• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فلسفے کا رد

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مضمون نگار: محترم @ابوالحسن علوی صاحب

فلسفے سے نہ تو دین اسلام کو کوئی خطرہ رہا ہے، نہ ہے اور نہ ہو گا اور نہ ہی اس کا رد کوئی دینی ذمہ داری ہے۔

فلسفہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جب تک آپ اس پر محنت کر کے اسے سیکھ نہ لیں اور اس کی باقاعدہ تربیت نہ لے لیں، یہ آپ کو سمجھ نہیں آتا۔ افلاطون نے سقراط سے اور ارسطو نے افلاطون سے برسوں فلسفے کی تربیت پائی ہے تو انہیں فلسفہ سمجھ آیا ہے۔

ابن سینا نے لکھا ہے کہ مجھے طب کے بعد فلسفے کے مطالعہ کا شوق ہوا تو میں نے ارسطو کی ایک کتاب چالیس مرتبہ پڑھی لیکن کچھ سمجھ نہیں آئی یہاں تک کہ فارابی کا واسطہ ملا تو ارسطو سمجھ آیا۔ یہ ابن سینا کہہ رہا ہے تو عام افراد کا کیا کہنا؟

پس فلسفہ ایک فتنہ ہے لیکن انہی لوگوں کے لیے جو اس کی باقاعدہ تربیت لے کر اس میں مبتلا ہونے کا شوق رکھتے ہیں۔ عام لوگوں کی تو سمجھ سے ہی بالاتر ہے تو انہیں یہ کیا فتنہ میں مبتلا کرے گا۔ اب ہم میں بعض لوگ طلبۃ العلم اور عوام الناس کو پہلے یہ دعوت دیتے ہیں کہ فلسفہ پڑھیں، پڑھائیں یعنی فلسفہ سیکھیں۔ یہ سیکھیں کہ آپ کے ذہن میں تشکیک کیسے پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کا جواب ڈھونڈیں، یہ دین کی بہت بڑی خدمت ہے۔ اللہ اکبر،،،

مطلب ہماری عوام کا ایک مسئلہ ہے ہی نہیں، ہم پہلے وہ مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور پھر اس کا حل تلاش کر کے دین کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔۔ معلوم نہیں دین کی خدمت کا یہ کون سا طریقہ ہے؟ اور یہ بھی سب مانتے ہیں کہ اکثر کی ذہنی سطح اتنی ہوتی ہی نہیں ہے کہ فلسفہ سمجھ پائے تو چند لوگوں کا ہی مسئلہ باقی رہ گیا ناں؟

اور رہی دینی ذمہ داری کی بات تو دینی ذمہ داری نص صریح سے ثابت ہوتی ہے۔ اور نص صریح صرف اتنی ہے کہ فلسفی تک اللہ کا پیغام پہنچا دو کہ اس سے کہہ دو بھائی یہ تمہارے خالق کا پیغام ہے، باقی تم نے نہیں ماننا تو تمہارا اور اس کا حساب کتاب آخرت میں۔ میں تو ایک عاجز انسان ہو۔

یونانی فلسفے کا رد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تو نہیں تھی البتہ امام غزالی رحمہ اللہ کی تھی، کیا یہ کہنا درست ہو گا؟

یہی قرآن کا منہج ہے کہ جب بھی مشرکین مکہ نے کوئی عقلی اعتراض کیا تو اللہ نے اس کا عقلی جواب دینے کی بجائے آخرت کی دھمکی لگا دی یا اپنا حکم سنا دیا۔ اب خالق اپنی حقیر مخلوق کے اعتراض کو اتنی اہمیت دے کہ اسے مطمئن کرنے کی کوشش میں اس کے برابر کھڑا نظر آیا، تو یہ محال ہے۔ ذلک بانھم قالوا انما البیع مثل الربو، واحل اللہ البیع وحرم الربوا،،،

رہا یہ دعوی کہ عصر حاضر میں اسلام کے لیے ایک بہت بڑا چیلنچ فلسفہ ہے تو اس سے بے کار بات کوئی نہیں ہے۔ فلسفے کو مسلمانوں میں سمجھںے والے کتنے ہیں؟ ایک فی صد بھی نہیں۔ تو چیلنج کس چیز کا۔ ہاں، دہشت گردی کو ایک چیلنج کہا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ امریکہ کو ایک چیلنج کہا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ تمام مسلمانوں کے مسائل ہیں لیکن فلسفے کا چیلنج کیا چیلنج ہوا کہ سائنس کے اثرات کی وجہ سے اب تو فلسفہ کے ڈیپارٹمنٹ تک یونیورسٹیوں میں نزع کے عالم میں ہیں۔ فلسفہ پڑھنا پڑھانا قصہ ماضی بن چکا۔ چوٹی کے سائنسدان اسٹیون ہاکنگ وغیرہ فلسفے کے مرنے پر مہر ثبت کر چکے۔ اور ہم اسے دوبارہ اہمیت دے کر زندہ کرنا چاہتے ہیں۔

باقی جسے فلسفے کے اثرات کہا جاتا ہے، وہ فلسفے کے اثرات نہیں ہیں بلکہ انسانی جبلت اور خواہش نفس کے نتائج ہیں۔ قوم لوط، فرائیڈ کے فلسفے سے ہزاروں سال پہلے اس فعل شنیع میں مبتلا تھی کہ جسے آج مغرب میں فرائیڈ کے فلسفے کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ اور منگولوں میں وحشت، بربریت اور حب تفوق ایڈلر وغیرہ جیسوں کے فلسفوں کے آنے سے بہت پہلے موجود تھی۔

باقی انسان کو ذہین ہونا چاہیے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ہم اس کے قائل ہیں کہ بڑا سے بڑا فلسفی بھی کسی مسلمان کے سامنے موجود ہو تو بات چیت کے بعد یہ نہ کہہ سکے کہ کسی کند ذہن سے گفتگو ہوئی ہے۔ لیکن ذہین ایک کمہار بھی ہو سکتا ہے، ایک لوہار بھی اور ایک فلسفی بھی۔ اس کے لیے فلسفہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اور فلسفی ہی ذہین ہوتے ہیں، اس سے بے کار بات کوئی نہیں ہے۔ ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ ان کی ذہانت کا ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے ایک خاص اسلوب میں گفتگو کرنے پر محنت کی ہے اور اس کی تربیت حاصل کر لی ہے۔ بس فلسفہ سادہ اور عام فہم بات کو پیچیدہ اور گنجلک اسلوب میں بیان کرنے کا ایک فن ہے اور اس سے زائد کچھ بھی نہیں ہے۔

باقی جس طرح دیگر مذاہب کے لوگوں نے اسلام پر اعتراضات کیے ہیں، اسی طرح کچھ فلسفیوں نے بھی نفس مذہب پر اعتراضات کیے ہیں۔ بس ان کا جواب کچھ لوگ دینا چاہیں تو دے دیں، اس میں کیا اختلاف ہے۔ لیکن دینی ذمہ داری فلسفی تک رسول کی خبر کو پہنچانا ہے نہ کہ اس کو مطئمن کرنا اور اس کے مزعمومہ عقلی شبہات کا جواب دینا۔ بس یہ فرق واضح رہے۔

آخر الذکر کو ایک دینی ذمہ داری قرار دینا، اللہ کو اپنے خلاف گواہ بنانے کے مترادف ہے کہ اے اللہ، میں یہ بھی کر سکتا تھا اور یہ میری دینی ذمہ داری بھی تھی، لیکن نہیں کیا، لہذا اب مجھ سے اس کا حساب لیں۔ بلکہ عاجز بن کر رہیں کہ اے پروردگار، میرا کام پیغام پہنچانا تھا، یہی سادہ سا مفہوم مجھے آپ کی کتاب سے سمجھ آیا کہ اسے آپ کی مخلوق تک پہنچا دوں۔ اور اسی کی میں صلاحیت رکھتا تھا۔ اس سے زیادہ کا مجھ پر بوجھ نہ ڈالیں اور اس کا مواخذہ نہ کریں۔

باقی جو لوگ عصر حاضر میں فلسفے کو ایک چیلنچ سمجھتے ہیں اور اس کے پڑھنے پڑھانے کے داعی ہیں، انہوں نے مغربی فکر وفلسفہ کے رد میں کیا کیا ہے؟ اگر وہ سامنے آ جائے تو شاید دیگر لوگوں کو بھی فلسفہ پڑھنے اور پڑھانے میں وقت ضائع کرنے کی افادیت معلوم ہو جائے۔
 
Top