• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فلسطین کے مظلوموں سے بے اعتنائی اور خلیجی حکمرانوں کے مفادات کے وقت جہاد کی دہائی: مدخلی منافقت کا المیہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
925
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
فلسطین کے مظلوموں سے بے اعتنائی اور خلیجی حکمرانوں کے مفادات کے وقت جہاد کی دہائی: مدخلی منافقت کا المیہ
​

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على رسولہ الأمین، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔ أما بعد:

یہ بات کسی پر مخفی نہیں کہ نفاق، کتمان حق اور طاغوت کی حمایت میں مدخلی فرقے سے بدتر کوئی نہیں۔ اس فرقے کے درباری علماء سوء نے مظلوم مسلمانوں کے خون کو حلال کیا، طاغوت کی غلامی اختیار کی، اور پھر خود ان کے طواغیت مصیبت میں پڑ گئے تو یہ مداخلہ ان طاغوتی حکمرانوں کی حمایت میں جہاد کا ڈھونگ رچا رہے ہیں، ایسے لوگ منافق اور امت کے غدار کے سوا کچھ نہیں۔

جب امریکہ اور اس کے شیطانی اتحادی یعنی سعودی عرب، ایران، ترکی، اردن، عراق اور دیگر طاغوتی حکومتیں مسلمان مردوں، عورتوں اور معصوم بچوں پر بلا امتیاز بمباری کر رہے تھے، ان پر سفید فاسفورس برسا رہے تھے اور باغوز میں انہیں زندہ جلا رہے تھے، صرف اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کا نفاذ چاہتے تھے، تو یہ درباری مداخلہ اپنے نرم بستروں پر بے فکری سے خراٹے لے رہے تھے۔

ان خونریز مظالم کی مذمت کرنے کے بجائے یہ اپنے باطل معبودوں یعنی طاغوتی حکمرانوں کو مسلمانوں کے قتل عام پر ابھار رہے تھے اور انہیں "خوارج" کے قتل کی فضیلتیں سنا سنا کر ان کے ہاتھوں کو مسلمانوں کے خون سے رنگین کر رہے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے فرعون کے درباریوں نے کہا تھا : ﴿أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ﴾ کیا آپ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو چھوڑ دیں گے کہ وہ زمین میں فساد پھیلاتے پھریں؟

اسی طرح جب فلسطین میں مسلمانوں کا بے رحمانہ قتل عام ہو رہا تھا جو کہ آج بھی جاری ہے، تو یہ مدخلی زنادقہ امت کو گمراہ کرنے میں مصروف تھے۔ یہ زنادقہ کہہ رہے تھے کہ فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا، وہ خود انہی کی غلطی کا نتیجہ ہے۔

سعودیہ کے ایک مدخلی زندیق ابراہیم المحیمید نے تو یہاں تک کہا کہ : «في القبر سيسألك الله تعالى عن البول وليس عن فلسطين فلا تشغل نفسك بأوضاعها» یعنی قبر میں اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کپڑوں پر پیشاب کے چھینٹوں کے متعلق تو سوال کرے گا، لیکن فلسطین کے بارے میں تم سے کوئی سوال نہیں کرے گا لہٰذا فلسطین کے حالات کے بارے میں خود کو مشغول نہ کرو۔

معاملہ یہاں تک پہنچا کہ کویت کے معروف مدخلی زندیق سالم الطویل نے صاف صاف جھوٹ بولا اور کہا: «ما سمعنا أصلا أن إسرائيل استعملت الطيران على غزة. ما يحدث في غزة أفلام، ولعب بعواطف الناس» یعنی ہم نے تو سرے سے یہ سنا ہی نہیں کہ اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کیے ہیں! غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض فلمیں ہیں اور لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کا ایک طریقہ ہے۔

لیکن جب یہی لوگ خود آگ کے شعلوں کی زد میں آئے، جب ان کے اپنے گھروں پر بم گرنے لگے، تو انہیں اچانک جہاد یاد آ گیا! اب مدخلی زنادقہ لوگوں کو جہاد کی فضیلتیں سنانے لگے اور اس جاہلانہ جنگ میں ثابت قدم رہنے کی ترغیب دینے لگے۔ کیا یہ نفاق نہیں؟ کیا یہ دین کے ساتھ کھلا مذاق نہیں؟

مدخلی زنادقہ یہود و نصاریٰ سے بھی بدتر اور زیادہ خطرناک ہیں۔ کیونکہ یہود و نصاریٰ تو کھلے کافر ہیں، جبکہ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے، اہل قبلہ میں بیٹھ کر دین کی باطل تاویل کرتے ہیں، شریعت کو اپنے نفسانی خواہشات کے مطابق توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، اور امت کو گمراہ کرتے ہیں۔ یہ طاغوت کے درباری ہیں، ظالموں کے وکیل ہیں، اور مظلوم مسلمانوں کے قاتل ہیں۔

اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حوثیوں کے فتنے سے محفوظ رکھے، جو تاتاریوں سے بھی زیادہ پلید ہیں، اور ان مدخلی زندیقوں کے فتنے سے بھی بچائے جو اہل قبلہ میں چھپے ہوئے یہودی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس جاہلانہ جنگ میں ہلاک ہونے والے تمام بے گناہ مسلمانوں کی مغفرت فرمائے جو مرتدین اور منافقین کے درمیان جاری ہے، اور انہیں شہداء کا مرتبہ عطا فرمائے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على رسولہ الأمین۔
 
Top