محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,056
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
ہمارے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جس میں نماز فجر کے بعد سونے کی ممانعت ہو، لہذا سونا جائز ہے، منع نہیں ہے۔
البتہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول یہ تھا کہ جب وہ فجر کی نماز ادا کرلیتے تو اپنی جائے نماز پر بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا۔
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا:
أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا،كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ، أَوِ الْغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ (صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة: 670)
’’کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتے تھے؟ کہا: ہاں! بہت۔ آپ جس جگہ صبح یا دن کے ابتدائی حصے کی نماز ادا فرماتے، سورج طلوع ہونے تک وہاں سے نہ اٹھتے۔ جب سورج طلوع ہو جاتا تو اٹھ کھڑے ہوتے، لوگ دور جاہلیت میں کیے کاموں کے متعلق باتیں کرتے اور ہنستے تھے اور آپ بھی ان کی باتیں سن کرمسکراتے تھے۔‘‘
اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا، بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَار،ِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ. (سنن أبي داود، الجهاد: 2606) (صحیح)
”اے اﷲ! میری امت کے لیے ان کی صبحوں میں برکت ڈال دے۔“ ، چنانچہ آپ ﷺ کو کوئی مہم یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو انہیں دن کے پہلے پہر روانہ فرماتے۔ اور سیدنا صخر رضی اللہ عنہ ایک تاجر صحابی تھے، تو وہ اپنے کارندوں کو دن کے پہلے پہر روانہ کیا کرتے تھے، چنانچہ وہ مالدار ہو گئے تھے اور ان کا مال خوب بڑھ گیا تھا۔‘‘
’’حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو صبح کے وقت (فجر کے بعد) سونے سے منع کرتے تھے۔عروہ فرماتے ہیں: میں جب کسی آدمی کے بارے میں سنتا ہوں کہ وہ صبح کے وقت سوتا ہے تو میری نظر میں اس کی قدر کم ہو جاتی ہے۔‘‘
’’ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صہیب کے پاس آئے اور دیکھا کہ وہ صبح کے وقت سوئے ہوئے ہیں، تو وہ بیٹھ گئے یہاں تک کہ صہیب اپنی نینذ سے بیدار ہو گئے۔صہیب نے کہا: امیر المؤمنین بیٹھے ہوئے ہیں اور صہیب صبح کے وقت سو رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ تم ایسی نیند چھوڑ دو جو تمہیں راحت پہنچاتی ہو۔‘‘
والله أعلم بالصواب.
البتہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول یہ تھا کہ جب وہ فجر کی نماز ادا کرلیتے تو اپنی جائے نماز پر بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا۔
سماک بن حرب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا:
أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا،كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ، أَوِ الْغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ (صحيح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة: 670)
’’کیا آپ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مجالس میں شریک ہوتے تھے؟ کہا: ہاں! بہت۔ آپ جس جگہ صبح یا دن کے ابتدائی حصے کی نماز ادا فرماتے، سورج طلوع ہونے تک وہاں سے نہ اٹھتے۔ جب سورج طلوع ہو جاتا تو اٹھ کھڑے ہوتے، لوگ دور جاہلیت میں کیے کاموں کے متعلق باتیں کرتے اور ہنستے تھے اور آپ بھی ان کی باتیں سن کرمسکراتے تھے۔‘‘
- رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالی سے یہ دعا بھی کی ہے کہ اے اللہ! میری امت کے لیے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔
اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا، وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً أَوْ جَيْشًا، بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَار،ِ فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ. (سنن أبي داود، الجهاد: 2606) (صحیح)
”اے اﷲ! میری امت کے لیے ان کی صبحوں میں برکت ڈال دے۔“ ، چنانچہ آپ ﷺ کو کوئی مہم یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو انہیں دن کے پہلے پہر روانہ فرماتے۔ اور سیدنا صخر رضی اللہ عنہ ایک تاجر صحابی تھے، تو وہ اپنے کارندوں کو دن کے پہلے پہر روانہ کیا کرتے تھے، چنانچہ وہ مالدار ہو گئے تھے اور ان کا مال خوب بڑھ گیا تھا۔‘‘
- مذکورہ بالا احادیث مبارکہ کی وجہ سے ہی بعض سلف صالحین فجر کے بعد سونے کو ناپسند کرتے تھے۔
’’حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو صبح کے وقت (فجر کے بعد) سونے سے منع کرتے تھے۔عروہ فرماتے ہیں: میں جب کسی آدمی کے بارے میں سنتا ہوں کہ وہ صبح کے وقت سوتا ہے تو میری نظر میں اس کی قدر کم ہو جاتی ہے۔‘‘
- اس لیے بہتر یہ ہے کہ انسان فجر کے بعد کا وقت ایسے کاموں میں گزارے جو دنیا و آخرت میں اس کے لیے فائدہ مند ہوں۔البتہ اگر وہ اس وقت تھوڑی دیر سو نا چاہے تاکہ اپنے روزمرہ کے اعمال میں توانائی حاصل کر سکے، تو کوئی حرج نہیں، خاص طور پر اگر دن کے دیگر اوقات میں اسے آرام کرنا ممکن نہ ہو۔
’’ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ صہیب کے پاس آئے اور دیکھا کہ وہ صبح کے وقت سوئے ہوئے ہیں، تو وہ بیٹھ گئے یہاں تک کہ صہیب اپنی نینذ سے بیدار ہو گئے۔صہیب نے کہا: امیر المؤمنین بیٹھے ہوئے ہیں اور صہیب صبح کے وقت سو رہا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ تم ایسی نیند چھوڑ دو جو تمہیں راحت پہنچاتی ہو۔‘‘
والله أعلم بالصواب.