• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوہ بنی المصطلق یا غزوہ مریْسیع

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غزوہ بنی المصطلق یا غزوہ مریْسیع

( ۵ھ یا ۶ھ)​
یہ غزوہ جنگی نقطۂ نظر سے کوئی بھاری بھرکم غزوہ نہیں ہے مگر اس حیثیت سے اس کی بڑی اہمیت ہے کہ اس میں چند واقعات ایسے رُونما ہوئے جن کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں اضطراب اور ہلچل مچ گئی۔ اور جس کے نتیجے میں ایک طرف منافقین کا پردہ فاش ہوا۔ تو دوسری طرف ایسے تعزیری قوانین نازل ہوئے جن سے اسلامی معاشرے کو شرف و عظمت اور پاکیزگی کی ایک خاص شکل عطا ہوئی۔ ہم پہلے غزوے کا ذکر کریں گے۔ اس کے بعد واقعات کی تفصیل پیش کریں گے۔
یہ غزوہ --- عام اہل سیر کے بقول شعبان ۵ھ میں اور ابن اسحاق کے بقول ۶ھ (اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اسی غزوہ سے واپسی میں افک (حضرت عائشہ ؓ پر جھوٹی تہمت لگائے جانے) کا واقعہ پیش آیا۔ اور معلوم ہے کہ یہ واقعہ حضرت زینب سے نبی ﷺ کی شادی اور مسلمان عورتوں کے لیے پردے کا حکم نازل ہو چکنے کے بعد پیش آیا تھا۔ چونکہ حضرت زینب کی شادی ۵ھ کے بالکل اخیر میں یعنی ذی قعدہ یا ذی الحجہ ۵ھ میں ہوئی تھی۔ اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ غزوہ شعبان ہی کے مہینے میں پیش آیا تھا، اس لیے یہ ۵ھ کا شعبان نہیں بلکہ ۶ھ ہی کا شعبان ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف جو لوگ اس غزوہ کا زمانہ شعبان ۵ھ بتاتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ حدیث افک کے اندر اصحابِ افک کے سلسلے میں حضرت سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے درمیان سخت کلامی کا ذکر موجود ہے۔ اور معلوم ہے کہ سعد بن معاذؓ ۵ھ کے اخیر میں غزوہ بنو قریظہ کے بعد انتقال کر گئے تھے۔ اس لیے واقعہ افک کے وقت ان کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ واقعہ - اور یہ غزوہ - ۶ھ میں نہیں بلکہ ۵ھ میں پیش آیا۔
اس کا جواب فریق اول نے یہ دیا ہے کہ حدیث افک میں حضرت سعد بن معاذؓ کا ذکر راوی کا وہم ہے۔ کیونکہ یہی حدیث حضرت عائشہ ؓسے ابن اسحاق نے بہ سند زہری عن عبد اللہ بن عتبہ عن عائشہؓ روایت کی ہے تو اس میں سعد بن معاذ کے بجائے اسید بن حضیرؓ کا ذکر ہے۔ چنانچہ امام ابو محمد بن حزم فرماتے ہیں کہ بلا شبہ یہی صحیح ہے۔ اور سعد بن معاذ کا ذکر وہم ہے۔ (دیکھئے: زادا لمعاد ۲/۱۱۵ )
راقم عرض پرداز ہے کہ گو فریق اول کا استدلال خاصا وزن رکھتا ہے۔ (اور اسی لیے ابتدا میں ہمیں بھی اسی سے اتفاق تھا) لیکن غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس استدلال کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ نبی ﷺ سے حضرت زینبؓ کی شادی ۵ھ کے اخیر میں ہوئی تھی۔ درانحالیکہ اس پر بعض قرائن کے سوا کوئی ٹھوس شہادت موجود نہیں ہے۔ جبکہ واقعۂ افک میں اور اس کے بعد حضرت سعد بن معاذ (متوفی ۵ھ) کی موجودگی متعدد صحیح روایات سے ثابت ہے جنہیں وہم قرار دینا مشکل ہے۔ جبکہ حضرت زینبؓ کی شادی کا ۴ھ کے اواخر یا ۵ھ کے اوائل میں ہونا بھی مذکور ہے۔ اس لیے واقعہ افک -اور غزوہ بنی المصطلق - شعبان ۵ھ میں پیش آنا عین ممکن ہے) میں پیش آیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ نبی ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ بنو المصطلق کا سردار حارث بن ابی ضرار آپ سے جنگ کے لیے اپنے قبیلے اور کچھ دوسرے عربوں کو ساتھ لے کر آ رہا ہے۔ آپ نے بریدہ بن حصیب اسلمیؓ کو تحقیق حال کے لیے
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
روانہ فرمایا۔ انہوں نے اس قبیلے میں جا کر حارث بن ضرار سے ملاقات کی اور بات چیت کی۔ اور واپس آ کر رسول اللہ ﷺ کو حالات سے باخبر کیا۔
جب آپ ﷺ کو خبر کی صحت کا اچھی طرح یقین آ گیا تو آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو تیاری کا حکم دیا اور بہت جلد روانہ ہو گئے۔ روانگی ۲ شعبان کو ہوئی۔ اس غزوے میں آپ کے ہمراہ منافقین کی بھی ایک جماعت تھی۔ جو اس سے پہلے کسی غزوے میں نہیں گئی تھی۔ آپ نے مدینہ کا انتظام حضرت زید بن حارثہ کو (اور کہا جاتا ہے کہ حضرت ابو ذر کو، اور کہا جاتا ہے کہ نمیلہ بن عبد اللہ لیثی کو) سونپا تھا۔ حارث بن ابی ضرار نے اسلامی لشکر کی خبر لانے کے لیے ایک جاسوس بھیجا تھا، لیکن مسلمانوں نے اسے گرفتار کر کے قتل کر دیا۔
جب حارث بن ابی ضرار اور اس کے رفقاء کو رسول اللہ ﷺ کی روانگی اور اپنے جاسوس کے قتل کیے جانے کا علم ہوا تو وہ سخت خوفزدہ ہوئے۔ اور جو عرب ان کے ساتھ تھے، وہ سب بکھر گئے۔ رسول اللہ ﷺ چشمۂ مریسیع (مریْسیع۔ م کو پیش۔ اور ر کو زبر، قدید کے اطراف میں ساحل سمندر کے قریب بنو مصطلق کے ایک چشمے کا نام تھا) تک پہنچے تو بنو مصطلق آمادہ جنگ ہو گئے۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے بھی صف بندی کر لی۔ پورے اسلامی لشکر کے علمبردار حضرت ابو بکرؓ تھے اور خاص انصار کا پھریرا حضرت سعد بن عبادہؓ کے ہاتھ میں تھا کچھ دیر فریقین میں تیروں کا تبادلہ ہوا۔ اس کے بعد رسو ل اللہ ﷺ کے حکم سے صحابہ کرام نے یکبارگی حملہ کیا۔ اور فتح یاب ہو گئے، مشرکین نے شکست کھائی۔ کچھ مارے گئے۔ عورتوں اور بچوں کو قید کر لیا گیا۔ مویشی اور بکریاں بھی ہاتھ آئیں۔ مسلمان کا صرف ایک آدمی مارا گیا۔ اسے ایک انصار ی نے دشمن کا آدمی سمجھ کر مار دیا تھا۔
اس غزوے کے متعلق اہل سیر کا بیان یہی ہے، لیکن علامہ ابن قیم نے لکھا ہے کہ یہ وہم ہے۔ کیونکہ اس غزوے میں لڑائی نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ آپ نے چشمے کے پاس ان پر چھاپہ مار کر عورتوں بچوں اور مال مویشی پر قبضہ کر لیا تھا۔ جیسا کہ صحیح کے اندر ہے کہ رسول اللہﷺ نے بنو المصطلق پر چھاپہ مارا اور وہ غافل تھے۔ الیٰ آخر الحدیث۔ (دیکھئے: صحیح بخاری کتاب العتق ۱/۳۴۵ فتح الباری ۵/۲۰۲، ۷/۴۳۱)
قیدیوں میں حضرت جویریہ ؓ بھی تھیں۔ جو بنو المصطلق کے سردار حارث بن ابی ضرار کی بیٹی تھیں۔ وہ ثابت بن قَیس کے حصے میں آئیں۔ ثابت نے انہیں مکاتب (مکاتب اس غلام یا لونڈی کو کہتے ہیں جو اپنے مالک سے یہ طے کر لے کہ وہ ایک مقررہ رقم مالک کو ادا کر کے آزاد ہو جائے گا) بنا لیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کی جانب سے مقررہ رقم ادا کر کے ان سے شادی کر لی۔ اس شادی کی وجہ سے مسلمانوں نے بنو المصطلق کے ایک سو گھرانوں کو جو مسلمان ہو چکے تھے۔ آزاد کر دیا۔ کہنے لگے کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے سسرال کے لوگ ہیں۔ (زادالمعاد ۲/۱۱۲، ۱۱۳ ابن ہشام ۲۸۹، ۲۹۰، ۲۹۴، ۲۹۵)
یہ ہے اس غزوے کی روداد۔ باقی رہے وہ واقعات جو اس غزوے میں پیش آئے تو چونکہ ان کی بنیاد عبد اللہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بن ابی رئیس المنافقین اور اس کے رفقاء تھے، اس لیے بیجانہ ہو گا کہ پہلے اسلامی معاشرے کے اندر ان کے کردار اور رویّے کی ایک جھلک پیش کر دی جائے۔ اور بعد میں واقعات کی تفصیل دی جائے۔
غزوہ بنی المصطلق سے پہلے منافقین کا رویہ:
ہم کئی بار ذکر کر چکے ہیں کہ عبد اللہ بن ابی کو اسلام اور مسلمانوں سے عموماً اور رسول اللہ ﷺ سے خصوصاً بڑی کَدْ تھی۔ کیونکہ اوس و خزرج اس کی قیادت پر متفق ہو چکے تھے۔ اور اس کی تاجپوشی کے لیے مونگوں کا تاج بنایا جا رہا تھا کہ اتنے میں مدینہ کے اندر اسلام کی شعائیں پہنچ گئیں۔ اور لوگوں کی توجہ ابن ابی سے ہٹ گئی، اس لیے اسے احساس تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔
اس کی یہ کَدْ اور جَلن ابتدائے ہجرت ہی سے واضح تھی جبکہ ابھی اس نے اسلام کا اظہار بھی نہیں کیا تھا۔ پھر اسلام کا اظہار کرنے کے بعد بھی اس کی یہی روش رہی۔ چنانچہ اس کے اظہار اسلام سے پہلے ایک بار رسول ﷺ گدھے پر سوار حضرت سعد بن عبادہؓ کی عیادت کے لیے تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک مجلس سے گزر ہوا جس میں عبد اللہ بن اُبی بھی تھا۔ اس نے اپنی ناک ڈھک لی اور بو لا: ہم پر غبار نہ اڑاؤ۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ نے اہل مجلس پر قرآن کی تلاوت فرمائی تو کہنے لگا: آپ اپنے گھر میں بیٹھئے۔ ہماری مجلس میں ہمیں نہ گھیریے۔ (ابن ہشام ۱/۵۸۴، ۵۸۷ صحیح بخاری ۲/۹۲۴ صحیح مسلم ۲/۱۰۹)
یہ اظہار اسلام سے پہلے کی بات ہے، لیکن جنگِ بدر کے بعد جب اس نے ہوا کا رُخ دیکھ کر اسلام کا اظہار کیا تب بھی وہ اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کا دشمن ہی رہا۔ اور اسلامی معاشرے میں انتشار برپا کرنے اور اسلام کی آواز کمزور کرنے کی مسلسل تدبیریں سوچتا رہا۔ وہ اعدائے اسلام سے بڑا مخلصانہ ربط رکھتا تھا، چنانچہ بنو قینقاع کے معاملے میں نہایت نامعقول طریقے سے دخل انداز ہوا تھا۔ (جس کا ذکر پچھلے صفحات میں آ چکا ہے) اسی طرح اس نے غزوۂ اُحد میں بھی شر، بد عہدی مسلمانوں میں تفریق اور ان کی صفوں میں بے چینی و انتشار اور کھلبلی پیدا کرنے کی کوششیں کی تھیں۔ (اس کا بھی ذکر گزر چکا ہے)
اس منافق کے مکر و فریب کا یہ عالم تھا کہ یہ اپنے اظہارِ اسلام کے بعد ہر جمعہ کو جب رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے تشریف لاتے تو پہلے خود کھڑا ہو جاتا اور کہتا: لوگو! یہ تمہارے درمیان اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اللہ نے ان کے ذریعے تمہیں عزت و احترام بخشا ہے، لہٰذا ان کی مدد کرو، انہیں قوت پہنچاؤ اور ان کی بات سنو اور مانو۔ اس کے بعد بیٹھ جاتا۔ اور رسول اللہ ﷺ اُٹھ کر خطبہ دیتے۔ پھر اس کی ڈھٹائی اور بے حیائی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب جنگِ اُحد کے بعد پہلا جمعہ آیا کیونکہ - یہ شخص اس جنگ میں اپنی بد ترین دغا بازی کے باوجود خطبہ سے پہلے - پھر کھڑا ہو گیا اور وہی باتیں دہرانی شروع کیں جو اس سے پہلے کہا کرتا تھا، لیکن اب کی بار مسلمانوں نے مختلف اطراف
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سے اس کا کپڑا پکڑ لیا اور کہا: او اللہ کے دشمن! بیٹھ جا۔ تو نے جو جو حرکتیں کی ہیں اس کے بعد اب تو ا س لائق نہیں رہ گیا ہے۔ اس پر وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا اور یہ بڑبڑاتا ہوا باہر نکل گیا کہ میں ان صاحب کی تائید کے لیے اٹھا تو معلوم ہوتا ہے کہ میں نے کوئی مجرمانہ بات کہہ دی۔ اتفاق سے دروازے پر ایک انصاری سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے کہا: تیری بربادی ہو۔ واپس چل! رسول اللہ ﷺ تیرے لیے دعائے مغفرت کر دیں گے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے لیے دعائے مغفرت کریں۔ (ابن ہشام ۲/۱۰۵)
علاوہ ازیں ابن اُبی نے بنو نضیر سے بھی رابطہ قائم کر رکھا تھا۔ اور ان سے مل کر مسلمانوں کے خلاف درپردہ سازشیں کیا کرتا تھا۔ اسی طرح ابن اُبی اور اس کے رفقاء نے جنگ خندق میں مسلمانوں کے اندر اضطراب اور کھلبلی مچانے اور انہیں مرعوب و دہشت زدہ کرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کیے تھے۔ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ احزاب کی حسب ذیل آیات میں کیا ہے:
وَإِذْ قَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِ‌بَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْ‌جِعُوا ۚ وَيَسْتَأْذِنُ فَرِ‌يقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَ‌ةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَ‌ةٍ ۖ إِن يُرِ‌يدُونَ إِلَّا فِرَ‌ارً‌ا ﴿١٣﴾ وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِم مِّنْ أَقْطَارِ‌هَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَآتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا إِلَّا يَسِيرً‌ا ﴿١٤﴾ وَلَقَدْ كَانُوا عَاهَدُوا اللَّـهَ مِن قَبْلُ لَا يُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ‌ ۚ وَكَانَ عَهْدُ اللَّـهِ مَسْئُولًا ﴿١٥﴾ قُل لَّن يَنفَعَكُمُ الْفِرَ‌ارُ‌ إِن فَرَ‌رْ‌تُم مِّنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذًا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٦﴾ قُلْ مَن ذَا الَّذِي يَعْصِمُكُم مِّنَ اللَّـهِ إِنْ أَرَ‌ادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَ‌ادَ بِكُمْ رَ‌حْمَةً ۚ وَلَا يَجِدُونَ لَهُم مِّن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرً‌ا ﴿١٧﴾ قَدْ يَعْلَمُ اللَّـهُ الْمُعَوِّقِينَ مِنكُمْ وَالْقَائِلِينَ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا ۖ وَلَا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿١٨﴾ أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَ‌أَيْتَهُمْ يَنظُرُ‌ونَ إِلَيْكَ تَدُورُ‌ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَإِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوكُم بِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ أَشِحَّةً عَلَى الْخَيْرِ‌ ۚ أُولَـٰئِكَ لَمْ يُؤْمِنُوا فَأَحْبَطَ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ يَسِيرً‌ا ﴿١٩﴾ يَحْسَبُونَ الْأَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوا ۖ وَإِن يَأْتِ الْأَحْزَابُ يَوَدُّوا لَوْ أَنَّهُم بَادُونَ فِي الْأَعْرَ‌ابِ يَسْأَلُونَ عَنْ أَنبَائِكُمْ ۖ وَلَوْ كَانُوا فِيكُم مَّا قَاتَلُوا إِلَّا قَلِيلًا ﴿٢٠﴾ (۳۳: ۱۲تا ۲۰)
''اور جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے کہہ رہے تھے کہ ہم سے اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدہ کیا تھا وہ محض فریب تھا۔ اور جب ان میں سے ایک گروہ کہہ رہا تھا کہ اے یثرب
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
والو! اب تمہارے لیے ٹھہرنے کی گنجائش نہیں لہٰذا پلٹ چلو۔ اور ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی سے اجازت طلب کر رہا تھا کہ ہمارے گھر کھلے پڑے ہیں (یعنی ان کی حفاظت کا انتظام نہیں) حالانکہ وہ کھلے پڑے نہ تھے۔ یہ لوگ محض بھاگنا چاہتے تھے۔ اور اگر شہر کے اطراف سے ان پر دھاوا بول دیا گیا ہوتا۔ اور ان سے فتنے (میں شرکت) کا سوال کیا گیا ہوتا تو یہ اس میں جا پڑتے۔ اور بمشکل ہی کچھ رکتے۔ انہوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔ اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پُرس ہو کر رہنی ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ تم موت یا قتل سے بھاگو گے تو یہ بھگدڑ تمہیں نفع نہ دے گی۔ اور ایسی صورت میں تمتع کا تھوڑا ہی موقع دیا جائے گا۔ آپ کہہ دیں کہ کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہے اگر وہ تمہارے لیے برا ارادہ کرے یا تم پر مہربانی کرنا چاہے۔ اور یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کو حامی و مدد گار نہیں پائیں گے۔ اللہ تم میں سے ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو روڑے اٹکاتے ہیں۔ اور اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ہماری طرف آؤ۔ اور جو لڑائی میں محض تھوڑا سا حصہ لیتے ہیں۔ جو تمہارا ساتھ دینے میں انتہائی بخیل ہیں۔ جب خطرہ آ پڑے تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی طرف اس طرح دیدے پھرا پھرا کر دیکھتے ہیں جیسے مرنے والے پر موت طاری ہو رہی ہے۔ اور جب خطرہ ٹل جائے تو مال و دولت کی حِرص میں تمہارا استقبال تیزی کے ساتھ چلتی ہوئی زبانوں سے کرتے ہیں۔ یہ لوگ درحقیقت ایمان ہی نہیں لائے ہیں۔ اس لیے اللہ نے ان کے اعمال اکارت کر دیے۔ اور اللہ پر یہ بات آسان ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ (پھر پلٹ کر) آ جائیں تو یہ چاہیں گے کہ بدوؤں کے درمیان بیٹھے تمہاری خبر پوچھتے رہیں۔اور اگر یہ تمہارے درمیان رہیں بھی تو کم ہی لڑائی میں حصہ لیں گے۔''
ان آیات میں موقع کی مناسبت سے منافقین کے انداز فکر، طرز عمل، نفسیات اور خود غرضی و موقع پرستی کا ایک جامع نقشہ کھینچ دیا گیا ہے۔
ان سب کے باوجود یہود، منافقین اور مشرکین غرض سارے ہی اعدائے اسلام کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ اسلام کے غلبے کا سبب مادّی تفوُّق، اور اسلحے لشکر اور تعداد کی کثرت نہیں ہے۔ بلکہ اس کا سبب وہ اللہ پرستی اور اخلاقی قدریں ہیں جن سے پورا اسلامی معاشرہ اور دین اسلام سے تعلق رکھنے والا ہر فرد سرفراز و بہرہ مند ہے۔ ان اعدائے اسلام کو یہ بھی معلوم تھا کہ اس فیض کا سر چشمہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے، جو ان اخلاقی قدروں کا معجزے کی حد تک سب سے بلند نمونہ ہے۔
اسی طرح یہ اعدائے اسلام چار پانچ سال تک برسرِ پیکار رہ کر یہ بھی سمجھ چکے تھے کہ اس دین اور اس کے حاملین کو ہتھیاروں کے بل پر نیست و نابود کرنا ممکن نہیں۔ اس لیے انہوں نے غالبا یہ طے کیا کہ اخلاقی پہلو کو بنیاد بنا کر اس دین کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈے کی جنگ چھیڑ دی جائے۔ اور اس کا پہلا نشانہ خاص رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کو بنایا جائے چونکہ منافقین مسلمانوں کی صف میں پانچواں کالم تھے۔ اور مدینہ ہی کے اندر رہتے تھے۔ مسلمانوں سے بلا تردُّد مل جل سکتے تھے۔ اور ان کے احساسات کو کسی بھی ''مناسب'' موقع پر بآسانی بھڑکا سکتے تھے۔ اس لیے اس پروپیگنڈے کی ذمہ داری ان منافقین نے اپنے سر لی، یا ان کے سر ڈالی گئی اور عبد اللہ بن اُبیّ رئیس المنافقین نے اس کی قیادت کا بیڑا اٹھایا۔
ان کا پروگرام اس وقت ذرا زیادہ کھل کر سامنے آیا جب حضرت زید بن حارثہؓ نے حضرت زینب کو طلاق دی۔ اور نبی ﷺ نے ان سے شادی کی۔ چونکہ عرب کا دستور یہ چلا آ رہا تھا کہ وہ مُتَبَنّیٰ (منہ بولے بیٹے) کو اپنے حقیقی لڑکے کا درجہ دیتے تھے۔ اور اس کی بیوی کو حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام سمجھتے تھے، اس لیے جب نبی ﷺ نے حضرت زینب سے شادی کی تو منافقین کو نبی ﷺ کے خلاف شور و شغب برپا کرنے کے لیے اپنی دانست میں دو کمزور پہلو ہاتھ آئے۔
ایک یہ کہ حضرت زینب آپ ﷺ کی پانچویں بیوی تھیں۔ جبکہ قرآن نے چار سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس لیے یہ شادی کیونکر درست ہو سکتی ہے؟
دوسرے یہ کہ زینب آپ ﷺ کے بیٹے -یعنی منہ بولے بیٹے - کی بیوی تھیں۔ اس لیے عرب دستور کے مطابق ان سے شادی کرنا نہایت سنگین جرم اور زبردست گناہ تھا۔ چنانچہ اس سلسلے میں خوب پروپیگنڈہ کیا گیا۔ اور طرح طرح کے افسانے گھڑے گئے۔ کہنے والوں نے یہاں تک کہا کہ محمد نے زینب کو اچانک دیکھا اور ان کے حسن سے اس قدر متأثر ہوئے کہ نقد دل دے بیٹھے۔ اور جب ان کے صاحبزادے زید کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے زینب کا راستہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خالی کر دیا۔
منافقین نے اس افسانے کا اتنی قوت سے پروپیگنڈہ کیا کہ اس کے اثرات کتب احادیث و تفاسیر میں اب تک چلے آ رہے ہیں۔ اس وقت یہ سارا پروپیگنڈہ کمزور اور سادہ لوح مسلمانوں کے اندر اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ بالآخر قرآن مجید میں اس کی بابت واضح آیات نازل ہوئیں۔ جن کے اندر شکوک پنہاں کی بیماری کا پورا پورا علاج تھا۔ اس پروپیگنڈے کی وسعت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ سورۂ احزاب کا آغاز ہی اس آیت کریمہ سے ہوا۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّـهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِ‌ينَ وَالْمُنَافِقِينَ ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا ﴿١﴾ (۳۳: ۱)
''اے نبی، اللہ سے ڈرو۔ اور کافرین و منافقین سے نہ دبو۔ بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔''
یہ منافقین کی حرکتوں اور کارروائیوں کی طرف ایک طائرانہ اشارہ اور ان کا ایک مختصر سا خاکہ ہے۔ نبی ﷺ یہ ساری حرکتیں صبر، نرمی اور تلطف کے ساتھ برداشت کر رہے تھے۔ اور عام مسلمان بھی ان کے شر سے دامن بچا کر صبر و برداشت کے ساتھ رہ رہے تھے۔ کیونکہ انہیں تجربہ تھا کہ منافقین قدرت کی طرف سے رہ رہ کر رسوا کیے جاتے رہیں گے۔ چنانچہ ارشاد ہے :
أَوَلَا يَرَ‌وْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَّرَّ‌ةً أَوْ مَرَّ‌تَيْنِ ثُمَّ لَا يَتُوبُونَ وَلَا هُمْ يَذَّكَّرُ‌ونَ (۹: ۱۲۶)
''وہ دیکھتے نہیں کہ انہیں ہر سال ایک بار یا دو بار فتنے میں ڈالا جاتا ہے، پھر وہ نہ توبہ کرتے ہیں نہ نصیحت پکڑتے ہیں۔''
غزوۂ بنو المصطلق میں منافقین کا کردار:
جب غزوہ بنی المصطلق پیش آیا۔ اور منافقین بھی اس میں شریک ہوئے، تو انہوں نے ٹھیک وہی کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے:
لَوْ خَرَ‌جُوا فِيكُم مَّا زَادُوكُمْ إِلَّا خَبَالًا وَلَأَوْضَعُوا خِلَالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ (۹: ۴۷)
''اگر وہ تمہارے اندر نکلتے تو تمہیں مزید فساد ہی سے دوچار کرتے اور فتنے کی تلاش میں تمہارے اندر تگ و دو کرتے۔''
چنانچہ اس غزوے میں انہیں بھڑاس نکالنے کے دو مواقع ہاتھ آئے۔ جس کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے مسلمانوں کی صفوں میں خاصا اضطراب و انتشار مچایا۔ اور نبی ﷺ کے خلاف بد ترین پروپیگنڈہ کیا۔ ان دونوں مواقع کی کسی قدر تفصیلات یہ ہیں:
۱۔ مدینہ سے ذلیل ترین آدمی کو نکالنے کی بات:
رسول اللہ ﷺ غزوہ بنی المصطلق سے فارغ ہو کر ابھی چشمہ مُریسیع پر قیام فرما ہی تھے کہ کچھ لوگ پانی لینے گئے ان ہی میں حضرت عمر بن خطابؓ کا ایک مزدور بھی تھا۔ جس کا نام جَہْجَاہ غِفاری تھا۔ پانی پر ایک اور شخص سنان بن وبرجُہنی سے اس کی دھکم دھکا ہو گئی۔ اور دونوں لڑ پڑے۔ پھر جُہنی نے پکارا: یا معشر الانصار (انصار کے لوگو! مدد کو پہنچو) اور جہجاہ نے آواز دی: یامعشر المہاجرین (مہاجرین! مدد کو آؤ!) رسول اللہ ﷺ (خبر پاتے ہی وہاں تشریف لے گئے۔ اور) فرمایا: میں تمہارے اندر موجود ہوں اور جاہلیت کی پکار پکاری جا رہی ہے؟ اسے چھوڑو، یہ بدبودار ہے۔
اس واقعے کی خبر عبد اللہ بن ابی بن سَلُول کو ہوئی تو غصے سے بھڑک اٹھا۔ اور بولا: کیا ان لوگوں نے ایسی حرکت کی ہے؟ یہ ہمارے علاقے میں آ کر اب ہمارے ہی حریف اور مدِّ مقابل ہو گئے ہیں۔ اللہ کی قسم! ہماری اور ان کی حالت پر تو وہی مثل صادق آتی ہے، جو پہلوں نے کہی ہے کہ اپنے کتے کو پال پوس کر موٹا تازہ کرو تاکہ وہ تمہیں کو پھاڑ کھائے۔ سنو! اللہ کی قسم! اگر ہم مدینہ واپس ہوئے تو ہم میں کا معزز ترین آدمی، ذلیل ترین آدمی کو نکال باہر کرے گا۔ پھر حاضرین کی طرف متوجہ ہو کر بولا: یہ مصیبت تم نے خود مول لی ہے۔ تم نے انہیں اپنے شہر میں اتارا۔ اور اپنے اموال بانٹ کر دیئے۔ دیکھو! تمہارے ہاتھوں میں جو کچھ ہے اگر اسے دینا بند کر دو تو یہ تمہارا شہر چھوڑ کر کہیں اور چلتے بنیں گے۔
اس وقت مجلس میں ایک نوجوان صحابی حضرت زید بن ارقم بھی موجود تھے۔ انہوں نے آ کر اپنے چچا کو پوری بات کہہ سنائی۔ ان کے چچا نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔ اس وقت حضرت عمرؓ بھی موجود تھے۔ بولے: حضور عباد بن بِشر سے کہئے کہ اسے قتل کر دیں۔ آپ نے فرمایا: عمر! یہ کیسے مناسب رہے گا لوگ کہیں گے کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کر رہا ہے؟ نہیں بلکہ تم کوچ کا اعلان کر دو۔ یہ ایسا وقت تھا جس میں آپ کوچ نہیں فرمایا کرتے تھے۔ لوگ چل پڑے تو حضرت اُسید بن حُضَیرؓ حاضر خدمت ہوئے۔ اور سلام کر کے عرض کیا کہ آج آپ نے ناوقت کوچ فرمایا ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارے صاحب (یعنی ابن اُبیّ) نے جو کچھ کہا ہے تمہیں اس کی خبر نہیں ہوئی؟ انہوں نے دریافت کیا کہ اس نے کیا کہا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا خیال ہے کہ وہ مدینہ واپس ہوا تو معزز ترین آدمی ذلیل ترین آدمی کو مدینہ سے نکال باہر کرے گا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اگر چاہیں تو اسے مدینے سے نکال باہر کریں۔ اللہ کی قسم! وہ ذلیل ہے اور آپ باعزت ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے ساتھ نرمی برتئے۔ کیونکہ واللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے پاس اس وقت لے آیا جب اس کی قوم اس کی تاجپوشی کے لیے مونگوں کا تاج تیار کر رہی تھی۔ اس لیے اب وہ سمجھتا ہے کہ آپ نے اس سے اس کی بادشاہت چھین لی ہے۔
پھر آپ شام تک پورا دن اور صبح تک پوری رات چلتے رہے بلکہ اگلے دن کے ابتدائی اوقات میں اتنی دیر تک سفر جاری رکھا کہ دھوپ سے تکلیف ہونے لگی۔ اس کے بعد اتر کر پڑاؤ ڈالا گیا تو لوگ زمین پر جسم رکھتے ہی بے خبر ہو گئے۔ آپ کا مقصد بھی یہی تھا کہ لوگوں کو سکون سے بیٹھ کر گپ لڑانے کا موقع نہ ملے۔
ادھر عبد اللہ بن ابی کو جب پتہ چلا کہ زید بن ارقم نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ تو وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اللہ کی قسم کھا کر کہنے لگا کہ اس نے جو بات آپ کو بتائی ہے وہ بات میں نے نہیں کہی ہے۔ اور نہ اسے زبان پر لے آیا ہوں۔ اس وقت وہاں انصار کے جو لوگ موجود تھے انہوں نے بھی کہا: یا رسول اللہ! ابھی وہ لڑکا ہے۔ ممکن ہے اسے وہم ہو گیا ہو۔ اور اس شخص نے جو کچھ کہا تھا اسے ٹھیک ٹھیک یاد نہ رکھ سکا ہو۔ اس لیے آپ نے ابن ابی کی بات سچ مان لی۔ حضرت زید کا بیان ہے کہ اس پر مجھے ایسا غم لاحق ہوا کہ ویسے غم سے میں کبھی دوچار نہیں ہوا تھا۔ میں صدمے سے اپنے گھر میں بیٹھ رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے سورہ منافقین نازل فرمائی۔ جس میں دونوں باتیں مذکور ہیں۔
هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَ‌سُولِ اللَّـهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا (۶۳: ۷)
''یہ منافقین وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وہ چلتے بنیں ''
يَقُولُونَ لَئِن رَّ‌جَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِ‌جَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ (۶۳: ۸)
''یہ منافقین کہتے ہیں کہ اگر ہم مدینہ واپس ہوئے تو اس سے عزت والا ذلت والے کو نکال باہر کرے گا۔''
حضرت زیدؓ کہتے ہیں کہ (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلوایا۔ اور یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں، پھر فرمایا: اللہ نے تمہاری تصدیق کر دی۔ (دیکھئے: صحیح بخاری ۱/۴۹۹، ۲/۲۲۷، ۲۲۸، ۲۲۹ صحیح مسلم ۳۵۸۴، ترمذی ۳۳۱۲، ابن ہشام ۲/۲۹۰، ۲۹۱، ۲۹۲)
اس منافق کے صاحبزادے جن کا نام عبد اللہ ہی تھا، اس کے بالکل برعکس نہایت نیک طینت انسان اور خیارِ صحابہ میں سے تھے۔ انہوں نے اپنے باپ سے برأت اختیار کر لی۔ اور مدینہ کے دروازے پر تلوار سونت کر کھڑے ہو گئے۔ جب ان کا باپ عبد اللہ بن اُبیّ وہاں پہنچا تو اس سے بولے: اللہ کی قسم! آپ یہاں سے آگے نہیں بڑھ سکتے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اجازت دے دیں۔ کیونکہ حضور عزیز ہیں اور آپ ذلیل ہیں۔ اس کے بعد جب نبی ﷺ وہاں تشریف لائے تو آپ نے اس کو مدینہ میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ اور تب صاحبزادے نے باپ کا راستہ چھوڑا۔ عبداللہ بن اُبی کے ان ہی صاحبزادے حضرت عبد اللہ نے آپ سے یہ بھی عرض کی تھی کہ اے اللہ کے رسول! آپ اسے قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو مجھے فرمایئے اللہ کی قسم میں اس کا سر آپ کی خدمت میں حاضر کر دوں گا۔ (ابن ہشام ایضا، مختصر السیرہ للشیخ عبدا للہ ص ۲۷۷)
۲۔ واقعہ افک:
اس غزوے کا دوسرا اہم واقعہ اِفک کا واقعہ ہے۔ اس واقعے کا ماحصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا دستور تھا کہ سفر میں جاتے ہوئے ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے۔ جس کا قرعہ نکل آتا اسے ہمراہ لے جاتے۔ اس غزوہ میں قرعہ حضرت عائشہ ؓکے نام نکلا، اور آپ ﷺ انہیں ساتھ لے گئے۔ غزوے سے واپسی میں ایک جگہ پڑاؤ ڈالا گیا۔ حضرت عائشہ ؓ اپنی حاجت کے لیے گئیں۔ اور اپنی بہن کا ہار جسے عاریتاً لے گئی تھیں کھو بیٹھیں۔ احساس ہوتے ہی فورا اس جگہ واپس گئیں جہاں ہار غائب ہو ا تھا۔ اسی دوران وہ لوگ آئے جو آپ کا ہَودَج اونٹ پر لادا کرتے تھے۔ انہوں نے سمجھا آپ ہودج کے اندر تشریف فرما ہیں۔ اس لیے اسے اونٹ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پر لاد دیا، اور ہودج کے ہلکے پن پر نہ چونکے۔ کیونکہ حضرت عائشہ ؓ ابھی نو عمر تھیں۔ بدن موٹا اور بوجھل نہ تھا نیز چونکہ کئی آدمیوں نے مل کر ہودج اٹھایا تھا اس لیے بھی ہلکے پن پر تعجب نہ ہوا۔ اگر صرف ایک یا دو آدمی اٹھاتے تو انہیں ضرور محسوس ہو جاتا۔
بہرحال حضرت عائشہ ؓ ہار ڈھونڈھ کر قیام گاہ پہنچیں تو پورا لشکر جا چکا تھا۔ اور میدان بالکل خالی پڑا تھا۔ نہ کوئی پکارنے والا تھا نہ جواب دینے والا۔ وہ اس خیال سے وہیں بیٹھ گئیں کہ لوگ انہیں نہ پائیں گے تو پلٹ کر وہیں تلاش کرنے آئیں گے، لیکن اللہ اپنے امر پر غالب ہے۔ وہ بالائے عرش سے جو تدبیر چاہتا ہے کرتا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گئیں۔ پھر صفوان بن معطلؓ کی یہ آواز سن کر بیدار ہوئیں کہ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون رسول اللہ ﷺ کی بیوی ... ؟ صفوان لشکر کے پچھلے حصے میں سوئے ہوئے تھے۔ ان کی عادت بھی زیادہ سونے کی تھی۔ انہوں نے جب حضرت عائشہ ؓ کو دیکھا تو پہچان لیا۔ کیونکہ وہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے بھی انہیں دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے انا للہ پڑھی اور اپنی سواری بٹھا کر حضرت عائشہ ؓ کے قریب کردی۔ حضرت عائشہؓ اس پر سوار ہو گئیں۔ حضرت صفوان نے انا للہ کے سوا زبان سے ایک لفظ نہ نکالا۔ چُپ چاپ سواری کی نکیل تھامی اور پیدل چلتے ہوئے لشکر میں آ گئے۔ یہ ٹھیک دوپہر کا وقت تھا، اور لشکر پڑاؤ ڈال چکا تھا۔
انہیں اس کیفیت کے ساتھ آتا دیکھ کر مختلف لوگوں نے اپنے اپنے انداز پر تبصرہ کیا۔ اور اللہ کے دشمن خبیث عبد اللہ بن اُبی کو بھڑاس نکالنے کا ایک اور موقع مل گیا۔ چنانچہ اس کے پہلو میں نفاق اور حسد کی جو چنگاری سلگ رہی تھی اس نے اس کے کرب پنہاں کو عیاں اور نمایاں کیا۔ یعنی بدکاری کی تہمت تراش کر واقعات کے تانے بانے بننا، تہمت کے خاکے میں رنگ بھرنا، اور اسے پھیلانا بڑھانا اور اُدھیڑنا اور بُننا شروع کیا۔ اس کے ساتھی بھی اسی بات کو بنیاد بنا کر اس کا تقرب حاصل کرنے لگے۔ اور جب مدینہ آئے تو ان تہمت تراشوں نے خوب جم کر پروپیگنڈہ کیا۔ ادھر رسول اللہ ﷺ خاموش تھے۔ کچھ بول نہیں رہے تھے لیکن جب لمبے عرصے تک وحی نہ آئی تو آپ نے حضرت عائشہؓ سے علیحدگی کے متعلق اپنے خاص صحابہ سے مشورہ کیا۔ حضرت علیؓ نے صراحت کیے بغیر اشاروں اشاروں میں مشورہ دیا کہ آپ ان سے علیحدگی اختیار کر کے کسی اور سے شادی کر لیں، لیکن حضرت اسامہ وغیرہ نے مشورہ دیا کہ آپ انہیں اپنی زوجیت میں برقرار رکھیں اور دشمنوں کی بات پر کان نہ دھریں۔ اس کے بعد آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر عبد اللہ بن اُبی کی ایذا رسانیوں سے نجات دلانے کی طرف توجہ دلائی۔ اس پر حضرت اُسید بن حضیرؓ نے رغبت ظاہر کی کہ اسے قتل کر دیں، لیکن حضرت سعد بن عبادہ پر جو عبد اللہ بن ابی کے قبیلہ خزرج کے سردار تھے، قبائلی حمیت غالب آ گئی۔ اور دونوں حضرات میں ترش کلامی ہو گئی، جس کے نتیجے میں دونوں قبیلے بھڑک اٹھے۔ رسول اللہ ﷺ نے خاصی مشکل سے انہیں خاموش کیا، پھر خود بھی خاموش ہو گئے۔
ادھر حضرت عائشہ ؓ کا حال یہ تھا کہ وہ غزوے سے واپس آتے ہی بیمار پڑ گئیں۔ اور ایک مہینے تک مسلسل بیمار رہیں۔ انہیں اس تہمت کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہ تھا۔ البتہ انہیں یہ بات کھٹکتی رہتی تھی کہ بیماری کی حالت میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جو لطف و عنایت ہوا کرتی تھی اب وہ نظر نہیں آ رہی تھی۔ بیماری ختم ہوئی تو وہ ایک رات اُم مسطح کے ہمراہ قضائے حاجت کے لیے میدان میں گئیں۔ اتفاق سے ام مسطح اپنی چادر میں پھنس کر پھسل گئیں اور اس پر انہوں نے اپنے بیٹے کو بد دعا دی۔ حضرت عائشہؓ نے اس حرکت پر انہیں ٹوکا تو انہوں نے حضرت عائشہؓ کو یہ بتلانے کے لیے کہ میرا بیٹا بھی پروپیگنڈے کے جرم میں شریک ہے۔ تہمت کا واقعہ کہہ سنایا۔ حضر ت عائشہؓ نے واپس آ کر اس خبر کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگانے کی غرض سے رسول اللہ ﷺ سے والدین کے پاس جانے کی اجازت چاہی پھر اجازت پا کر والدین کے پاس تشریف لے گئیں اور صورتِ حال کا یقینی طور پر علم ہو گیا تو بے اختیار رونے لگیں۔ اور پھر دو رات اور ایک دن روتے روتے گزر گیا۔ اس دوران نہ نیند کا سرمہ لگایا نہ آنسو کی جھڑی رکی۔ وہ محسوس کرتی تھیں کہ روتے روتے کلیجہ شق ہو جائے گا۔ اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے۔ کلمہ شہادت پر مشتمل خطبہ پڑھا۔ اور امّا بعد کہہ کر فرمایا: اے عائشہ! مجھے تمہارے متعلق ایسی اور ایسی بات کا پتہ لگا ہے۔ اگر تم اس سے بَری ہو تو اللہ تعالیٰ عنقریب تمہاری براءت ظاہر فرما دے گا۔ اور اگر خدانخواستہ تم سے کوئی گناہ سرزد ہو گیا ہے تو تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگو اور توبہ کرو، کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کر کے اللہ کے حضور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔
اس وقت حضرت عائشہؓ کے آنسو ایک دم تھم گئے۔ اور اب انہیں آنسو کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہو رہا تھا۔ انہوں نے اپنے والدین سے کہا کہ وہ آپ کو جواب دیں، لیکن ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا جواب دیں۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ نے خود ہی کہا : واللہ! میں جانتی ہوں کہ یہ بات سنتے سنتے آپ لوگوں کے دلوں میں اچھی طرح بیٹھ گئی ہے۔ اور آپ لوگوں نے اسے بالکل سچ سمجھ لیا ہے اس لیے اب اگر میں یہ کہوں کہ میں بری ہوں - اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بَری ہوں - تو آپ لوگ میری بات سچ نہ سمجھیں گے۔ اور اگر میں کسی بات کا اعتراف کر لوں - حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں - تو آپ لوگ صحیح مان لیں گے۔ ایسی صورت میں واللہ میرے لیے اور آپ لوگوں کے لیے وہی مثل ہے جسے حضرت یوسف علیہ السلام کے والد نے کہا تھا کہ :
فَصَبْرٌ‌ جَمِيلٌ وَاللَّـهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ ﴿١٨﴾ (۱۲: ۱۸)
''صبر ہی بہتر ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کہتے ہو اس پر اللہ کی مدد مطلوب ہے۔''
اس کے بعد حضرت عائشہؓ دوسری جانب پلٹ کر لیٹ گئیں۔ اور اسی وقت رسول اللہ ﷺ پر وحی کا نزول شروع ہو گیا۔ پھر جب آپ ﷺ سے نزول وحی کی شدت و کیفیت ختم ہوئی تو آپ مسکرا رہے تھے۔ اور آپ نے پہلی بات جو فرمائی وہ یہ تھی کہ اے عائشہؓ! اللہ نے تمہیں بری کر دیا۔ اس پر (خوشی سے) ان کی ماں بولیں: (عائشہ!) حضور کی جانب اٹھو (شکریہ ادا کرو)۔ انہوں نے اپنے دامن کی براءت اور رسول اللہ ﷺ کی محبت پر اعتماد و وثوق کے سبب قدرے ناز کے انداز میں کہا: واللہ! میں تو ان کی طرف نہ اٹھوں گی۔ اور صرف اللہ کی حمد کروں گی۔
اس موقع پر واقعہ افک سے متعلق جو آیات اللہ نے نازل فرمائیں وہ سورۂ نور کی دس آیات ہیں جو
إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنكُمْ ۚ لَا تَحْسَبُوهُ شَرًّ‌ا لَّكُم ۖ بَلْ هُوَ خَيْرٌ‌ لَّكُمْ ۚ لِكُلِّ امْرِ‌ئٍ مِّنْهُم مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ ۚ وَالَّذِي تَوَلَّىٰ كِبْرَ‌هُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ (۲۴: ۱۱) سے شروع ہوتی ہیں۔
اس کے بعد تہمت تراشی کے جُرم میں مِسطح بن اثاثہ، حسان بن ثابت اور حَمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہم کو اسی اسی کوڑے مارے گئے۔ (اسلامی قانون یہی ہے کہ جو شخص کسی پر زنا کی تہمت لگائے اور ثبوت نہ پیش کرے اسے (یعنی اس تہمت لگانے والے کو) اسی کوڑے مارے جائیں)
البتہ خبیث عبد اللہ بن ابی کی پیٹھ اس سزا سے بچ گئی۔ حالانکہ تہمت تراشوں میں وہی سرِ فہرست تھا۔ اور اسی نے اس معاملے میں سب سے اہم رول ادا کیا تھا۔ اسے سزا نہ دینے کی وجہ یا تو یہ تھی کہ جن لوگوں پر حدود قائم کر دی جاتی ہیں وہ ان کے لیے اخروی عذاب کی تخفیف اور گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ اور عبد اللہ بن ابی کو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں عذاب عظیم دینے کا اعلان فرما دیا تھا، یا پھر وہی مصلحت کار فرما تھی جس کی وجہ سے اسے قتل نہیں کیا گیا۔ (صحیح بخاری ۱/۳۶۴ ، ۲/۶۹۶، ۶۹۷، ۶۹۸، زاد المعاد۲/۱۱۳، ۱۱۴، ۱۱۵، ابن ہشام ۲/ ۲۹۷ تا ۳۰۷)
اس طرح ایک مہینے کے بعد مدینہ کی فضا شک و شبہے اور قلق و اضطرا ب کے بادلوں سے صاف ہو گئی۔ اور عبد اللہ بن ابی اس طرح رسوا ہوا کہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب وہ کوئی گڑبڑ کرتا تو خود اس کی قوم کے لوگ اسے عتاب کرتے، اس کی گرفت کرتے اور اسے سخت سُست کہتے۔ اس کیفیت کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرؓ سے کہا : اے عمر! کیا خیال ہے؟ دیکھو! واللہ! اگر تم نے اس شخص کو اس دن قتل کر دیا ہوتا جس دن تم نے مجھ سے اسے قتل کرنے کی بات کہی تھی تو اس پر بہت سی ناکیں پھڑک اٹھتیں، لیکن اگر آج انہیں ناکوں کو اس کے قتل کا حکم دیا جائے تو وہ اسے قتل کر دیں گے۔ حضرت عمر نے کہا: واللہ! میری خوب سمجھ میں آ گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معاملہ میرے معاملے سے زیادہ بابرکت ہے۔ (ابن ہشام ۲/۲۹۳)
 
Top