ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 833
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
فتح مکہ سے پہلے معاویہ رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا ثبوت
از قلم: کفایت اللہ سنابلی
امام بخاري رحمه الله (المتوفى256)نے کہا:
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ: «قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ»
”معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کاٹے تھے۔“ [صحيح البخاري1730]
صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ”مروہ“ کے پاس یہ بال کاٹے تھے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کی حالت میں تھے ۔[صحيح مسلم 1246]
.
حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852) فرماتے ہیں:
«قوله قصرت أي أخذت من شعر رأسه وهو يشعر بأن ذلك كان في نسك إما في حج أو عمرة وقد ثبت أنه حلق في حجته فتعين أن يكون في عمرة »
”معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کاٹے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حج یا عمرہ کا موقع تھا ، اور دوسری طرف یہ ثابت شدہ ہے کہ آپ نے حج میں حلق کیا تھا تو اس سے یہ بات متعین ہوجاتی ہے کہ یہ عمرہ کا واقعہ ہے“ [فتح الباري لابن حجر 3/ 565]
اب یہ دیکھتے ہیں کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کس ”عمرہ“ کا واقعہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حج کے علاوہ تین دفعہ عمرہ کا ثبوت ملتا ہے
➊ عمرہ حدیبیہ
➋ عمرہ جعرانہ
➌ عمرة القضاء في ذي القعدة
① ◈ جہاں تک ”عمرہ حدیبیہ“ کی بات ہے تو یہاں یہ مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں حلق کروایا تھا ، صحیح بخاری کے الفاظ ہیں:
«حلق رأسه» ”یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے(عمرہ حدیبیہ میں ) اپنا سر منڈوایا“ [صحيح البخاري 1812]
② ◈ رہی بات ”عمرہ جعرانہ“ کی تو یہ بھی یہاں مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ :
⋆ اولا: یہ عمرہ آپ نے رات میں کیا تھا اور اس کی خبر بعض مہاجرین کے علاوہ کسی کو نہیں ہوسکی تھی جیساکہ ترمذی کی روایت سے پتہ چلتا ہے دیکھیں [سنن الترمذي ت شاكر رقم 935 وصححه الألباني]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ولم يعد معاوية فيمن صحبه حينئذ“ ”اس وقت آپ کے ساتھ موجود لوگوں میں معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 3/ 566]
⋆ ثانیا: حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”ولا كان معاوية فيمن تخلف عنه بمكة في غزوة حنين حتى يقال لعله وجده بمكة بل كان مع القوم وأعطاه مثل ما أعطى أباه من الغنيمة“
”اور معاویہ رضی اللہ عنہ غزوہ حنین سے پیچھے رہ جانے والوں میں سے بھی نہیں تھے کہ یہ کہا جاسکے کہ مکہ میں انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرلی بلکہ یہ بھی مجاہدین کے ساتھ تھے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد کی طرح انہیں بھی مال غنیمت میں حصہ دیا تھا“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 3/ 566]
⋆ ثالثا: اس میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلق کروایا تھا ، جن لوگوں نے جعرانہ کا عمرہ مراد لیا ان پر حافظ ابن حجررحمہ اللہ رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«وفيه نظر لأنه جاء أنه حلق في الجعرانة»
”یہ بات محل نظر ہے کیونکہ روایت میں وارد ہے کہ عمرہ جعرانہ میں اپ نے حلق کروایا تھا“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 3/ 566]
③ ◈ باقی بچا ”عمرة القضاء في ذي القعدة“ تو یہ وہ عمرہ ہے جس میں معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کاٹے ۔
اور یہ عمرہ سن سات ہجری میں پیش آیا ہے [ فتح الباري 7/ 500]
اور فتح مکہ سن آٹھ ہجری کا واقع ہے ۔
اس سے ثابت ہوا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لاچکے تھے۔
رہی وہ روایات جن میں یہ ذکر ہے کہ فتح مکہ سے قبل معاویہ مسلمان نہ تھے تو وہ اس وجہ سے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ سے پہلے اپنے اسلام کا کھل کر اعلان نہیں کیا تھا۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ واقدی نے یہ بات درست بیان کی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے :
«ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة عام عمرة القضية وأنا مسلم مصدق به، وعلم أبو سفيان بإسلامي فقال لي يوما: لكن أخوك خير منك، فهو على ديني، قلت: لم آل نفسي خيرا. وقال: فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة عام الفتح فأظهرت إسلامي ولقيته فرحب بي وكتبت له»
”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرۃ القضاء کے سال مکہ تشریف لائے تو میں مسلمان ہوچکا تھا اور آپ کی تصدیق کرتاتھا ، (میرے والد) ابو سفیان کو میرے اسلام کے بارے میں علم ہوگیا تھا اسی لئے ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا کہ: تمہارا بھائی تم سے بہتر ہے وہ میرے دین پر ہے ، تو میں نے کہا: میں نے خود کو بھلائی پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ، پھر بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے تو میں نے اپنے اسلام کو ظاہر کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا خیر مقدم کیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے (وحی) لکھی ۔“ [الطبقات الكبرى 1/ 106]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں صحیح بخاری کی اس حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑے پراعتماد انداز میں اس بات کو درست قرار دیا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا بلکہ مختلف صحیح احادیث پیش کرتے ہوئے اور سب میں باہم تطبیق دیتے ہوئے اسی چیز کو ثابت کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
« وحصل التوفيق بين الأخبار كلها وهذا مما فتح الله علي به في هذا الفتح ولله الحمد ثم لله الحمد»
”اس طرح تمام روایات میں موافقت ہوجاتی ہے اور یہ وہ چیز ہے جسے اللہ نے اس کتاب میں مجھ پر کھول دیا ہے ، اس پر اللہ ہی کے لئے تعریف ہے ، ایک بار پھر اللہ ہی کے لئے تعریف ہے ۔“ [فتح الباري لابن حجر، ط المعرفة: 3/ 566]
● اور ”تقریب التھذیب“ جس میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تمام بحث ومطالعہ کا خلاصہ پیش کرتے ہیں اس میں بھی معاویہ رضی اللہ عنہ کو فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کرنے والا بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:
« معاوية بن أبي سفيان صخر بن حرب بن أمية الأموي أبو عبد الرحمن الخليفة صحابي أسلم قبل الفتح وكتب الوحي »
”معاویہ بن ابی سفیان صخر بن حرب بن امیہ الاموی ابو عبدالرحمن ، آپ خلیفہ اور صحابی ہیں ، فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے اور وحی کو لکھا“ [تقريب التهذيب لابن حجر: رقم 6758]
● امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے لکھتے ہیں:
« معاوية بن أبي سفيان...أسلم قبل أبيه في عمرة القضاء »
”معاویہ بن ابی سفیان ... آپ نے اپنے والد سے پہلے عمرۃ القضاء میں اسلام قبول کرلیا“ [تاريخ الإسلام ت بشار 2/ 540]
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام قبول کرچکے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنے اسلام کا کھل کر اعلان فتح مکہ کے دن کیا۔
Last edited: