- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
قبائل اور افراد کو اسلام کی دعوت
ذی قعدہ ۱۰ نبوت (اواخر جون یا اوائل جولائی ۶۱۹ء) میں رسول اللہ ﷺ طائف سے مکہ تشریف لائے، اور یہاں افراد اور قبائل کو پھر سے اسلام کی دعوت دینی شروع کی۔ چونکہ موسم حج قریب تھا اس لیے فریضۂ حج کی ادائیگی، اپنے منافع اور اللہ کی یاد کے لیے دور و نزدیک ہر جگہ سے پیدل اور سواروں کی آمد شروع ہو چکی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس موقعے کو غنیمت سمجھا اور ایک ایک قبیلے کے پاس جا کر اسے اسلام کی دعوت دی، جیسا کہ نبوت کے چوتھے سال سے آپ ﷺ کا معمول تھا۔ البتہ اس دسویں سال سے آپ نے یہ بھی چاہا کہ وہ آپ کو ٹھکانا فراہم کریں۔ آپ کی مدد کریں اور آپ کی حفاظت کریں یہاں تک کہ اللہ کی دی ہوئی بات کی آپ تبلیغ کر سکیں۔
وہ قبائل جنہیں اسلام کی دعوت دی گئی:
امام زہریؒ فرماتے ہیں کہ جن قبائل کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے اور انہیں اسلام کی دعوت دیتے ہوئے اپنے آپ کو ان پر پیش کیا ان میں حسب ذیل قبیلوں کے نام ہمیں بتائے گئے ہیں:
بنو عامر بن صعصعہ، محارب بن خصفہ، فزارہ، غسان، مرہ، حنیفہ، سلیم، عبس، بنو نضر، بنو البکاء، کندہ، کلب، حارث بن کعب، عذرہ، حضارمہ ...لیکن ان میں سے کسی نے بھی اسلام قبول نہ کیا۔ (ابن سعد ۲/۲۱۶)
واضح رہے کہ امام زہری کے ذکر کردہ ان سارے قبائل پر ایک ہی سال یا ایک ہی موسم حج میں اسلام پیش نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ نبوت کے چوتھے سال سے ہجرت سے پہلے کے آخری موسم حج تک دس سالہ مدت کے دوران پیش کیا گیا تھا اور کسی معین سال میں کسی معین قبیلے پر اسلام کی پیشی کی تعیین نہیں ہو سکتی، البتہ بیشتر قبائل کے پاس آپ دسویں سال تشریف لے گئے۔
ابن اسحاق نے بعض قبائل پر اسلام کی پیشی اور ان کے جواب کی کیفیت بھی ذکر کی ہے۔ ذیل میں مختصرا ان کا بیان نقل کیا جا رہا ہے۔
بنو کلب:... نبی ﷺ اس قبیلے کی ایک شاخ بنو عبد اللہ کے پاس تشریف لے گئے، انہیں اللہ کی طرف بلایا، اور اپنے آپ کو ان پر پیش کیا۔ باتوں باتوں میں یہ بھی فرمایا کہ اے بنو عبد اللہ! اللہ نے تمہارے جد اعلیٰ کا نام بہت اچھا رکھا تھا لیکن اس قبیلے نے آپ کی دعوت قبول نہ کی۔
بنو حنیفہ:... آپ ﷺ ان کے ڈیرے پر تشریف لے گئے، انہیں اللہ کی طرف بلایا اور اپنے آپ کو ان