• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غلامی نے بدل ڈالا ہندوستانی مسلمانوں کا ضمیر

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
821
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
غلامی نے بدل ڈالا ہندوستانی مسلمانوں کا ضمیر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

علامہ احسان الٰہی ظہیر نے کیا خوب فرمایا تھا :

خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر۔

یہ کوئی مجرد شعری خیال نہیں، بلکہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو تاریخ کے اوراق میں بار بار ثبت ہوتی آئی ہے، اور آج کی ہندستانی مسلمان قوم اس کا زندہ نمونہ بن چکی ہے۔ صدیوں کی محکومی، صدیوں کی ذہنی غلامی، اور اب جمہوری طاغوت کے سائے میں پلنے والے وہ مسلمان جو اپنے اسلام کی اساس کو فراموش کر بیٹھے، وہی آج وطنی دیوی "بھارت ماتا" کے پجاری بنے ہیں، بلکہ مودی حکومت کے ہمنوا مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا امیر اصغر علی تو ہندوستان کو پوری دنیا کا باپ کہتا ہے جو علانیہ مشرکانہ تہذیب، کفریہ آئین اور دشمنانِ اسلام کا قلعہ ہے۔

وہ مسلمان جن کے اسلاف نے "لا الہ الا اللہ" کی صدائے حق پر اپنے وطن، اپنے گھر، اور اپنی جانیں تک قربان کیں، آج وہی اپنی نسل کو بتا رہے ہیں کہ وطن پرستی ہی اصل دین ہے، کہ بھارت ماں ہے، اس سے محبت ایمان کا حصہ ہے، اور جو اس پر تنقید کرے، وہ "غدار" ہے۔ کیا یہ وہی مسلمان ہیں جن کی رگوں میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے خون کی جھلک باقی تھی؟ نہیں! غلامی نے ان کے ضمیر کو بدل دیا، ان کے احساس کو مسخ کر دیا، اور ان کے قلب و ذہن کو طاغوت کی چکی میں پیس ڈالا۔

جب ہندوستان کو دارالکفر کہا جاتا ہے تو یہی غلام ضمیر وطن پرست لوگ بلبلا اٹھتے ہیں۔ ان کے چہرے بگڑ جاتے ہیں، ان کی زبانیں زہر اگلنے لگتی ہیں، اور وہ وطن پرستی کی مخالف کرنے والے مسلمانوں کے خلاف ایسی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں گویا ہندو مشرکوں کی زبان بول رہے ہوں۔ ان کے بغض کا عالم یہ ہے کہ وہ قرآن کی وہ آیت بھی پسِ پشت ڈال دیتے ہیں جو عدل کا عالمی اور دائمی اصول عطا کرتی ہے:

"وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ"
یعنی: "کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ انصاف کرو، یہی تقویٰ سے قریب تر ہے۔"

لیکن افسوس! ان کی حب الوطنی نے ان کے عدل کو نگل لیا۔ ان کی وطن پرستی ان کے دلوں میں عدل کی جگہ نفرت کا زہر بھر چکی ہے۔ وہ نہ صرف دشمنِ اسلام قوتوں کی زبان بولتے ہیں بلکہ اُن کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اسلام کے بنیادی تصورات کو بھی مسخ کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ وہ دارالکفر اور دارالاسلام کی بنیادی تقسیم کو "انتہاپسندی" کہتے ہیں، وہ جہاد کو "دہشتگردی" کا لقب دیتے ہیں، اور وہ توحید کے علمبرداروں کو "غدار" کہہ کر ہندوتوا کے زرخرید غلام ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔

یہ وہی لوگ ہیں جو مجاہدین کو دہشتگرد کہتے ہیں، جو گجرات و بابری و دہلی کے مظلوموں پر خاموش رہتے ہیں، مگر ہندوستان کے خلاف کسی موحد کے ایک جملے پر زمین و آسمان ایک کر دیتے ہیں۔

افسوس! اے اہلِ اسلام! تمھیں کیا ہو گیا ہے؟
کیا وطنی پرچم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے توحیدی پرچم سے بڑا ہو گیا؟
کیا ہندوستان کی مٹی، اللہ کے دین سے زیادہ مقدس ہو گئی؟
کیا تمھاری وفاداریاں ایمان کے بجائے وطنیت کے بت کے گرد گردش کرنے لگی ہیں؟

اے وہ لوگو جو ہندوستان میں اسلام کی بقا کے دعوے دار ہو، اگر تمھاری زبانیں حق کہنے سے قاصر ہیں، اگر تمھارا سینہ دارالکفر کہنے پر تنگ پڑتا ہے، اگر تمھاری غیرت اسلام سے زیادہ بھارت سے جڑی ہے، تو جان لو کہ تم غلامی کی آخری حد کو چھو چکے ہو۔ تمھارے دل وہ مندر بن چکے ہیں جن میں "بھارت ماتا" کا بُت رکھا جا چکا ہے۔ اور تمھاری تقریریں وہ صدا بن چکی ہیں جن میں "لا الہ الا اللہ" کی بجائے "وطن، وطن" کی پکار گونج رہی ہے۔

یاد رکھو!
جو قوم اپنے ضمیر کو وطنیت کی زنجیروں میں قید کر دے، وہ نہ دین کی حفاظت کر سکتی ہے، نہ عزت کی، نہ نسل کی، اور نہ ہی اپنی آخرت کی۔
 
Top