• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ایمن بن سعود بن عبدالعزیز العنقری حفظہ اللہ کا مختصر تعارف

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
855
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ایمن بن سعود بن عبدالعزیز العنقری حفظہ اللہ کا مختصر تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر ایمن بن سعود بن عبدالعزیز العنقری حفظہ اللہ اور ان کا خاندان نجد کے ایک معروف اور معزز خانوادے سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے پردادا، ابراہیم العنقری، نجد کے ایک شہر کے گورنر تھے اور مبارک سلفی دعوت کے مددگاروں میں شمار ہوتے تھے۔

شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

«أسرتي / العنقري تنتسب إلى بني سعد من قبيلة بني تميم، من بلدة ثرمداء، احدى بلدان إقليم الوشم في نجد، وكانت ثرمداء قاعدة بلدان إقليم الوشم قبل الدولة السعودية الأولى، وأميرها / جدي إبراهيم بن سليمان العنقري، وقد بايع على السمع والطاعة للإمام عبدالعزيز بن محمد سعود والشيخ محمد بن عبدالوهاب سنة ١١٨٠ للهجرة.»

میرا خاندان، آلِ عنقری، بنو سعد سے تعلق رکھتا ہے، جو قبیلہ بنو تمیم کی ایک شاخ ہے۔ ہمارا اصل تعلق نجد کے علاقے الوشم کے ایک شہر ثرمداء سے ہے۔ پہلی سعودی ریاست کے قیام سے قبل ثرمداء الوشم کے شہروں کا مرکزی مقام تھا۔ اس کے امیر میرے جدِ اعلیٰ ابراہیم بن سلیمان العنقری تھے، جنہوں نے سن 1180 ہجری میں امام عبدالعزیز بن محمد آل سعود اور شیخ محمد بن عبدالوهاب رحمہما اللہ کے ہاتھ پر سمع و طاعت کی بیعت کی تھی۔

شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ 1397 ہجری میں ریاض میں پیدا ہوئے اور وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور 1434-1435 ہجری میں کلیۃ اصول الدین سے ڈاکٹریٹ مکمل کی۔

ان کے پی ایچ ڈی مقالے کا عنوان ہے:

«الآراء العقدية في مؤلفات جماعة الإخوان المسلمين عرض ودراسة في ضوء عقيدة أهل السنة والجماعة» یعنی اخوان المسلمون کی تصنیفات میں عقیدے سے متعلق نظریات: اہل السنۃ والجماعۃ کے عقیدے کی روشنی میں ایک علمی جائزہ اور تحقیقی مطالعہ۔

یہ مقالہ چار جلدوں اور 2500 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

«شيخنا المشرف عبدالعزيز الراجحي وصف الرسالة بأنها موسوعة كاملة عن جماعة الإخوان» ہمارے شیخ اور مقالے کے نگران، شیخ عبدالعزیز الراجحی حفظہ اللہ نے اس مقالے کو اخوان المسلمون جماعت کے بارے میں ایک مکمل انسائیکلوپیڈیا قرار دیا۔

فی الحال شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی میں شعبہ عقیدہ اور معاصر فکری مکاتب میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے متعدد جلیل القدر علماء سے علم حاصل کیا، جن میں درج ذیل حضرات شامل ہیں:

1. شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ (متوفی 1420ھ)، سابق مفتی اعظم سعودی عرب، جن سے انہوں نے پانچ سال تک استفادہ کیا۔

2. شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ (متوفی 1421ھ)۔ شیخ ایمن العنقری فرماتے ہیں: «دراستي على شيخنا ابن عثيمين في العطلة الصيفية للأعوام / ١٤١٣ و١٤١٤ و١٤١٥ و١٤١٦ و١٤١٧ كنت أذهب عنده في الصيف للدراسة عليه» میں نے 1413ھ سے 1417ھ تک گرمیوں کی تعطیلات میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے تعلیم حاصل کی۔ ہر سال موسم گرما میں ان کے پاس پڑھنے جاتا تھا۔

3. شیخ عبدالعزیز الراجحی حفظہ اللہ، جن سے انہوں نے کئی سال استفادہ کیا اور جنہوں نے ان کے ڈاکٹریٹ مقالے کا بھی جائزہ لیا۔

4. شیخ العلامہ حمود التویجری رحمہ اللہ (متوفی 1413ھ) سے بھی کئی بار ملاقات کی اور ان کی علمی مجالس میں شرکت کی۔

شیخ ایمن العنقری فرماتے ہیں: «الشيخ حمود التويجري مجالستي له قليلة، سألته عدة مرات عن مسائل شرعية وعقدية في المسجد الذي يصلي فيه بحي الشفا في الرياض.»

شیخ حمود التویجری رحمہ اللہ کے ساتھ میری نشستیں محدود تھیں۔ میں نے ریاض کے الشفاء محلے کی مسجد میں، جہاں وہ نماز ادا کرتے تھے، کئی فقہی اور عقیدے سے متعلق مسائل ان سے دریافت کیے۔

5. شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ۔ موجودہ مفتی اعظم سعودی عرب۔

6. شیخ صالح آل الشیخ حفظہ اللہ، سابق وزیرِ اسلامی امور۔

7. شیخ اسماعیل الانصاری رحمہ اللہ (متوفی 1417ھ)، جو مالی کے عظیم محدث تھے اور دار الافتاء سے وابستہ تھے۔

8. شیخ صالح اللحیدان رحمہ اللہ (متوفی 1443ھ)، جو ہیئۃ کبار العلماء کے رکن تھے۔

9. شیخ عبدالرحمن بن عبداللہ العجلان رحمہ اللہ (متوفی 1442ھ)، مسجد الحرام کے مدرس، اور قصیم ریجن کی عدالتوں کے سابق سربراہ۔

شیخ ایمن العنقری فرماتے ہیں: «الشيخ عبدالرحمن العجلان قرأت عليه يسيرا في المسجد الذي كان يصلي فيه بحي العوالي بمكة.» میں نے شیخ عبدالرحمن العجلان رحمہ اللہ کو مکہ مکرمہ کے العوالی محلے کی مسجد میں، جہاں وہ نماز پڑھاتے تھے، تھوڑا سا پڑھ کر سنایا۔

10. شیخ عبداللہ الغدیان رحمہ اللہ (متوفی 1431ھ)، ریاض کے معروف فقیہ، ہیئۃ کبار العلماء اور اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء کے رکن۔

11. شیخ عبدالعزیز بن صالح بن مرشد رحمہ اللہ (متوفی 1417ھ)، جو دعوتِ سلفیہ کے علماء میں سے تھے اور شیخ محمد بن ابراہیم آل الشیخ رحمہ اللہ کے قریبی ساتھی تھے۔

شیخ ایمن العنقری فرماتے ہیں: «الشيخ عبدالعزيز بن مرشد، جالسته مرارا عام من عام ١٤١٤ إلى ١٤١٦ في بيته في الرياض ، ولم أقرأ عليه.» میں 1414ھ سے 1416ھ کے درمیان متعدد مرتبہ ریاض میں شیخ عبدالعزیز بن مرشد رحمہ اللہ کے گھر گیا اور ان کے ساتھ بیٹھا، لیکن میں نے ان کے سامنے باقاعدہ قراءت نہیں کی۔

12. شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ فرماتے ہیں: «قرأت على شيخنا الشيخ عبدالله الحسين أبا الخيل (ت ١٤٣٤ هـ) (من مشايخ بريدة في القصيم) في مسجده بحي العجيبة وسط بريدة ، رسائل الشيخ سليمان بن عبدالله بن محمد بن عبدالوهاب رحمهم الله.»

میں نے اپنے شیخ عبداللہ الحسین ابا الخیل رحمہ اللہ (متوفی: 1434ھ)، جو قصیم کے شہر بریدہ کے ممتاز علماء میں سے تھے، ان کی مسجد میں، جو محلہ العجیبہ میں واقع تھی، شیخ سلیمان بن عبداللہ بن محمد بن عبدالوہاب رحمہم اللہ کے رسائل ان پر پڑھے۔


13. شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ مزید فرماتے ہیں: «وقرأت على شيخنا محمد بن صالح المنصور المنسلح (ت ١٤٢٠ هـ) في مسجده بخضيراء في بريدة العقيدة الواسطية والسفارينية.»

میں نے اپنے شیخ محمد بن صالح المنصور المنسلح رحمہ اللہ (متوفی 1420ھ) سے بریدہ کے علاقے خضیرا میں واقع ان کی مسجد میں العقیدۃ الواسطیہ اور السفارینیہ کا درس پڑھا۔

14. «وقرات على شيخنا محمد العليط (ت ١٤٤٦ هـ) في المجلد الأول من الدرر السنية في الجامع الكبير القديم ببريدة. وفي مسجد المطوع ببريدة / التنبيهات السنية شرح العقيدة الواسطية للشيخ عبدالعزيز الرشيد.»

میں نے اپنے شیخ محمد العلیط سے (متوفی 1446ھ) بریدہ کی قدیم جامع مسجد میں الدرر السنیۃ کی پہلی جلد پڑھی۔ اور مسجد المطوع میں، میں نے التنبیہات السنیۃ (جو شیخ عبدالعزیز الرشید کی العقیدۃ الواسطیہ پر شرح ہے) ان کے سامنے پڑھی۔

15. «وجالست الشيخ علي بن إبراهيم المشيقح (ت ١٤٢٨ هـ) من علماء بريدة ، وقرأت عليه مواضع من الروض المربع أسأله عنها في مسجد العمري ببريدة.»

میں نے بریدہ کے علماء میں سے شیخ علی بن ابراہیم المشیقح رحمہ اللہ (متوفی 1428ھ) کی مجالس میں شرکت کی اور مسجد العمری میں ان کے سامنے الروض المربع کے بعض حصے پڑھے اور ان سے اس کے متعلق سوالات کیے۔

16. «وقرأت على الشيخ عبدالله القرعاوي شرح محمد خليل الهراس على العقيدة الواسطية.» میں نے شیخ عبداللہ القرعاوی کے سامنے العقیدۃ الواسطیہ پر محمد خلیل ہراس کی شرح پڑھی۔

17. «وقرات على شيخنا عبدالله بن صالح الفالح (ت ١٤٣٣ هـ) في عنيزة. (وهو من طلاب الشيخ عبدالرحمن السعدي) بعضا من كتاب شرح قطر الندى في النحو لابن هشام ، في بيته ، وفي أحد مساجد عنيزة.»

میں نے اپنے شیخ عبداللہ بن صالح الفالح رحمہ اللہ (متوفی 1433ھ) سے، جو شیخ عبدالرحمن السعدی رحمہ اللہ کے شاگردوں میں سے تھے، عنیزہ میں ان کے گھر اور ایک مسجد میں قطر الندی کی شرح کا کچھ حصہ پڑھا۔

18. «وقرأت على شيخنا محمد بن فهد الرشودي (ت ١٤٣٠ هـ) في مسجده في بريدة بحي الفاخرية (مجموعة التوحيد، وهي رسائل للإمام المجدد محمد بن عبدالوهاب وتلاميذه من أئمة الدعوة النجدية المباركة).»

میں نے اپنے شیخ محمد بن فہد الرشودی رحمہ اللہ (متوفی 1430ھ) سے بریدہ کے الفاخریہ محلے کی مسجد میں مجموعۃ التوحید پڑھی، جو امام محمد بن عبدالوہاب رحمہ اللہ اور دعوتِ نجدیہ کے دیگر ائمہ و طلبہ کی رسائل کا مجموعہ ہے۔

19. «وجالست الشيخ عبدالله بن سعدي العبدلي الغامدي (ت ١٤٢٥ هـ) عدة مرات وزرته في بيته في الطائف لسؤاله والأخذ عنه.» میں متعدد مرتبہ شیخ عبداللہ بن سعدی العبدلی الغامدی رحمہ اللہ (متوفی 1425ھ) کی خدمت میں حاضر ہوا، ان کے گھر طائف میں ان سے ملاقات کی، سوالات کیے اور ان سے استفادہ کیا۔

20. «وقرات على الشيخ مصلح الرشيد ( ت ١٤٤٢ هـ) في بيته في الرياض في تاريخ نجد لمؤرخ الدعوة الشيخ حسين بن غنام.» میں نے شیخ مصلح الرشید رحمہ اللہ (متوفی 1442ھ) کے گھر ریاض میں تاریخ نجد از شیخ حسین بن غنام رحمہ اللہ پڑھی۔

اس کے علاوہ بھی شیخ نے اہل السنۃ والجماعۃ کے متعدد معروف علماء سے استفادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ان زندہ علماء کو سلامت رکھے اور وفات پا جانے والوں پر رحم فرمائے۔

شیخ ایمن العنقری حفظہ اللہ گزشتہ بیس سال سے زائد عرصے سے ایک مسجد کے امام بھی ہیں، جہاں وہ نمازوں کی امامت، خطبات اور دروس کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ان کی تخصصی فیلڈ عقیدہ ہے، خصوصا ائمہ دعوتِ نجدیہ اور سلف صالحین کی عقائدی تصنیفات کی تدریس۔

شیخ کی مطبوعہ تصانیف میں سے چند درج ذیل ہیں:

١) شرح لمعة الاعتقاد
٢) شرح رسالة نواقض الإسلام
٣) حكم تارك التوحيد ويليه: منشأ بدعة من يسمي المشرك مسلما
٤) تحرير قول شيخ الإسلام ابن تيمية في فاعل الشرك الأكبر
٥) تحرير قول الشيخ محمد بن عثيمين في تارك التوحيد
٦) المسائل المستجدة في نوازل الزكاة المعاصرة

شیخ نے گمراہ فرقوں اور باطل عقائد کے رد میں متعدد مضامین اور تحقیقی مقالات بھی تحریر کیے ہیں۔

خاص طور پر انہوں نے معاصر روحانیت (Spiritualism) کی تحریک، یعنی الحادی کائناتی توانائی (Cosmic Energy) کے نظریات اور ان سے وابستہ تصورات جیسے قانون کشش (Law of Attraction)، نیت، شکر گزاری، فراوانی (Abundance) اور Manifestation وغیرہ پر مضبوط علمی ردود لکھے ہیں۔

اسی طرح انہوں نے معاصر روحانیت سے متعلق کتابوں پر بھی تنقید و تجزیہ کیا ہے، اور جن کتابوں کا انہوں نے جائزہ اور رد لکھا ہے ان کی تعداد 150 سے زائد ہے۔

شیخ کے رسمی سوشل میڈیا روابط:
 
Top