• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فعل کی تین قسمیں: ماضی، مضارع، اور امر

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
870
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
فعل کی تین قسمیں: ماضی، مضارع، اور امر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

IMG-20250721-WA0000.jpg

عربی زبان میں فعل یعنی وہ لفظ جو کسی کام (عمل) اور وقت پر دلالت کرے، اس کی تین قسمیں ہیں:

(١) فعل ماضی : یہ وہ فعل ہوتا ہے جو کسی کام کے گزر جانے پر دلالت کرتا ہے، یعنی جو ماضی میں ہو چکا ہو۔ مثلا :

كتبَ (اس نے لکھا)، دحرجَ (اس نے لڑھکایا)، انطلقَ (وہ روانہ ہوا)، استخرجَ (اس نے نکالا)

یہ سب افعال اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ کوئی کام ماضی میں وقوع پذیر ہو چکا ہے۔

(٢) فعل مضارع : یہ وہ فعل ہے جو کسی کام کے اس وقت (یعنی حال) یا مستقبل میں ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ مثلا :

يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے / لکھ رہا ہے / لکھے گا)، يَدْحْرِجُ (وہ لڑھکاتا ہے)، يَنْطَلِقُ (وہ روانہ ہوتا ہے)، يَسْتَخْرِجُ (وہ نکالتا ہے)

نوٹ: فعل مضارع کی خاص نشانی یہ ہے کہ یہ چار حروف میں سے کسی ایک سے شروع ہوتا ہے: أ (ہمزہ)، ن (نون)، ي (یا)، ت (تا) یعنی: أ، ن، ي، ت

(٣) فعل امر : یہ وہ فعل ہوتا ہے جس کے ذریعے کسی کام کے کرنے کا حکم یا درخواست دی جاتی ہے۔ مثلا : اُكْتُبْ (لکھو!)، ادْحْرِجْ (لڑھکاؤ!)، اِنْطَلِقْ (روانہ ہو جاؤ!)، اِسْتَخْرِجْ (نکالو!)

یعنی، فعل امر کا مقصد ہوتا ہے کسی کام کو انجام دینے کے لیے کہنا۔

خلاصہ یہ ہے کہ عربی زبان میں فعل تین اقسام پر مشتمل ہوتا ہے: "ماضی" ماضی میں ہونے والا کام جیسے كَتَبَ (اس نے لکھا)، "مضارع" حال یا مستقبل میں ہونے والا کام جیسے يَكْتُبُ (وہ لکھ رہا ہے/لکھے گا) اور "امر" کسی کام کا حکم یا درخواست جیسے اُكْتُبْ (لکھو!)۔
 
Top