- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
غَزَوَات پر ایک نظر
نبی ﷺ کے غزوات، سرایا اور فوجی مہمات پر ایک نظر ڈالنے کے بعد کوئی بھی شخص جو جنگ کے ماحول، پس منظر و پیش منظر اور آثار و نتائج کا علم رکھتا ہو یہ اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ نبی ﷺ دُنیا کے سب سے بڑے اور باکمال فوجی کمانڈر تھے۔ آپ ﷺ کی سوجھ بوجھ سب سے زیادہ درست اور آپ ﷺ کی فراست اور بیدار مغزی سب سے زیادہ گہری تھی۔ آپ ﷺ جس طرح نبوت و رسالت کے اوصاف میں سیّد الرسل اور اعظم الانبیاء تھے، اسی طرح فوجی قیادت کے وصف میں بھی آپ یگانہ روزگار اور نادر عبقریت کے مالک تھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے جو بھی معرکہ آرائی کی اس کے لیے ایسے حالات و جہات کا انتخاب فرمایا جو حزم و تدبر اور حکمت و شجاعت کے عین مطابق تھے۔ کسی معرکے میں حکمت عملی، لشکر کی ترتیب اور حساس مراکز پر اس کی تعیناتی، موزوں ترین مقام جنگ کے انتخاب اور جنگی پلاننگ وغیرہ میں آپ ﷺ سے کبھی کوئی چوک نہیں ہوئی۔ اور اسی لیے اس بنیاد پر آپ ﷺ کو کبھی کوئی زک نہیں اٹھانی پڑی۔ بلکہ ان تمام جنگی معاملات و مسائل کے سلسلے میں آپ ﷺ نے اپنے عملی اقدامات سے ثابت کر دیا کہ دنیا، بڑے بڑے کمانڈروں کے تعلق سے جس طرح کی قیادت کا علم رکھتی ہے، آپ ﷺ اس سے بہت کچھ مختلف ایک نرالی ہی قسم کی کمانڈرانہ صلاحیت کے مالک تھے۔ جس کے ساتھ شکست کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ اس موقع پر یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ اُحد اور حنین میں جو کچھ پیش آیا اس کا سبب رسول اللہ ﷺ کی کسی حکمتِ عملی کی خامی نہ تھی بلکہ اس کے پیچھے حنین میں کچھ افرادِ لشکر کی بعض کمزوریاں کار فرما تھیں اور اُحد میں آپ ﷺ کی نہایت اہم حکمت عملی اور لازمی ہدایات کو نہایت فیصلہ کن لمحات میں نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
پھر ان دونوں غزوات میں جب مسلمانوں کو زک اٹھانے کی نوبت آئی تو آپ ﷺ نے جس عبقریت کا مظاہرہ فرمایا وہ اپنی مثال آپ ﷺ تھی۔ آپ دشمن کے مد مقابل ڈٹے رہے اور اپنی نادرۂ روزگار حکمت عملی سے اسے یا تو اس کے مقصد میں ناکام بنا دیا - جیسا کہ اُحد میں ہوا - یا جنگ کا پانسہ اس طرح پلٹ دیا کہ مسلمانوں کی شکست، فتح میں تبدیل ہو گئی - جیسا کہ حنین میں ہوا- حالانکہ اُحد جیسی خطرناک صورت حال اور حنین جیسی بے لگام بھگدڑ سپہ سالاروں کی قوتِ فیصلہ سلب کر لیتی ہے۔ اور ان کے اعصاب پر اتنا بدترین اثر ڈالتی ہے کہ انہیں بچاؤ کے علاوہ اور کوئی فکر نہیں رہ جاتی۔
یہ گفتگو تو ان غزوات کے خالص فوجی اور جنگی پہلو سے تھی۔ باقی رہے دوسرے گوشے تو وہ بھی بے حد اہم ہیں۔ آپ ﷺ نے ان غزوات کے ذریعے امن و امان قائم کیا۔ فتنے کی آگ بجھائی۔ اسلام و بُت پرستی کی کشمکش میں دشمن کی شوکت توڑ کر رکھ دی۔ اور انہیں اسلامی دعوت و تبلیغ کی راہ آزاد چھوڑنے اور مصالحت کر نے پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے ان جنگوں کی بدولت یہ بھی معلوم کر لیا کہ آپ کا ساتھ دینے والوں میں سے کون سے لوگ مخلص ہیں اور کون سے لوگ منافق؟ جو نہاں خانہ دل میں غدر و خیانت کے جذبات چھپائے ہوئے ہیں۔
پھر آپ ﷺ نے محاذ آرائی کے عملی نمونوں کے ذریعے مسلمان کمانڈروں کی ایک زبردست جماعت بھی تیار کر دی، جنہوں نے آپ کے بعد عراق و شام کے میدانوں میں فارس و روم سے ٹکر لی۔ اور جنگی پلاننگ اور تکنیک میں ان کے بڑے بڑے کمانڈروں کو مات دے کر انہیں ان کے مکانات و سرزمین سے، اموال و باغات سے، چشموں اور کھیتوں سے، آرام دہ اور باعزت مقام سے اور مزے دار نعمتوں سے نکال باہر کیا۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے ان غزوات کی بدولت مسلمانوں کے لیے رہائش، کھیتی، پیشے اور کام کا انتظام فرمایا۔ بے خانماں اور محتاج پناہ گزینوں کے مسائل حل فرمائے۔ ہتھیار، گھوڑے، ساز و سامان اور اخراجات جنگ مہیا کیے۔ اور یہ سب کچھ اللہ کے بندوں پر ذرہ برابر ظلم و زیادتی اور جور و جفا کیے بغیر حاصل کیا۔