• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غَزَوَات پر ایک نظر

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
غَزَوَات پر ایک نظر

نبی ﷺ کے غزوات، سرایا اور فوجی مہمات پر ایک نظر ڈالنے کے بعد کوئی بھی شخص جو جنگ کے ماحول، پس منظر و پیش منظر اور آثار و نتائج کا علم رکھتا ہو یہ اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ نبی ﷺ دُنیا کے سب سے بڑے اور باکمال فوجی کمانڈر تھے۔ آپ ﷺ کی سوجھ بوجھ سب سے زیادہ درست اور آپ ﷺ کی فراست اور بیدار مغزی سب سے زیادہ گہری تھی۔ آپ ﷺ جس طرح نبوت و رسالت کے اوصاف میں سیّد الرسل اور اعظم الانبیاء تھے، اسی طرح فوجی قیادت کے وصف میں بھی آپ یگانہ روزگار اور نادر عبقریت کے مالک تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے جو بھی معرکہ آرائی کی اس کے لیے ایسے حالات و جہات کا انتخاب فرمایا جو حزم و تدبر اور حکمت و شجاعت کے عین مطابق تھے۔ کسی معرکے میں حکمت عملی، لشکر کی ترتیب اور حساس مراکز پر اس کی تعیناتی، موزوں ترین مقام جنگ کے انتخاب اور جنگی پلاننگ وغیرہ میں آپ ﷺ سے کبھی کوئی چوک نہیں ہوئی۔ اور اسی لیے اس بنیاد پر آپ ﷺ کو کبھی کوئی زک نہیں اٹھانی پڑی۔ بلکہ ان تمام جنگی معاملات و مسائل کے سلسلے میں آپ ﷺ نے اپنے عملی اقدامات سے ثابت کر دیا کہ دنیا، بڑے بڑے کمانڈروں کے تعلق سے جس طرح کی قیادت کا علم رکھتی ہے، آپ ﷺ اس سے بہت کچھ مختلف ایک نرالی ہی قسم کی کمانڈرانہ صلاحیت کے مالک تھے۔ جس کے ساتھ شکست کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ اس موقع پر یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ اُحد اور حنین میں جو کچھ پیش آیا اس کا سبب رسول اللہ ﷺ کی کسی حکمتِ عملی کی خامی نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے حنین میں کچھ افرادِ لشکر کی بعض کمزوریاں کار فرما تھیں اور اُحد میں آپ ﷺ کی نہایت اہم حکمت عملی اور لازمی ہدایات کو نہایت فیصلہ کن لمحات میں نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
پھر ان دونوں غزوات میں جب مسلمانوں کو زک اٹھانے کی نوبت آئی تو آپ ﷺ نے جس عبقریت کا مظاہرہ فرمایا وہ اپنی مثال آپ ﷺ تھی۔ آپ دشمن کے مد مقابل ڈٹے رہے اور اپنی نادرۂ روزگار حکمت عملی سے اسے یا تو اس کے مقصد میں ناکام بنا دیا - جیسا کہ اُحد میں ہوا - یا جنگ کا پانسہ اس طرح پلٹ دیا کہ مسلمانوں کی شکست، فتح میں تبدیل ہو گئی - جیسا کہ حنین میں ہوا- حالانکہ اُحد جیسی خطرناک صورت حال اور حنین جیسی بے لگام بھگدڑ سپہ سالاروں کی قوتِ فیصلہ سلب کر لیتی ہے۔ اور ان کے اعصاب پر اتنا بدترین اثر ڈالتی ہے کہ انہیں بچاؤ کے علاوہ اور کوئی فکر نہیں رہ جاتی۔
یہ گفتگو تو ان غزوات کے خالص فوجی اور جنگی پہلو سے تھی۔ باقی رہے دوسرے گوشے تو وہ بھی بے حد اہم ہیں۔ آپ ﷺ نے ان غزوات کے ذریعے امن و امان قائم کیا۔ فتنے کی آگ بجھائی۔ اسلام و بُت پرستی کی کشمکش میں دشمن کی شوکت توڑ کر رکھ دی۔ اور انہیں اسلامی دعوت و تبلیغ کی راہ آزاد چھوڑنے اور مصالحت کر نے پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ان جنگوں کی بدولت یہ بھی معلوم کر لیا کہ آپ کا ساتھ دینے والوں میں سے کون سے لوگ مخلص ہیں اور کون سے لوگ منافق؟ جو نہاں خانہ دل میں غدر و خیانت کے جذبات چھپائے ہوئے ہیں۔
پھر آپ ﷺ نے محاذ آرائی کے عملی نمونوں کے ذریعے مسلمان کمانڈروں کی ایک زبردست جماعت بھی تیار کر دی، جنہوں نے آپ کے بعد عراق و شام کے میدانوں میں فارس و روم سے ٹکر لی۔ اور جنگی پلاننگ اور تکنیک میں ان کے بڑے بڑے کمانڈروں کو مات دے کر انہیں ان کے مکانات و سرزمین سے، اموال و باغات سے، چشموں اور کھیتوں سے، آرام دہ اور باعزت مقام سے اور مزے دار نعمتوں سے نکال باہر کیا۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ان غزوات کی بدولت مسلمانوں کے لیے رہائش، کھیتی، پیشے اور کام کا انتظام فرمایا۔ بے خانماں اور محتاج پناہ گزینوں کے مسائل حل فرمائے۔ ہتھیار، گھوڑے، ساز و سامان اور اخراجات جنگ مہیا کیے۔ اور یہ سب کچھ اللہ کے بندوں پر ذرہ برابر ظلم و زیادتی اور جور و جفا کیے بغیر حاصل کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آپ ﷺ نے ان اسباب و وجوہ اور اغراض و مقاصد کو بھی تبدیل کر ڈالا جن کے لیے دور جاہلیت میں جنگ کے شعلے بھڑکا کرتے تھے۔ یعنی دور جاہلیت میں جنگ نام تھی لوٹ مار اور قتل و غارت گری کا، ظلم و زیادتی اور انتقام و تشدد کا، کمزوروں کو کچلنے، آبادیاں ویران کرنے اور عمارتیں ڈھانے کا، عورتوں کی بے حرمتی کرنے اور بوڑھوں، بچوں اور بچیوں کے ساتھ سنگدلی سے پیش آنے کا، کھیتی باڑی اور جانوروں کو ہلاک کرنے اور زمین میں تباہی و فساد مچانے کا۔ مگر اسلام نے اس جنگ کی روح تبدیل کر کے اسے ایک مقدس جہاد میں بدل دیا۔ جسے نہایت موزوں اور معقول اسباب کے تحت شروع کیا جاتا ہے۔ اور اس کے ذریعے ایسے شریفانہ مقاصد اور بلند پایہ اغراض حاصل کیے جاتے ہیں جنہیں ہر زمانے اور ہر ملک میں انسانی معاشرہ کے لیے باعث اعزاز تسلیم کیا گیا ہے۔ کیونکہ اب جنگ کا مفہوم یہ ہو گیا کہ انسان کو قہر و ظلم کے نظام سے نکال کر عدل و انصاف کے نظام میں لانے کی مسلح جد و جہد کی جائے۔ یعنی ایک ایسے نظام کو جس میں طاقتور کمزور کو کھا رہا ہو، الٹ کر ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں طاقتور کمزور ہو جائے جب تک کہ اس سے کمزور کا حق نہ لیا جائے۔ اسی طرح اب جنگ کا معنی یہ ہو گیا کہ ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کو نجات دلائی جائے جو دعائیں کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں۔ اور ہمارے لیے اپنے پاس سے ولی بنا، اور اپنے پاس سے مدد گار بنا۔ نیز اس جنگ کا معنی یہ ہو گیا کہ اللہ کی زمین کو غدر و خیانت، ظلم و ستم اور بدی و گناہ سے پاک کر کے اس کی جگہ امن وامان، رافت و رحمت، حقوق رسانی اور مروت و انسانیت کا نظم بحال کیا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے جنگ کے لیے شریفانہ ضوابط بھی مقرر فرمائے اور اپنے فوجیوں اور کمانڈروں پر ان کی پابندی لازمی قرار دیتے ہوئے کسی حال میں ان سے باہر جانے کی اجازت نہ دی۔ حضرت سلیمان بن بریدہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کو کسی لشکر یا سَریہ کا امیر مقرر فرماتے تو اسے خاص اس کے اپنے نفس کے بارے اللہ عزوجل کے تقویٰ کی اور اس کے مسلمان ساتھیوں کے بارے میں خیر کی وصیت فرماتے۔ پھر فرماتے: اللہ کے نام سے اللہ کی راہ میں غزوہ کرو۔ جس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ان سے لڑائی کرو۔ غزوہ کرو، خیانت نہ کرو، بد عہدی نہ کرو، ناک کان وغیرہ نہ کاٹو، کسی بچے کو قتل نہ کرو۔ الخ
اسی طرح آپ ﷺ آسانی برتنے کا حکم دیتے اور فرماتے: ''آسانی کرو، سختی نہ کرو۔ لوگوں کو سکون دلاؤ، متنفر نہ کرو۔'' (صحیح مسلم ۲/۸۲، ۸۳، المعجم الصغیر للطبرانی ۱/۱۲۳، ۱۸۷) اور جب رات میں آپ ﷺ کسی قوم کے پاس پہنچتے تو صبح ہونے سے پہلے چھاپہ نہ مارتے۔ نیز آپ ﷺ نے کسی کو آگ میں جلانے سے نہایت سختی کے ساتھ منع کیا۔ اسی طرح باندھ کر قتل کرنے اور عورتوں کو مارنے اور انہیں قتل کرنے سے بھی منع کیا۔ اور لوٹ پاٹ سے روکا۔ حتیٰ کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوٹ کا مال مردار سے زیادہ حلال نہیں۔ اسی طرح آپ ﷺ نے کھیتی باڑی تباہ کرنے، جانور ہلاک کرنے اور درخت کاٹنے سے منع فرمایا، سوائے اس صورت کے کہ اس کی سخت ضرورت آن پڑے۔ اور درخت کاٹے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کسی زخمی پر حملہ نہ کرو۔ کسی بھاگنے والے کا پیچھا نہ کرو۔ اور کسی قیدی کو قتل نہ کرو۔ آپ ﷺ نے یہ سنت بھی جاری فرمائی کہ سفیر کو قتل نہ کیا جائے۔ نیز آپ ﷺ نے معاہدین (غیر مسلم شہریوں) کے قتل سے بھی نہایت سختی سے روکا۔ یہاں تک کہ فرمایا: جو شخص کسی معاہد کو قتل کرے گا وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا، حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کے فاصلے سے پائی جاتی ہے۔
یہ اور اس طرح کے دوسرے بلند پایہ قواعد و ضوابط تھے جن کی بدولت جنگ کا عمل جاہلیت کی گندگیوں سے پاک و صاف ہو کر مقدس جہاد میں تبدیل ہو گیا۔ (اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: زاد المعاد ۲/۶۴، ۶۸)
****​
 
Top