• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فوت شدہ شوہر کو یاد کرنے، اس کا ذکر کرنے اور اس کی تصاویر دیکھنے کا حکم، جبکہ عورت دوسرا نکاح کر چکی ہو

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
930
ری ایکشن اسکور
232
پوائنٹ
111
فوت شدہ شوہر کو یاد کرنے، اس کا ذکر کرنے اور اس کی تصاویر دیکھنے کا حکم، جبکہ عورت دوسرا نکاح کر چکی ہو


فتاوى عبر الأثير (( 23 ))
​

السؤال: زوجة مات زوجها فتزوجت بعده، وهي تذكر زوجها الأول دائمًا وتفكر به وترى صوره، فهل هي آثمة؟

ایک عورت کا شوہر فوت ہوگیا، جس کے بعد اس نے دوسری شادی کرلی۔ لیکن وہ اب بھی اپنے پہلے شوہر کو ہمیشہ یاد کرتی رہتی ہے، اس کے بارے میں سوچتی رہتی ہے اور اس کی تصاویر دیکھتی رہتی ہے۔ کیا ایسا کرنے کی وجہ سے وہ گناہ گار ہے؟

الجواب: أقول مستعينًا بالله تعالى: ينبغي أن تعلم المرأة أنها إن تزوجت بعد موت زوجها الأول، فقد انقطعت علاقتها بذاك الرجل، وصار أجنبيًا عنها.

اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے ہوئے میں کہتا ہوں کہ اس عورت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ جب اس نے اپنے پہلے شوہر کی وفات کے بعد دوسری شادی کرلی تو اس پہلے مرد کے ساتھ اس کا ازدواجی تعلق ختم ہوگیا، اور اب وہ اس کے لیے ایک اجنبی شخص کی حیثیت رکھتا ہے۔

وما تفعله المرأة من ذكر زوجها الأول، إن كان أمام زوجها فهذا من الأذى العظيم، الذي يجرح كبرياء الرجل ويؤثر في نفسه.

عورت کا اپنے پہلے شوہر کا ذکر کرنا، اگر اپنے موجودہ شوہر کے سامنے ہو، تو یہ اسے بہت زیادہ تکلیف پہنچانے والی بات ہے، جو مرد کی عزت نفس کو مجروح کرتی ہے اور اس کے دل و دماغ پر برا اثر ڈالتی ہے۔

وقد جاء عن الإمام أحمد في المسند، والترمذي وابن ماجه في السنن، حديث في إسنادهما قال: عن معاذ بن جبل رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ: لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ؛ فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا».

امام احمد نے اپنی مسند میں، اور امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اپنی سنن میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث روایت کی ہے: ’’دنیا میں جو عورت بھی اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے، تو جنت کی حوروں میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اللہ تجھے ہلاک کرے! اسے تکلیف نہ دے، کیونکہ وہ تیرے پاس ایک عارضی مہمان ہے، عنقریب وہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آنے والا ہے۔‘‘

وأما التفكير فيه، فهذا مما لا يسمن ولا يغني من جوع، بل لعل هذا من وسوسة الشيطان. ﴿لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ فإن الحزن، والهم والتفكير، لا يرد غائبا ولا يبعث ميتا.

جہاں تک پہلے شوہر کے بارے میں سوچتے رہنے کا تعلق ہے، تو اس سے نہ کوئی فائدہ حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ضرورت پوری ہوتی ہے۔ بلکہ ممکن ہے کہ یہ شیطان کے وسوسوں میں سے ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ ’’تاکہ وہ ایمان والوں کو غمگین کرے، حالانکہ اللہ کے حکم کے بغیر وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا، اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔‘‘ بے شک غم، پریشانی اور مسلسل سوچتے رہنے سے نہ کوئی بچھڑا ہوا شخص واپس آتا ہے اور نہ ہی کوئی مردہ دوبارہ زندہ ہوتا ہے۔


وإن التعلق بصورة الميت شهيدًا كان أو غير شهيد، من المنكر العظيم الذي حذر منه النبي صلى الله عليه وسلم أشد التحذير، فقال في الذين صوروا الأنبياء، وهم أعظم درجة من الشهداء: «إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

اور کسی مردہ شخص، خواہ وہ شہید ہو یا غیر شہید، کی تصویر سے غیر معمولی تعلق قائم رکھنا ایک نہایت سنگین منکر ہے، جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی کے ساتھ خبردار فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جنہوں نے انبیاء کی تصاویر بنائی تھیں، حالانکہ انبیاء کا مرتبہ شہداء سے بھی بلند ہے:

«إِنَّ أُولَئِكَ إِذَا كَانَ فِيهِمُ الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَمَاتَ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوَّرُوا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ، فَأُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ’’ان لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا تو وہ اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں اس کی تصاویر بنا دیتے۔ یہی لوگ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہوں گے۔‘‘

وأنصح أختي السائلة عافانا الله وإياها بكثرة قراءة القرآن، وذكر الله سبحانه وتعالى، والدعاء بأن يذهب الله ما في نفسها على ذاك الرجل، من التعلق المذموم، ولتجتهد في الإحسان لزوجها الحي، والبر به، والتحبب إليه، وحسن التبعل معه، فإن الله معطيها خيرًا، وبالله التوفيق.

میں سوال کرنے والی اپنی بہن کو نصیحت کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اور اسے عافیت عطا فرمائے، کہ وہ کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ذکر کرے اور دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل سے اس پہلے شوہر کی ایسی مذموم وابستگی ختم کردے۔

اسے چاہیے کہ اپنے زندہ شوہر کے ساتھ حسن سلوک کرنے، اس کے حقوق ادا کرنے، اس سے محبت و الفت بڑھانے اور اس کے ساتھ اچھی ازدواجی زندگی گزارنے کی پوری کوشش کرے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اسے بہتر بدلہ عطا فرمائے گا۔


اور توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔
 
Top