبوک

غزوہ فتح مکہ، حق و باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ اس معرکے کے بعد اہلِ عرب کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی رسالت میں کوئی شک باقی نہیں رہ گیا تھا۔ اسی لیے حالات کی رفتار یکسر بدل گئی۔ اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہو گئے۔ اس کا کچھ اندازہ ان تفصیلات سے لگ سکے گا جنہیں ہم وفود کے باب میں پیش کریں گے۔ اور کچھ اندازہ اس تعداد سے بھی لگایا جا سکتا ہے جو حجۃ الوداع میں حاضر ہوئی تھی - بہرحال اب اندرونی مشکلات کا تقریباً خاتمہ ہو چکا تھا اور مسلمان شریعتِ الٰہی کی تعلیم عام کرنے اور اسلام کی دعوت پھیلانے کے لیے یکسو ہو گئے تھے۔
غزوہ کا سبب:
مگر اب ایک ایسی طاقت کا رُخ مدینہ کی طرف ہو چکا تھا جو کسی وجہ جواز کے بغیر مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی۔ یہ طاقت رومیوں کی تھی جو اس وقت روئے زمین پر سب سے بڑی فوجی قوت کی حیثیت رکھتی تھی۔ پچھلے اوراق میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ اس چھیڑ چھاڑ کی ابتدا شُرَحْبیل بن عمرو غسانی کے ہاتھوں رسول اللہ ﷺ کے سفیر حضرت حارث بن عُمیر ازدیؓ کے قتل سے ہوئی جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ کا پیغام لے کر بصریٰ کے حکمران کے پاس تشریف لے گئے تھے۔ یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ نبی ﷺ نے اس کے بعد حضرت زید بن حارثہؓ کی سرکردگی میں ایک لشکر بھیجا تھا جس نے رومیوں سے سر زمین موتہ میں خوفناک ٹکر لی۔ مگر یہ لشکر ان متکبر ظالموں سے انتقام لینے میں کامیاب نہ ہوا۔ البتہ اس نے دور و نزدیک کے عرب باشندوں پر نہایت بہترین اثرات چھوڑے۔
قیصر روم ان اثرات کو اور ان کے نتیجے میں عرب قبائل کے اندر روم سے آزادی اور مسلمانوں کی ہم نوائی کے لیے پیدا ہونے والے جذبات کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔ اس کے لیے یقینا یہ ایک ''خطرہ'' تھا، جو قدم بہ قدم اس کی سرحد کی طرف بڑھ رہا تھا اور عرب سے ملی ہوئی سرحد شام کے لیے چیلنج بنتا جا رہا تھا۔ اس لیے قیصر نے سوچا کہ مسلمانوں کی قوت کو ایک عظیم اور ناقابل شکست خطرے کی صورت اختیار کرنے سے پہلے پہلے کچل دینا ضروری ہے تاکہ روم سے متصل عرب علاقوں میں ''فتنے'' اور ''ہنگامے'' سر نہ اٹھا سکیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ان مصلحتوں کے پیش نظر ابھی جنگ موتہ پر ایک سال بھی نہ گزرا تھا کہ قیصر نے رومی باشندوں اور اپنے ماتحت عربوں یعنی آل غسان وغیرہ پر مشتمل فوج کی فراہمی شروع کر دی، اور ایک خونریز اور فیصلہ کن معرکے کی تیاری میں لگ گیا۔
روم و غَسّان کی تیاریوں کی عام خبریں:
ادھر مدینہ میں پے در پے خبریں پہنچ رہی تھیں کہ روم مسلمانوں کے خلاف ایک فیصلہ کن معرکے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے مسلمانوں کو ہمہ وقت کھٹکا لگا رہتا تھا۔ اور ان کے کان کسی بھی غیر مُعتاد آواز کو سن کر فورا کھڑے ہو جاتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ رومیوں کا ریلا آ گیا۔ اس کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے کہ اسی ۹ھ میں نبی ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے ناراض ہو کر ایک مہینہ کے لیے اِیْلَا (عورت کے پاس نہ جانے کی قسم کھا لینا۔ اگر یہ قسم چار ماہ یا اس سے کم مدت کے لیے ہو تو اس پر شرعاً کوئی حکم لاگو نہ ہو گا اور اگر یہ ایلاء چار مہینے سے زیادہ مدت کے لیے ہو تو پھر چار ماہ پورے ہوتے ہی شرعی عدالت دخیل ہو گی کہ شوہر یا تو بیوی کو بیوی کی طرح رکھے یا اسے طلاق دے۔ بعض صحابہ کے بقول فقط چار ماہ کی مدت گزر جانے سے طلاق پڑ جائے گی) کر لیا تھا۔ اور انہیں چھوڑ کر ایک بالاخانہ میں علیحدہ ہو گئے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ابتداء میں حقیقت حال معلوم نہ ہو سکی تھی۔ انہوں نے سمجھا کہ نبی ﷺ نے طلاق دے دی ہے اور اس کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شدید رنج و غم پھیل گیا تھا۔ حضرت عمر بن خطابؓ اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرا ایک انصاری ساتھی تھا۔ جب میں (خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں) موجود نہ رہتا تو وہ میرے پاس خبر لاتا۔ اور جب وہ موجود نہ ہوتا تو میں اس کے پاس خبر لے جاتا ...یہ دونوں ہی عوالی مدینہ میں رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے پڑوسی تھے۔ اور باری باری خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوتے تھے - اس زمانے میں ہمیں شاہ غسان کا خطرہ لگا ہوا تھا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ ہم پر یورش کرنا چاہتا ہے اور اس کی وجہ سے ہمارے سینے بھرے ہوئے تھے۔ ایک روز اچانک میرا انصاری ساتھی دروازہ پیٹنے لگا اور کہنے لگا : کھولو کھولو۔ میں نے کہا: کیا غسانی آ گئے؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے بھی بڑی بات ہو گئی۔ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ (صحیح بخاری ۲/۷۳۰)
ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ حضرت عمرؓ نے کہا: ہم میں چرچا تھا کہ آلِ غسان ہم پر چڑھائی کرنے کے لیے گھوڑوں کو نعل لگوا رہے ہیں۔ ایک روز میرا ساتھی اپنی باری پر گیا اور عشاء کے وقت واپس آ کر میرا دروازہ بڑے زور سے پیٹا اور کہا: کیا وہ سو گئے ہیں؟ میں گھبرا کر باہر آیا۔ اس نے کہا بڑا حادثہ ہو گیا ہے۔ میں نے کہا: کیا ہوا؟ کیا غسانی آ گئے؟ اس نے کہا: نہیں۔ بلکہ اس سے بھی بڑا اور لمبا حادثہ۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ الخ (ایضا صحیح بخاری ۱/۳۳۴)
اس سے اس صورت حال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو اس وقت رومیوں کی جانب سے مسلمانوں کو درپیش تھی۔ اس میں مزید اضافہ منافقین کی ان ریشہ دوانیوں سے ہوا جو انہوں نے رومیوں کی تیاری کی خبریں مدینہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پہنچنے کے بعد شروع کیں۔ چنانچہ اس کے باوجود کہ یہ منافقین دیکھ چکے تھے کہ رسول اللہ ﷺ ہر میدان میں کامیاب ہیں اور روئے زمین کی کسی طاقت سے نہیں ڈرتے بلکہ جو رکاوٹیں آپ کی راہ میں حائل ہوتی ہیں، وہ پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ اس کے باوجود منافقین نے یہ امید باندھ لی کہ مسلمانوں کے خلاف انہوں نے اپنے سینوں میں جو دیرینہ آرزو چھپا رکھی ہے، اور جس گردشِ دوراں کا وہ عرصہ سے انتظار کررہے ہیں، اب اس کی تکمیل کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اپنے اسی تصور کی بناء پر انہوں نے ایک مسجد کی شکل میں (جو مسجد ضرار کے نام سے مشہور ہوئی) دسیسہ کاری اور سازش کا ایک بھٹ تیار کیا، جس کی بنیاد اہلِ ایمان کے درمیان تفرقہ اندازی اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر اور ان سے لڑنے والوں کے لیے گھات کی جگہ فراہم کرنے کے ناپاک مقصد پر رکھی اور رسول اللہ ﷺ سے گزارش کی کہ آپ اس میں نماز پڑھ دیں۔ اس سے منافقین کا مقصد یہ تھا کہ وہ اہلِ ایمان کو فریب میں رکھیں اور انہیں پتہ نہ لگنے دیں کہ اس مسجد میں ان کے خلاف سازش اور دسیسہ کاری کی کارروائیاں انجام دی جا رہی ہیں۔ اور مسلمان اس مسجد میں آنے جانے والوں پر نظر نہ رکھیں۔ اس طرح یہ مسجد، منافقین اور ان کے بیرونی دوستوں کے لیے پُر امن گھونسلے اور بھٹ کا کام دے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس ''مسجد'' میں نماز کی ادائیگی کو جنگ سے واپسی تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ کیونکہ آپ تیار ی میں مشغول تھے۔ اس طرح منافقین اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے اور اللہ نے ان کا پردہ واپسی سے پہلے ہی چاک کر دیا۔ چنانچہ آپ نے غزوے سے واپس آ کر اس مسجد میں نماز پڑھنے کے بجائے اسے منہدم کرا دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
روم و غسان کی تیاریوں کی خاص خبریں:
ان حالات اور خبروں کا مسلمان سامنا کر ہی رہے تھے کہ انہیں اچانک ملک شام سے تیل لے کر آنے والے نبطیوں (نابت بن اسماعیل علیہ السلام کی نسل، جنہیں ایک وقت پٹرا اور شمالی حجاز میں بڑا عروج حاصل تھا۔ زوال کے بعد رفتہ رفتہ یہ لوگ معمولی کسانوں اور تاجروں کے درجہ میں آ گئے) سے معلوم ہوا کہ ہرقل نے چالیس ہزار سپاہیوں کا ایک لشکر جرار تیار کیا ہے اور روم کے ایک عظیم کمانڈر کو اس کی کمان سونپی ہے۔ اپنے جھنڈے تلے عیسائی لخم و جذام وغیرہ کو بھی جمع کر لیا ہے، اور ان کا ہراول دستہ بلقاء پہنچ چکا ہے، اس طرح ایک بڑا خطرہ مجسم ہو کر مسلمانوں کے سامنے آ گیا۔
حالات کی نزاکت میں اضافہ :
پھر جس بات سے صورت حال کی نزاکت میں مزید اضافہ ہو رہا تھا وہ یہ تھی کہ زمانہ سخت گرمی کا تھا۔ لوگ تنگی اور قحط سالی کی آزمائش سے دوچار تھے۔ سواریاں کم تھیں۔ پھل پک چکے تھے، اس لیے لوگ پھل اور سائے میں رہنا چاہتے تھے۔ وہ فی الفور روانگی نہ چاہتے تھے۔ ان سب پر مستزاد مسافت کی دوری اور راستے کی پیچیدگی اور دشواری تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ایک قطعی اقدام کا فیصلہ:
لیکن رسول اللہ ﷺ حالات و تغیرات کا مطالعہ کہیں زیادہ دقتِ نظر سے فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ سمجھ رہے تھے کہ اگر آپ ﷺ نے ان فیصلہ کن لمحات میں رومیوں سے جنگ لڑنے میں کاہلی اور سستی سے کام لیا، رومیوں کو مسلمانوں کے زیر اثر علاقوں میں گھسنے دیا، اور وہ مدینہ تک بڑھ اور چڑھ آئے تو اسلامی دعوت پر اس کے نہایت بُرے اثرات مرتب ہوں گے۔ مسلمانوں کی فوجی ساکھ اکھڑ جائے گی اور وہ جاہلیت جو جنگِ حنین میں کاری ضرب لگنے کے بعد آخری دم توڑ رہی ہے، دوبارہ زندہ ہو جائے گی۔ اور منافقین جو مسلمانوں پر گردشِ زمانہ کا انتظار کر رہے ہیں، اور ابو عامر فاسق کے ذریعہ شاہ روم سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں، پیچھے سے عین اس وقت مسلمانوں کے شکم میں خنجر گھونپ دیں گے، جب آگے سے رومیوں کا ریلا ان پر خونخوار حملے کر رہا ہو گا۔ اس طرح وہ بہت ساری کوشش رائیگاں چلی جائیں گی جو آپ نے اور آپ کے صحابہ کرام نے اسلام کی نشر و اشاعت میں صرف کی تھیں۔ اور بہت ساری کامیابیاں ناکامی میں تبدیل ہو جائیں گی جو طویل اور خونریز جنگوں اور مسلسل فوجی دوڑ دھوپ کے بعد حاصل کی گئی تھیں۔
رسول اللہ ﷺ ان نتائج کو اچھی طرح سمجھ رہے تھے۔ اس لیے عُسرت و شدت کے باوجود آپ ﷺ نے طے کیا کہ رومیوں کو دارالاسلام کی طرف پیش قدمی کی مہلت دیے بغیر خود ان کے علاقے اور حدود میں گھس کر ان کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑنی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
رومیوں سے جنگ کی تیاری کا اعلان:
یہ معاملہ طے کر لینے کے بعد آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں اعلان فرما دیا کہ لڑائی کی تیاری کریں۔ قبائل عرب اور اہلِ مکہ کو بھی پیغام دیا کہ لڑائی کے لیے نکل پڑیں۔ آپ ﷺ کا دستور تھا کہ جب کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تو کسی اور ہی جانب کا توریہ کرتے۔ لیکن صورت حال کی نزاکت اور تنگی کی شدت کے سبب اب کی بار آپ ﷺ نے صاف صاف اعلان فرما دیا کہ رومیوں سے جنگ کا ارادہ ہے تاکہ لوگ مکمل تیاری کر لیں۔ آپ ﷺ نے اس موقع پر لوگوں کو جہاد کی ترغیب بھی دی۔ اور جنگ ہی پر ابھارنے کے لیے سورۂ توبہ کا بھی ایک ٹکڑا نازل ہوا۔ ساتھ ہی آپ ﷺ نے صدقہ و خیرات کرنے کی فضیلت بیان کی اور اللہ کی راہ میں اپنا نفیس مال خرچ کر نے کی رغبت دلائی۔
غزوے کی تیاری کے لیے مسلمانوں کی دوڑ دھوپ:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جونہی رسول اللہ ﷺ کا ارشاد سنا کہ آپ ﷺ رومیوں سے جنگ کی دعوت دے رہے ہیں جھٹ اس کی تعمیل کے لیے دوڑ پرے۔ اور پوری تیز رفتاری سے لڑائی کی تیاری شروع کر دی۔ قبیلے اور برادریاں ہر چہار جانب سے مدینہ میں اترنا شروع ہو گئیں اور سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری تھی، کسی مسلمان نے اس غزوے سے پیچھے رہنا گوار ا نہ کیا۔ البتہ تین مسلمان اس سے مستثنیٰ ہیں کہ صحیح الایمان ہونے کے باوجود انہوں نے غزوے میں شرکت نہ کی۔ حالت یہ تھی کہ حاجت مند اور فاقہ مست لوگ آتے، اور رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرتے کہ ان کے لیے سواری فراہم کر دیں۔ تاکہ وہ بھی رومیوں سے ہونے والی اس جنگ میں شرکت کر سکیں۔ اور جب آپ ﷺ ان سے معذرت کرتے کہ:
وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوا وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُوا مَا يُنفِقُونَ (۹: ۹۲)
''میں تمہیں سوار کرنے کے لیے کچھ نہیں پاتا تو وہ اس حالت میں واپس ہوتے کہ ان آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے کہ وہ خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں پا رہے ہیں۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسی طرح مسلمانوں نے صدقہ و خیرات کرنے میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کی۔ حضرت عثمان بن عفانؓ نے ملک شام کے لیے ایک قافلہ تیار کیا تھا۔ جس میں پالان اور کجاوے سمیت دو سو اونٹ تھے اور دو سو اوقیہ (تقریبا ساڑھے انتیس کلو) چاندی تھی۔ آپ نے یہ سب صدقہ کر دیا۔ اس کے بعد پھر ایک سو اونٹ پالان اور کجاوے سمیت صدقہ کیا۔ اس کے بعد ایک ہزار دینار (تقریباً ساڑھے پانچ کلو سونے کے سکے) لے آئے اور انہیں نبی ﷺ کی آغوش میں بکھیر دیا۔ رسول اللہ ﷺ انہیں الٹتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے۔ آج کے بعد عثمان جو بھی کریں انہیں ضرر نہ ہو گا۔ (جامع ترمذی: مناقب عثمان بن عفان) اس کے بعد حضرت عثمانؓ نے پھر صدقہ کیا، اور صدقہ کیا، یہاں تک کہ ان کے صدقے کی مقدار نقدی کے علاوہ نو سو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تک جا پہنچی۔
ادھر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ دوسو اوقیہ (تقریباً ساڑھے ۲۹ کلو) چاندی لے آئے۔ حضرت ابو بکرؓ نے اپنا سارا مال حاضرِ خدمت کر دیا۔ اور بال بچوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے سوا کچھ نہ چھوڑا۔ ان کے صدقے کی مقدار چار ہزار درہم تھی اور سب سے پہلے یہی اپنا صدقہ لے کر تشریف لائے تھے۔ حضرت عمرؓ نے اپنا آدھا مال خیرات کیا۔ حضرت عباسؓ بہت سا مال لائے۔ حضرت طلحہ، سعد بن عبادہ اور محمد بن مسلمہ بھی کافی مال لائے۔ حضرت عاصم بن عدیؓ نوے وسق (یعنی ساڑھے تیرہ ہزار کلو، ساڑھے ۱۳ ٹن) کھجور لے کر آئے۔ بقیہ صحابہ بھی پے در پے اپنے تھوڑے زیادہ صدقات لے آئے، یہاں تک کہ کسی کسی نے ایک مُد یا دو مد صدقہ کیا کہ وہ اس سے زیادہ کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ عورتوں نے بھی ہار، بازو بند، پازیب، بالی اور انگوٹھی وغیرہ جو کچھ ہو سکا آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ کسی نے بھی اپنا ہاتھ نہ روکا، اور بخل سے کام نہ لیا۔ صرف منافقین تھے جو صدقات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں پر طعنہ زنی کرتے تھے، (کہ یہ ریا کار ہے) اور جن کے پاس اپنی مشقت کے سوا کچھ نہ تھا ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ (کہ یہ ایک دو مد کھجور سے قیصر کی مملکت فتح کرنے اٹھے ہیں)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اسلامی لشکر تبوک کی راہ میں:
اس دھوم دھام جوش و خروش اور بھاگ دوڑ کے نتیجے میں لشکر تیار ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو اور کہا جاتا ہے کہ سباعؓ بن عرفطہ کو مدینہ کا گورنر بنایا۔ اور حضرت علیؓ بن ابی طالب کو اپنے اہل و عیال کی دیکھ بھال کے لیے مدینہ ہی میں رہنے کا حکم دیا۔ لیکن منافقین نے ان پر طعنہ زنی۔ اس لیے وہ مدینہ سے نکل پڑے اور رسول اللہ ﷺ سے جا لاحق ہوئے لیکن آپ ﷺ نے انہیں پھر مدینہ واپس کر دیا اور فرمایا کہ کیا تم اس بات سے راضی نہیں کہ مجھ سے تمہیں وہی نسبت ہو جو حضرت موسی علیہ السلام سے حضرت ہارون علیہ السلام کو تھی۔ البتہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔
بہرحال رسول اللہ ﷺ نے اس انتظام کے بعد شمال کی جانب کوچ فرمایا (نسائی کی روایت کے مطابق یہ جمعرات کا دن تھا) منزل تبوک تھی لیکن لشکر بڑا تھا۔ تیس ہزار مردان جنگی تھے۔ اس سے پہلے مسلمانوں کا اتنا بڑا لشکر کبھی فراہم نہ ہوا تھا۔ اس لیے مسلمان ہر چند مال خرچ کرنے کے باوجود لشکر کو پوری طرح تیار نہ کر سکے تھے بلکہ سواری اور توشے کی سخت کمی تھی۔ چنانچہ اٹھارہ اٹھارہ آدمیوں پر ایک ایک اونٹ تھا جس پر یہ لوگ باری باری سوار ہوتے تھے۔ اسی طرح کھانے کے لیے بسا اوقات درختوں کی پتیاں استعمال کرنی پڑتی تھیں جس سے ہونٹوں میں ورم آ گیا تھا مجبورا اونٹوں کو -قلت کے باوجود - ذبح کرنا پڑا، تاکہ اس کے معدے اور آنتوں کے اندر جمع شدہ پانی اور تری پی جا سکے۔ اسی لیے اس کا نام جیشِ عُسرت (تنگی کا لشکر ) پڑ گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تبوک کی راہ میں لشکر کا گزر حِجر یعنی دیار ثمود سے ہوا۔ ثمود وہ قوم تھی جس نے وادیٔ القریٰ کے اندر چٹانیں تراش تراش کر مکانات بنائے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے وہاں کے کنویں سے پانی لے لیا تھا، لیکن جب چلنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم یہاں کا پانی نہ پینا اور اس سے نماز کے لیے وضو نہ کرنا۔ اور جو آٹا تم لوگوں نے گوندھ رکھا ہے اسے جانوروں کو کھلا دو، خود نہ کھاؤ۔ آپ ﷺ نے یہ بھی حکم دیا کہ لوگ اس کنویں سے پانی لیں جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔
صحیحین میں ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ حِجر (دیارِ ثمود) سے گزرے تو فرمایا: ان ظالموں کی جائے سکونت میں داخل نہ ہونا کہ کہیں تم پر بھی وہی مصیبت نہ آن پڑے جو ان پر آئی تھی۔ ہاں مگر روتے ہوئے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر ڈھکا اور تیزی سے چل کر وادی پار کر گئے۔ (صحیح بخاری باب نزول النبیﷺ الحجر ۲/۶۳۷)
راستے میں لشکر کو پانی کی سخت ضرورت پڑی حتیٰ کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکوہ کیا۔ آپ ﷺ نے اللہ سے دعا کی۔ اللہ نے بادل بھیج دیا، بارش ہوئی۔ لوگوں نے سیر ہو کر پانی پیا اور ضرورت کا پانی لاد بھی لیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پھر جب تبوک کے قریب پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کل ان شاء اللہ تم لوگ تبوک کے چشمے پر پہنچ جاؤ گے، لیکن چاشت سے پہلے نہیں پہنچو گے۔ لہٰذا جو شخص وہاں پہنچے اس کے پانی کو ہاتھ نہ لگائے، یہاں تک کہ میں آ جاؤں۔ حضرت معاذؓ کا بیان ہے کہ ہم لوگ پہنچے تو وہاں دو آدمی پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ چشمے سے تھوڑا تھوڑا پانی آ رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے دریافت کیا کہ کیا تم دونوں نے اس کے پانی کو ہاتھ لگایا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! آپ ﷺ نے ان دونوں سے جو کچھ اللہ نے چاہا، فرمایا۔ پھر چشمے سے چُلّو کے ذریعہ تھوڑا تھوڑا پانی نکالا۔ یہاں تک کہ قدرے جمع ہو گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس میں اپنا چہرہ اور ہاتھ دُھویا، اور اسے چشمے میں انڈیل دیا۔ اس کے بعد چشمے سے خوب پانی آیا۔ صحابہ کرام نے سیر ہو کر پانی پیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم اس مقام کو باغات سے ہرا بھرا دیکھو گے۔ (مسلم عن معاذ بن جبل ۲/۲۴۶)
راستے ہی میں یا تبوک پہنچ کر... روایات میں اختلاف ہے ... رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج رات تم پر سخت آندھی چلے گی لہٰذا کوئی نہ اٹھے اور جس کے پاس اونٹ ہو وہ اس کی رسی مضبوطی سے باندھ دے۔ چنانچہ سخت آندھی چلی۔ ایک شخص کھڑا ہو گیا تو آندھی نے اسے اڑا کر طی کی دو پہاڑیوں کے پاس پھینک دیا۔ (ایضاً)
راستے میں رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ آپ ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھا اور مغرب اور عشاء کی نمازیں اکٹھا پڑھتے تھے۔ جمع تقدیم بھی کرتے تھے اور جمع تاخیر بھی۔ (جمع تقدیم کا مطلب یہ ہے کہ ظہر اور عصر دونوں ظہر کے وقت میں اور مغرب اور عشاء دونوں مغرب کے وقت میں پڑھی جائیں۔ اور جمع تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ ظہر اور عصر دونوں عصر کے وقت میں اور مغرب عشاء دونوں عشاء کے وقت میں پڑھی جائیں)
اسلامی لشکر تبوک میں:
اسلامی لشکر تبوک میں اُتر کر خیمہ زن ہوا۔ وہ رومیوں سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے تیار تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اہلِ لشکر کو مخاطب کر کے نہایت بلیغ خطبہ دیا۔ آپ ﷺ نے جوامع الکلم ارشاد فرمائے۔ دنیا اور آخرت کی بھلائی کی رغبت دلائی۔ اللہ کے عذاب سے ڈرایا اور اس کے انعامات کی خوشخبری دی۔ اس طرح فوج کا حوصلہ بلند ہو گیا۔ ان میں توشے، ضروریات اور سامان کی کمی کے سبب جو نقص اور خلل تھا وہ اس راہ سے پُر ہو گیا۔ دوسری طرف روم اور ان کے حلیفوں کا یہ حال ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی آمد کی خبر سن کر ان کے اندر خوف کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں آگے بڑھنے اور ٹکر لینے کی ہمت نہ ہوئی۔ اور وہ اندرونِ ملک مختلف شہروں میں بکھر گئے۔ ان کے اس طرزِ عمل کا اثر جزیرہ عرب کے اندر اور باہر مسلمانوں کی فوجی ساکھ پر بہت عمدہ مرتب ہوا اور مسلمانوں نے ایسے ایسے اہم سیاسی فوائد حاصل کیے کہ جنگ کی صورت میں اس کا حاصل کرنا آسان نہ ہوتا۔ تفصیل یہ ہے :
اَیْلَہ کے حاکم یحنہ بن روبہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر جزیہ کی ادائیگی منظور کی اور صلح کا
 
Top