محدث میڈیا
مشہور رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,047
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 111
نمازوں کے اوقات
ارشاد باری تعالی ہے:
ظہر کا وقت سورج کے زوال سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کےقد کےبرابر ہو جائے (سوائے زوال کے سائے کے)۔
عصر کا وقت شروع ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائےاور سورج کے غروب ہونے تک رہتا ہے۔ عصر کے آخری وقت کے بارے میں منقول تمام احادیث کو اکٹھا کیا جائے تو یہ سمجھ آتا ہے کہ عصر کا پسندیدہ وقت تب تک رہتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے دوگناہ ہو جائے، اور سورج کے زرد ہونے تک نماز عصر پڑھنا جائز ہے، مجبوری اور عذر کی بنا پر نماز عصر سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے پڑھی جا سکتی ہے۔
مغرب کا وقت سورج کے مکمل طور پر غروب ہونے سے شروع ہوتا ہے اور آسمان سے سرخی کے غائب ہونے تک رہتا ہے۔
عشاء کا وقت سرخی کےمکمل طور پر غائب ہونے سے شروع ہوتا ہےاور آدھی رات تک رہتا ہے۔
فجر کا وقت فجر صادق سے شروع ہوتا ہے اور سورج کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ فجر صادق سے مراد آسمان پر وہ سفیدی ہے جو چوڑائی میں پھیلتی ہے اور پھیلتی جاتی ہے حتی کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے۔
سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَان (صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاۃ: 612)
’’ ظہر کا وقت (شروع ہوتا ہے) جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو (جانے تک)، جب تک عصر کا وقت نہیں ہو جاتا (رہتا ہے) اور عصر کا وقت (ہے) جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور مغر ب کا وقت (ہے) جب تک سرخی غائب نہ ہو جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک (ہے) جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔‘‘
اوقات نماز سے متعلقہ چند مسائل:
اگر انسان نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے ایک رکعت پالے تو گویا اس نے نماز کے وقت کو پالیا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَة (صحیح البخاري، مواقيت الصلاة: 580)
’’جس شخص نے نماز کی ایک رکعت پا لی اس نے پوری نماز کو پا لیا۔‘‘
جن اوقات میں نماز پڑھنا منع ہے وہ درج ذیل ہیں:
فجر کی نماز کے بعد حتی کہ سورج ایک نیزے کے برابر بلند ہوجائے۔
عصر کے بعد حتی کہ سورج غروب ہو جائے۔
جب سورج بالکل درمیان میں ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے سامنے چند پسندیدہ لوگوں نے جن میں سب سے زیادہ پسندیدہ حضرت عمر تھے، یہ بیان کیا کہ نبی ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح البخاري، مواقيت الصلاة: 581)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ تین ا وقات ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں: جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جاتا ہے حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لئے جھکتا ہے یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہو جائے۔ (صحیح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 831)
جو نمازیں مندرجہ بالا ممنوعہ اوقات میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
جمعہ کے دن دوپہر کو جب سورج بالکل درمیان میں ہو نوافل پڑھنے منع نہیں ہیں، بلکہ امام کے آنے سے پہلے پہلے جس قدر ہو سکے نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے۔
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
لاَ يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الجُمُعَةِ، وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ، وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ، أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَلاَ يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ، ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الإِمَامُ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجُمُعَةِ الأُخْرَى (صحیح البخاري، الجمعة: 883)
’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور جس قدر ممکن ہو صفائی کر کے تیل لگائے یا اپنے گھر کی خوشبو لگا کر نماز جمعہ کے لیےنکلے اور دو آدمیوں کے درمیان تفریق نہ کرے (جو مسجد میں بیٹھے ہوں) پھر جتنی نماز اس کی قسمت میں ہو ادا کرے اور جب امام خطبہ دینے لگے تو خاموش رہے، ایسے شخص کے وہ گناہ جو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ کے درمیان ہوئے ہوں سب بخش دیے جائیں گے۔‘‘
لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ وَيُصَلِّي أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ». قَالَ الْفَضْلُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا (سنن أبي داود، المناسك: 1894)
”کسی کو منع مت کرو جس وقت بھی کوئی اس گھر کا طواف کرنا چاہے اور نماز پڑھنا چاہے (تو پڑھنے دو۔) دن ہو یا رات، خواہ کوئی وقت ہو۔“ فضل بن یعقوب نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے (خطاب کرتے ہوئے فرمایا) ”اے بنی عبدمناف! کسی کو منع مت کرو۔“
مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان سویا رہ جائے یا بھول جائے تو جب بھی نیند سے بیدار ہو یا جب اسے یاد آئے فوراً نماز ادا کرے، اس حدیث میں نماز کے ممنوعہ اوقات کو مستثنی نہیں کیا گیا، ایسےہی اگر کسی عذر کی بنا پر سنتیں چھوٹ جائیں تو ان کی قضائی بھی دی جا سکتی ہے۔
سیدنا قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صبح کی نماز دو رکعتیں ہیں۔“ تو اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے پہلی دو سنتیں نہیں پڑھی تھیں، جو اب پڑھی ہیں۔ تب رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے۔ (سنن أبي داود، أبواب التطوع وركعات السنة: 1267)
علماء کا اجماع ہے کہ نماز جنازہ فجر اور عصر کے بعد پڑھایا جا سکتا ہے، لیکن بقیہ تین اوقات میں نماز جنازہ نہیں ادا کی جائے گی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین اوقات میں جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ تین ا وقات ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں: جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جاتا ہے حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لئے جھکتا ہے یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہو جائے۔ (صحیح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 831)
ایسی نماز جس کا کوئی سبب ہو، جیسے تحیۃ المسجد، وضو کی دو رکعتیں، سورج گرہن کی نماز وغیرہ، ان کے بارے میں بھی صحیح بات یہی ہے کہ انہیں ممنوعہ اوقات میں ادا کرناجائز ہے۔
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نماز فجر کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اے بلال! مجھے وہ عمل بتاؤ جو تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہو اور تمہارے ہاں وہ زیادہ امید والا ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔‘‘ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو میرے نزدیک زیادہ پرامید ہو، البتہ میں رات اور دن میں جب وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جو نماز میرے مقدر میں ہوتی ہے پڑھ لیتا ہوں۔ (صحیح البخاري، التهجد: 1149)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج اور چاند گرہن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاَة(صحیح البخاري، أبواب الكسوف: 1046)
’’یہ دونوں (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم انہیں بایں حالت دیکھو تو اللہ سے التجا کرتے ہوئے نماز کی طرف آ جاؤ۔‘‘
سورج او رچاند ممنوعہ اوقات کے وقت میں بھی گرہن ہو سکتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب بھی تم سورج یا چاند گرہن دیکھو فوری نماز پڑھو۔
مختصرا یہ کہ ممنوعہ اوقات میں مطلقا نوافل پڑھنا جن کا کوئی سبب نہ ہو منع ہیں (جیسے کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہوتو اس کے لیےان اوقات میں نوافل پڑھنا منع ہے) اور قصدا ان اوقات میں نماز پڑھنا منع ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا (النساء: 103)
’’بے شک نماز ایمان والوں پر ہمیشہ سے ایسا فرض ہے جس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے۔‘‘
’’بے شک نماز ایمان والوں پر ہمیشہ سے ایسا فرض ہے جس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے۔‘‘
ظہر کا وقت سورج کے زوال سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کےقد کےبرابر ہو جائے (سوائے زوال کے سائے کے)۔
عصر کا وقت شروع ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو جائےاور سورج کے غروب ہونے تک رہتا ہے۔ عصر کے آخری وقت کے بارے میں منقول تمام احادیث کو اکٹھا کیا جائے تو یہ سمجھ آتا ہے کہ عصر کا پسندیدہ وقت تب تک رہتا ہے جب ہر چیز کا سایہ اس کے قد کے دوگناہ ہو جائے، اور سورج کے زرد ہونے تک نماز عصر پڑھنا جائز ہے، مجبوری اور عذر کی بنا پر نماز عصر سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے پڑھی جا سکتی ہے۔
مغرب کا وقت سورج کے مکمل طور پر غروب ہونے سے شروع ہوتا ہے اور آسمان سے سرخی کے غائب ہونے تک رہتا ہے۔
عشاء کا وقت سرخی کےمکمل طور پر غائب ہونے سے شروع ہوتا ہےاور آدھی رات تک رہتا ہے۔
فجر کا وقت فجر صادق سے شروع ہوتا ہے اور سورج کے طلوع ہونے تک رہتا ہے۔ فجر صادق سے مراد آسمان پر وہ سفیدی ہے جو چوڑائی میں پھیلتی ہے اور پھیلتی جاتی ہے حتی کہ سورج طلوع ہو جاتا ہے۔
سیدناعبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَقْتُ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَكَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ كَطُولِهِ، مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَغِبِ الشَّفَقُ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ، وَوَقْتُ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعْ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَان (صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاۃ: 612)
’’ ظہر کا وقت (شروع ہوتا ہے) جب سورج ڈھل جائے اور آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہو (جانے تک)، جب تک عصر کا وقت نہیں ہو جاتا (رہتا ہے) اور عصر کا وقت (ہے) جب تک سورج زرد نہ ہو جائے اور مغر ب کا وقت (ہے) جب تک سرخی غائب نہ ہو جائے اور عشاء کی نماز کا وقت رات کے پہلے نصف تک ہے اور صبح کی نماز کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک (ہے) جب تک سورج طلوع نہیں ہوتا، جب سورج طلوع ہونے لگے تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے ۔‘‘
اوقات نماز سے متعلقہ چند مسائل:
اگر انسان نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے ایک رکعت پالے تو گویا اس نے نماز کے وقت کو پالیا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصَّلاَةِ، فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاَة (صحیح البخاري، مواقيت الصلاة: 580)
’’جس شخص نے نماز کی ایک رکعت پا لی اس نے پوری نماز کو پا لیا۔‘‘
جن اوقات میں نماز پڑھنا منع ہے وہ درج ذیل ہیں:
فجر کی نماز کے بعد حتی کہ سورج ایک نیزے کے برابر بلند ہوجائے۔
عصر کے بعد حتی کہ سورج غروب ہو جائے۔
جب سورج بالکل درمیان میں ہو۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے سامنے چند پسندیدہ لوگوں نے جن میں سب سے زیادہ پسندیدہ حضرت عمر تھے، یہ بیان کیا کہ نبی ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح البخاري، مواقيت الصلاة: 581)
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ تین ا وقات ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں: جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جاتا ہے حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لئے جھکتا ہے یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہو جائے۔ (صحیح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 831)
جو نمازیں مندرجہ بالا ممنوعہ اوقات میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
جمعہ کے دن دوپہر کو جب سورج بالکل درمیان میں ہو نوافل پڑھنے منع نہیں ہیں، بلکہ امام کے آنے سے پہلے پہلے جس قدر ہو سکے نوافل کا اہتمام کرنا چاہیے۔
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
لاَ يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الجُمُعَةِ، وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ، وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ، أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ، ثُمَّ يَخْرُجُ فَلاَ يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ، ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الإِمَامُ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الجُمُعَةِ الأُخْرَى (صحیح البخاري، الجمعة: 883)
’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور جس قدر ممکن ہو صفائی کر کے تیل لگائے یا اپنے گھر کی خوشبو لگا کر نماز جمعہ کے لیےنکلے اور دو آدمیوں کے درمیان تفریق نہ کرے (جو مسجد میں بیٹھے ہوں) پھر جتنی نماز اس کی قسمت میں ہو ادا کرے اور جب امام خطبہ دینے لگے تو خاموش رہے، ایسے شخص کے وہ گناہ جو اس جمعہ سے دوسرے جمعہ کے درمیان ہوئے ہوں سب بخش دیے جائیں گے۔‘‘
- طواف کی دو رکعتیں کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہیں۔
لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا يَطُوفُ بِهَذَا الْبَيْتِ وَيُصَلِّي أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ». قَالَ الْفَضْلُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا تَمْنَعُوا أَحَدًا (سنن أبي داود، المناسك: 1894)
”کسی کو منع مت کرو جس وقت بھی کوئی اس گھر کا طواف کرنا چاہے اور نماز پڑھنا چاہے (تو پڑھنے دو۔) دن ہو یا رات، خواہ کوئی وقت ہو۔“ فضل بن یعقوب نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے (خطاب کرتے ہوئے فرمایا) ”اے بنی عبدمناف! کسی کو منع مت کرو۔“
- فوت شدہ فرضی نمازوں اور سنن رواتب کی قضائی ممنوعہ اوقات میں دینا جائز ہے۔
مندرجہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان سویا رہ جائے یا بھول جائے تو جب بھی نیند سے بیدار ہو یا جب اسے یاد آئے فوراً نماز ادا کرے، اس حدیث میں نماز کے ممنوعہ اوقات کو مستثنی نہیں کیا گیا، ایسےہی اگر کسی عذر کی بنا پر سنتیں چھوٹ جائیں تو ان کی قضائی بھی دی جا سکتی ہے۔
سیدنا قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو فجر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ رہا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”صبح کی نماز دو رکعتیں ہیں۔“ تو اس شخص نے جواب دیا کہ میں نے پہلی دو سنتیں نہیں پڑھی تھیں، جو اب پڑھی ہیں۔ تب رسول اللہ ﷺ خاموش ہو گئے۔ (سنن أبي داود، أبواب التطوع وركعات السنة: 1267)
علماء کا اجماع ہے کہ نماز جنازہ فجر اور عصر کے بعد پڑھایا جا سکتا ہے، لیکن بقیہ تین اوقات میں نماز جنازہ نہیں ادا کی جائے گی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تین اوقات میں جنازہ پڑھنے سے منع کیا ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ تین ا وقات ہیں، رسول اللہ ﷺ ہمیں روکتے تھے کہ ہم ان میں نماز پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو قبروں میں اتاریں: جب سورج چمکتا ہوا طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے اور جب دوپہر کو ٹھہرنے والا (سایہ) ٹھہر جاتا ہے حتیٰ کہ سورج (آگے کو) جھک جائے اور جب سورج غروب ہونے کے لئے جھکتا ہے یہاں تک کہ وہ (پوری طرح) غروب ہو جائے۔ (صحیح مسلم، صلاة المسافرين وقصرها: 831)
ایسی نماز جس کا کوئی سبب ہو، جیسے تحیۃ المسجد، وضو کی دو رکعتیں، سورج گرہن کی نماز وغیرہ، ان کے بارے میں بھی صحیح بات یہی ہے کہ انہیں ممنوعہ اوقات میں ادا کرناجائز ہے۔
سيدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے نماز فجر کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’اے بلال! مجھے وہ عمل بتاؤ جو تم نے اسلام لانے کے بعد کیا ہو اور تمہارے ہاں وہ زیادہ امید والا ہو کیونکہ میں نے جنت میں اپنے آگے آگے تمہارے جوتوں کی آہٹ سنی ہے۔‘‘ حضرت بلال ؓ نے عرض کیا: میں نے کوئی عمل ایسا نہیں کیا جو میرے نزدیک زیادہ پرامید ہو، البتہ میں رات اور دن میں جب وضو کرتا ہوں تو اس وضو سے جو نماز میرے مقدر میں ہوتی ہے پڑھ لیتا ہوں۔ (صحیح البخاري، التهجد: 1149)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج اور چاند گرہن کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
هُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاَة(صحیح البخاري، أبواب الكسوف: 1046)
’’یہ دونوں (سورج اور چاند) اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ انہیں کسی کی موت و حیات کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم انہیں بایں حالت دیکھو تو اللہ سے التجا کرتے ہوئے نماز کی طرف آ جاؤ۔‘‘
سورج او رچاند ممنوعہ اوقات کے وقت میں بھی گرہن ہو سکتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ جب بھی تم سورج یا چاند گرہن دیکھو فوری نماز پڑھو۔
مختصرا یہ کہ ممنوعہ اوقات میں مطلقا نوافل پڑھنا جن کا کوئی سبب نہ ہو منع ہیں (جیسے کوئی شخص مسجد میں بیٹھا ہوتو اس کے لیےان اوقات میں نوافل پڑھنا منع ہے) اور قصدا ان اوقات میں نماز پڑھنا منع ہے۔