- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
غزوۂ ذات الرقاع
( ۷ھ)
جب رسول اللہ ﷺ احزاب کے تین بازوؤں میں سے دو مضبوط بازوؤں کو توڑ کر فارغ ہو گئے تو تیسرے بازو کی طرف توجہ کا بھرپور موقع مل گیا۔ تیسرا بازو وہ بَدُّو تھے جو نجد کے صحرا میں خیمہ زن تھے اور رہ رہ کر لوٹ مار کی کارروائیاں کرتے رہتے تھے۔چونکہ یہ بدُّو کسی آبادی یا شہر کے باشندے نہ تھے اور ان کا قیام مکانات اور قلعوں کے اندر نہ تھا، اس لیے اہل مکہ اور باشندگان خیبر کی بہ نسبت ان پر پوری طرح قابو پا لینا اور ان کے شر و فساد کی آگ مکمل طور پر بجھا دینا سخت دشوار تھا۔ لہٰذا ان کے حق میں صرف خوف زدہ کرنے والی تادیبی کارروائیاں ہی مفید ہو سکتی تھیں۔
چنانچہ ان بدوؤں پر رعب و دبدبہ قائم کرنے کی غرض سے - اور بقول دیگر مدینہ کے اطراف میں چھاپہ مارنے کے ارادے سے جمع ہونے والے بدوؤں کو پراگندہ کرنے کی غرض سے - نبی ﷺ نے ایک تادیبی حملہ فرمایا جو غزوہ ذات الرقاع کے نام سے معروف ہے۔
عام اہل مغازی نے اس غزوہ کا تذکرہ ۴ھ میں کیا ہے۔ لیکن امام بخاری نے اس کا زمانہ وقوع ۷ھ بتایا ہے اور چونکہ اس غزوے میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما نے شرکت کی تھی، لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غزوہ، غزوہ خیبر کے بعد پیش آیا تھا۔ (مہینہ غالباً ربیع الاول کا تھا) کیونکہ حضرت ابو ہریرہؓ اس وقت مدینہ پہنچ کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے تھے جب رسول اللہ ﷺ خیبر کے لیے مدینہ سے جا چکے تھے۔ پھر حضرت ابو ہریرہؓ مسلمان ہو کر سیدھے خدمت نبوی ﷺ میں خیبر پہنچے اور جب پہنچے تو خیبر فتح ہو چکا تھا۔ اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری حبش سے اس وقت خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچے تھے جب خیبر فتح ہو چکا تھا۔ لہٰذا غزوہ ذات الرقاع میں ان دونوں صحابہ کی شرکت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ غزوۂ خیبر کے بعد ہی کسی وقت پیش آیا تھا۔
اہلِ سِیر نے اس غزوے کے متعلق جو کچھ ذکر کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلہ اَنمار یا بنو غطفان کی دو شاخوں بنی ثعلبہ اور بنی محارب کے اجتماع کی خبر سن کر مدینہ کا انتظام حضرت ابو ذر یا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما کے حوالے کیا اور جھٹ چار سو یا سات سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معیت میں بلادِ نجد کا رخ کیا۔ پھر مدینہ سے دو دن کے فاصلے پر مقام نخل پہنچ کر بنو غطفان کی ایک جمعیت سے سامنا ہوا لیکن جنگ نہیں ہوئی۔ البتہ آپ ﷺ نے اس موقع پر صلوٰۃِ خوف (حالتِ جنگ والی نماز) پڑھائی۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ نماز کی اقامت کہی گئی۔ اور آپ ﷺ نے ایک گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر وہ پیچھے چلی گئی۔ اور آپ ﷺ نے دوسرے گروہ کو دو رکعت نماز پڑھائی۔ یوں رسول اللہ ﷺ کی چار رکعتیں ہوئیں۔ اور قوم کی دو رکعتیں۔ (صحیح بخاری ۱/۴۰۷، ۴۰۸، ۲/۵۹۳)
صحیح بخاری میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے۔ ہم چھ آدمی تھے اور ایک ہی اونٹ تھا جس پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ اس سے ہمارے قدم چھلنی ہو گئے۔ میرے بھی دونوں پاؤں زخمی ہو گئے اور ناخن جھڑ گیا۔ چنانچہ ہم لوگ اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹے رہتے تھے۔ اسی لیے اس کا نام ذات الرقاع (چیتھڑوں والا) پڑ گیا۔ کیونکہ ہم نے اس غزوے میں اپنے پاؤں پر چیتھڑے اور پٹیاں باندھ اور لپیٹ رکھی تھیں۔ (صحیح بخاری ۱/۴۰۷ ، ۴۰۸ ، ۲/۵۹۳)
اور صحیح بخاری ہی میں حضرت جابرؓ سے یہ روایت ہے کہ ہم لوگ ذات الرقاع میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے۔ (دستور یہ تھا کہ) جب ہم کسی سایہ دار درخت پر پہنچتے تو اسے نبی ﷺ کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ (ایک بار) نبی ﷺ نے پڑاؤ ڈالا اور لوگ درخت کا سایہ حاصل کرنے کے لیے اِدھر اُدھر کانٹے دار درختوں کے درمیان بکھر گئے۔ رسول اللہ ﷺ بھی ایک درخت کے نیچے اُترے اور اسی درخت سے تلوار لٹکا کر (سو گئے)۔ حضر ت جابر فرماتے ہیں کہ ہمیں بس ایک نیند آئی تھی کہ اتنے میں ایک مشرک نے آ کر رسول اللہ ﷺ کی تلوار سونت لی اور بولا: تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: تب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ نے فرمایا: اللہ!
حضرت جابر کہتے ہیں کہ ہمیں اچانک رسول اللہ ﷺ پکار رہے تھے۔ ہم پہنچے تو دیکھا کہ ایک اعرابی آپ ﷺ کے پاس بیٹھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں سویا تھا اور اس نے میری تلوار سونت لی۔ اتنے میں میں جاگ گیا اور سونتی ہوئی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے مجھ سے کہا: تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ میں نے کہا: اللہ۔ تو اب یہ وہی شخص بیٹھا ہوا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے عتاب نہ کیا۔
ابو عوانہ کی روایت میں اتنی تفصیل اور ہے کہ (جب آپ ﷺ نے اس کے سوال کے جوا ب میں اللہ کہا تو) تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ پھر وہ تلوار رسول اللہ ﷺ نے اٹھالی اور فرمایا: اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا: آپ اچھے پکڑنے والے ہویئے۔ (یعنی احسان کیجیے) آپ ﷺ نے فرمایا: تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے کہا: میں آپ ﷺ سے عہد کرتا ہوں کہ آپ ﷺ سے لڑائی نہیں کروں گا اور نہ آپ ﷺ سے لڑائی کرنے والوں کا ساتھ دوں گا۔ حضرت جابر کا بیان ہے کہ اس کے بعد