• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فرعون کی لاش کی دریافت اوراس کا محفوظ رہنا

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,383
ری ایکشن اسکور
17,081
پوائنٹ
1,033
فرعون کی لاش کی دریافت اوراس کا محفوظ رہنا


فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اورآپ کی قوم بنی اسرائیل پر بہت مظالم ڈھائے تھے۔ دراصل فرعون اس وقت کے بادشاہوں کا لقب تھا جو بھی بادشاہ بنتا اس کو فرعون کہا جاتاتھا۔ ڈاکٹر مورس بوکائیے کی تحقیق کے مطابق بنی اسرائیل پر ظلم وستم کرنے والے حکمران کا نام رعمسس دوم تھا۔ بائیبل کے بیا ن کے مطابق اس نے بنی اسرائیل سے بیگا رکے طور پر کئی شہر تعمیر کروائے تھے جن میں سے ایک کانام ''رعمسس ''رکھا گیا تھا۔ جدیدِ تحقیقات کے مطابق یہ تیونس اورقطر کے اس علاقے میں واقع تھا جو دریائے نیل کے مشرقی ڈیلٹے میں واقع ہے۔

رعمسس کی وفات کے بعد اس کا جانشین مرنفتاح مقر ر ہوا۔ اسی کے دورِ حکمرانی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بنی اسرائیل سمیت مصر چھوڑنے کا حکم دیا۔ چنانچہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ہمراہ لیے دریائے نیل پار کررہے تھے یہ بھی اپنے لشکر سمیت ان کا پیچھا کرتے ہوئے دریائے نیل میں اتر پڑا مگر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دریا پار کروانے کے بعد دریا کے پانی کو چلا دیا اورفرعون کو اس کے لشکرسمیت ڈبوکر ہلاک کردیا (1)۔ اس سارے واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے درجِ ذیل آیات میں بیان کیا ہے:
(وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْ اِسْرَآئِیْل الْبَحْرَ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُہ بَغْیًا وَّعَدْوًا ط حَتّٰی اِذَآاَدْرَکَہُ الْغَرَقُ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہ بَنُوآ اِسْرِآئِیْلَ وَاَنا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ اٰلْئٰنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَةً ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ)
''اورہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے۔ پھر فرعون اوراس کے لشکر ظلم اورزیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے۔ حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا ''میں نے مان لیا کہ خداوندِحقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی سرِاطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں''(جواب دیا گیا) ''اب ایمان لاتا ہے !حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اورفساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان ِ عبرت بنے، اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں ''(2)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ ہم فرعون کی لاش کو محفوظ رکھیں گے تاکہ بعدمیں آنے والے لوگوں کے لیے وہ باعث عبرت ہو۔ اپنے آپ کو خداکہلوانے والے کی لاش کو دیکھ کر آنے والی نسلیں سبق حاصل کریں۔ چنانچہ اللہ کا فرمان سچ ثابت ہوا اور اس کا ممی شدہ جسم 1898ء میں دریائے نیل کے قریب تبسیہ کے مقام پر شاہوں کی وادی سے اوریت نے دریافت کیا تھا۔جہاں سے اس کو قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔ ایلیٹ اسمتھ نے 8جولائی 1907ء کو ا س کے جسم سے غلافوں کو اتارا، تو اس کی لاش پر نمک کی ایک تہہ جمی پائی گئی تھی جو کھاری پانی میں اس کی غرقابی کی ایک کھلی علامت تھی ۔ اس نے اس عمل کا تفصیلی تذکرہ اورجسم کے جائزے کا حال اپنی کتاب ''شاہی ممیاں ''(1912ء) میں درج کیا ہے۔اس وقت یہ ممی محفوظ رکھنے کے لیے تسلی بخش حالت میں تھی حالانکہ ا س کے کئی حصے شکستہ ہوگئے تھے۔ اس وقت سے ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں سیاحو ں کے لیے سجی ہوئی ہے۔ اس کا سر اورگردن کھلے ہوئے ہیں اورباقی جسم کو ایک کپڑے میں چھپاکرر کھا ہواہے۔ محمد احمد عدوی ''دعوة الرسل الی اللہ'' میں لکھتے ہیں کہ اس نعش کی ناک کے سامنے کا حصہ ندارد ہے جیسے کسی حیوان نے کھا لیا ہو ،غالباً سمندری مچھلی نے اس پر منہ مارا تھا، پھر اس کی لاش اُلوہی فیصلے کے مطابق کنارے پر پھینک دی گئی تاکہ دنیا کے لیے عبرت ہو۔
[video=youtube;0GWBcmB_WNs]http://www.youtube.com/watch?v=0GWBcmB_WNs&feature=player_embedded[/video]
جون1975ء میں ڈاکٹر مورس بوکائیے نے مصری حکمرانوں کی اجازت سے فرعون کے جسم کے ان حصوں کا جائزہ لیا جو اس وقت تک ڈھکے ہوئے تھے اور ان کی تصاویر اتاریں۔ پھر ایک اعلیٰ درجہ کی شعاعی مصوری کے ذریعے ڈاکٹر ایل میلجی اورراعمسس نے ممی کا مطالعہ کیا اورڈاکٹر مصطفی منیالوی نے صدری جدارکے ایک رخنہ سے سینہ کے اندرونی حصوں کاجائزہ لیا۔ علاوہ ازیں جوف شکم پر تحقیقات کی گئیں۔ یہ اندرونی جائزہ کی پہلی مثال تھی جو کسی ممی کے سلسلے میں ہوا۔اس ترکیب سے جسم کے بعض اندرونی حصوں کی اہم تفصیلات معلوم ہوئیں اور ان کی تصاویر بھی اتاری گئیں۔ پروفیسر سیکالدی نے پروفیسر مگنواورڈاکٹر دوریگون کے ہمراہ ان چند چھوٹے چھوٹے اجزا کاخوردبینی مطالعہ کیا جوممی سے خود بخود جد اہوگئے تھے۔ (3)
ان تحقیقات سے حاصل ہونے والے نتائج نے ان مفروضوں کو تقویت بخشی جو فرعون کی لاش کے محفوظ رہنے کے متعلق قائم کیے گئے تھے۔ ان تحقیقات کے نتائج کے مطابق فرعون کی لاش زیادہ عرصہ پانی میں نہیں رہی تھی اگر فرعون کی لاش کچھ اورمدت تک پانی میں ڈوبی رہتی تو اس کی حالت خراب ہوسکتی تھی(4) ،حتیٰ کہ اگر پانی کے باہر بھی غیر حنوط شدہ حالت میں ایک لمبے عرصے تک پڑی رہتی تو پھر بھی یہ محفوظ نہ رہتی۔علاوہ ازیں ان معلومات کے حصول کے لیے بھی کوششیں جاری رکھی گئیں کہ اس لا ش کی موت کیا پانی میں ڈوبنے سے ہوئی یا کوئی اور وجوہات بھی تھیں؟چنانچہ مزید تحقیقات کے لیے ممی کو پیرس لے جایا گیا اور وہاں Legal Identification Laboratory کے مینیجر Ceccaldiاور Dr. Durigon نے مشاہد ات کے بعد بتایا کہ : اس لا ش کی فوری موت کا سبب وہ شدید چوٹ تھی جو اس کی کھوپڑی (دماغ)کے سامنے والے حصے کو پہنچی کیونکہ اس کی کھوپڑی کے محراب والے حصے میں کافی خلا موجودہے۔اور یہ تما م تحقیقات آسمانی کتابوں میں بیان کردہ فرعون کے (ڈوب کرمرنے کے) واقعہ کی تصدیق کرتی ہیں کہ جس میں بتایا گیا ہے کہ فرعون کو دریا کی موجوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔(5)
[video=youtube;lPaY5tRWFuw]http://www.youtube.com/watch?v=lPaY5tRWFuw&feature=player_embedded[/video]
جیساکہ ان نتائج سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کی لاش کو محفوظ رکھنے کا خا ص اہتمام کیا تھا جس کی وجہ سے یہ ہزاروں سال تک زمانے کے اثرات سے محفوظ رہی اورآخرکار اس کو انیسویں صدی میں دریافت کیاگیا اورانشاء اللہ یہ قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے سامان عبرت رہے گی۔مزیدبرآں اللہ تعالیٰ کایہ فرمان کہ'' ہم فرعون کی لاش کوسامانِ عبرت کے لیے محفوظ کرلیں گے'' صرف قرآن مجید میں موجود ہے، اس سے پہلے کسی دوسری آسمانی کتاب میں اس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے معلومات لے کر اس کو قرآن میں لکھ دیتے (نعوذباللہ ) ،جیساکہ یہودیوں اور عیسائیوں کا پیغمبر ِاسلام کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈاہے۔چنانچہ یہ قرآن مجید کے سچا اور منجانب اللہ ہونے کا ایک اور لاریب ثبوت ہے جس کو جھٹلانا کسی کے بس میں نہیں ہے۔


موٴلف ۔ طارق اقبال سوہدروی ۔ جدہ ۔ سعودی عرب
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,340
پوائنٹ
800
(وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْ اِسْرَآئِیْل الْبَحْرَ فَاَتْبَعَھُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُہ بَغْیًا وَّعَدْوًا ط حَتّٰی اِذَآاَدْرَکَہُ الْغَرَقُ لا قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہ بَنُوآ اِسْرِآئِیْلَ وَاَنا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ۔ اٰلْئٰنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ۔ فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَةً ط وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ)
''اورہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے۔ پھر فرعون اوراس کے لشکر ظلم اورزیادتی کی غرض سے ان کے پیچھے چلے۔ حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا ''میں نے مان لیا کہ خداوندِحقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں بھی سرِاطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں''(جواب دیا گیا) ''اب ایمان لاتا ہے !حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اورفساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔ اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان ِ عبرت بنے، اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں ''
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک پیشین گوئی فرمائی ہے کہ ہم فرعون کی لاش کو محفوظ رکھیں گے تاکہ بعدمیں آنے والے لوگوں کے لیے وہ باعث عبرت ہو۔ اپنے آپ کو خداکہلوانے والے کی لاش کو دیکھ کر آنے والی نسلیں سبق حاصل کریں۔
سوال یہ ہے کہ اس بات کی ٹھوس اور حتمی دلیل کیا ہے کہ یہ واقعی ہی فرعونِ موسیٰ کی لاش ہے؟
  • اگر اس کی بنیاد سائنسی تحقیقات ہیں تو ہمیں قرآن کی آیات سے انہیں تقویت نہیں پہنچانی چاہئے، کیونکہ یہ تحقیقات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن قرآن پاک لازوال سچائی ہے جو کبھی نہیں بدل سکتی؟ آج ان لوگوں کے کہنے پر اگر اس ممی کو فرعون کی ممی خیال کر لیتے ہیں، اور اس سے قرآن کریم کی حقانیت ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں تو اگر کسی محقق نے آئندہ یہ کہا کہ یہ اس فرعون کی نہیں بلکہ کسی اور ممی ہے تو کیا نعوذ باللہ قرآن پاک جھوٹا ثابت ہوجائے گا؟؟
  • اگر اس کی بنیاد قرآن کریم کی کوئی آیت ہے تو وہ کونسی آیت ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ممی واقعی ہی منفتاح نامی فرعون (فرعون موسیٰ) کی ہے؟؟
  • اگر ہم صرف اس آيت كريمہ ﴿ فاليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خفك آية ﴾ کی بناء پر اس ممی کو وہ فرعون تسلیم کرلیں تو یہ بات صحیح نہیں کیونکہ تو اس آیت کا سادہ کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’ہم آج تیرے بدن کو نجات دیں گے تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والوں کیلئے عبرت بن جائے۔‘‘ تو گویا اس آیت کریمہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’آج کے دن‘ ہم تیرے بدن کو محفوظ رکھیں گے، یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ فرعون کی لاش قیامت تک محفوظ رہے گی؟
  • ﴿ لتكون لمن خلفك ءاية ﴾ کہ ’’تاکہ تو اپنے بعد والوں کیلئے عبرت بن جائے۔‘‘ کا تعلّق ضروری نہیں کہ فرعون کی لاش کو محفوظ کرنے سے ہی ہو۔ کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس وقت نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام اور قریش مکہ کے سامنے فرعون کی لاش نہ تھی اور نہ ہی انیسویں صدی سے پہلے فرعون کی نام نہاد مزعومہ لاش برآمد ہوئی تھی تو ان چودہ صدیوں میں کبھی کسی نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا کہ فرعون کی لاش تو ہمارے سامنے محفوظ نہیں، پھر وہ ہمارے لئے عبرت کیسے ہے؟؟؟
  • اگر عبرت کیلئے کسی کا وجود سامنے ہونا ضروری ہوتا تو جب اصحابِ سبت کو بندوں (اور سوروں) میں تبدیل کیا گیا اور انہیں تمام رہتی دُنیا کیلئے عبرت بنا دیا گیا: ﴿فجعلناها نكالا لما بين يديها وما خلفها وموعظة للمتقين﴾ تو پھر ان بندروں اور سوروں کو بھی قیامت تک کیلئے باقی رہنا چاہئے تھا حالانکہ انہیں تو تین دن کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔
لہٰذا میری ناقص رائے میں یہ ممی فرعونِ موسیٰ کی ہے یا نہیں؟ اسے سائنسی تحقیقات کی حد تک ہی رہنے دینا چاہئے، نہ کہ اسے قرآن کریم سے ثابت شدہ ایک قطعی نص تسلیم کرنا چاہئے، واللہ تعالیٰ اعلم!
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,957
ری ایکشن اسکور
9,813
پوائنٹ
722
سوال یہ ہے کہ اس بات کی ٹھوس اور حتمی دلیل کیا ہے کہ یہ واقعی ہی فرعونِ موسیٰ کی لاش ہے؟
  • اگر اس کی بنیاد سائنسی تحقیقات ہیں تو ہمیں قرآن کی آیات سے انہیں تقویت نہیں پہنچانی چاہئے، کیونکہ یہ تحقیقات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن قرآن پاک لازوال سچائی ہے جو کبھی نہیں بدل سکتی؟ آج ان لوگوں کے کہنے پر اگر اس ممی کو فرعون کی ممی خیال کر لیتے ہیں، اور اس سے قرآن کریم کی حقانیت ثابت کرنا شروع کر دیتے ہیں تو اگر کسی محقق نے آئندہ یہ کہا کہ یہ اس فرعون کی نہیں بلکہ کسی اور ممی ہے تو کیا نعوذ باللہ قرآن پاک جھوٹا ثابت ہوجائے گا؟؟
  • اگر اس کی بنیاد قرآن کریم کی کوئی آیت ہے تو وہ کونسی آیت ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ممی واقعی ہی منفتاح نامی فرعون (فرعون موسیٰ) کی ہے؟؟
  • اگر ہم صرف اس آيت كريمہ ﴿ فاليوم ننجيك ببدنك لتكون لمن خفك آية ﴾ کی بناء پر اس ممی کو وہ فرعون تسلیم کرلیں تو یہ بات صحیح نہیں کیونکہ تو اس آیت کا سادہ کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’ہم آج تیرے بدن کو نجات دیں گے تاکہ تو اپنے بعد میں آنے والوں کیلئے عبرت بن جائے۔‘‘ تو گویا اس آیت کریمہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ’آج کے دن‘ ہم تیرے بدن کو محفوظ رکھیں گے، یہ کہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ فرعون کی لاش قیامت تک محفوظ رہے گی؟
  • ﴿ لتكون لمن خلفك ءاية ﴾ کہ ’’تاکہ تو اپنے بعد والوں کیلئے عبرت بن جائے۔‘‘ کا تعلّق ضروری نہیں کہ فرعون کی لاش کو محفوظ کرنے سے ہی ہو۔ کیونکہ یہ بات تو واضح ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو اس وقت نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام اور قریش مکہ کے سامنے فرعون کی لاش نہ تھی اور نہ ہی انیسویں صدی سے پہلے فرعون کی نام نہاد مزعومہ لاش برآمد ہوئی تھی تو ان چودہ صدیوں میں کبھی کسی نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا کہ فرعون کی لاش تو ہمارے سامنے محفوظ نہیں، پھر وہ ہمارے لئے عبرت کیسے ہے؟؟؟
  • اگر عبرت کیلئے کسی کا وجود سامنے ہونا ضروری ہوتا تو جب اصحابِ سبت کو بندوں (اور سوروں) میں تبدیل کیا گیا اور انہیں تمام رہتی دُنیا کیلئے عبرت بنا دیا گیا: ﴿فجعلناها نكالا لما بين يديها وما خلفها وموعظة للمتقين﴾ تو پھر ان بندروں اور سوروں کو بھی قیامت تک کیلئے باقی رہنا چاہئے تھا حالانکہ انہیں تو تین دن کے بعد ختم کر دیا گیا تھا۔
لہٰذا میری ناقص رائے میں یہ ممی فرعونِ موسیٰ کی ہے یا نہیں؟ اسے سائنسی تحقیقات کی حد تک ہی رہنے دینا چاہئے، نہ کہ اسے قرآن کریم سے ثابت شدہ ایک قطعی نص تسلیم کرنا چاہئے، واللہ تعالیٰ اعلم!
جزاک اللہ خیرا انس نضر بھائی۔
آپ نے وہی بات کہی ہے جسے میں ایک عرصہ سے کہتے آرہا ہوں ،میں نے اپنے کئی بیان میں لوگوں سے کہا ہے کہ ہم جو دنیا والوں کو یہ بتا رہے کہ ہمارے قران میں ہے کہ اللہ نے قیامت تک فرعون کے لاش کی حفاظت کی ذمہ داری لی ہے ، اب اگر کسی لڑائی میں فرعون کی لاش تباہ ہوجائے تو کیا ہمارا قران جھوٹا ثابت نہیں ہوجائے گا۔
نیز یہ کہ بعض لوگوں کے بقول مصر میں فرعون کے ساتھ اس کے ہم عصر دیگرلوگوں کی لاشیں بھی موجود ہیں تو ان کی حفاظت کس نے کی ہے ؟؟؟ انسانوں نے ؟؟؟

لطیفہ:
کچھ عرصہ قبل انڈیا کے ایک نیوز چینل پر یہ خبر نشر ہوئی مصر میں موجود فرعون نامی لاش پر تحقیق کی گئی اور اس کی موت کا پتہ لگایا گیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اس کی موت پانی میں ڈوبنے کے سبب نہیں ہوئی ہے بلکہ کسی اور سبب سے ہوئی ہے !!!
یہ خبر دیکھ کر کچھ نوجوان میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ قران میں تو ہے کہ فرعون پانی میں ڈوب کر مرا اور سائنس دانوں کی یہ تحقیق سامنے آرہی ہے کہ اس کی موت پانی میں ڈوبنے کے سبب ہوئی ہی نہیں؟؟؟ اس کا کیا جواب ہے؟؟؟
ہم نے کہا اس کاجواب جاکر ان دانشوروں سے وصول کرو جو مصر میں موجود ایک مجہول لاش کو فرعون کی لاش باور کرتے ہیں ، ہم اسے فرعون کی لاش مانتے ہی نہیں ، لہٰذا ہمیں اس کا جواب دینے کی کوئی ضرورت نہیں !!!
 
شمولیت
جولائی 03، 2012
پیغامات
97
ری ایکشن اسکور
94
پوائنٹ
47
tafseer ibne kasir 10/92
تفسیر ابن كثیر
دریائے نیل، فرعون اور قوم بنی اسرائیل
فرعون اور اس کے لشکریوں کے غرق ہو نے کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ بنی اسرائل جب اپنے نبی کے ساتھ چھ لاکھ کی تعداد میں جو بال بچوں کے علاوہ تھی۔ مصر سے نکل کھڑے ہوئے اور فرعون کو یہ خبر پہنچی تو اس نے بڑا ہی تاؤ کھایا اور زبردست لشکر جمع کر کے اپنے تمام لوگوں کو لے کر ان کے پیچھے لگا۔ اس نے تمام لاؤ لشکر کو تمام سرداروں، فوجوں، رشتے کنبے کے تمام لوگوں اور کل ارکان سلطنت کو اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ اپنے پورے ملک میں کسی صاحب حیثیت شخص کو باقی نہیں چھوڑا تھا۔ بنی اسرائیل جس راہ گئے تھے اسی راہ یہ بھی بہت تیزی سے جا رہا تھا۔ ٹھیک سورج چڑھے ، اس نے انہیں اور انہوں نے اسے دیکھ لیا۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے لو اب پکڑ لئے گئے کیونکہ سامنے دریا تھا اور پیچھے لشکر فرعون نہ آگے بڑھ سکتے تھے نہ پیچھے ہٹ سکتے تھے۔ آگے بڑھتے تو ڈوب جاتے پیچھے ہٹے تو قتل ہوتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسکین دی اور فرمایا میں اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے تمہیں لے جا رہا ہوں۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ مجھے کوئی نہ کوئی نجات کی راہ بتلا دے گا۔ تم بےفکر رہو۔ وہ سختی کو آسانی سے تنگی کو فراخی سے بدلنے پر قادر ہے۔ اسی وقت وحی ربانی آئی کہ اپنی لکڑی دریا پر مار دے۔ آپ نے یہی کیا۔ اس وقت پانی پھٹ گیا، راستے دے دئیے اور پہاڑوں کی طرح پانی کھڑا ہو گیا۔ ان کے بارہ قبیلے تھے بارہ راستے دریا میں بن گئے۔ تیز اور سوکھی ہوائیں چل پڑیں جس نے راستے خشک کر دیئے اب نہ تو فرعونیوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہو نے کا کھٹکا رہا نہ پانی میں ڈوب جانے کا۔ ساتھ ہی قدرت نے پانی کی دیواروں میں طاق اور سوراخ بنا دیئے کہ ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کو بھی دیکھ سکے۔ تاکہ دل میں یہ خدشہ بھی نہ رہے کہ کہیں وہ ڈوب نہ گیا ہو۔ بنو اسرائیل ان راستوں سے جانے لگے اور دریا پار اتر گئے۔ انہیں پار ہوتے ہوئے فرعونی دیکھ رہے تھے۔ جب یہ سب کے سب اس کنارے پہنچ گئے اب لشکر فرعون بڑھا اور سب کے سب دریا میں اتر گئے ان کی تعداد کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس ایک لاکھ گھوڑے تو صرف سیاہ رنگ کے تھے جو باقی رنگ کے تھے ان کی تعداد کا خیال کر لیجئے۔ فرعون بڑا کائیاں تھا۔ دل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صداقت جانتا تھا ۔ اسے یہ رنگ دیکھ کر یقین ہو چکا تھا کہ یہ بھی بنی اسرائیل کی غیبی تائید ہوئی ہے وہ چاہتا تھا کہ یہاں سے واپس لوٹ جائے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا قبول ہو چکی تھی۔ قدرت کا قلم چل چکا تھا۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام گھوڑے پر سوار آگئے۔ ان کے جانور کے پیچھے فرعون کا گھوڑا لگ گیا۔ آپ نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ فرعون کا گھوڑا اسے گھسیٹتا ہوا دریا میں اتر گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو آواز لگائی کہ بنی اسرائیل گزر گئے اور تم یہاں ٹھیر گئے۔ چلو ان کے پیچھے اپنے گھوڑے بھی میری طرح دریا میں ڈال دو۔ اسی وقت ساتھیوں نے بھی اپنے گھوڑوں کو مہمیز کیا۔ حضرت میکائیل علیہ السلام ان کے پیچھے تھا کیونکہ ان کے جانوروں کو ہنکائیں غرض بغیر ایک کے بھی باقی رہے سب دریا میں اتر گئے۔ جب یہ سب اندر پہنچ گئے اور ان کا سب سے آگے کا حصہ دوسرے کنارے کے قریب پہنچ چکا، اسی وقت جناب باری قادر و قیوم کا دریا کو حکم ہوا اب مل جا اور ان کو ڈبو دے۔ پانی کے پتھر بنے ہوئے پہاڑ فوراً پانی ہوگئے اور اسی وقت یہ سب غوطے کھانے لگے اور فوراً ڈوب گئے ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا ۔ پانی کی موجوں نے انہیں اوپر تلے کر کرکے ان کے جوڑ جوڑ الگ الگ کردئیے۔ فرعون جب موجوں میں پھنس گیا اور سکرات موت کا اسے مزہ آنے لگا تو کہنے لگا کہ میں لاشریک رب واحد پر ایمان لاتا ہوں۔ جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عذاب کے دیکھ چکنے کے بعد عذاب کے آجانے کے بعد ایمان سود مند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالٰی اس بات کو فرما چکا ہے اور یہ قاعدہ جاری کر چکا ہے۔ اسی لیے فرعون کو جواب ملا کہ اس وقت یہ کہتا ہے حالانکہ اب تک شر وفساد پر تلا رہا۔ پوری عمر اللہ کی نافرمانیاں کرتا رہا۔ ملک میں فساد مچاتا رہا۔ خود گمراہ ہو کر اوروں کو بھی راہ حق سے روکتا رہا۔ لوگوں کو جہنم کی طرف بلانے کا امام تھا۔ قیامت کے دن بےیارومددگار رہے گا۔ فرعون کا اس وقت کا قول اللہ تعالٰی علام الغیوب نے اپنے علم غیب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس واقعے کی خبر دیتے وقت جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ کاش آپ اس وقت ہوتے اور دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں کیچڑ ٹھونس رہا تھا اس خیال سے کہ کہیں اس کی بات پوری ہو نے پر اللہ کی رحمت اس کی دست گیری نہ کرلے۔(tirmiji kitabuttafseer )
ابن عباس فرماتے ہیں ڈوبتے وقت فرعون نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر اپنے ایمان کا اقرار کرنا شروع کیا جس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اس کے منہ میں مٹی بھرنی شروع کی۔ اس فرعون کثیر بن زاذان ملعون کا منہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس وقت بند کر رہے تھے اور اس کے منہ کیچڑ ٹھونس رہے تھے واللہ اعلم۔(الطبری 192/15)

کہتے ہیں کہ بعض بنی اسرائیل کو فرعون کی موت میں شک پیدا ہو گیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالٰی نے دریا کو حکم دیا کہ اس کی لاش بلند ٹیلے پر خشکی میں ڈال دے تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں اور ان کا معائنہ کرلیں۔ چنانچہ اس کا جسم معہ اس کے لباس کے خشکی پر ڈال دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کو معلوم ہو جائے اور ان کے لیے نشانی اور عبرت بن جائے اور وہ جان لیں کہ غضب الٰہی کو کوئی چیز دفع نہیں کر سکتی۔ باوجود ان کھلے واقعات کے بھی اکثر لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں۔ کچھ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ ان فرعونیوں کا غرق ہونا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مع مسلمانوں کے نجات پانا عاشورے کے دن ہوا تھا۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینے میں آئے تو یہودیوں کو اس دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا ۔ وہ کہتے تھے کہ اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون پر غالب آئے تھے۔ آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ تم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بہ نسبت ان کے زیادہ حقدار ہو تم بھی اس عاشورے کے دن کا روزہ رکھو۔
mujhe bhi aysa lagta hai ki ye bani israil ke liye hi hai WALLAHUALAM
 
Top