- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
کعبے کی کنجی (حق بحقدار رسید) :
اس کے بعد رسول اللہﷺ مسجد حرام میں بیٹھ گئے۔ حضرت علیؓ نے ...جن کے ہاتھ میں کعبے کی کنجی تھی ...حاضر خدمت ہو کر عرض کی: حضور ہمارے لیے حجاج کو پانی پلانے کے اعزاز کے ساتھ خانہ کعبہ کی کلید برداری کا اعزاز بھی جمع فرما دیجیے۔ اللہ آپ ﷺ پر رحمت نازل کرے۔ ایک اور روایت کے بموجب یہ گذارش حضرت عباسؓ نے کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عثمان بن طلحہ کہاں ہیں؟ انہیں بلایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا! عثمان! یہ لو اپنی کنجی، آج کا دن نیکی اور وفاداری کا دن ہے۔ طبقات ابن سعد کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے کنجی دیتے ہوئے فرمایا: اسے ہمیشہ ہمیش کے لیے لو۔ تم لوگوں سے اسے وہی چھینے گا جو ظالم ہو گا۔ اے عثمان! اللہ نے تم لوگوں کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے۔ لہٰذا اس بیت اللہ سے تمہیں جو کچھ ملے اس سے معرف کے ساتھ کھانا۔
فتح یا شکرانے کی نماز:
اسی روز رسول اللہ ﷺ اُمِّ ہانیٔ بنت ابی طالب کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں غسل فرمایا اور ان کے گھر میں ہی آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ یہ چاشت کا وقت تھا۔ اس لیے کسی نے اس کو چاشت کی نماز سمجھا اور کسی نے فتح کی نماز۔ اُمِّ ہانی نے اپنے دو دیوروں کو پناہ د ے رکھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی۔ اس ارشاد کی وجہ یہ تھی کہ اُم ہانی کے بھائی حضرت علی بن ابی طالبؓ ان دونوں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے ام ہانی نے ان دونوں کو چھپا کر گھر کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ جب نبی ﷺ تشریف لے گئے تو ان کے بارے میں سوال کیا اور مذکورہ جواب سے بہرہ ور ہوئیں۔
اس کے بعد رسول اللہﷺ مسجد حرام میں بیٹھ گئے۔ حضرت علیؓ نے ...جن کے ہاتھ میں کعبے کی کنجی تھی ...حاضر خدمت ہو کر عرض کی: حضور ہمارے لیے حجاج کو پانی پلانے کے اعزاز کے ساتھ خانہ کعبہ کی کلید برداری کا اعزاز بھی جمع فرما دیجیے۔ اللہ آپ ﷺ پر رحمت نازل کرے۔ ایک اور روایت کے بموجب یہ گذارش حضرت عباسؓ نے کی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عثمان بن طلحہ کہاں ہیں؟ انہیں بلایا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا! عثمان! یہ لو اپنی کنجی، آج کا دن نیکی اور وفاداری کا دن ہے۔ طبقات ابن سعد کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے کنجی دیتے ہوئے فرمایا: اسے ہمیشہ ہمیش کے لیے لو۔ تم لوگوں سے اسے وہی چھینے گا جو ظالم ہو گا۔ اے عثمان! اللہ نے تم لوگوں کو اپنے گھر کا امین بنایا ہے۔ لہٰذا اس بیت اللہ سے تمہیں جو کچھ ملے اس سے معرف کے ساتھ کھانا۔
فتح یا شکرانے کی نماز:
اسی روز رسول اللہ ﷺ اُمِّ ہانیٔ بنت ابی طالب کے گھر تشریف لے گئے۔ وہاں غسل فرمایا اور ان کے گھر میں ہی آٹھ رکعت نماز پڑھی۔ یہ چاشت کا وقت تھا۔ اس لیے کسی نے اس کو چاشت کی نماز سمجھا اور کسی نے فتح کی نماز۔ اُمِّ ہانی نے اپنے دو دیوروں کو پناہ د ے رکھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ام ہانی! جسے تم نے پناہ دی اسے ہم نے بھی پناہ دی۔ اس ارشاد کی وجہ یہ تھی کہ اُم ہانی کے بھائی حضرت علی بن ابی طالبؓ ان دونوں کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے ام ہانی نے ان دونوں کو چھپا کر گھر کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ جب نبی ﷺ تشریف لے گئے تو ان کے بارے میں سوال کیا اور مذکورہ جواب سے بہرہ ور ہوئیں۔