اسی اعتراض کا جواب تو دیا گیا ہے ۔روح بن صلاح پر کی گئی جرح مبہم ہے جو توثیق کے مقابلے میں حجت نہیں ۔جس کی تفصیل اوپر دی گئی ہے ۔اب اس کا جواب دینے کے بجائے دوبارہ اعتراض نقل کرنے پر اظہار تاسف کے سوا کچھ کہنا ممکن نہیں
دیے ہوئے لنک پر آپ کے مکتبہ فکر کی تحقیق ہے، اور تحقیق کرنے کے بعد نیچے آپ کے ہی محقق نے تابوت میں کیل بھی ٹھوک دی ہے
ملاحظہ فرمائیں:
ہمارے نزدیک یہ حدیث ضعیف ہے۔ جلیل القدر محدثین کرام کے ہاں کسی عمل کی فضیلت کو ثابت کرنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے، کسی نیک کام کی ترغیب اور برے کام سے روکنے کے لیے، وعظ و نصیحت کے لیے اور واقعات کو بیان کرنے کے لیے ضعیف حدیث کو قبول کیا جاسکتا ہے اور اس پر عمل بھی کیا جاسکتا ہے۔
اس عمل کو سنت نہیں سمجھنا چاہیے، عمل کرتے وقت حدیث کے ثبوت کا اعتقاد نہ ہو بلکہ احتیاط کے طور پر عمل کیا جائے۔
ضعیف حدیث سے کوئی حکم شرعی ثابت نہیں ہوتا۔ اگر کسی روایت میں شدید ضعف نہ ہو اور اصول و کلیاتِ شرع کے خلاف نہ ہو تو مشروط طور پر فضائل میں ضعیف حدیث قبول کی جاسکتی ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
مفتی: محمد شبیر ق ادری