- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
معاہدہ کیا۔ جَرْبَاء اور اَذرُخ کے باشندوں نے بھی خدمتِ نبوی ﷺ میں حاضر ہو کر جزیہ دینا منظور کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے ایک تحریر لکھ دی جو ان کے پاس محفوظ تھی۔ اہل مقناء نے اپنے پھلوں کی چوتھائی پیداوار دینے کی شرط پر صلح کی۔ آپ نے حاکمِ اَیْلَہ کو بھی ایک تحریر لکھ دی جو یہ تھی:
''بسم اللہ الرحمن الرحیم : یہ پروانہ امن ہے اللہ کی جانب سے اور نبی محمد رسول اللہ کی جانب سے۔ یحنہ بن روبہ اور باشندگان ایلہ کے لیے۔ خشکی اور سمندر میں ان کی کشتیوں اور قافلوں کے لیے اللہ کا ذمہ ہے اور محمد نبی کا ذمہ ہے اور یہی ذمہ ان شامی اور سمندری باشندوں کے لیے ہے جو یحنہ کے ساتھ ہوں۔ ہاں! اگر ان کا کوئی آدمی کوئی گڑبڑ کرے گا تو اس کا مال اس کی جان کے آگے روک نہ بن سکے گا اور جو آدمی اس کا مال لے لے گا اس کے لیے وہ حلال ہو گا۔ انہیں کسی چشمے پر اترنے اور خشکی یا سمندر کے کسی راستے پر چلنے سے منع نہیں کیا جا سکتا۔''
اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو چار سو بیس سواروں کا رسالہ دے کر دومۃ الجُندل کے حاکم اُکَیْدر کے پاس بھیجا۔ اور فرمایا: تم اسے نیل گائے کا شکار کرتے ہوئے پاؤ گے۔ حضرت خالدؓ وہاں تشریف لے گئے۔ جب اتنے فاصلے پر رہ گئے کہ قلعہ صاف نظر آرہا تھا تو اچانک ایک نیل گائے نکلی اور قلعہ کے دروازے پر سینگ رگڑنے لگی۔ اُکَیدر اس کے شکار کو نکلا۔ چاندنی رات تھی۔ حضرت خالدؓ اور ان کے سواروں نے اسے جا لیا۔ اور گرفتار کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا۔ آپ ﷺ نے اس کی جان بخشی کی۔ اور دو ہزار اونٹ، آٹھ سو غلام، چار سو زِرہیں اور چار سو نیزوں کی شرط پر مصالحت فرمائی۔ اس نے جزیہ بھی دینے کا اقرار کیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے یحنہ سمیت دُومہ، تبوک، ایلہ اور تیماء کے شرائط پر معاملہ طے کیا۔
ان حالات کو دیکھ کر وہ قبائل جو اب تک رومیوں کے آلۂ کار بنے ہوئے تھے، سمجھ گئے کہ اب اپنے ان پُرانے سرپرستوں پر اعتماد کرنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ مسلمانوں کے حمایتی بن گئے۔ اس طرح اسلامی حکومت کی سرحدیں وسیع ہو کر براہِ راست رُومی سرحد سے جاملیں اور رُوم کے آلہ کاروں کا بڑی حد تک خاتمہ ہو گیا۔
''بسم اللہ الرحمن الرحیم : یہ پروانہ امن ہے اللہ کی جانب سے اور نبی محمد رسول اللہ کی جانب سے۔ یحنہ بن روبہ اور باشندگان ایلہ کے لیے۔ خشکی اور سمندر میں ان کی کشتیوں اور قافلوں کے لیے اللہ کا ذمہ ہے اور محمد نبی کا ذمہ ہے اور یہی ذمہ ان شامی اور سمندری باشندوں کے لیے ہے جو یحنہ کے ساتھ ہوں۔ ہاں! اگر ان کا کوئی آدمی کوئی گڑبڑ کرے گا تو اس کا مال اس کی جان کے آگے روک نہ بن سکے گا اور جو آدمی اس کا مال لے لے گا اس کے لیے وہ حلال ہو گا۔ انہیں کسی چشمے پر اترنے اور خشکی یا سمندر کے کسی راستے پر چلنے سے منع نہیں کیا جا سکتا۔''
اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو چار سو بیس سواروں کا رسالہ دے کر دومۃ الجُندل کے حاکم اُکَیْدر کے پاس بھیجا۔ اور فرمایا: تم اسے نیل گائے کا شکار کرتے ہوئے پاؤ گے۔ حضرت خالدؓ وہاں تشریف لے گئے۔ جب اتنے فاصلے پر رہ گئے کہ قلعہ صاف نظر آرہا تھا تو اچانک ایک نیل گائے نکلی اور قلعہ کے دروازے پر سینگ رگڑنے لگی۔ اُکَیدر اس کے شکار کو نکلا۔ چاندنی رات تھی۔ حضرت خالدؓ اور ان کے سواروں نے اسے جا لیا۔ اور گرفتار کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر کیا۔ آپ ﷺ نے اس کی جان بخشی کی۔ اور دو ہزار اونٹ، آٹھ سو غلام، چار سو زِرہیں اور چار سو نیزوں کی شرط پر مصالحت فرمائی۔ اس نے جزیہ بھی دینے کا اقرار کیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اس سے یحنہ سمیت دُومہ، تبوک، ایلہ اور تیماء کے شرائط پر معاملہ طے کیا۔
ان حالات کو دیکھ کر وہ قبائل جو اب تک رومیوں کے آلۂ کار بنے ہوئے تھے، سمجھ گئے کہ اب اپنے ان پُرانے سرپرستوں پر اعتماد کرنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس لیے وہ مسلمانوں کے حمایتی بن گئے۔ اس طرح اسلامی حکومت کی سرحدیں وسیع ہو کر براہِ راست رُومی سرحد سے جاملیں اور رُوم کے آلہ کاروں کا بڑی حد تک خاتمہ ہو گیا۔