• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فہم سلف کی ضرورت

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
ومن تدبر كلام أئمة السنة المشاهير في هذا الباب علم أنهم كانوا أدق الناس نظراً، وأعلم الناس في هذا الباب بصحيح المنقول وصريح المعقول، وأن أقوالهم هي الموافقة للمنصوص والمعقول، ولهذا تأتلف ولا تختلف، وتتوافق ولا تتناقض، والذين خالفوهم لم يفهموا حقيقة أقوال السلف والأئمة، فلم يعرفوا حقيقة المنصوص والمعقول، فتشعبت بهم الطرق، وصاروا مختلفين في الكتاب، مخالفين للكتاب وقد قال تعالى: {وإن الذين اختلفوا في الكتاب لفي شقاق بعيد} (البقرة: 176) .

فہم سلف اختیار کرنے کی ضرورت
شیخ الاسلام، ابوالعباس، احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ رحمہ اللہ ((661 - 728 ھ )فہم سلف کو اختیار کرنے کی ضرورت کو یوں بیان کرتے ہیں: ۔
"جو اس بارے میں مشہور ائمہ سنت کے کلام پر غور کرے گا، اسے بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ وہ علوم دینی پر سب لوگوں سے زیادہ گہری نظر رکھتے تھے اور اس بارے میں می منقول اور صریح منقول دلائل کاسب سے بڑھ کر علم رکھنے والے تھے۔ ان کے اقوال نقلیه عقلی دلائل کے عین مطابق ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ باہم ملتے جلتے ہیں، مختلف نہیں ہوتے اور باہم موافق ہیں ، متناقض نہیں ہوتے۔ جن لوگوں نے ان کی مخالفت کی ہے، وہ سلف اور ائمہ دین کے اقوال کو سمجھ نہیں پائے ،نہ و نقلی و نقلی دلائل کی حقیقت کو جان سکے ہیں۔ اس طرح وہ گمراہ ہو کروحی الہی میں اختلاف کا شکار ہو گئے اور اس کے مخالف بن گئے ہیں۔ حالانکہ الله تعالی نے فرمایا ہے:
{وإن الذين اختلفوا في الكتاب لفي شقاق بعيد} (البقرة: 176)
اور جن لوگوں نے کتاب (وحی) میں اختلاف کیا ہے ،وہ ور کی گمراہی میں جا پڑے "
درء تعارض العقل والنقل:(ج2 ص301 )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
منہج سلف کی اہمیت


اتباع رسول کا معیاراصحاب رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سلف امت ہیں۔

اللہ تعالیٰ صحابہ کرام کی یوں تعریف فرماتا ہے:

مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١ٞ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ(سورۃ الفتح:۲۹)
’’ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں (یعنی صحابہ)وہ کفار پر سخت ہیں اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سُجود ، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاؤ گے۔ سُجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے اُن کی صفت (تمثیل ) توراۃ میں‘‘
صحابہ وہ مومن تھے کہ جنہیں اللہ رب العزت نے اپنے نبیﷺکی صحبت کے لیےچنا تھا اور انہیں لوگوں پر اپنا گواہ بنایا تھا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى(سورۃ النمل:۵۹)
’’آپ کہہ دیجیے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور اس کے بندوں پر سلامتی ہو جنہیں اس نے منتخب کیا‘‘

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’یہاں مراد اصحاب محمد ہیں‘‘(تفسیر ابن کثیر381/3)

اور فرمایا:
وَ جَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَهُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ(سورۃ الحج:۷۸)
ترجمہ :
’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے ۔ اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ۔ قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیم ؑ کی ملت پر ۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ’’ مسلم ‘‘ رکھا تھا اوراِس (قرآن) میں بھی (تمہارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ‘‘

صحابہ امت کے وہ مبارک لوگ ہیں جن کے علم ودیانت کی گواہی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دی ہے۔

وَ يَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ هُوَ الْحَقَّ(سورۃسبا:۶)
’’ اے نبی ﷺ ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے‘‘

جو لوگ محمدﷺکے ساتھ ایمان لائے وہ سب سے بڑھ کر اللہ کی بندگی اور اطاعت کرنے والے اور دین کی اتباع میں سبقت لے جانے والے لوگ تھے۔انہوں نے اللہ کی خوشنودی کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانےپیش کئے۔

انہوں نے قرآن مجید کو رسول اللہﷺ سے سیکھا۔نزول قرآن،نزول کے اسباب اورقرآن کی تفسیر سے براہ راست مستفید ہوئے انہوں نے رسول اللہ سے جہاں قرآن مجید کے الفاظ سیکھے وہاں قرآن کے معانی بھی سیکھے۔

صحابہ کرام نےقرآن کے حفظ کے ساتھ اس کا فہم بھی حاصل کیا رسول اللہﷺسے قرآن کی تفسیر سنی آپ کے حالات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا آپ کی دعوت کو اپنے دلوں میں محفوظ کیا۔

اس لحاظ سے صحابہ کرام کوجوفضیلت حاصل ہوئی وہ کسی اور کو حاصل نہیں ہو سکتی،کیونکہ صحابہ کرام نے رسول اللہﷺسے بلاواسطہ علم حاصل کیااورآپس میں ایک دوسرے سے سیکھا چنانچہ سب صحابہ’’عدالت‘‘کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے،

یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اسناد،راویوں کے حالات،سند کی جرح وتعدیل کی ضرورت ہی نہ تھی۔

پس صحابہ کرام سے بڑھ کرکتاب اللہ کو سمجھنے والا،سنت کاعلم رکھنے والا اورکوئی نہیں ہو سکتا۔

امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
’’یہ بات جاننا ضروری ہے کہ رسول اللہﷺنے اپنے اصحاب کو جس طرح قرآن کے الفاظ بیان فرمائے ویسے ہی اس کے معانی بھی واضح فرمائے،چنانچہ اللہ کے اس فرمان:

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ(سورۃ النحل:۴۴)
’’تاکہ تم لوگوں کے سامنے وہ تعلیم جو تم پر اتاری گئی کھول کھول کر بیان کر دو‘‘

میں جہاں الفاظ کے پہنچانے کا حکم ہے وہیں اس کے معانی کھول کھول کر بیان کرنے کا بھی حکم ہے۔

ابو عبدالرحمن السُّلَمی(جو معروف تابعی ہیں)کہتے ہیں:وہ لوگ جو ہمیں قرآن پڑھایا کرتے تھے،مثلاً عثمان بن عفان اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ وہ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ جب وہ نبیﷺسے دس آیات سبق میں لے لیتے تو اس وقت تک آگے سبق پر نہ جاتےجب تک وہ ان دس آیات میں علم وعمل کی ہر بات سیکھ نہ لیتے۔کہا کرتے تھے:سویوں ہم نے قرآن سیکھاتواس کا علم اور عمل ایک ساتھ سیکھا‘‘یہی وجہ ہےکہ وہ لوگ ایک سورت کے حفظ میں مدت گزار دیا کرتے تھے
(مقدمہ فی اصول التفسیر:۳۵)
 
شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
امامِ اندلس، محمد بن وضاح قرطبی رحمہ اللہ (199-286 ھ) فرماتے ہیں:
فعليكم بالاتباع لأئمة الهدى المعروفين، فقد قال بعض من مضى : كم من أمر، هو اليوم معروف عند كثير من الناس، كان منكرا عند من مضي، و متحبب اليه بما يبغضهٔ عليه، و متقرب اليه بما يبعدهٔ منه، وكل بدعة عليها زينة و بهجة .
’’تم پر معروف ائمہ ہدایت کی پیروی لازم ہے۔ سلف میں سے ایک شخص نے فرمایا: بہت سے کام آج اکثر لوگوں میں رائج ہیں، لیکن سلف کے ہاں وہ منکر تھے۔ بہت سے کام آج لوگوں کو محبوب ہیں لیکن سلف کے ہاں مبغوض تھے۔ بہت سے کام آج لوگوں کے تقرب کا ذریعہ ہیں، لیکن یہی کام سلف سے دوری کا باعث تھے۔ ہر بدعت (ظاہری طور پر) خوبصورت اور پُررونق نظر آتی ہے۔‘‘ [البدع والنهي عنها، ص : 89]
تحریر: ابن الحسن محمدی حفظہ اللہ
آج کے نوجوان جس تیزرفتاری کے ساتھ منہج سلف سے دور ہو رہیں ہیں یہ ہم سے مخفی نہیں، وہی ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کے سامنے منہج سلف کو واضح کریں، تاکہ وہ کسی اور روش پر چل کر غلط راستہ نہ اختیار کرلیں اور سیدھی راہ سے بھٹک جائیں، آپ سبھی احباب سے بھی درخواست ہے کہ آپ کے پاس اس موضوع سے متعلق جو بھی معلومات ہوں اس تھریڈ میں ضرور شیئر کریں۔
اللہ رب العالمین ہمیں حق کہنے اور سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔
 
شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
قاضی شریک بن عبد اللہ رحمہ اللہ (177 ھ) فرماتے ہیں:
أما نحن، فقد أخذنا ديننا هذا عن التابعين، عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فهم عمن أخذوا .
’’ہم نے تو اپنا یہ دین تابعین سے لیا ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام سے لیا اور صحابہ کرام نے کس سے لیا ( یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں)۔‘‘ [كتاب الأسماء والصفات للبيهقي:، 949 وسنده صحيح]
 
شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
قرآن کریم میں فہم سلف کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ [4-النساء:59]
’’اے ایمان والو! اللہ، اس کے رسول اور اپنے اولی الامر کی اطاعت کرو‘‘۔
اولی الامر کے اول مصداق صحابہ کرام و تابعین اور ائمہ محدثین ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری صحابہ و تابعین اور ائمہ محدثین کے فہم و منہج کے مطابق کرو۔
 
شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ [2-البقرة:137]
’’(میرے نبی کے صحابہ!) اگر یہ لوگ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت یافتہ ہوں گے اور اگر وہ اس سے پھر گئے تو وہ گمراہی میں ہوں گے۔‘‘

مزید فرمایا:
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ [9-التوبة:100]
’’مہاجرین اور انصار میں سے پہلے سبقت لے جانے والوں اور ان کی احسان کے ساتھ پیروی کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ہے اور وہ اس سے راضی ہو گئے ہیں۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا جس طرح مہاجرین و انصار صحابہ کرام کے لیے ہے، اسی طرح ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان صحابہ کرام کا اتباع کرتے ہیں۔
صحابہ کرام کا اتباع ان کے فہم و اجتہاد میں کرنا ہے، جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خارجیوں سے مناظرہ کرتے ہوئے اسی فہم صحابہ ہی کو دلیل بنایا تھا۔
 
شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:
أتيتكم من عند صحابة النبى صلى الله عليه وسلم، من المهاجرين والأنصار، لأبلغكم ما يقولون، المخبرون بما يقولون، فعليهم نزل القرآن، ولهم أعلم بالوحي منكم.
’’میں تمہارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مہاجرین و انصار صحابہ کرام کی طرف سے حاضر ہو ا ہوں تاکہ تمہیں ان کی بات پہنچاؤں۔ وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو (قرآنی و حدیثی دلائل) وہ بیان کرتے ہیں، ان سے باخبر ہیں، ان پر قرآن کریم نازل ہوا اور یہ لوگ وحیِ الہیٰ کو تم سے بڑھ کر جانتے ہیں۔‘‘ [المستدراك على الصحيحين لالحاكم : 151، 150/1، ح :2656، وقال : هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ووافقه الذهبي، وسنده حسن]
↰ امت کے جہالت و ضلالت اور اندھی تقلید سے نکلنے کے لیے فہم سلف کی پیروی ضروری ہے۔ جس طرح اہل سنت و الجماعت کا گروہ قرآن و سنت کو معیارِ حق قرار دیتا ہے، اسی طرح اس کا ہر فرقہ چار و ناچار قرآن و سنت کو فہم سلف کے مطابق سمجھنے کو ضروری قرار دیتا ہے، یوں یہ امت کا اجماعی فیصلہ ہے، لیکن جس طرح قرآن و سنت پر ہر دعویدار عمل نہیں کرتا، اسی طرح فہم سلف کو بھی صرف اہل حدیث ہی صحیح معنوں میں قبول کرتے ہیں۔
 
شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
اب ہم بعض حنفی حضرات کی وہ آراء ذکر کرنا چاہتے ہیں جن میں فہم سلف کی ضرورت و اہمیت اور تقلید کی مذمت بیان ہوئی ہے:
➊ علامہ، محمد بن علی بن محمد، ابن ابوالعز، حنفی رحمہ اللہ (731-792 ھ) فرماتے ہیں:
وكيف يتكلم فى أصول الدين من لا يتلقاه من الكتاب والسنة، وإنما يتلقاه من قول فلان؟ وإذا زعم أنه يأخذه من كتاب الله لا يتلقي تفسير كتاب الله من أحاديث الرسول، ولا ينظر فيها، ولا فيما قاله الصحابة والتابعون لهم بإحسان، المنقول إلينا عن الثقات النقلة، الذين تخيرهم النقاد، فانهم لم ينقلوا نظم القرآن وهده، بل نقلوا نظمه ومعناه ولا كانوا يتعلمون القرآن كما يتعلم الصبيان، بل يتعلمونهٔ بمعانيه، ومن لا يسلك سبيلهم فانما يتكلم برايه، ومن يتكلم برايه وما يظنه دين الله، ولم يتلق ذلك من الكتاب فهو مأثوم وإن أصاب، ومن أخذ من الكتاب والسنة فهو مأجور وإن أخطأ، لكن إن أصاب يضاعف أجرة.
’’وہ شخص اصول دین کے بارے میں کلام کیسے کر سکتا ہے جس نے یہ اصول کتاب و سنت سے اخذ نہ کیے ہوں، بلکہ کسی شخص کے قول سے لیے ہوں۔ اگر وہ قرآن کریم سے ان اصولوں کے اخذ کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو قرآن کریم کی تفسیر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے نہیں لیتا۔ وہ نہ احادیث کو دیکھتا ہے، نہ صحابہ و تابعین کے ان اقوال میں غور کرتا ہے جنہیں ہم تک ان ثقہ راویوں نے پہنچایا ہے جن کو نقاد محدثین نے منتخب کیا تھا۔ صحابہ و تابعین (کے اقوال اس لیے ضروری ہیں کہ انہوں) نے صرف قرآن کریم کے الفاظ نقل نہیں کیے، بلکہ اس کا معنیٰ بھی نقل کیا ہے۔ وہ قرآن کریم کو اس طرح نہیں سیکھتے جس طرح بچے (صرف لفظاً) سیکھتے ہیں، بلکہ وہ قرآن کریم کو اس کے معانی سمیت سیکھتے تھے۔ جو شخص ان کے راستے پر نہیں چلے گا، وہ اپنی رائے سے بات کرے گا اور جو شخص اپنی رائے سے بات کرے گا اور اسے اللہ کا دین سمجھے گا، حالانکہ اس نے یہ رائے وحی سے نہیں لی ہو گی، وہ اگر درست فیصلہ بھی کرے گا تو گناہگار ہو گا۔ اس کے مقابلے میں جو شخص کتاب و سنت سے مسئلہ اخذ کرے گا، اگرچہ وہ غلطی پر ہو، اسے اجر ملے گا۔ اگر وہ درستی پر ہوا تو اسے دو اجر ملیں گے۔‘‘ [شرح العقيدة الطحاوية، ص : 196,195]

یعنی صرف کتاب و سنت کا دعویٰ مبہم ہے، کیونکہ ہر گمراہ فرقہ بھی کتاب و سنت سے مسائل اخذ کرنے کا مدعی ہے۔ فیصلہ کن بات یہ ہے کہ کتاب و سنت کو فہم سلف کے مطابق سمھجا جائے اور وحی الہیٰ سے ایسا کوئی مسئلہ اخذ نہ کیا جائے، سلف جس کے مخالف ہوں۔
 
شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
➋ علامہ، احمد بن عبدالرحیم، المعروف بہ شاہ ولی اللہ، دہلوی حنفی (1114-1176 ھ) فہم سلف کو فرقہ ناجیہ کا منہج قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
الفرقة الناجية لهم الآخذون فى العقيدة والعمل جميعا، بما ظهر من الكتاب والسنة وجرى عليه جمهور الصحابة والتابعين، وإن اختلفوا فيما بينهم فيما لم يشتهر فيه نص، ولا ظهر من الصحابة اتفاق عليه، استدلالا منهم ببعض ما هنالك، أو تفسيرا لمجمله، وغير الناجية كل فرقة انتحلت عقيدة خلاف عقيدة السلف أو عملا دون أعمالهم
فرقہ ناجیہ (جنتی گروہ) وہ لوگ ہیں جو عقیدہ و عمل دونوں میں وہ بات لیتے ہیں جو کتاب و سنت سے ظاہر ہو اور جس پر جمہور صحابہ و تابعین عمل کرتے ہیں۔ ہاں ! جن مسائل میں کوئی شرعی نص معروف نہ ہو، نہ اس سلسلے میں صحابہ کرام کا کوئی اتفاق سامنے آیا ہو، اس میں فرقہ ناجیہ کے لوگ بعض آثار سے استدلال کرتے ہوئے یا مجمل نصوص کی تفسیر کرتے ہوئے آپس میں مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر ناجیہ گروہ ہر وہ فرقہ ہے جو ایسے عقیدے سے منسوب ہو جو سلف صالحین (صحابہ و تابعین) کے خلاف ہے یا ایسا عمل اپنائے جو سلف سے ثابت نہیں۔‘‘ [حجة الله البالغة:170/1]

◈ نیز فرماتے ہیں:
إن الأمة اجتمعت على أن يعتمدوا على السلف فى معرفة الشريعة، فالتابعون اعتمدوا فى ذلك على الصحابة، وتبع التابعين اعتمدوا على التابعين، وهكذا فى كل طبقة اعتمد العلماء على من قبلهم، والعقل يدل على حسن ذلك، لأن الشريعة لا تعرف إلا بالنقل والاستنباط، والنقل لا يستقيم إلا بأن تأخذ كل طبقة عمن قبلها بالاتصال، ولا بد فى الاستنباط أن تعرف مذاهب المتقدمين، لئلا يخرج عن أقوالهم، فيخرق الإجماع.
’’ امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ وہ شریعت کو سمجھنے کے سلسلے میں اپنے سلف پر اعتماد کرتی ہے۔ تابعین کرام نے صحابہ پر اور تبع تابعین نے تابعین پر اعتماد کیا، اسی طرح ہر طبقے کے اہل علم نے اپنے سے پہلے لوگوں پر اعتماد کیا۔ عقل بھی اس طریقے کو اچھا سمجھنے پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ شریعت کی معرفت نقل (روایت) اور استنباط دو چیزوں سے ہوتی ہے۔ جس طرح روایت صرف اسی صورت ممکن ہے کہ ہر طبقہ اپنے سے پہلے طبقے سے اتصال کے ساتھ لے، اسی طرح استنباط میں بھی ضروری ہے کہ متقدمین کے مذاہب بخوبی معلوم ہوں تاکہ کوئی استنباط سلف کے اقوال سے خارج ہو کر اجماع امت کا مخالف نہ ہو جائے۔‘‘ [عقد الجيد فى أحكام الاجتهاد والتقليد، ص: 36] ]
 
Top