• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

فہم سلف کی ضرورت

شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
➌ جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی (1292-1352 ھ) کہتے ہیں:
’’ قرآن کریم کی تقریر کو سمجھنے کا سب سے زیادہ قابل اعتماد راستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور صحابہ و تابعین کا تعامل ہے۔‘‘
➍ جناب شبیر احمد عثمانی، دیوبندی فلسفی (م: 1369 ھ) لکھتے ہیں:
تمسك بالقرآن (قرآن کریم کو لازم پکڑنے) کا یہ مطلب نہیں کہ قرآن کو اپنی آراء و اہوا کا تختہ مشق بنا لیا جائے، بلکہ قرآن کریم کا مطلب وہ ہی معتبر ہو گا، جو احادیث صحیحہ اور سلف صالحین کی متفقہ تصریحات کے خلاف نہ ہو۔‘‘ [تفسير عثمائي، مسل:81، تحت سورۂ بقره:107]
 
شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
➎ حافظ محمد ادریس کاندھلوی، دیوبندی (م: 1394 ھ) لکھتے ہیں:
’’ اس لیے کتاب و سنت کا مفہوم اور جو علوم کتاب و سنت سے ماخوذ اور مستفاد ہوں گے، وہ وہی ہوں گے جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھے ہیں۔ ہر بدعتی اور گمراہ اپنے فاسد عقائد کو اپنے زعم اور خیال میں کتاب و سنت ہی سے ماخوذ ہونے کا مدعی ہے، لہٰذا کتاب و سنت کے وہی معانی اور مفاہیم معتبر ہوں گے، جو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سمجھے ہیں۔ اس کے خلاف کسی مفہوم کا اعتبار نہ ہو گا۔ جو شخص صحابہ کرام کے خلاف کتاب و سنت کا کوئی مفہوم بیان کرے، بس یہی اس کے گمراہ اور بے عقل ہونے کی دلیل ہے۔ اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہیں سمجھے تو یہ نیم عربی داں اور یہ نیم انگریزی خواں کہاں سے سمجھ گیا؟ یہ نیم کی قید اس لیے لگائی کہ پورا عربی داں تو وہی سمجھے گا، جو صحابہ و تابعین اور سلف صالحین نے سمجھا اور پورا انگریزی داں جو عربی سے بالکل بے خبر ہو گا، سو اگر وہ عاقل اور دانا ہو گا تو وہ کتاب و سنت کے بارے میں کچھ لب کشائی نہ کرے گا۔ اس لیے کہ عاقل اور دانا اس کتاب کے مطلب بیان کرنے پر کبھی جرات نہیں کر سکتا، جس کتاب کی وہ زبان نہ جانتا ہو۔ جس طرح ایک عربی زبان کا فاضل اور ادیب انگریزی قانون کی شرح کے بارے میں لب کشائی نہیں کر سکتا، اسی طرح ایک انگریزی داں قرآن و حدیث کی تفسیر پر لب کشائی نہیں کر سکتا اور محض ترجمہ دیکھ کر اپنے کو قانون داں سمجھنا بھی نادان ہونے کی دلیل ہے۔‘‘ [عقائد اسلام ص:166]

◈ نیز لکھتے ہیں:
’’ یہ فرقے دھوکا دینے کے لیے اسلام کا اور اللہ کا اور اس کے رسول کا نام لیتے ہیں اور آیات اور احادیث کے وہ معنی بیان کرتے ہیں جو کہ صحابہ کرام اور تابعین اور امت کے علمائے ربانیین کے سمجھے ہوئے کے بالکل برعکس ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ دین وہ ہے جو صحابہ کرام نے سمجھا اور جو اس کے خلاف ہے، وہ کفر اور گمراہی ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے دھوکے میں نہ آئیں۔‘‘ [عقائد اسلام ص:183]
 
شمولیت
جنوری 22، 2012
پیغامات
1,129
ری ایکشن اسکور
1,052
پوائنٹ
234
➏ جناب سرفراز خان صفدر دیوبندی حیاتی (1914-2009 ء) لکھتے ہیں :
’’ اگر انصاف، خدا خوفی اور دیانت کے ساتھ اس بات پر غور کر لیا جائے کہ آخر یہی قرآن و حدیث حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام اور ائمہ دین و برزگان صالحین کے سامنے بھی تھے۔ ان کا جو مطلب و معنی اور جو تفسیر و مراد انہوں نے سمجھی، وہی حق اور صواب ہے، باقی سب غلط اور باطل ہے۔ پس عوام کا یہ کام ہے کہ ہر باطل پرست اور خواہش زدہ سے یہ سوال کریں کہ فلاں آیت اور فلاں حدیث کی جو مراد تم بیان کر رہے ہو، آیا یہ سلف صالحین سے ثابت ہے؟ اگر ہے تو صحیح و صریح حوالہ بتاؤ۔ چشمِ ماروشن، دلِ ماشاد۔ ورنہ یہ مراد جو تم بیان کرتے ہو، اس قابل ہے کہ اسے؛ اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں! عوام اس قائدہ اور ضابطہ کے بغیر اور کسی طرف نہ جائیں، پھر دیکھیں کہ حق کس کے ساتھ ہے؟ اور قرآن و حدیث کی مراد کون سی صحیح ہے؟ اگر وہ ایسا نہ کریں گے اور اس میں کوتاہی کریں گے تو ضروریات دین میں غلطی کی وجہ سے کبھی عنداللہ سرخرو نہیں ہو سکیں گے اور اپنی طاقت اور وسعت صرف نہ کرنے کی وجہ سے جو گناہ قرآن و حدیث کی تحریف کرنے والوں کو ملے گا، اس میں ماننے والے بھی برابر کے شریک ہوں گے۔‘‘ [تنقيد متين، ص:180]

◈ نیز لکھتے ہیں:
’’بریلوی حضرات کو ٹھنڈے دل سے غور کر لینا چاہیے کہ جو عقائد اور اعمال انہوں نے اختیار کر رکھے ہیں اور دن رات جن کی نشر و اشاعت میں وہ کوشاں ہیں، آیا یہ عقائد و اعمال حضرات صحابہ کرا رضی اللہ عنہم و تابعین اور سلف صالحین کے تھے؟ اگر تھے تو نجات انہی میں ہے اور یہ عقائد و اعمال ان کے نہ تھے تو اپنی نجات کی فکر کریں، ایسا نہ ہو کہ کل پچھتانا پڑے۔ ؂ فریب خود کو دئیے اور خود ہی پچھتائے! [تنقيد متين، ص:180]
 
Top