ابن انور
رکن
- شمولیت
- نومبر 01، 2022
- پیغامات
- 20
- ری ایکشن اسکور
- 0
- پوائنٹ
- 35
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
فتنۂ یومِ وطنی و جشنِ آزادی: بدعتِ محدثہ کی تجلّیاتِ سرکشہ و مضمحل
فتنۂ یومِ وطنی و جشنِ آزادی: بدعتِ محدثہ کی تجلّیاتِ سرکشہ و مضمحل
الحمد للّٰہ ربّ العالمین، والصلاۃ والسلام علی من بعثہ اللّٰہ رحمتاً للعالمین، وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
أما بعد!
اہلِ فضل و دانش، اربابِ کمال و فرزانگی اور اصحابِ عرفان و آگاہی پر مثلِ ضیائے قمرِ بدر و ضحیٰ، یہ حقیقت اَجلیٰ و اَبلَغ طور پر منکشف و منصوص ہے کہ شریعتِ مطہرۂ محمدیہ، علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ و التسلیم، نے اربابِ ایمان و یقین کے لیے ایامِ مسرّتین و فرحتین کی تحدید و توقیت بہ نصوصِ قاطعات فرما دی ہے؛ اوّل یومِ سعیدِ عید الفطر اور ثانی یومِ مبارکِ عید الأضحی۔
ان دو ایامِ متبرکہ کے ماسویٰ کوئی یوم، خواہ وہ وقائعِ دہر و زمانہ کے عظیم الشان حوادث کا تذکار ہو یا شعائرِ قومی و وطنی کی جھوٹی جَلا اور مصنوعی رونق کا حامل ہو، اس کو بہ حیثیتِ عید منانا نہ صرف شرعاً غیر ثابت و غیر مستحسن ہے، بلکہ وہ بدعتِ محدثہ و منکرہ ہے، جس کے لیے نہ آیاتِ منزّلۃ میں صریح نص کا وجود ہے اور نہ آثارِ صحیحہ و روایاتِ جلیلہ میں اس کا ظلِ بعید یا شبحِ نحیف تک مکتشف ہوتا ہے۔
امام الانبیاء، حضرتِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم، بر ارضِ طیبۂ یثرب، اہلِ مدینہ کو دو ایّامِ لعب و طرب مسلّم و موروث از عہدِ جہالتِ اولیٰ میسّر تھے، جن میں وہ افعالِ لہو و لعب اور رسومِ باطلۂ اسلاف میں غرق و مشغول رہتے تھے۔ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے استفہامِ لطیف فرمایا:
"ما ہذانِ الیومانِ؟" یہ دو ایّامِ خوشی و تفریح کس نوع و ماہیت کے ہیں؟
انہوں نے بلسانِ اعتراف عرض گزاری: "ہٰذانِ یومانِ کنّا نلعبُ فیہما فی الجاہلیۃ" یہ وہی دو دن ہیں جن میں ہم عہدِ جاہلیت میں مشاغلِ لعب و سرور کیا کرتے تھے۔
پس شمسِ ہدایت، مبدیٔ رشد و سعادت صلی اللہ علیہ وسلم نے بآوازِ حق و حکمت ارشاد فرمایا:
"إنَّ اللّٰہَ قد أبدلکم بہما خیراً منہما: یومَ النحر و یومَ الفطر"
بے شک اللہ جلّت قدرتُہ و عمّت نعماؤہ نے تمہیں ان دونوں کے عوض ایسے ایّامِ سعید و مبارک عطا فرمائے ہیں، جو بہ مراتبِ کثیرہ افضل و اشرف و اطہر ہیں: یومِ نحر (عید الأضحی) و یومِ فطر (عید الفطر)۔
یوں شریعتِ غراء نے رسومِ باطلہ و اعیادِ جاہلیہ کا استیصال فرما کر، شعائرِ حقّہ و مواسمِ عبادت کی دو درخشندہ معارجِ طاعت امت کے دامنِ ایّام میں پیوست کر دیں، تا روزِ قیامت یادگارِ قُرب و بندگی رہیں۔
چنانچہ وہ اربابِ طبعِ غافل و اصحابِ ذوقِ مبدّل، جو تحتِ عنوانِ یومِ وطنی یا جشنِ آزادی، اعلامِ اوطان کو بتمامِ خشوع و انقیاد سلامِ تعظیمی بجا لاتے ہیں، نغماتِ حمیّتِ قومی و اناشیدِ وطنی کو بہ کمالِ کیف و انبساط بہ صدائے رسا بلند کرتے ہیں، آتشبازی و مشعل افروزی کے مظاہر سے سَماکِ فلک کو رنگ و نور میں غرقاب کرتے ہیں، اور اس یومِ موہوم کو بمنزلۂ عید، محلِّ سرور و انبساط، اور مَجمعِ لہو و لعب قرار دیتے ہیں، درحقیقت اس بدعتِ منکرہ و رسمِ محدثہ کے مرتکب و منہمک ہیں، جس کا نہ شرائعِ منزّلہ میں ادنیٰ ماخذ کا سراغ ملتا ہے، نہ آثار و روایاتِ صحاح میں اس کا شبحِ نحیف تک جلوہ گر ہے۔
یہ جملہ اعمال دراصل شاخسانۂ جاہلیتِ جدیدہ و مظاہرِ باطلۂ اقوامِ اعاجم ہیں، اور محض مشابہت و متابعتِ اغیار ہے، جو ان کے اوہامِ فاسدہ و خرافاتِ موہومہ پر مبنی و مستند ہے۔
اگر کوئی صاحبِ دعویٰ بہ صَوتِ احتجاج یہ عذرِ موہوم پیش کرے کہ اس ہیئتِ مجرمانہ و طرزِ محدثہ میں صرف اظہارِ مودّتِ ارضی و ترجمانِ حبِّ وطن مقصود و مطلوب ہے، تو جواباً بہ لسانِ حجّت و برہان کہا جائے گا کہ حبِّ وطنی انسان کو مَهاویٔ منکرات و مَزالقِ بدعات کی طرف مائل و منجذب کرے، تو ایسی محبت نہ مودّتِ محمودہ ہے اور نہ عاطفۂ مرضیہ، بلکہ وہ محبتِ مذمومہ و مودّتِ مردودہ ہے، جو قلب کو سبیلِ ہُدیٰ سے منحرف و بعید کر دیتی ہے۔
چنانچہ ارشادِ ربّانی ہے:
{قُلْ اِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوہَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَہَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَہَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ وَجِہَادٍ فِي سَبِيلِہِ فَتَرَبَّصُوا حَتّٰى يَأْتِيَ اللّٰہُ بِأَمْرِہِ} (التوبہ: 24)
یعنی فرما دیجئے کہ اگر تمہارے آباء و ابناء، اخوان و ازواج، عشیرت و اموال، و مساكن و منازل، تمہیں اللہ و رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہوں، تو انتظار کرو اُس فیصلۂ قہر و غضب کا جو عنقریب وارد ہونے والا ہے۔
پس مقتضائے حکمت و لوازمِ عقلِ سلیم یہ ہیں کہ اربابِ ملّتِ اسلامیہ ہر اس موہومۂ عید و تہوار سے، جس کو شارعِ حکیم و فطرت آفرین نے بہ نصوصِ قطعیہ و دلائلِ ساطعہ مشروع و مقرر نہ فرمایا ہو، بکلّی اظہارِ براءت و ترکِ مداخلت کریں، اور اپنے حرارتِ شوق و ولولۂ قلبی کو سانچۂ اطاعتِ سبحانی و قالبِ متابعتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ڈھال کر، اس کو شعائرِ ملّتِ حنیفیہ کے مشعل خانہ میں جاں بخش روشنی کی مانند فروزاں رکھیں۔
یہی طرز و شعار اصحابِ حقّ و اربابِ استقامت کا منصوص منہج ہے، یہی سلوکِ اہلِ حدیث و متّبعینِ آثارِ سلفِ صالحین کا معیاری طریق ہے، اور اسی جادۂ مستقیم میں دنیا و عقبٰی کی فوز و فلاح، عزّت و سرفرازی، اور نجاتِ اُخروی کا سربستہ راز مضمر و مستتر ہے۔
وصلَّی اللّٰہ علیہ سیّدنا محمد وآلہ وصحبہ أجمعین۔