• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قانونِ توہين رسالت ميں ترميم كے مضمرات

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
قانونِ توہين رسالت ميں ترميم كے مضمرات

محمد اسماعيل قريشى، ايڈووكيٹ​
مملكت ِ خداداد ِ پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف نے ٢١/ مئى ٢٠٠٠ء ميں اعلان كيا تها كہ توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے اس كے ضابطہ كار (Procedural Law) كو تبديل كرنا چاہئے- راقم نے اس تجويز سے اختلاف كرتے ہوئے اس پر گہرى تشويش كا اظہار كيا تها كہ موجودہ طريق كار ميں تبديلى توہين رسالت كے قانون كو غير موٴثر بنانے كى ناروا كوشش ہے- شروع ہى سے اس كے پس پردہ امريكہ اور يورپ كى متعصب عيسائى ذہنيت كار فرما رہى ہے اور ايسى كوشش قومى اشتعال انگيزى كا باعث ہوگى- چنانچہ يہى ہواكہ پاكستان كى دينى اور سياسى جماعتوں نے اس ترميم كى مخالفت كرتے ہوئے اس كے خلاف ملك بهر ميں احتجاجى مظاہرے شروع كرديے۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اس دوران جنرل موصوف بيرون ملك دوروں پر تهے، وہاں اُنہيں اس بگڑتى ہوئى صورتِ حال سے آگاہ كيا گيا، اس لئے انہوں نے اشك آباد سے واپسى پر ايئرپورٹ ہى سے قوم سے خطاب كرتے ہوئے بتلايا كہ يہ حكومت كے چند اہل كاروں كى طرف سے صرف ايك تجويز تهى جو نادانستہ طور پر پيش ہوگئى- قوم اگر اسے ناپسند كرتى ہے تو ہم اس قانونِ رسالت ميں يا اس كے طريق كار ميں كسى قسم كى تبديلى كيسے كرسكتے ہيں؟ چنانچہ يہ تجويز فورى طور پر واپس لے لى گئى۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
امريكہ اور يورپ يہ جانتے ہوئے بهى كہ جنرل مشرف نے يہ بات مصلحتاً كہہ دى ہے، اسے بهى وہ برداشت نہ كرسكے- امريكہ كى نيوكون (نئى قدامت پرست عيسائى) گورنمنٹ كے اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ نے ڈيموكريسى اور ہيومن رائٹس بيورو كے حوالے سے سال ٢٠٠٣ء ميں جوانٹرنيشنل رپورٹ تيار كى، سال ٢٠٠٤ء ميں پورى طرح منظر عام پر آئى ہے۔ اس ميں پاكستان كے قانونِ توہين رسالت كا سختى سے محاسبہ كيا گيا ہے كہ اس كى وجہ سے مذہبى آزادى اور حقوقِ انسانى سلب ہورہے ہيں- ان كى زندگى ،جان اور مال پاكستان ميں غير محفوظ ہيں۔ اگرچہ ساتھ ہى يہ بهى كہا گيا ہے كہ اس قانون كے سال ١٩٩١ء سے نافذ ہونے كے بعد سے اب تك ہائى كورٹ، فيڈرل شريعت كورٹ اور سپريم كورٹ سے كسى شخص كو سزائے موت نہيں دى گئى اور نہ كوئى سزا ياب ہوا ہے- ليكن اس قانون كے تحت ملك بهر ميں٦٧ مقدمات زيرسماعت ہيں- يہ صورتِ حال بهى رپورٹ ميں تشويش ناك بتلائى گئى ہے۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
مشرف حكومت كو ہمہ مقتدر صدر امريكہ جارج ڈبليو بش كى دست ِراست مس كنڈو ليزا رائس نے پہلے ہى وارننگ دى ہوئى ہے كہ اگر پاكستان نے امريكن گورنمنٹ كے خلافِ مرضى كوئى كام كيا تو امريكى ضرب المثل كے مطابق گاجر كى تواضع ختم ہوگى، پهر چهڑى (Stick) سے اسے راہ راست پر لايا جائے گا- چونكہ صدر مشرف امن پسند اور صلح جو جنرل ہيں، ا س لئے انہوں نے امريكہ كى اس رپورٹ يا انتباہ پر نہايت پهرتى سے يوٹرن ليا اور توہين رسالت كے قانون كے اپنے پہلے بيان كے خلاف اُلٹى زقند لگائى۔ ايسى زقند وہ پہلے بهى كنڈوليزارائس كے پيش رو كولن پاول كى ايك كال پر لگا چكے ہيں- اس مرتبہ كے يوٹرن پرمئى ٢٠٠٤ء ميں جنرل صاحب نے ضابطہ كار سے بهى آگے بڑھ كر قانونِ توہين رسالت پرنظرثانى كا اعلان داغ ديا- اس پرمسلمان عوام، ان كے قائدين اور دينى رہنما حكومت كى مخالفت پر كمربستہ ہوگئے۔ دوسرى طرف وزيروں اور مشيروں كى فوج ظفر موج بهى ميدان ميں اُتر گئى۔ سيكولر دستے تو پہلے ہى سے ان كى مدد كے لئے موجود تهے مگر مصلحت ِوقت كے تقاضوں كے پيش نظر يہ تجويز سامنے لائى گئى كہ تمام اسلامى قوانين پر نظرثانى كى بجائے قانونِ قصاص و ديت كى دفعہ ٢٩٩ ميں ترميم كى جائے۔ ترميم كا يہ پرائيويٹ بل قومى اسمبلى ميں پيش كيا گيا۔ پہلے اس ميں قانونِ توہين رسالت كى ترميم شامل نہ تهى۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
يہاں اس بات كا ذكر بے محل نہ ہوگا كہ پاكستان كے ايك غير سركارى ٹى وى چينل نے ١٣/ مئى ٢٠٠٤ء كے ايك معروضى پروگرام ميں ’توہين رسالت ميں ترميم‘ كے اہم موضوع پر راقم كو اظہارِ خيال كى دعو ت دى- اس مذاكرے ميں راقم كے ساتھ وزيرمذہبى اُمور جناب اعجاز الحق، ركن قومى اسمبلى (پى پى پى) مسز فوزيہ وہاب اور مسٹر محبوب صدا ڈائريكٹر كرسچين سٹڈيز شريك ِگفتگو تهے- اس ميں يہ امور زير بحث آئے :
كيا توہين رسالت كے قانون ميں طريق كار كى تبديلى سے اس قانون كا غلط استعمال رك جائے گا؟ كيا سزائے موت كا خاتمہ فيڈرل شريعت كورٹ كے فيصلہ كى خلاف ورزى ہوگا؟ اور كيا حكومت امريكہ كے دباوٴ پر قانونِ توہين رسالت تبديل كرنا چاہتى ہے؟
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
مسز فوزيہ وہاب ايم اين اے اور كرسچين ليڈر كى رائے ميں توہين رسالت كے قانون كو ختم كيا جانا چاہئے- پاكستان كى باختيار پارليمنٹ كو ايسا كرنے كا حق حاصل ہے- مسز فوزيہ وہاب نے متبادل تجويز بهى پيش كى جس كے مطابق اس جرم كى سزا زيادہ سے زيادہ سزا سات سال ہونا چاہئے۔ جب ان سے پوچها گيا كہ تنسيخ يا ترميم كے مطالبہ كا كيا جواز ہے؟ فرمايا: قرآن عفو اور درگزر كا حكم ديتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ايذا دينے والے اور ان كى توہين كرنے والوں كو معاف كرديا تها- مزيد دريافت پر كہ كيا وہ قرآن كى رو سے يا مدينہ ميں اسلامى رياست كے قيام كے بعد كا كوئى ايسا واقعہ بتلا سكتى ہيں جب گستاخِ رسول ﷺ مجرم كو معاف كيا گيا ہے- اس پر اُنہوں نے كہا كہ اس بارے ميں ان كا مطالعہ اتنا وسيع نہيں كہ اس وقت اس كا جواب دے سكيں۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
كرسچين كميونٹى كے نمائندہ ليڈر مسٹر محبوب صدا كى توجہ اس طرف دلائى گئى كہ بائبل ميں پيغمبروں كى توہين كى سزا موت ہے۔ خود امريكہ اور برطانيہ ميں جو سيكولر ہونے كے دعويدار ہيں وہاں بهى سزائے موت موقوف ہونے كے بعد توہين مسيح كى سزا عمر قيد كردى گئى ہے۔ اس پر موصوف نے جواب ديا كہ بائبل كى سزا يا اس كا قانون دنيا ميں كہيں لاگو نہيں۔ ہمارا امريكہ اور يورپ سے كوئى تعلق نہيں، ہم يہاں پاكستان كى بات كررہے ہيں كہ اس قانون كے غلط استعمال سے يہاں كى اقليتيں خوف زدہ اور غير محفوظ ہيں۔ مگر انہوں نے بهى يہ تسليم كيا كہ پاكستان ميں ابهى تك كسى كو توہين رسالت كے تحت سزا نہيں دى گئى۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
وزير مذہبى اُمور جناب اعجاز الحق نے برملا اعتراف كيا كہ پارليمنٹ كو توہين رسالت كى سزا ميں كمى يا تنسيخ كا كوئى اختيار حاصل نہيں اور نہ ہى حكومت كا ايسا كوئى ارادہ ہے۔ ليكن چونكہ اس قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے حكومت چاہتى ہے كہ اصل قانون ميں كسى تبديلى كے بغير صرف طريق كار يعنى ’پروسيجر‘ ميں تبديلى كى جائے-كيسى تبديلى؟ كے جواب ميں انہوں نے بتلايا كہ اگر كسى نے توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال كيا يا غلط مقدمہ درج كرايا تو اسے سزاے موت دى جائے۔
اس پر ميں نے ہارون الرشيد كے دور كا مشہور واقعہ سنايا كہ متنبى اس كے دربار كا بہت بڑا قصيدہ گو شاعر تها- مگر تها بلا نوش رند بهى- اس كے دورِ حكومت ميں ايك محتسب اعلىٰ (Ombudsman) كا تقرر ہوا جو نشہ كى حالت ميں پكڑے جانے والے شخص كو موقع پر ہى سزا ديا كرتا تها- اس پر متنبى نے خليفہ كو كو لكھ بهيجا كہ ان حالات ميں وہ دربار ميں حاضر ہونے سے قاصر ہے۔ ہارون الرشيد كے لئے مشكل يہ آن پڑى كہ شراب نوشى كى سزاے حد كو معطل كرنا اس كے بس كى بات نہ تهى- دوسرى طرف اس كا دربارى قصيدہ گو ايسے سخت گر محتسب كى موجودگى ميں اس تك پہنچ نہيں سكتا تها۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
بادشاہ كى اس پريشانى كو دور كرنے كے لئے اس كے وزير انِ باتدبير نے اسے مشورہ ديا كہ اگر قانون كے طريق كار ميں تبديلى كى جائے تو يہ پيچيدہ مسئلہ حل ہوسكتا ہے وہ اس طرح كہ شراب نوشى كى ٨٠ كوڑوں والى سزا بهرصورت برقرار رہے گى ليكن طريق كار ميں ترميم كركے شرابى كے خلاف رپورٹ كرنے والے كو ١٠٠ كوڑے مارے جائيں، مگر اس زمانہ كے لوگ معلوم ہوتا ہے كچھ انتہا پسند تهے جو اس ترميم كے خلاف بهى اُٹھ كهڑے ہوئے جس پر حكمرانِ وقت كو يہ ترميم واپس لينا پڑى۔
اس مذاكرے ميں فيصلہ كن مرحلہ اس وقت پيش آيا جب وزير مذہبى اُمور سے پوچها گياكہ اگر بدنام زمانہ رشدى ان كے سامنے آجائے تو وہ كيا كريں گے؟ تو انہوں نے وہى جواب ديا جومسلمانوں كى قومى نفسيات كى ترجمانى كرتا ہے۔ يہ ان كے لاشعور ميں دبى ہوئى خواہش تهى جو ’شيطانى آيات‘ كے مصنف كا نام سنتے ہى بے اختيار ان كى زبان پر آگئى۔
 

ساجد

رکن ادارہ محدث
شمولیت
مارچ 02، 2011
پیغامات
6,602
ری ایکشن اسکور
9,379
پوائنٹ
635
اب رہ گيا يہ سوا ل كہ كيا توہين رسالت كے قانون كے طريق كار ميں ترميم سے اس قانون كا غلط استعمال رُك جائے گا؟
موجودہ طريق كار ميں ترميم سے پہلے ضابطہ فوجدارى كى دفعہ ١٥٦ كى رو سے پوليس اسٹيشن كے انچارج افسر كو دوسرے قابل دست اندازى پوليس جرائم كى طرح توہين رسالت كے جرم كى اطلاع پر ملزم كو گرفتار كركے تفتيش كى كارروائى شروع ہوجاتى- اس طريقہ كار سے ملزم پوليس كى حراست ميں آجانے سے قاتلانہ حملہ يا وارداتِ قتل سے محفوظ ہوجاتا ہے- علاقہ يا ملك سے فرار ہونے كے راستے بند ہوجاتے- دفعہ ١٥٦/اے كے ضابطہ فوجدارى ميں اضافى ترميم كے ذريعہ توہين رسالت كے جرم ٢٩٥/سى تعزيرات كى تفتيش كا اختيار صر ف اعلىٰ پوليس آفيسر (ايس پى) كو ديا گيا ہے- ظاہر ہے كہ ايس پى صاحبان كواپنے ہيڈ كوارٹر آفس سے عليحدہ كركے ملك بهر كے شہروں اور ديہاتوں كے تهانوں كے اندر لاكر تو بٹهايا نہيں جاسكتا- جبكہ مدعى اپنے قريبى تهانے ميں براہ راست شكايت پيش كرسكتا ہے- ويسے بهى ايس پى حضرات صدر، گورنر، وزيروں، مشيروں اور افسرانِ سركار كے جان و مال كے تحفظ كے لئے شب و روز مصروفِ كار ہوتے ہيں- ايسے ہمہ گير مصروفِ اعلىٰ پوليس افسروں كو توہين رسالت كے ملزموں كے خلاف رپورٹ كى انكوائرى كى فرصت كب ہوگى- توہين رسالت كا مدعى جس كے دل ميں رسول كريم ﷺ كى عزت اپنى جان ومال اور ہر شے سے بڑھ كر ہوتى ہے، ايس پى صاحبان كى تلاش كى تگ و دو كے بعدان كے دفتروں كے چكر لگاتے پهرنے كے لئے صبر ايوب كہاں سے لائے گا- تاريخ كے واقعات كا تسلسل بتلاتا ہے كہ اگر توہين رسالت كا قانون موجود نہ ہو يا اسے غير موٴثر كرديا گيا ہو تو پهر جس مسلمان كے سامنے اس گهناؤنے جرم كا ارتكاب ہوگا، وہ طريق كار كے طويل، صبر آزما چكروں كو چهوڑ كر قانون كو اپنے ہاتھ ميں لے گا اور مجرم كوموقع واردات پر ہى سزا دے گا جس سے قانون كا مقصد ہى فوت ہوجائے گا۔
 
Top