• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوہ احزاب (جنگ خندق)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غزوہ احزاب (جنگ خندق)

ایک سال سے زیادہ عرصے کی پیہم فوجی مہمات اور کارروائیوں کے بعد جزیزۃ العرب پر سکون چھا گیا تھا۔ اور ہرطرف امن و امان اور آشتی و سلامتی کا دور دورہ ہو گیا تھا۔ مگر یہود کو جو اپنی خباثتوں، سازشوں اور دسیسہ کاریوں کے نتیجے میں طرح طرح کی ذلت و رسوائی کا مزہ چکھ چکے تھے، اب بھی ہوش نہیں آیا تھا۔ اور انہوں نے غَدْر و خیانت اور مکر و سازش کے مکروہ نتائج سے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا۔ چنانچہ خیبر منتقل ہونے کے بعد پہلے تو انہوں نے یہ انتظار کیا کہ دیکھیں مسلمان اور بُت پرستوں کے درمیان جو فوجی کشاکش چل رہی ہے اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے، لیکن جب دیکھا کہ حالات مسلمانوں کے لیے سازگار ہو گئے ہیں، گردشِ لیل و نہار نے ان کے نفوذ کو مزید وسعت دے دی ہے، اور دور دور تک ان کی حکمرانی کا سکہ بیٹھ گیا ہے تو انہیں سخت جلن ہوئی۔ انہوں نے نئے سرے سے سازش شروع کی۔ اور مسلمانوں پر ایک ایسی آخری کاری ضرب لگانے کی تیاری میں مصروف ہو گئے جس کے نتیجے میں ان کا چراغِ حیات ہی گل ہو جائے، لیکن چونکہ انہیں براہ راست مسلمانوں سے ٹکرانے کی جرأت نہ تھی، اس لیے اس مقصد کی خاطر ایک نہایت خوفناک پلان تیار کیا۔
اس کی تفصیل یہ ہے کہ بنو نضیر کے بیس سردار اور رہنما مکے میں قریش کے پاس حاضر ہوئے اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف آمادۂ جنگ کرتے ہوئے اپنی مدد کا یقین دلایا۔ قریش نے ان کی بات مان لی۔ چونکہ وہ احد کے روز میدانِ بدر میں مسلمانوں سے صف آرائی کا عہد و پیمان کرکے اس کی خلاف ورزی کر چکے تھے اس لیے ان کا خیال تھا کہ اب اس مجوزہ جنگی اقدام کے ذریعے وہ اپنی شہرت بھی بحال کر لیں گے۔ اور اپنی کہی ہوئی بات بھی پوری کر دیں گے۔
اس کے بعد یہود کا یہ وفد بنو غَطفان کے پاس گیا۔ اور قریش ہی کی طرح انہیں بھی آمادۂ جنگ کیا۔ وہ بھی تیار ہو گئے۔ پھر اس وَفد نے بقیہ قبائل عرب میں گھوم گھوم کر لوگوں کوجنگ کی ترغیب دی۔ اور ان قبائل کے بھی بہت سے افراد تیار ہو گئے۔ غرض اس طرح یہودی سیاست کاروں نے پوری کامیابی کے ساتھ کفر کے تمام بڑے بڑے گروہوں اور جتھوں کو نبی ﷺ اور آپ کی دعوت اور مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر جنگ کے لیے تیار کر لیا۔
اس کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق جنوب سے قریش، کنانہ، اور تہامہ میں آباد دوسرے حلیف قبائل نے مدینے کی جانب کوچ کیا ان سب کا سپہ سالارِ اعلیٰ ابو سفیان تھا۔ اور ان کی تعداد چار ہزار تھی۔ یہ لشکر مَرّ الظہران پہنچا تو بنو سلیم بھی اس میں آ شامل ہوئے۔ ادھر اسی وقت مشرق کی طرف سے غطفانی قبائل فزارہ، مرہ اور اَشجع نے کوچ کیا۔ فزارہ کا سپہ سالار عُیینہ بن حصن تھا۔ بنو مرہ کا حارث بن عوف اور بنو اشجع کا مسعر بن رخیلہ۔ انہیں کے ضمن میں بنو اسد اور دیگر قبائل کے بہت سے افراد بھی آئے تھے۔
ان سارے قبائل نے ایک مقررہ وقت اور مقررہ پروگرام کے مطابق مدینے کا رخ کیا تھا۔ اس لیے چند دن کے اندر اندر مدینے کے پاس دس ہزار سپاہ کا ایک زبردست لشکر جمع ہو گیا یہ اتنا بڑا لشکر تھا کہ غالباً مدینے کی پوری آبادی (عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کو ملا کر بھی) اس کے برابر نہ تھی۔ اگر حملہ آوروں کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر مدینے کی چہار دیواری تک اچانک پہنچ جاتا تو مسلمانوں کے لیے سخت خطرناک ثابت ہوتا۔ کچھ عجب نہیں کہ ان کی جڑ کٹ جاتی۔ اور ان کا مکمل صفایا ہو جاتا، لیکن مدینے کی قیادت نہایت بیدار مغز اور چوکس قیادت تھی۔ اس کی انگلیاں ہمیشہ حالات کے نبض پر رہتی تھیں۔ اور وہ حالات کا تجزیہ کرکے آنے والے واقعات کا ٹھیک ٹھیک اندازہ بھی لگاتی تھی اور ان سے نمٹنے کے لیے مناسب ترین قدم بھی اٹھاتی تھی۔ چنانچہ کفار کا لشکر عظیم جوں ہی اپنی جگہ سے حرکت میں آیا مدینے کے مخبرین نے اپنی قیادت کو اس کی اطلاع فراہم کردی۔
اطلاع پاتے ہی رسول اللہ ﷺ نے ہائی کمان کی مجلسِ شوریٰ منعقد کی۔ اور دفاعی منصوبے پر صلاح مشورہ کیا۔ قائدین اہل شُوری نے غور و خوض کے بعد حضرت سلمان فارسیؓ کی ایک تجویز متفقہ طور پر منظور کی۔ یہ تجویز حضرت سلمان فارسیؓ نے ان لفظوں میں پیش کی تھی کہ اے اللہ کے رسول! فارس میں جب ہمارا محاصرہ کیا جاتا تھا تو ہم اپنے گرد خندق کھود لیتے تھے۔
یہ بڑی باحکمت دفاعی تجویز تھی۔ اہل عرب اس سے واقف نہ تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس تجویز پر فوراً عمل درآمد شروع فرماتے ہوئے ہر دس آدمی کو چالیس ہاتھ خندق کھودنے کا کام سونپ دیا۔ اور مسلمانوں نے پوری محنت اور دلجمعی سے خندق کھودنی شروع کر دی۔ رسول اللہ ﷺ اس کام کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ اور عملاً اس میں پوری طرح شریک بھی رہتے تھے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعدؓ سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خندق میں تھے۔ لوگ کھود رہے تھے۔ اور ہم کندھوں پر مٹی ڈھو رہے تھے کہ (اسی اثناء میں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
اللہم لا عیش إلا عیش الآخرۃ
فاغفر للمہاجرین والأنصار
''اے اللہ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے، پس مہاجرین اور انصار کو بخش دے۔'' (صحیح بخاری باب غزوۃ الخندق ۲/۵۸۸)
ایک دوسری روایت میں حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ خندق کی طرف تشریف لائے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار ایک ٹھنڈی صبح میں کھودنے کا کام کر رہے ہیں۔ ان کے پاس غلام نہ تھے کہ ان کے بجائے غلام یہ کام کر دیتے۔ آپ ﷺ نے ان کی مشقت اور بھُوک دیکھ کر فرمایا :
اللہم إن العیش عیش الآخرۃ
فاغفر للأنصار والمہاجرۃ
''اے اللہ! یقینا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس انصار و مہاجرین کو بخش دے۔''
انصار ومہاجرین نے اس کے جواب میں کہا:
نحن الذین بایعوا محمدًا
علی الجہاد ما بقینا أبداً
"ہم وہ ہیں کہ ہم نے ہمیشہ کے لیے جب تک کہ باقی رہیں محمد ﷺ سے جہاد پر بیعت کی ہے۔'' (صحیح بخاری ۲/۳۹۷ ، ۲/۵۸۸)
صحیح بخاری ہی میں ایک روایت حضرت براء بن عازبؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ خندق سے مٹی ڈھو رہے تھے۔ یہاں تک کہ غبار نے آپ ﷺ کے شکم کی جلد ڈھانک دی تھی۔ آپ ﷺ کے بال بہت زیادہ تھے۔ میں نے (اسی حالت میں) آپ ﷺ کو عبد اللہ بن رواحہ کے رجزیہ کلمات کہتے ہوئے سنا۔ آپ ﷺ مٹی ڈھوتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے:
اللـہـم لولا أنت مـا اہتدینـا ولا تصدقنا ولا صلینــا
فأنـزلن سکینـــۃ علیـنـــــا وثبت الأقدام إن لا قیـنا
إن الألــی رغبـوا علینـــــا وإن أرادوا فتنـۃ أبینــــا
''اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے، پس ہم پر سکینت نازل فرما۔ اور اگر ٹکراؤ ہو جائے تو ہمارے قدم ثابت رکھ۔ انہوں نے ہمارے خلاف لوگوں کو بھڑکایا ہے۔ اگر انہوں نے کوئی فتنہ چاہا تو ہم ہرگز سر نہیں جھکائیں گے۔''
حضرت براء فرماتے ہیں کہ آپ آخری الفاظ کھینچ کر کہتے تھے۔ ایک روایت میں آخری شعر اس طرح ہے:
إن الألی قـد بغوا علینـا
وإن أرادوا فتنــۃ أبینـا
''یعنی انہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے۔ اور اگر وہ ہمیں فتنے میں ڈالنا چاہیں گے تو ہم ہرگز سرنگوں نہ ہوں گے۔'' (ایضا ۲/۵۸۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مسلمان ایک طرف اس گرم جوشی کے ساتھ کام کر رہے تھے تو دوسری طرف اتنی شدت کی بھوک برداشت کر رہے تھے کہ اس کے تصور سے کلیجہ شق ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ (اہل خندق) کے پاس دو مٹھی جَو لایا جاتا تھا۔ اور ہیک دیتی ہوئی چکنائی کے ساتھ بنا کر لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا۔ لوگ بھوکے ہوتے تھے۔ اور یہ حلق کے لیے بد لذت ہوتا تھا۔ اس سے مہک پھُوٹتی رہتی تھی۔ (صحیح بخاری ۲/۵۸۸)
ابو طلحہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بھوک کا شکوہ کیا۔ اور اپنے شکم کھول کر ایک ایک پتھر دکھلائے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا شکم کھول کر دو پتھر دکھلائے۔
خندق کی کھُدائی کے دوران نبوت کی کئی نشانیاں بھی جلوہ فگن ہوئیں۔ صحیح بخاری کی ایک روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہؓ، نے نبی ﷺ کے اندر سخت بھُوک کے آثار دیکھے تو بکری کا ایک بچہ ذبح کیا۔ اور ان کی بیوی نے ایک صاع (تقریباً ڈھائی کلو) جَو پیسا پھر رسول اللہ ﷺ سے رازداری کے ساتھ خفیہ طور پر گزارش کی کہ اپنے چند رُفقاء کے ہمراہ تشریف لائیں، لیکن نبی ﷺ نے تمام اہلِ خندق کو جن کی تعداد ایک ہزار تھی، ہمراہ لے کر چل پڑے۔ اور سب لوگوں نے اسی ذرا سے کھانے سے شکم سیر ہو کر کھایا۔ پھر بھی گوشت کی ہانڈی اپنی حالت پر برقرار رہی۔ اور بھری کی بھری جوش مارتی رہی۔ اور گوندھا ہوا آٹا اپنی حالت پر برقرار رہا۔ اس سے روٹی پکائی جاتی رہی۔ (یہ واقعہ صحیح بخاری میں مروی ہے دیکھئے ۲/۵۸۸ ، ۵۸۹)
حضرت نعمان بن بشیرؓ کی بہن خندق کے پاس دوپسر کھجور لے کر آئیں کہ ان کے بھائی اور ماموں کھالیں گے، لیکن رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزریں تو آپ ﷺ نے ان سے وہ کھجور مانگ لی اور ایک کپڑے کے اوپر بکھیر دی۔ پھر اہل خندق کو دعوت دی۔ اہل خندق اسے کھاتے گئے اور وہ بڑھتی گئی یہاں تک کہ سارے اہل خندق کھا کھا کر چلے گئے۔ اور کھجور تھی کہ کپڑے کے کناروں سے باہر گر رہی تھی۔ (ابن ہشام ٢١٨/٢)
انہیں ایام میں ان دونوں واقعات سے کہیں بڑھ کر ایک اور واقعہ پیش آیا۔ جسے امام بخاری نے حضرت جابرؓ سے روایت کیا ہے۔ حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ ہم لوگ خندق کھود رہے تھے کہ ایک سخت پتھریلا ٹکڑا آڑے آ گیا۔ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کی کہ یہ چٹان نما ٹکڑا خندق میں حائل ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں اتر رہا ہوں۔ اس کے بعد آپ ﷺ اٹھے آپ کے شکم پر پتھر بندھا ہوا تھا - ہم نے تین روز سے کچھ چکھا نہ تھا - پھر نبی ﷺ نے کدال لے کر مارا تو وہ چٹان نما ٹکڑا بھر بھرے تودے میں تبدیل ہو گیا۔ (صحیح بخاری ۲/۵۸۸)
حضرت براءؓ کا بیان ہے کہ خندق (کی کھدائی) کے موقع پر بعض حصے میں ایک سخت چٹان آ پڑی۔ جس
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سے کدال اچٹ جاتی تھی، کچھ ٹوٹتا ہی نہ تھا۔ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا شکوہ کیا۔ آپ ﷺ تشریف لائے۔ کدال لی۔ اور بسم اللّٰہ کہہ کر ایک ضرب لگائی۔ (تو ایک ٹکڑا ٹوٹ گیا) اور فرمایا: اللّٰہ اکبر! مجھے ملک شام کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ واللہ! میں اس وقت وہاں کے سُرخ محلوں کو دیکھ رہا ہوں۔ پھر دوسری ضرب لگائی تو ایک دوسرا ٹکڑا کٹ گیا، اور فرمایا: اللہ اکبر! مجھے فارس دیا گیا ہے۔ واللہ! میں اس وقت مدائن کا سفید محل دیکھ رہا ہوں۔ پھر تیسری ضرب لگائی اور فرمایا: بسم اللہ۔ تو باقی ماندہ چٹان بھی کٹ گئی۔ پھر فرمایا: اللہ اکبر! مجھے یمن کی کُنجیاں دی گئی ہیں۔ واللہ! میں اس وقت اپنی اس جگہ سے صَنعاء کے پھاٹک دیکھ رہا ہوں۔ (سنن نسائی ۲/۵۶، مسند احمد، یہ الفاظ نسائی کے نہیں ہیں۔ اور نسائی میں عن رجل من الصحابہ ہے)
ابن اسحاق نے ایسی ہی روایت حضرت سلمان فارسیؓ سے ذکر کی ہے۔ (ابن ہشام ۲/۲۱۹)
چونکہ مدینہ شمال کے علاوہ باقی اطراف سے حَرّے (لاوے کی چٹان) پہاڑوں اور کھجور کے باغات سے گھِرا ہوا ہے۔ اور نبی ﷺ ایک ماہر اور تجربہ کار فوجی کی حیثیت سے یہ جانتے تھے کہ مدینے پر اتنے بڑے لشکر کی یورش صرف شمال ہی کی جہت سے ہو سکتی ہے، اس لیے آپ ﷺ نے صرف اسی جانب خندق کھدوائی۔
مسلمانوں نے خندق کھودنے کا کام مسلسل جاری رکھا۔ دن بھر کھدائی کرتے اور شام کو گھر پلٹ آتے۔ یہاں تک کہ مدینے کی دیواروں تک کفار کے لشکر جرار کے پہنچنے سے پہلے مقررہ پروگرام کے مطابق خندق تیار ہو گئی۔ (ابن ہشام ۳/۲۲۰، ۲۲۱)
ادھر قریش اپنا چار ہزار کا لشکر لیکر مدینہ پہنچے تو رومہ، جرف اور زغابہ کے درمیان مجمع الاسیال میں خیمہ زن ہوئے۔ اور دوسری طرف سے غطفان اور ان کے نجدی ہمسفر چھ ہزار کی نفری لے کر آئے تو احد کے مشرقی کنارے ذنب نقمی میں خیمہ زن ہوئے۔
وَلَمَّا رَ‌أَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَـٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ وَصَدَقَ اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا (۳۳: ۲۲)
''اور جب اہل ایمان نے ان جتھوں کو دیکھا تو کہا: یہ تو وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ ہی فرمایا تھا۔ اور اس (حالت) نے ان کے ایمان اور جذبۂ اطاعت کو اور بڑھا دیا۔''
لیکن منافقین اور کمزور نفس لوگوں کی نظر اس لشکر پر پڑی تو ان کے دل ہل گئے۔
وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا (۳۳: ۱۲)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
''اور جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ محض فریب تھا۔''
بہرحال اس لشکر سے مقابلے کے لیے رسول اللہ ﷺ بھی تین ہزار مسلمانوں کی نفری لے کر تشریف لائے اور کوہ سلع کی طرف پشت کرکے قلعہ بندی کی شکل اختیار کر لی سامنے خندق تھی جو مسلمانوں اور کفار کے درمیان حائل تھی۔ مسلمانوں کا شعار (کوڈ لفظ ) یہ تھا "حم لا ینصرون" (حٓم ان کی مدد نہ کی جائے) مدینے کا انتظام حضرت ابن ام مکتومؓ کے حوالے کیا گیا تھا اور عورتوں اور بچوں کو مدینے کے قلعوں اور گڑھیوں میں محفوظ کر دیا گیا تھا۔
جب مشرکین حملے کی نیت سے مدینے کی طرف بڑھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوڑی سی خندق ان کے اور مدینے کے درمیان حائل ہے۔ مجبوراً انہیں محاصرہ کرنا پڑا، حالانکہ وہ گھروں سے چلتے وقت اس کے لیے تیار ہو کر نہیں آئے تھے۔ کیونکہ دفاع کا یہ منصوبہ ... خود ان کے بقول ... ایک ایسی چال تھی جس سے عرب واقف ہی نہ تھے۔ لہٰذا انہوں نے اس معاملے کو سرے سے اپنے حساب میں داخل ہی نہ کیا تھا۔
مشرکین خندق کے پاس پہنچ کر غیظ و غضب سے چکر کاٹنے لگے۔ انہیں ایسے کمزور نقطے کی تلاش تھی جہاں سے وہ اتر سکیں۔ ادھر مسلمان ان کی گردش پر پوری پوری نظر رکھے ہوئے تھے اور ان پر تیر برساتے رہتے تھے تاکہ انہیں خندق کے قریب آنے کی جرأت نہ ہو۔ وہ اس میں نہ کود سکیں اور نہ مٹی ڈال کر عبو ر کرنے کے لیے راستہ بنا سکیں۔
ادھر قریش کے شہسواروں کو گوارانہ تھا کہ خندق کے پاس محاصرے کے نتائج کے انتظار میں بے فائدہ پڑے رہیں۔ یہ ان کی عادت اور شان کے خلاف بات تھی۔ چنانچہ ان کی ایک جماعت نے جن میں عَمرو بن عبدِوُدّ، عکرمہ بن ابی جہل اور ضرار بن خطاب وغیرہ تھے ایک تنگ مقام سے خندق پار کر لی۔ اور ان کے گھوڑے خندق اور سلع کے درمیان میں چکر کاٹنے لگے۔ ادھرسے حضرت علیؓ چند مسلمانوں کے ہمراہ نکلے اور جس مقام سے انہوں نے گھوڑے کدائے تھے اسے قبضے میں لیکر ان کی واپسی کا راستہ بند کر دیا۔ اس پر عَمرو بن عبدِوُدّ نے مبارَزَت کے لیے للکار۔ حضرت علیؓ دو دو ہاتھ کرنے کے لیے مد مقابل پہنچے۔ اور ایک ایسا فقرہ چست کیا کہ وہ طیش میں آ کر گھوڑے سے کود پڑا۔ اور اس کی کوچیں کاٹ کر، چہرہ مار کر حضرت علیؓ کے دوبدو آ گیا۔ بڑا بہادر اور شہ زور تھا۔ دونوں میں پُر زور ٹکر ہوئی۔ ایک نے دوسرے پر بڑھ بڑھ کر وار کیے۔ بالآخرحضرت علیؓ نے اس کا کام تمام کر دیا۔ باقی مشرکین بھاگ کر خندق پار چلے گئے۔ وہ اس قدر مرعوب تھے کہ عکرمہ نے بھاگتے ہوئے اپنا نیزہ بھی چھوڑ دیا۔
مشرکین نے کسی کسی دن خندق پار کرنے یا اسے پاٹ کر راستہ بنانے کی بڑی زبردست کوشش کی، لیکن مسلمانوں نے بڑی عمدگی سے انہیں دور رکھا۔ اور انہیں اس طرح تیروں سے چھیلا اور ایسی پامردی سے ان کی تیر اندازی کا مقابلہ کیا کہ ان کی کوشش ناکام ہو گئی۔
اسی طرح کے پر زور مقابلوں کے دوران رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بعض نمازیں بھی فوت ہو گئی تھیں۔ چنانچہ صحیحین میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ، خندق کے روز آئے۔ اور کفار کو سخت سست کہتے ہوئے کہنے لگے کہ یارسول اللہ! ﷺ آج بمشکل سورج ڈوبتے ڈوبتے نماز پڑھ سکا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اور میں نے تو واللہ! ابھی نماز پڑھی ہی نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ بُطحان میں اترے۔ آپ ﷺ نے نماز کے لیے وضو فرمایا: اور ہم نے بھی وضو کیا۔ پھر آپ ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی۔ یہ سورج ڈوب چکنے کے بعد کی بات ہے۔ اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔ (صحیح بخاری ۲/۵۹۰)
نبی ﷺ کو اس نماز کے فوت ہونے کا اس قدر ملال تھا کہ آپ نے مشرکین پر بددعا فرما دی۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے خندق کے روز فرمایا: اللہ ان مشرکین سمیت ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ جس طرح انہوں نے ہم کو نماز وسطیٰ (کی ادائیگی) سے مشغول رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا۔ (ایضا ٢/٥٩٠)
مسند احمد اور مسند شافعی رحمہ اللہ میں مروی ہے کہ مشرکین نے آپ ﷺ کو ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کی ادائیگی سے مصروف رکھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے یہ ساری نمازیں یکجا پڑھیں۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ ان روایتوں کے درمیان تطبیق کی صورت یہ ہے کہ جنگِ خندق کا سلسلہ کئی روز تک جاری رہا۔ پس کسی دن ایک صورت پیش آئی، اور کسی دن دوسری۔ (مختصر السيرة للشيخ عبدالله ص ۲۵ شرح مسلم للنودی ا/ ۲۲۷)
یہیں سے یہ بات بھی اخذ ہوتی ہے کہ مشرکین کی طرف سے خندق عبور کرنے کی کوشش اور مسلمانوں کی طرف سے پیہم دفاع کئی روز تک جاری رہا۔ مگر چونکہ دونوں فوجوں کے درمیان خندق حائل تھی، اس لیے دست بدست اور خونریز جنگ کی نوبت نہ آسکی، بلکہ صرف تیر اندازی ہوتی رہی۔
اسی تیر اندازی میں فریقین کے چند افراد مارے بھی گئے ... لیکن انہیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے، یعنی چھ مسلمان اور دس مشرک جن میں سے ایک یا دو آدمی تلوار سے قتل کیے گئے تھے۔
اسی تیر اندازی کے دوران حضرت سعد بن معاذؓ کو بھی ایک تیر لگا جس سے ان کے دستے کی شہ رگ کٹ گئی۔ انہیں حبان بن عرقہ نامی ایک قریشی مشرک کا تیر لگا تھا۔ حضرت سعد نے (زخمی ہونے کے بعد) دعا کی کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ جس قوم نے تیرے رسول کی تکذیب کی اور انہیں نکال باہر کیا ان سے تیری راہ میں جہاد کرنا مجھے جس قدر محبوب ہے اتنا کسی اور قوم سے نہیں ہے۔ اے اللہ! میں سمجھتا ہوں کہ اب تو نے ہماری ان کی
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جنگ کو آخری مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔ پس اگر قریش کی جنگ کچھ باقی رہ گئی ہو تو مجھے ان کے لیے باقی رکھ کہ میں ان سے تیری راہ میں جہاد کروں۔ اور اگر تو نے لڑائی ختم کر دی ہے تو اسی زخم کو جاری کرکے اسے میری موت کا سبب بنا دے۔ (صحیح بخاری ۲/۵۹۱)
ان کی اس دعا کا آخری ٹکڑا یہ تھا کہ (لیکن) مجھے موت نہ دے یہاں تک کہ بنو قریظہ کے معاملے میں میری آنکھوں کو ٹھنڈک حاصل ہو جائے۔ (ابن ہشام ۲/۲۲۷)
بہر کیف ایک طرف مسلمان محاذ جنگ پر ان مشکلات سے دوچار تھے تو دوسری طرف سازش اور دسیسہ کاری کے سانپ اپنے بلوں میں حرکت کر رہے تھے۔ اور اس کوشش میں تھے کہ مسلمانوں کے جسم میں اپنا زہر اتار دیں۔ چنانچہ بنو نضیر کا مجرم اکبر ... حیی بن اخطب ... بنو قریظہ کے دیار میں آیا۔ اور ان کے سردار کعب بن اسد قرظی کے پاس حاضر ہوا۔ یہ کعب بن اسد وہی شخص ہے جو بنو قریظہ کی طرف سے عہد و پیمان کرنے کا مجاز و مُختار تھا۔ اور جس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ جنگ کے مواقع پر آپ کی مدد کرے گا۔ (جیسا کہ پچھلے صفحات میں گزر چکا ہے) حُیی نے آ کر اس کے دروازے پر دستک دی تو اس نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ مگرحیی اس سے ایسی ایسی باتیں کرتا رہا کہ آخر کار اس نے دروازہ کھول ہی دیا۔ حیی نے کہا: اے کعب! میں تمہارے پاس زمانے کی عزت اور چڑھا ہوا سمندر لے کر آیا ہوں۔ میں نے قریش کو اس کے سرداروں اور قائدین سمیت لا کر رومہ کے مجمع الاسیال میں اتار دیا ہے۔ اور بنو غطفان کو ان کے قائدین اور سرداروں سمیت احد کے پاس ذنب نقمی میں خیمہ زن کر دیا ہے۔ ان لوگوں نے مجھ سے عہد و پیمان کیا ہے کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کا مکمل صفایا کیے بغیر یہاں سے نہ ٹلیں گے۔
کعب نے کہا: اللہ کی قسم م! تم میرے پاس زمانے کی ذلت اور برسا ہوا بادل لے کر آئے ہو جو صرف گرج چمک رہا ہے، مگر اس میں کچھ رہ نہیں گیا ہے۔ حیی! تجھ پر افسوس! مجھے میرے حال پر چھوڑ دے۔ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے صدق و وفا کے سوا کچھ نہیں دیکھا ہے۔
مگر حیی اس کو مسلسل چوٹی اور کندھے میں بٹتا اور لپیٹتا رہا، یہاں تک کہ اسے رام کر ہی لیا۔ البتہ اسے اس مقصد کے لیے یہ عہد و پیمان کرنا پڑا کہ اگر قریش نے محمد کو ختم کیے بغیر واپسی کی راہ لی تو میں بھی تمہارے ساتھ تمہارے قلعے میں داخل ہو جاؤں گا۔ پھر جو انجام تمہارا ہو گا وہی میرا بھی ہو گا۔ حیی کے اس پیمان وفا کے بعد کعب بن اسد نے رسول اللہ ﷺ سے کیا ہوا عہد توڑ دیا۔
اور مسلمانوں کے ساتھ طے کی ہوئی ذمے داریوں سے بری ہو کر ان کے خلاف مشرکین کی جانب سے جنگ میں شریک ہو گیا۔ (ابن ہشام ۲/۲۲۰ - ۲۲۱)
اس کے بعد بنو قریظہ کے یہود عملی طور پر جنگی کارروائیوں میں مصروف ہو گئے۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حضرت صفِیّہ بنت عبد المطلب ؓ حضرت حسان بن ثابتؓ کے فارغ نامی قلعے کے اندر تھیں۔ حضرت حسان عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہیں تھے۔ حضرت صَفِیّہ کہتی ہیں: ہمارے پاس سے ایک یہودی گزرا اور قلعے کا چکر کاٹنے لگا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بنو قریظہ رسول اللہ ﷺ سے کیا ہوا عہد وپیمان توڑ کر آپ سے برسر پیکار ہو چکے تھے۔ اور ہمارے اور ان کے درمیان کوئی نہ تھا جو ہمارا دفاع کرتا ... رسول اللہ ﷺ مسلمانوں سمیت دشمن کے مدِّ مقابل پھنسے ہوئے تھے۔ اگر ہم پر کوئی حملہ آور ہو جاتا تو آپ انہیں چھوڑ کر آ نہیں سکتے تھے۔ اس لیے میں نے کہا: اے حسان! یہ یہودی ...جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ... قلعے کا چکر لگا رہا ہے۔ اور مجھے اللہ کی قسم! اندیشہ ہے کہ یہ باقی یہود کو بھی ہماری کمزوری سے آگاہ کر دے گا۔ ادھر رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرامؓ اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ ہماری مدد کو نہیں آ سکتے۔ لہٰذا آپ جائیے اور اسے قتل کر دیجیے۔ حضرت حسانؓ نے کہا: واللہ! آپ جانتی ہیں کہ میں اس کام کا آدمی نہیں۔ حضرت صفیہ کہتی ہیں: اب میں نے خود اپنی کمر باندھی۔ پھر ستون کی ایک لکڑی لی۔ اور اس کے بعد قلعے سے اتر کر اس یہودی کے پاس پہنچی۔ اور اسے لکڑی مار مار کر اس کا خاتمہ کر دیا۔ اس کے بعد قلعے میں واپس آئی اور حسان سے کہا: جایئے اس کا ہتھیار اور اسباب اتار لیجئے۔ چونکہ وہ مرد ہے۔ اس لیے میں نے اس کا ہتھیار نہیں اتارا۔ حسان نے کہا: مجھے اس کے ہتھیار اور سامان کی کوئی ضرورت نہیں۔ (ابن ہشام ۲/ ۲۲۸) حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بچوں اور عورتوں کی حفاظت پر رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی کے اس جانبازانہ کارنامے کا بڑا گہرا اور اچھا اثر پڑا۔ اس کارروائی سے غالبا یہود نے سمجھا کہ ان قلعے اور گڑھیوں میں بھی مسلمان کا حفاظتی لشکر موجود ہے -حالانکہ وہاں کوئی لشکر نہ تھا - اسی لیے یہود کو دوبارہ اس قسم کی جرأت نہ ہوئی۔ البتہ وہ بُت پرست حملہ آوروں کے ساتھ اپنے اتحاد اور انضمام کا عملی ثبوت پیش کرنے کے لیے انہیں مسلسل رسد پہنچاتے رہے، حتیٰ کہ مسلمانوں نے ان کی رسد کے بیس اونٹوں پر قبضہ بھی کر لیا۔
بہرحال یہود کی عہد شکنی کی خبر رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ نے فوراً اس کی تحقیق کی طرف توجہ فرمائی۔ تاکہ بنو قریظہ کا موقف واضح ہو جائے۔ اور اس کی روشنی میں فوجی نقطۂ نظر سے جو اقدام مناسب ہو اختیار کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے اس خبر کی تحقیق کے لیے حضرت سعد بن معاذؓ، سعد بن عبادہ، عبد اللہ بن رواحہ اور خوات بن جبیر رضی اللہ عنہم کو روانہ فرمایا۔ اور ہدایت کی کہ جاؤ دیکھو! بنی قریظہ کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ واقعی صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو واپس آ کر صرف مجھے بتا دینا۔ اور وہ بھی اشاروں اشاروں میں۔ لوگوں کے بازو مت توڑنا۔ اور اگر وہ عہد و پیمان پر قائم ہیں تو پھر لوگوں کے درمیان علانیہ اس کا ذکر کر دینا۔ جب یہ لوگ بنو قریظہ کے قریب پہنچے تو انہیں انتہائی خباثت پر آمادہ پایا۔ انہوں نے علانیہ گالیاں بکیں۔ دشمنی کی باتیں کیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی اہانت کی۔ کہنے لگے: اللہ کا رسول کون ...؟ ہمارے اور محمد کے درمیان کوئی عہد ہے نہ پیمان۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
یہ سن کر وہ لوگ واپس آ گئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ کر صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صرف اتنا کہا: عضل وقارہ۔ مقصود یہ تھا کہ جس طرح عضل وقارہ نے اصحابِ رجیع کے ساتھ بد عہدی کی تھی اسی طرح یہود بھی بد عہدی پر تُلے ہوئے ہیں۔
باوجودیکہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اخفائے حقیقت کی کوشش کی لیکن عام لوگوں کو صورتحال کا علم ہو گیا۔ اور اس طرح ایک خوفناک خطرہ ان کے سامنے مجسم ہو گیا۔
درحقیقت اس وقت مسلمان نہایت نازک صورت حال سے دوچار تھے۔ پیچھے بنو قریظہ تھے جن کا حملہ روکنے کے لیے ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی نہ تھا۔ آگے مشرکین کا لشکر جرار تھا جنہیں چھوڑ کر ہٹنا ممکن نہ تھا۔ پھر مسلمان عورتیں اور بچے تھے جو کسی حفاظتی انتظام کے بغیر بد عہد یہودیوں کے قریب ہی تھے۔ اس لیے لوگوں میں سخت اضطراب برپا ہوا جس کی کیفیت اس آیت میں بیان کی گئی ہے :
إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ‌ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ‌ وَتَظُنُّونَ بِاللَّـهِ الظُّنُونَا ﴿١٠﴾ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا (۳۳: ۱۰، ۱۱)
''اور جب نگاہیں کج ہو گئیں، دل حلق میں آ گئے، اور تم لوگ اللہ کے ساتھ طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔ اس وقت مومنوں کی آزمائش کی گئی، اور انہیں شدت سے جھنجوڑ دیا گیا۔''
پھر اسی موقع پر بعض منافقین کے نفاق نے بھی سر نکالا۔ چنانچہ وہ کہنے لگے کہ محمد تو ہم سے وعدے کرتے تھے کہ ہم قیصر و کِسریٰ کے خزانے کھائیں گے اور یہاں یہ حالت ہے کہ پیشاب پائخانے کے لیے نکلنے میں بھی جان کی خیر نہیں۔ بعض منافقین نے اپنی قوم کے اشراف کے سامنے یہاں تک کہا کہ ہمارے گھر دشمن کے سامنے کھلے پڑے ہیں۔ ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ کیونکہ ہمارے گھر شہر سے باہر ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ بنو سلمہ کے قدم اکھڑ رہے تھے۔ اور وہ پسپائی کی سوچ رہے تھے۔ ان ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے :
وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَ‌ضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَ‌سُولُهُ إِلَّا غُرُ‌ورً‌ا ﴿١٢﴾ وَإِذْ قَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِ‌بَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْ‌جِعُوا ۚ وَيَسْتَأْذِنُ فَرِ‌يقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَ‌ةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَ‌ةٍ ۖ إِن يُرِ‌يدُونَ إِلَّا فِرَ‌ارً‌ا (۳۳: ۱۲،۱۳)
''اور جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہہ رہے تھے کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدہ کیا ہے وہ فریب کے سوا کچھ نہیں۔ اور جب ان کی ایک جماعت نے کہا کہ اے اہل یثرب! تمہارے لیے ٹھہرنے کی گنجائش نہیں، لہٰذا واپس چلو۔ اور ان کا ایک فریق نبی سے اجازت مانگ رہا تھا۔ کہتا تھا ہمارے گھر خالی پڑے ہیں۔ حالانکہ وہ خالی نہیں پڑے تھے یہ لوگ محض فرار چاہتے تھے۔''
ایک طرف لشکر کا یہ حال تھا۔ دوسری طرف رسول اللہ ﷺ کی یہ کیفیت تھی کہ آپ نے بنو قریظہ کی بد عہدی کی خبر سن کر اپنا سر اور چہرہ کپڑے سے ڈھک لیا۔ اور دیر تک چت لیٹے رہے۔ اس کیفیت کو دیکھ کر لوگوں کا اضطراب اور زیادہ بڑھ گیا، لیکن اس کے بعد آپ پر امید کی روح غالب آ گئی۔ اور آپ اللہ اکبر کہتے ہوئے کھڑے ہوئے۔ اور فرمایا: مسلمانو! اللہ کی مدد اور فتح کی خوشخبری سن لو! اس کے بعد آپ نے پیش آمدہ حالات سے نمٹنے کا پروگرام بنایا اور اسی پروگرام کے ایک جزو کے طور پر مدینے کی نگرانی کے لیے فوج کا ایک حصہ روانہ فرماتے رہے تاکہ مسلمانوں کو غافل دیکھ کر یہود کی طرف سے عورتوں اور بچوں پر اچانک کوئی حملہ نہ ہوجائے ، لیکن اس موقع پر ایک فیصلہ کن اقدام کی ضرورت تھی جس کے ذریعے دشمن کے مختلف گروہوں کو ایک دوسرے سے بے تعلق کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے آپ نے سوچا کہ بنو غطفان کے دونوں سرداروں عیینہ بن حصن اور حارث بن عوف سے مدینے کی ایک تہائی پیداوار پر مصالحت کر لیں تاکہ یہ دونوں سردار اپنے اپنے قبیلے لے کر واپس چلے جائیں۔ اور مسلمان تنہا قریش پر جن کی طاقت کا بار بار اندازہ لگایا جا چکا تھا۔ ضرب کاری لگانے کے لیے فارغ ہو جائیں۔ اس تجویز پر کچھ گُفت و شنید بھی ہوئی۔ مگر جب آپ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما سے اس تجویز کے بارے میں مشورہ کیا تو ان دونوں نے بیک زبان عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! اگر اللہ نے آپ ﷺ کو اس کا حکم دیا ہے تب تو بلا چوں چرا تسلیم ہے۔ اور اگر محض آپ ﷺ ہماری خاطر ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ جب ہم لوگ اور یہ لوگ دونوں شرک بت پرستی پر تھے تو یہ لوگ میزبانی یا خرید و فرخت کے سوا کسی اور صورت سے ایک دانے کی بھی طمع نہیں کر سکتے تھے تو بھلا اب جبکہ اللہ نے ہمیں ہدایتِ اسلام سے سرفروز فرمایا ہے، اور آپ کے ذریعے عزت بخشی ہے، ہم انہیں اپنا مال دیں گے؟ واللہ! ہم تو انہیں صرف اپنی تلوار دیں گے۔ آپ ﷺ نے ان دونوں کی رائے کو درست قرار دیا۔ اور فرمایا کہ جب میں نے دیکھا کہ سارا عرب ایک کمان کھینچ کر تم پر پل پڑا ہے تو محض تمہاری خاطر یہ کام کرنا چاہا تھا۔
پھر -الحمد للہ - اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ دشمن میں پھوٹ پڑ گئی۔ ان کی جمعیت شکست کھا گئی، اور ان کی دھار کند ہو گئی۔ ہوا یہ کہ غطفان کے ایک صاحب جن کا نام نُعَیم بن مسعود بن عامر اشجعی تھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں مسلمان ہو گیا ہوں، لیکن میری قوم کو میرے اسلام لانے کا علم نہیں۔ لہٰذا آپ ﷺ مجھے کوئی حکم فرمایئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم فقط ایک آدمی ہو (لہٰذا کوئی فوجی اقدام تو نہیں کر سکتے) البتہ جس قدر ممکن ہو ان میں پھوٹ ڈالو اور ان کی حوصلہ شکنی کرو، کیونکہ جنگ تو چالبازی کا نام ہے۔ اس پر حضرت نعیم فورا ہی بنو قریظہ کے ہاں پہنچے۔ جاہلیت میں ان سے ان کا بڑا میل جول تھا۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے کہا: آپ لوگ جانتے ہیں کہ مجھے آپ لوگوں سے محبت اور خصوصی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نعیم نے کہا: اچھا تو سنئے کہ قریش کا معاملہ آپ لوگوں سے مختلف ہے۔ یہ علاقہ آپ کا اپنا علاقہ ہے۔ یہاں آپ کا گھر بار ہے۔ مال و دولت ہے۔ بال بچے ہیں۔ آپ اسے چھوڑ کر کہیں اور نہیں جا سکتے مگر قریش و غطفان محمد ﷺ سے جنگ کرنے آئے تو آپ نے محمد ﷺ کے خلاف ان کا ساتھ دیا۔ ظاہر ہے ان کا یہاں نہ گھر بار ہے نہ مال و دولت ہے نہ بال بچے ہیں۔ اس لیے انہیں موقع ملا تو کوئی قدم اٹھائیں گے۔ ورنہ بوریا بستر باندھ کر رخصت ہو جائیں گے۔ پھر آپ لوگ ہوں گے۔ اور محمد ﷺ ہوں گے۔ لہٰذا وہ جیسے چاہیں گے آپ سے انتقام لیں گے۔ اس پر بنو قریظہ چونکے۔ اور بولے: نعیم! بتایئے اب کیا کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: دیکھئے! قریش جب تک آپ لوگوں کو اپنے کچھ آدمی یرغمال کے طور پر نہ دیں، آپ ان کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہوں۔ قریظہ نے کہا: آپ نے بہت مناسب رائے دی ہے۔
اس کے بعد حضرت نعیمؓ سیدھے قریش کے پاس پہنچے اور بولے: آپ لوگوں سے مجھے جو محبت اور جذبہ خیر خواہی ہے اسے تو آپ جانتے ہی ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! حضرت نعیمؓ نے کہا: اچھا تو سنئے کہ یہود نے محمد ﷺ اور ان کے رفقاء سے جو عہد شکنی کی تھی اس پر وہ نادم ہیں۔ اور اب ان میں یہ مراسلت ہوئی ہے کہ وہ (یہود) آپ لوگوں سے کچھ یرغمال حاصل کر کے ان (محمد) کے حوالے کر دیں گے۔ اور پھر آپ لوگوں کے خلاف محمد ﷺ سے اپنا معاملہ استوار کر لیں گے۔ لہٰذا اگر وہ یرغمال طلب کریں تو آپ ہرگز نہ دیں۔ اس کے بعد غطفان کے پاس بھی جا کر یہی بات دہرائی۔ (اور ان کے بھی کان کھڑے ہو گئے)
اس کے بعد جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات کو قریش نے یہود کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہمارا قیام کسی سازگار اور موزوں جگہ پر نہیں ہے۔ گھوڑے اور اونٹ مر رہے ہیں۔ لہٰذا ادھر سے آپ لوگ اور ادھر سے ہم لوگ اٹھیں۔ اور محمد پر حملہ کر دیں ، لیکن یہود نے جواب میں کہلایا کہ آج سنیچر کا دن ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ہم سے پہلے جن لوگوں نے اس دن کے بارے میں حکمِ شریعت کی خلاف ورزی کی تھی انہیں کیسے عذاب سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ علاوہ ازیں آپ لوگ جب تک اپنے کچھ آدمی ہمیں بطور یرغمال نہ دے دیں ہم لڑائی میں شریک نہ ہوں گے۔ قاصد جب یہ جواب لے کر واپس آئے تو قریش اور غطفان نے کہا: واللہ! نعیمؓ نے سچ ہی کہا تھا، چنانچہ انہوں نے یہود کو کہلا بھیجا کہ اللہ کی قسم! ہم آپ کوکوئی آدمی نہ دیں گے، بس آپ لوگ ہمارے ساتھ ہی نکل پڑیں۔ اور (دونوں طرف سے) محمد پر ہلہ بول دیا جائے۔ یہ سن کر قریظہ نے باہم کہا: واللہ! نعیمؓ نے تم سے سچ ہی کہا تھا اس طرح دونوں فریق کا اعتماد ایک دوسرے سے اٹھ گیا۔ ان کی صفوں میں پھوٹ پڑ گئی اور ان کے حوصلے ٹوٹ گئے۔
اس دوران مسلمان اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہے تھے: اللہم استر عوراتنا وآمن روعاتنا۔ ''اے اللہ ہماری پردہ پوشی فرما۔ اور ہمیں خطرات سے مامون کر دے۔''اور رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرما رہے تھے : اللہم منزل الکتاب، سریع الحساب، اہزم الأحزاب، اللہم اہزمہم وزلزلہم (صحیح بخاری کتاب الجہاد ۱/۴۱۱ کتاب المغازی ۲/۵۹۰)
''اے اللہ! کتاب اتارنے والے اور جلد حساب لینے والے۔ ان لشکروں کو شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے اور جھنجوڑ کر رکھ دے۔''
بالآخر اللہ نے اپنے رسول ﷺ اور مسلمانوں کی دعائیں سن لیں۔ چنانچہ مشرکین کی صفوں میں پھوٹ پڑ جانے اور بد دلی و پست ہمتی سرایت کر جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر تند ہواؤں کا طوفان بھیج دیا۔ جس نے ان کے خیمے اکھیڑ دیئے، ہانڈیاں الٹ دیں، طَنابوں کی کھونٹیاں اکھاڑ دیں، کسی چیز کو قرار نہ رہا اور اس کے ساتھ ہی فرشتوں کا لشکر بھیج دیا۔ جس نے انہیں ہلا ڈالا۔ اور ان کے دلوں میں رعب اور خوف ڈال دیا۔
اسی سرد اور کڑ کڑاتی ہوئی رات میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت حُذیفہ بن یمانؓ کو کفار کی خبر لانے کے لیے بھیجا۔ موصوف ان کے محاذ میں پہنچے تو وہاں ٹھیک یہی حالت بپا تھی۔ اور مشرکین واپسی کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ حضرت حذیفہؓ نے خدمتِ نبوی ﷺ میں واپس آ کر ان کی روانگی کی اطلاع دی۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی تو (دیکھا کہ میدان صاف ہے) اللہ نے دشمن کو کسی خیر کے حصول کا موقع دیئے بغیر اس کے غیظ و غضب سمیت واپس کر دیا ہے۔ اور ان سے جنگ کے لیے تنہا کافی ہوا ہے۔ الغرض! اس طرح اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ اپنے لشکر کو عزت بخشی، اپنے بندے کی مدد کی۔ اور تن تنہا سارے لشکر کو شکست دی چنانچہ اس کے بعد آپ مدینہ واپس آ گئے۔
غزوۂ خندق صحیح ترین قول کے مطابق شوال ۵ھ میں پیش آیا تھا۔ اور مشرکین نے ایک ماہ یا تقریباً ایک ماہ تک رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کا محاصرہ جاری رکھا تھا۔ تمام مآخذ پر مجموعی نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ محاصرے کا آغاز شوال میں ہوا تھا اور خاتمہ ذی قعدہ میں۔ ابن سعد کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جس روز خندق سے واپس ہوئے بدھ کا دن تھا۔ اور ذی قعدہ کے ختم ہونے میں صرف سات دن باقی تھے۔
جنگِ احزاب درحقیقت خساروں کی جنگ نہ تھی بلکہ اعصاب کی جنگ تھی۔ اس میں کوئی خونریز معرکہ پیش نہیں آیا ، لیکن پھر بھی یہ اسلامی تاریخ کی ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں مشرکین کے حوصلے ٹوٹ گئے اور یہ واضح ہو گیا کہ عرب کی کوئی بھی قوت مسلمانوں کی اس چھوٹی سی طاقت کو جو مدینے میں نشو نما پا رہی ہے ختم نہیں کر سکتی کیونکہ جنگِ احزاب میں جتنی بڑی طاقت فراہم ہو گئی تھی اس سے بڑی طاقت فراہم کرنا عربوں کے بس کی بات نہ تھی۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے احزاب کی واپسی کے بعد فرمایا : الآن نغزوہم ولا یغزونا، ونحن نسیر إلیہم (صحیح بخاری ۲/۵۹۰)
''اب ہم ان پر چڑھائی کریں گے ، وہ ہم پر چڑھائی نہ کریں گے، اب ہمارا لشکر ان کی طرف جائے گا۔''

****​
 
Top