• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قاضی کا فیصلہ باطناً لاگو نہیں ہوتا!

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
1383238_637390029662603_5364105701260314288_n.jpg
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، حالانکہ میں ایک انسان ہوں، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے دلیل دینے میں چرب زبان ہو ۔ میں تو صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں، اب اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اس کو جہنم کا ٹکڑا دلا رہا ہوں​

(صحیح بخاری ، کتاب الحیل : 6967 ،،نسائی، تاب آداب القضاة : 5422 (5424))
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
10354757_637378539663752_308238001176333076_n.jpg
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو آدمی کسی مسلمان آدمی کا حق قسم کھا کر مار لے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم واجب کر دے گا اور جنت اس پر حرام کر دے گا، ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اگر چہ وہ معمولی سی چیز ہو؟ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :(ہاں) اگرچہ وہ پیلو کی ایک ڈال (ٹہنی) ہو

(صحیح مسلم ، کتاب الایمان : 137 (252))
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,357
پوائنٹ
800
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:​
تم لوگ میرے پاس جھگڑے لے کر آتے ہو، حالانکہ میں ایک انسان ہوں، اور ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی دوسرے سے دلیل دینے میں چرب زبان ہو ۔ میں تو صرف اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں، اب اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اس کو جہنم کا ٹکڑا دلا رہا ہوں​
(صحیح بخاری ، کتاب الحیل : 6967 ،،نسائی، تاب آداب القضاة : 5422 (5424))​
اس حدیث مبارکہ سے صراحت سے واضح ہوجاتا ہے کہ نبی کریمﷺ کا ظاہر (کسی کی چرب زبانی یا تیزی وغیرہ) کو دیکھ کر کیا گیا فیصلہ صرف ظاہرا ہی لاگو ہوتا ہے باطناً نہیں۔ حقیقت میں وہ چیز اگلے کی نہیں بن جاتی۔

اس حدیث مبارکہ کے صریح خلاف

احناف کے نزدیک کسی امتی قاضی کا فیصلہ باطناً بھی لاگو ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص جان بوجھ کر جھوٹے گواہ بھگتا کر کسی کی زمین کو اپنا ثابت کردے اور قاضی ظاہر کو دیکھ کر، اس کی چرب زبانی وغیرہ کو دیکھ کر اس کے حق میں فیصلہ کردے تو احناف کے نزدیک وہ فیصلہ باطنا بھی لاگو ہو جاتا ہے۔ اس شخص کیلئے اس زمین کو اپنے استعمال میں لانا بالکل جائز ہے۔

امام بخاری نے کتاب الحیل میں اسی کا شدت سے ردّ کیا ہے، اسی لئے احناف امام بخاری سے چڑتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں!
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
اس حدیث مبارکہ سے صراحت سے واضح ہوجاتا ہے کہ نبی کریمﷺ کا ظاہر (کسی کی چرب زبانی یا تیزی وغیرہ) کو دیکھ کر کیا گیا فیصلہ صرف ظاہرا ہی لاگو ہوتا ہے باطناً نہیں۔ حقیقت میں وہ چیز اگلے کی نہیں بن جاتی۔

اس حدیث مبارکہ کے صریح خلاف

احناف کے نزدیک کسی امتی قاضی کا فیصلہ باطناً بھی لاگو ہوتا ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص جان بوجھ کر جھوٹے گواہ بھگتا کر کسی کی زمین کو اپنا ثابت کردے اور قاضی ظاہر کو دیکھ کر، اس کی چرب زبانی وغیرہ کو دیکھ کر اس کے حق میں فیصلہ کردے تو احناف کے نزدیک وہ فیصلہ باطنا بھی لاگو ہو جاتا ہے۔ اس شخص کیلئے اس زمین کو اپنے استعمال میں لانا بالکل جائز ہے۔

امام بخاری نے کتاب الحیل میں اسی کا شدت سے ردّ کیا ہے، اسی لئے احناف امام بخاری سے چڑتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب وسنت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں!
آمین یا رب العالمین
 
Top