ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 842
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
فٹ بال کی عالمی تقریبات: عالمگیریت کا ہتھیار اور مسلمانوں کی فکری شکست
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصحبه ومن والاه، أما بعد:
موجودہ دور میں امت مسلمہ جن فکری، تہذیبی اور اخلاقی چیلنجوں سے دوچار ہے، ان میں عالمی کھیلوں کے مقابلے اور بالخصوص فٹ بال کے بین الاقوامی تقریبات ایک نمایاں حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ محض کھیل یا تفریح کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ اس کے ساتھ ایسے فکری، ثقافتی اور معاشرتی اثرات وابستہ ہو چکے ہیں جنہوں نے بہت سے مسلمانوں، خصوصا نوجوانوں کے افکار، رجحانات اور ترجیحات کو متاثر کیا ہے۔
اسی حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فضیلۃ الشیخ محمد سالم المجلسي الشنقيطي حفظہ اللہ نے نہایت بصیرت افروز کلمات ارشاد فرمائے ہیں، جن میں انہوں نے فٹ بال کے عالمی مقابلوں، ان کے فکری و سماجی اثرات، اور ان سے پیدا ہونے والی مختلف خرابیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ذیل میں شیخ حفظہ اللہ کی یہ اہم تحریر مع اردو ترجمہ پیش کی جا رہی ہے۔
فضیلۃ الشيخ محمد سالم المجلسي الشنقيطي حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
يحتاج المسلمون عامة والشباب خاصة إلى علاج تعلقهم بلاعبي كرة القدم وفرقِها ومناسباتها الدولية..وذلك ببيان النقاط التالية:
مسلمانوں کو بالعموم اور نوجوانوں کو بالخصوص اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ان کے دلوں میں فٹ بال کے کھلاڑیوں، ٹیموں اور بین الاقوامی مقابلوں کے ساتھ جو غیر معمولی وابستگی پیدا ہو گئی ہے، اس کا علاج کیا جائے۔ اس کے لیے درج ذیل امور کو واضح کرنا ضروری ہے:
1. أنَّ محافل كُرة القدم الكبرى وغيرها من محافل الرياضة العالمية من أبرز وُجوه العولمة ، ووسائل الدعاية لها، وترويج مُخرجاتِها الخبيثة..
یہ کہ بڑے فٹ بال ٹورنامنٹس اور دیگر عالمی کھیلوں کی تقریبات عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کے نمایاں مظاہر اور اس کی تشہیر کے اہم ذرائع ہیں، جو اس کے فاسد اور نقصان دہ نتائج کو فروغ دینے کا سبب بنتے ہیں۔
2. أنَّ صناعةَ أحداثها وإحياء أعراسِها لم يَكن سوى مشاركة قوية في ترسيخِ العولمة، وتذليل نفوس كثير من المسلمين لقبول النظام العالمي الجديد. وأن ترك صناعةِ أحداثِها خير من معالجة أضرارها وتوظيف وقائعها..!؟
ان مقابلوں کی رونق بڑھانے، ان کے واقعات کو نمایاں کرنے اور ان کے جشن و خوشی میں شریک ہونے کا نتیجہ درحقیقت عالمگیریت کو مضبوط کرنے اور بہت سے مسلمانوں کے ذہنوں کو نئے عالمی نظام کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کرنے کی صورت میں نکلا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تقریبات کو فروغ دینے سے اجتناب کرنا، بعد میں ان کے نقصانات کے ازالے اور ان کے واقعات کو دینی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔
3. ما آل إليه الأمر من حبٍّ أعمى للكفار وتعلق باللاعبين والاقتداء بهم في المظهر بل وفي المخبر..والفرح لفرحهم والحزن لحزنهم..بل ونسيان مآسي المسلمين الواقعية..!!
معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ بعض لوگوں میں کفار کے لیے اندھی محبت پیدا ہو گئی ہے، وہ کھلاڑیوں سے غیر معمولی تعلق رکھتے ہیں، ان کی ظاہری شکل و صورت بلکہ ان کے طور طریقوں اور عادات کی بھی پیروی کرتے ہیں۔ ان کی خوشی پر خوش ہوتے ہیں، ان کے غم پر غمگین ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات مسلمانوں کے حقیقی مصائب اور المیوں کو بھی فراموش کر دیتے ہیں۔
4. خطورة التطبيع مع المنكرات المصاحبة للمارسة الكروية في المناسبات الدولية وغيرها ..كالتبرج والاختلاط والتبذير الفاحش والصخب المُغوي والتصالح مع شعارات الباطل..
بین الاقوامی کھیلوں کے مواقع اور دیگر مقابلوں کے ساتھ وابستہ برائیوں کو معمولی سمجھنے کا خطرہ بھی بہت سنگین ہے، جیسے بے پردگی، مرد و زن کا اختلاط، فضول اور بے جا اخراجات، گمراہ کن شور و ہنگامہ، اور باطل نعروں اور نظریات کے ساتھ مفاہمت۔
5. بطلان دعوى ظهور وِحدة المسلمين من خلال فوز فِرَق الدول الإسلامية ، ففي دُول الكفر المهزومة ملايين المسلمين يَحزن كثير منهم لهزيمة منتخبات دولهم الكافرة..وفي فرقهم بعض اللاعبين المنتسبين للإسلام..بل وفي الشعوب المسلمة كثير من مؤيدي منتخبات الدول الكافرة ضدَّ منتخبات دولهم..فأين الوحدة..!؟
یہ دعویٰ کہ اسلامی ممالک کی ٹیموں کی کامیابی سے مسلمانوں کی وحدت ظاہر ہوتی ہے، درست نہیں ہے۔ کیونکہ کافر ممالک میں رہنے والے لاکھوں مسلمان اپنی ان غیر مسلم ریاستوں کی ٹیموں کی شکست پر غمگین ہوتے ہیں، اور ان ٹیموں میں بعض ایسے کھلاڑی بھی ہوتے ہیں جو خود کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان ممالک کے اندر بھی بہت سے لوگ کافر ممالک کی ٹیموں کی حمایت کرتے ہیں اور اپنی قومی ٹیموں کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر ایسی صورت میں مسلمانوں کی وحدت کہاں ہے؟
6.أنه إن وُجِدت فيها مزية فهي مغمورة في أمواج رزاياها الكثيرة اللائحة.
اگر ان کھیلوں میں کوئی فائدہ یا خوبی موجود بھی ہو، تو وہ ان کے بے شمار اور نمایاں نقصانات اور خرابیوں کے سمندر میں ڈوب جاتی ہے۔
إن هذه القضايا وغيرها تحتاج إلى معالجة حتى لا يغتر بها الناس ، ولن يُعالجها مَن يستميت في تشجيع الفِرَق ويُبجِّل أعراس كرة القدم لأنه في حدِّ ذاتِه مصاب بمرض عُضال أولى بالعلاج.
یہ اور اس جیسے دیگر مسائل توجہ اور اصلاح کے محتاج ہیں تاکہ لوگ ان سے دھوکا نہ کھائیں۔ لیکن ان مسائل کا علاج وہ شخص نہیں کر سکتا جو خود ٹیموں کی حمایت میں حد سے بڑھا ہوا ہو اور فٹ بال کے ان تہواروں اور تقریبات کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہو، کیونکہ وہ خود ایک ایسے شدید مرض میں مبتلا ہے جو سب سے پہلے علاج کا مستحق ہے۔
وسيأتي اليوم الذي يُدرك فيه المخدوعون بالمحافل الكروية أنَّ صناعةَ أحداثها وإبهاج أعراسِها لم يَكن سوى مشاركة قوية في ترسيخِ العولمة، وتذليل نفوس كثير من المسلمين لقبول النظام العالمي الجديد
ایک دن ضرور آئے گا جب فٹ بال کی ان عالمی محفلوں سے دھوکا کھانے والے لوگ یہ حقیقت جان لیں گے کہ ان مقابلوں کی تشہیر، ان کے واقعات کو نمایاں کرنا اور ان کی تقریبات کو کامیاب بنانا دراصل عالمگیریت کو مضبوط کرنے اور بہت سے مسلمانوں کے اذہان کو نئے عالمی نظام کے قبول کرنے کے لیے ہموار کرنے میں ایک مؤثر کردار ادا کرنا تھا۔
[المصدر: الحساب الشخصي لفضيلة الشيخ محمد سالم المجلسي الشنقيطي حفظه الله على موقع فيسبوك.]
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو حق و باطل میں تمیز عطا فرمائے، انہیں ہر اس فتنہ سے محفوظ رکھے جو ان کے دین، اخلاق اور فکر کو نقصان پہنچاتا ہو، اور امت مسلمہ کے نوجوانوں کو ایسے مشاغل اور تعلقات سے بچائے جو انہیں ان کے حقیقی دینی اور اجتماعی فرائض سے غافل کر دیتے ہیں۔
وصلى الله وسلم على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين. وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔