• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم قبائل اور افراد کو اسلام کی دعوت

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قبائل اور افراد کو اسلام کی دعوت

ذی قعدہ ۱۰ نبوت (اواخر جون یا اوائل جولائی ۶۱۹ء) میں رسول اللہ ﷺ طائف سے مکہ تشریف لائے، اور یہاں افراد اور قبائل کو پھر سے اسلام کی دعوت دینی شروع کی۔ چونکہ موسم حج قریب تھا اس لیے فریضۂ حج کی ادائیگی، اپنے منافع اور اللہ کی یاد کے لیے دور و نزدیک ہر جگہ سے پیدل اور سواروں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس موقعے کو غنیمت سمجھا اور ایک ایک قبیلے کے پاس جا کر اسے اسلام کی دعوت دی، جیسا کہ نبوت کے چوتھے سال سے آپ ﷺ کا معمول تھا۔ البتہ اس دسویں سال سے آپ نے یہ بھی چاہا کہ وہ آپ کو ٹھکانا فراہم کریں۔ آپ کی مدد کریں اور آپ کی حفاظت کریں یہاں تک کہ اللہ کی دی ہوئی بات کی آپ تبلیغ کر سکیں۔
وہ قبائل جنہیں اسلام کی دعوت دی گئی:
امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ جن قبائل کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو ان پر پیش کیا ان میں حسب ذیل قبیلوں کے نام ہمیں بتائے گئے ہیں:
بنو عامر بن صعصعہ، محارب بن خصفہ، فزارہ، غسان، مرہ، حنیفہ، سلیم، عبس، بنو نضر، بنو البکاء، کندہ، کلب، حارث بن کعب، عذرہ، حضارمہ ...لیکن ان میں سے کسی نے بھی اسلام قبول نہ کیا۔ (ابن سعد ۲/۲۱۶)
واضح رہے کہ امام زہری کے ذکر کردہ ان سارے قبائل پر ایک ہی سال یا ایک ہی موسم حج میں اسلام پیش نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ نبوت کے چوتھے سال سے ہجرت سے پہلے کے آخری موسم حج تک دس سالہ مدت کے دوران پیش کیا گیا تھا اور کسی معین سال میں کسی معین قبیلے پر اسلام کی پیشی کی تعیین نہیں ہو سکتی، البتہ بیشتر قبائل کے پاس آپ دسویں سال تشریف لے گئے۔
ابن اسحاق نے بعض قبائل پر اسلام کی پیشی اور ان کے جواب کی کیفیت بھی ذکر کی ہے۔ ذیل میں مختصرا ان کا بیان نقل کیا جا رہا ہے۔
بنو کلب:... نبی ﷺ اس قبیلے کی ایک شاخ بنو عبد اللہ کے پاس تشریف لے گئے، انہیں اللہ کی طرف بلایا، اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا۔ باتوں باتوں میں یہ بھی فرمایا کہ اے بنو عبد اللہ! اللہ نے تمہارے جد اعلیٰ کا نام بہت اچھا رکھا تھا لیکن اس قبیلے نے آپ کی دعوت قبول نہ کی۔
بنو حنیفہ:... آپ ﷺ ان کے ڈیرے پر تشریف لے گئے، انہیں اللہ کی طرف بلایا اور اپنے آپ کو ان
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پر پیش کیا لیکن ان کے جیسا برا جواب اہلِ عرب میں سے کسی نے بھی نہ دیا۔
عامر بن صعصعہ :... انہیں بھی آپ ﷺ نے اللہ کی طرف دعوت دی، اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا۔ جواب میں ان کے ایک آدمی بحیرہ بن فراس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں قریش کے اس جوان کو لے لوں تو اس کے ذریعے پورے عرب کو کھا جاؤں گا۔ پھر اس نے دریافت کیا کہ اچھا یہ بتایئے اگر ہم آپ (ﷺ) سے آپ کے اس دین پر بیعت کر لیں، پھر اللہ آپ کو مخالفین غلبہ عطا فرمائے تو کیا آپ کے بعد زمام کار ہمارے ہاتھ میں ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: زمام کار تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جہاں چاہے گا رکھے گا۔ اس پر اس شخص نے کہا: خوب! آپ (ﷺ) کی حفاظت میں ہمارا سینہ اہل عرب کے نشانے پر رہے، لیکن جب اللہ آپ (ﷺ) کو غلبہ عطا فرمائے تو زمام کار کسی اور کے ہاتھ میں ہو؟ ہمیں آپ (ﷺ) کے دین کی ضرورت نہیں۔ غرض انہوں نے انکار کر دیا۔
اس کے بعد جب قبیلہ بنو عامر اپنے علاقے میں واپس گیا تو اپنے ایک بوڑھے آدمی کو...جو کبر سنی کے باعث حج میں شریک نہ ہو سکا تھا...سارا ماجرا سنایا اور بتایا کہ ہمارے پاس قبیلۂ قریش کے خاندان بنوعبد المطلب کا ایک جوان آیا تھا جس کا خیال تھا کہ وہ نبی ہے۔ اس نے ہمیں دعوت دی کہ ہم اس کی حفاظت کریں، اس کا ساتھ دیں اور اپنے علاقے میں لے آئیں۔ یہ سن کر اس بڈھے نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا اور بولا: اے بنو عامر! کیا اب اس کی تلافی کی کوئی سبیل ہے؟ اور کیا اس ازدست رفتہ کو ڈھونڈھا جا سکتا ہے؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں فلاں کی جان ہے! کسی اسماعیلی نے کبھی اس (نبوت) کا جھوٹا دعویٰ نہیں کیا، یہ یقینا حق ہے، آخر تمہاری عقل کہاں چلی گئی تھی؟ (ابن ہشام ۱/۴۲۴، ۴۲۵)
ایمان کی شعاعیں مکہ سے باہر:
جس طرح رسول اللہ ﷺ نے قبائل اور وفود پر اسلام پیش کیا، اسی طرح افراد اور اشخاص کو بھی اسلام کی دعوت دی، اور بعض نے اچھا جواب بھی دیا۔ پھر اس موسم حج کے کچھ ہی عرصے بعد کئی افراد نے اسلام قبول کیا۔ ذیل میں ان کی مختصر رو داد پیش کی جا رہی ہے :
سوید بن صامت :... یہ شاعر تھے۔ گہری سوجھ بوجھ کے حامل اور یثرب کے باشندے، ان کی پختگی، شعر گوئی اور شرف و نسب کی وجہ سے ان کی قوم نے انہیں کامل کا خطاب دے رکھا تھا۔ یہ حج یا عمرہ کے لیے مکہ تشریف لائے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ کہنے لگے: غالباً آپ (ﷺ) کے پاس جو کچھ ہے وہ ویسا ہی ہے جیسا میرے پاس ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس کیا ہے؟ سوید نے کہا: حکمتِ لقمان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پیش کرو۔ انہوں نے پیش کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کلا م یقینا اچھا ہے، لیکن میرے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے بھی اچھا ہے۔ وہ قرآن ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل کیا ہے۔ وہ ہدایت اور نور ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے انہیں قرآن پڑھ کر سنایا اور اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور بولے: یہ تو بہت ہی اچھا کلام ہے۔ اس کے بعد وہ مدینہ پلٹ کر آئے ہی تھے کہ جنگ بُعاث سے قبل اوس و خزرج کی ایک جنگ میں قتل کر دیئے گئے۔ (الاستیعاب ۲/۶۷۷، اسد الغابہ ۲/۳۳۷) اغلب یہ ہے کہ انہوں نے ۱۱ نبوی کے آغاز میں اسلام قبول کیا تھا۔
ایاس بن معاذ : ...یہ بھی یثرب کے باشندے تھے اور نوخیز جوان ۱۱ نبوت میں جنگ بُعاث سے کچھ پہلے اوس کا ایک وفد خزرج کے خلاف قریش سے حلف و تعاون کی تلاش میں مکہ آیا تھا۔ آپ بھی اسی کے ہمراہ تشریف لائے تھے۔ اس وقت یثرب میں ان دونوں قبیلوں کے درمیان عداوت کی آگ بھڑ ک رہی تھی اور اوس کی تعداد خزرج سے کم تھی۔ رسول اللہ ﷺ کو وفد کی آمد کا علم ہوا تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے درمیان بیٹھ کو یوں خطاب فرمایا: آپ لوگ جس مقصد کے لیے تشریف لائے ہیں کیا اس سے بہتر چیز قبول کر سکتے ہیں؟ ان سب نے کہا: وہ کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ نے مجھے اپنے بندوں کے پاس اس بات کی دعوت دینے کے لیے بھیجا ہے کہ وہ اللہ عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔ اللہ نے مجھ پر کتاب بھی اتاری ہے، پھر آپ ﷺ نے اسلام کا ذکر کیا اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔
ایاس بن معاذ بولے: اے قوم یہ اللہ کی قسم! اس سے بہتر ہے جس کے لیے آپ لوگ یہاں تشریف لائے ہیں، لیکن وفد کے ایک رکن ابو الحسیر انس بن رافع نے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر ایاس کے منہ پر دے ماری اور بولا: یہ چھوڑو! میری عمر کی قسم! یہاں ہم اس کے بجائے دوسرے ہی مقصد سے آئے ہیں۔ ایاس نے خاموشی اختیار کر لی اور رسول اللہ ﷺ بھی اٹھ گئے۔ وفد قریش کے ساتھ حلف و تعاون کا معاہدہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا اور یوں ہی ناکام مدینہ واپس ہو گیا۔
مدینہ پلٹنے کے تھوڑے ہی دن بعد ایاس انتقال کر گئے۔ وہ اپنی وفات کے وقت تہلیل و تکبیر اور حمد و تسبیح کر رہے تھے، اس لیے لوگوں کو یقین ہے کہ ان کی وفات اسلام پر ہوئی۔ (ابن ہشام ۱/۴۲۷، ۴۲۸، مسند احمد ۵/۴۲۷)
ابو ذر غفاری :... یہ یثرب کے اطراف میں سکونت پذیر تھے۔ جب سوید بن صامت اور ایاس بن معاذ کے ذریعے یثرب میں رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی خبر پہنچی تو غالباً یہ خبر ابو ذرؓ کے کان سے بھی ٹکرائی اور یہی ان کے اسلام لانے کا سبب بنی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ان کے اسلام لانے کا واقعہ صحیح بخاری میں تفصیل سے مروی ہے۔ سیّدنا ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ ابو ذرؓ نے فرمایا: میں قبیلہ غفار کا ایک آدمی تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ مکے میں ایک آدمی نمودار ہوا ہے جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا: تم اس آدمی کے پاس جاؤ، اس سے بات کرو اور میرے پاس اس کی خبر لاؤ۔ وہ گیا، ملاقات کی، اور واپس آیا۔ میں نے پوچھا: کیا خبر لائے ہو؟ بولا: اللہ کی قسم! میں نے ایک ایسا آدمی دیکھا ہے جو بھلائی کا حکم دیتا ہے، اور برائی سے روکتا ہے۔ میں نے کہا: تم نے تشفی بخش خبر نہیں دی۔ آخر میں نے خود توشہ دان اور ڈنڈا اٹھایا اور مکہ کے لیے چل پڑا۔ (وہاں پہنچ تو گیا) لیکن آپ ﷺ کو پہچانتا نہ تھا اور یہ بھی گوارا نہ تھا کہ آپ کے متعلق کسی سے پوچھوں۔چنانچہ میں زمزم کا پانی پیتا اور مسجد حرام میں پڑا رہتا۔ آخر میرے پاس سے علیؓ کا گزر ہوا۔ کہنے لگے: آدمی اجنبی معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اچھا تو گھر چلو۔ میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ نہ وہ مجھ سے کچھ پوچھ رہے تھے نہ میں ان سے کچھ پوچھ رہا تھا اور نہ انہیں کچھ بتا ہی رہا تھا۔
صبح ہوئی تو میں اس ارادے سے پھر مسجد حرام گیا کہ آپ ﷺ کے متعلق دریافت کروں، لیکن کوئی نہ تھا جو مجھے آپ ﷺ کے متعلق کچھ بتاتا۔ آخر میرے پاس پھر حضرت علیؓ گزرے (دیکھ کر) بولے: اس آدمی کوابھی اپنا ٹھکانہ معلوم نہ ہو سکا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: اچھا تو میرے ساتھ چلو۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: اچھا تمہارا معاملہ کیا ہے؟ اور تم کیوں اس شہر میں آئے ہو؟ میں نے کہا: آپ راز داری سے کام لیں تو بتاؤں۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گا۔ میں نے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ یہاں ایک آدمی نمودار ہوا ہے، جو اپنے آپ کو اللہ کا نبی بتاتا ہے، میں نے اپنے بھائی کو بھیجا کہ وہ بات کر کے آئے مگراس نے پلٹ کر کوئی تشفی بخش بات نہ بتلائی۔ اس لیے میں نے سوچا کہ خود ہی ملاقات کر لوں۔ حضرت علیؓ نے کہا: بھئی تم صحیح جگہ پہنچے، دیکھو میرا رخ انھی کی طرف ہے۔ جہاں میں گھسوں وہاں تم بھی گھس جانا اور ہاں! اگر میں کسی ایسے شخص کو دیکھوں گا جو تمہارے لیے خطرہ ہے تو دیوار کی طرف اس طرح جا رہوں گا گویا اپنا جوتا ٹھیک کر رہا ہوں، لیکن تم راستہ چلتے رہنا۔ اس کے بعد حضرت علیؓ روانہ ہوئے اور میں بھی ساتھ ساتھ چل پڑا۔ یہاں تک کہ وہ اندر داخل ہوئے، اور میں بھی ان کے ساتھ نبی ﷺ کے پاس جا داخل ہوا اور عرض پر داز ہوا کہ آپ (ﷺ) مجھ پر اسلام پیش کریں۔ آپ ﷺ نے اسلام پیش فرمایا اور میں وہیں مسلمان ہو گیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! اس معاملے کو پس پردہ رکھو اور اپنے علاقے میں واپس چلے جاؤ۔ جب ہمارے ظہور کی خبر ملے تو آ جانا۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں تو ان کے درمیان ببانگ دہل اس کا اعلان کروں گا۔ اس کے بعد میں مسجد الحرام آیا۔ قریش موجود تھے۔ میں نے کہا: قریش کے لوگو! أشہد أن لا إلٰہ إلا اللّٰہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ ''میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔''
لوگوں نے کہا: اٹھو۔ اس بے دین کی خبر لو، لوگ اٹھ پڑے۔ مجھے اس قدر مارا گیا کہ مر جاؤں لیکن حضرت عباسؓ نے مجھے آ بچایا۔ انہوں نے مجھے جھک کر دیکھا، پھر قریش کی طرف پلٹ کر بولے: تمہاری بربادی ہو۔ تم لوگ غفار کے ایک آدمی کو مارے دے رہو؟ حالانکہ تمہاری تجارت گاہ اور گزرگاہ غفار ہی سے ہو کر جاتی ہے۔ اس پر لوگ مجھے چھوڑ کر ہٹ گئے۔ دوسرے دن صبح ہوئی تو میں پھر وہیں گیا اور جو کچھ کل کہا تھا آج پھر کہا اور لوگوں نے پھر کہا: اٹھو! اس بے دین کی خبر لو۔ اس کے بعد پھر میرے ساتھ وہی ہوا جو کل ہو چکا تھا اور آج بھی حضرت عباسؓ ہی نے مجھے آ بچایا، وہ مجھ پر جھکے پھر ویسی ہی بات کہی جیسی کل کہی تھی۔ (صحیح بخاری: باب قصۃ زمزم ۱/۴۹۹، ۵۰۰، باب اسلام أبی ذر ۱/۵۴۴، ۵۴۵)
طفیل بن عمر و دوسی:... یہ شریف انسان شاعر، سوجھ بوجھ کے مالک اور قبیلہ دوس کے سردار تھے۔ ان کے قبیلے کو بعض نواحی یمن میں امارت یا تقریبا امارت حاصل تھی۔ وہ نبوت کے گیارہویں سال مکہ تشریف لائے تو وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اہل مکہ نے ان کا استقبال کیا اور نہایت عزت و احترام سے پیش آئے۔ پھر ان سے عرض پرداز ہوئے کہ اے طفیل! آپ ہمارے شہر تشریف لائے ہیں اور یہ شخص جو ہمارے درمیان ہے اس نے ہمیں سخت پیچیدگی میں پھنسا رکھا ہے۔ ہماری جمعیت بکھیر دی ہے اور ہمارا شیرازہ منتشر کر دیا ہے۔ اس کی بات جادو کا سا اثر رکھتی ہے کہ آدمی اور اس کے باپ کے درمیان اور آدمی اس کے بھائی کے درمیان اور آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان تفرقہ ڈال دیتی ہے۔ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ جس افتاد سے ہم دوچار ہیں کہیں وہ آپ پر اور آپ کی قوم پر بھی نہ آن پڑے۔ لہٰذا آپ اس سے ہرگز گفتگو نہ کریں اور اس کی کوئی چیز نہ سنیں۔
حضرت طفیل ؓ کا ارشاد ہے کہ یہ لوگ مجھے برابر اسی طرح کی باتیں سمجھاتے رہے یہاں تک کہ میں تہیہ نے کر لیا کہ نہ آپ کی کوئی چیز سنوں گا نہ آپ ﷺ سے بات چیت کروں گا۔ حتیٰ کہ جب میں صبح کو مسجد حرام گیا تو کان میں روئی ٹھونس رکھی تھی کہ مبادا آپ ﷺ کی کوئی بات میرے کان میں نہ پڑ جائے، لیکن اللہ کو منظور تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض باتیں مجھے سنا ہی دے۔ چنانچہ میں نے بڑا عمدہ کلام سنا، پھر میں نے اپنے جی میں کہا: ہائے مجھ پر میری ماں کی آہ و فغاں! میں تو واللہ! ایک سوجھ بوجھ رکھنے والا شاعر آدمی ہوں، مجھ پر بھلا برا چھپا نہیں رہ سکتا، پھر کیوں نہ میں اس شخص کی بات سنوں؟ اگر اچھی ہوئی تو قبول کر لوں گا، بری ہوئی تو چھوڑ دوں گا۔ یہ سوچ کر میں رک گیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پلٹے تو میں بھی پیچھے ہو لیا۔ آپ ﷺ اندر داخل ہوئے تو میں بھی داخل ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آمد کا واقعہ اور لوگوں کے خوف دلانے کی کیفیت، پھر کان میں روئی ٹھونسنے، اور اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن لینے کی تفصیلات بتائیں۔ پھر عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بات پیش کیجیے۔ آپ ﷺ نے مجھ پر اسلام پیش کیا
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔ اللہ گواہ ہے میں نے اس سے عمدہ قول اور اس سے زیادہ انصاف کی بات کبھی نہ سنی تھی۔ چنانچہ میںنے وہیں اسلام قبول کر لیا اور حق کی شہادت دی۔ اس کے بعد آپ ﷺ سے عرض کیا کہ میری قوم میں میری بات مانی جاتی ہے میں ان کے پاس پلٹ کرجاؤں گا اور انہیں اسلام کی دعوت دوں گا۔ لہٰذا آپ ﷺ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے کوئی نشانی دے دے، آپ ﷺ نے دعا فرمائی۔
حضرت طفیل کو جو نشانی عطا ہوئی وہ یہ تھی کہ جب وہ اپنی قوم کے قریب پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے چہرے پر چراغ جیسی روشنی پیدا کر دی۔ انہوں نے کہا: یا اللہ! چہرے کے بجائے کسی اور جگہ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اسے مثلہ کہیں گے، چنانچہ یہ روشنی ان کے ڈنڈے میں پلٹ گئی۔ پھر انہوں نے اپنے والد اور اپنی بیوی کو اسلام کی دعوت دی اور وہ دونوں مسلمان ہو گئے لیکن قوم نے اسلام قبول کرنے میں تاخیر کی مگر حضرت طفیل ؓ بھی مسلسل کوشاں رہے حتیٰ کہ غزوۂ خندق کے بعد (بلکہ صلح حدیبیہ کے بعد۔ کیونکہ جب وہ مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ خیبر میں تھے۔ دیکھئے ابن ہشام ۱/۳۸۵) جب انہوں نے ہجرت فرمائی تو ان کے ساتھ ان کی قوم کے ستر یا اسی خاندان تھے۔ حضرت طفیل ؓ نے اسلام میں بڑے اہم کارنامے انجام دے کر یمامہ کی جنگ میں جام شہادت نوش فرمائی۔ (ابن ہشام ۱/۱۸۲ ، ۱۸۵)
ضماد ازدی :...یہ یمن کے باشندے تھے اور قبیلہ ازد شنوءہ کے ایک فرد تھے۔ جھاڑ پھونک کرنا اور آسیب اتارنا ان کا کام تھا۔ مکہ آئے تو وہاں کے احمقوں سے سنا کہ محمد ﷺ پاگل ہیں۔ سوچا کیوں نہ اس شخص کے پاس چلوں ہو سکتا ہے اللہ میرے ہی ہاتھوں سے اسے شفا دے دے۔ چنانچہ آپ ﷺ سے ملاقات کی، اور کہا: اے محمد! (ﷺ) میں آسیب اتارنے کے لیے جھاڑ پھونک کیا کرتا ہوں، کیا آپ (ﷺ) کو بھی اس کی ضرورت ہے؟ آپ نے جواب میں فرمایا:
إن الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ، من یہدہ اللہ فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ہادی لہ، وأشہد أن لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ وأشہد أن محمدا عبدہ ورسولہ، أما بعد
''یقینا ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، ہم اسی کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ بھٹکا دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ اما بعد!''
ضماد نے کہا: ذرا اپنے یہ کلمات مجھے پھر سنا دیجیے۔ آپ ﷺ نے تین بار دہرایا، اس کے بعد ضماد نے کہا: میں کاہنوں، جادوگروں اور شاعروں کی بات سن چکا ہوں لیکن میں نے آپ (ﷺ) کے ان جیسے کلمات کہیں
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
نہیں سنے۔ یہ تو سمندر کی اتھاہ گہرائی کو پہنچے ہوئے ہیں۔ لائیے! اپنا ہاتھ بڑھایئے! آپ (ﷺ) سے اسلام پر بیعت کروں اور اس کے بعد انہوں نے بیعت کر لی۔ (صحیح مسلم، مشکاۃ المصابیح باب علامات النبوۃ ۲/۵۲۵)
یثرب کی چھ سعادت مند روحیں:
گیارہویں سن نبوت کے موسم حج (جولائی ۶۲۰ء) میں اسلامی دعوت کو چند کارآمد بیج دستیاب ہوئے۔ جو دیکھتے دیکھتے سرو قامت درختوں میں تبدیل ہو گئے اور ان کی لطیف اور گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر مسلمانوں نے برسوں ظلم و ستم کی تپش سے راحت و نجات پائی۔ یہاں تک کہ واقعات کا رخ بدل گیا اور خط تاریخ مڑ گیا۔
اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کا جو بیڑا اٹھا رکھا تھا اس کے تئیں نبی ﷺ کی حکمت عملی یہ تھی کہ آپ رات کی تاریکی میں قبائل کے پاس تشریف لے جاتے۔ تاکہ مکے کا کوئی مشرک رکاوٹ نہ ڈال سکے۔
اسی حکمت عملی کے مطابق ایک رات آپ ﷺ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت علیؓ کو ہمراہ لے کر باہر نکلے۔ بنو ذُہل اور بنو شیبان بن ثعلبہ کے ڈیروں سے گزرے تو ان سے اسلام کے بارے میں بات چیت کی۔ انہوں نے جواب تو بڑا امید افزا دیا، لیکن اسلام قبول کرنے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا۔ اس موقع پر حضرت ابو بکرؓ اور بنو ذُہل کے ایک آدمی کے درمیان سلسلہ نسب کے متعلق بڑا دلچسپ سوال و جواب بھی ہوا۔ دونوں ہی ماہر انساب تھے۔ (مختصرالسیرہ للشیخ عبد اللہ ص ۱۵۰تا ۱۵۲)
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ منیٰ کی گھاٹی سے گزرے تو کچھ لوگوں کو باہم گفتگو کرتے سنا۔ آپ ﷺ نے سیدھے ان کا رخ کیا اور ان کے پاس جا پہنچے، یہ یثرب کے چھ جوان تھے اور سب کے سب قبیلۂ خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ نام یہ ہیں:
اسعد بن زُرَارَہ (قبیلۂ بنی النَّجار)
عوف بن حارث بن رفاعہ (ابن عَفْراء)
رافع بن مالک بن عجلان (قبیلۂ بنی زُریق)
قطبہ بن عامر بن حدیدہ (قبیلۂ بنی سلمہ)
عقبہ بن عامر نابی (قبیلہ بنی حرام بن کعب)
حارث بن عبد اللہ بن رِئاب (قبیلۂ بنی عبید بن غنم)
یہ اہل یثرب کی خوش قسمتی تھی کہ وہ اپنے حلیف یہود مدینہ سے سنا کرتے تھے کہ اس زمانے میں ایک نبی بھیجا
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جانے والا ہے اور اب جلد ہی وہ نمودار ہو گا۔ ہم اس کی پیروی کرکے اس کی معیت میں تمہیں عادِ ارَم کی طرح قتل کر ڈالیں گے۔ (زاد المعاد ۲/۵۰، ابن ہشام ۱/۴۲۹، ۵۴۱)
رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس پہنچ کر دریافت کیا کہ آپ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم قبیلۂ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یعنی یہود کے حلیف؟ بولے: ہاں۔ فرمایا: پھر کیوں نہ آپ حضرات بیٹھیں، کچھ بات چیت کی جائے، وہ لوگ بیٹھ گئے۔ آپ ﷺ نے ان کے سامنے اسلام کی حقیقت بیان فرمائی۔ انہیں اللہ عز و جل کی طرف دعوت دی اور قرآن کی تلاوت فرمائی۔ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا: بھئی دیکھو! یہ تو وہی نبی معلوم ہوتے ہیں جن کا حوالہ دے کر یہود تمہیں دھمکیاں دیا کرتے ہیں۔ لہٰذا یہود تم پر سبقت نہ کرنے پائیں، اس کے بعد انہوں نے فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت قبول کر لی اور مسلمان ہو گئے۔
یہ یثرب کے عقلاء الرجال تھے۔ حال ہی میں جنگ گزرچکی تھی، اور جس کے دھویں اب تک فضا کو تاریک کیے ہوئے تھے، اس جنگ نے انہیں چور چور کر دیا تھا۔ اس لیے انہوں نے بجا طور پر یہ توقع قائم کی کہ آپ ﷺ کی دعوت، جنگ کے خاتمے کا ذریعہ ثابت ہو گی۔ چنانچہ انہوں نے کہا: ہم اپنی قوم کو اس حالت میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ کسی اور قوم میں ان کے جیسی عداوت و دشمنی نہیں پائی جاتی۔ امید ہے کہ اللہ آپ ﷺ کے ذریعے انہیں یکجا کر دے گا۔ ہم وہاں جا کر لوگوں کو آپ ﷺ کے مقصد کی طرف بلائیں گے اور یہ دین جو ہم نے خود قبول کر لیا ہے ان پر بھی پیش کریں گے۔ اگر اللہ نے آپ ﷺ پر ان کو یکجا کر دیا تو پھر آپ سے بڑھ کر کوئی اور معزز نہ ہو گا۔
اس کے بعد جب یہ لوگ مدینہ واپس ہوئے تو اپنے ساتھ اسلام کا پیغام بھی لے گئے، چنانچہ وہاں گھر گھر رسول اللہ ﷺ کا چرچا پھیل گیا۔ (ابن ہشام ۱/۴۲۸، ۴۳۰)
حضرت عائشہ ؓ سے نکاح:
اسی سال شوال ۱۱ نبوت میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے نکاح فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چھ برس تھی، پھر ہجرت کے پہلے سال شوال ہی کے مہینہ میں مدینہ کے اندر ان کی رخصتی ہوئی اور اس وقت ان کی عمر نو برس تھی۔ (تلقیح الفہوم ص ۱۰، صحیح البخاری ۱/۵۵۰)
****​
 
Top