ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 807
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
قبروں سے فریاد کرنے والوں کے ذبیحہ کا حکم شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کے فتاویٰ کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔ أما بعد!
قبروں سے فریادیں، مردوں سے استعانت، غوث و قطب کو پکارنا، اور غیر اللہ سے حاجت روائی طلب کرنا آج بہت سے مشرکین کے نزدیک محبتِ اولیاء بن چکا ہے، حالانکہ یہ وہ شرک ہے جس کے رد کے لیے انبیاء علیہم السلام مبعوث کیے گئے۔ پھر اس سے بھی بڑھ کر مصیبت یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے مشرکین کے ذبیحہ کو بھی حلال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی باطل فکر کا رد کرتے ہوئے شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ نے نہایت واضح، صریح فتویٰ صادر فرمایا، جس میں انہوں نے قبروں سے استغاثہ کرنے والوں کے شرک اور ان کے ذبیحہ کے حکم کو کھول کر بیان کیا۔
شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
من أن الذابح يدعى الاسلام وعرف انه من جماعة تبيح الإستعانة بغير الله، فيما لا يقدر على دفعه إلا الله، وتستعين بالأموات من الأنبياء ومن تعتقد فيه الولاية مثلاً، فذبيحته كذبيحة المشركين الوثنيين عباد اللات والعزى ومناة وود، وسواع، ويعوق، ونسر، لا يحل للمسلم الحقيقى أكلها لأنها ميتة
جو شخص ذبح کرنے والا ہو، بظاہر اسلام کا دعویٰ کرتا ہو، لیکن یہ معلوم ہو کہ وہ ایسے گروہ سے تعلق رکھتا ہے جو اللہ کے سوا دوسروں سے ایسی چیزوں میں مدد مانگنے کو جائز سمجھتا ہے جن پر صرف اللہ ہی قادر ہے، اور وہ فوت شدہ انبیاء علیہم السلام یا جنہیں وہ ولی سمجھتے ہیں، ان مردوں سے مدد طلب کرتے ہیں، تو ایسے شخص کا ذبیحہ بت پرست مشرکوں جیسے لات، عزیٰ، منات، ود، سواع، یعوق اور نسر کے پجاریوں کے ذبیحہ کی طرح ہے۔ کسی حقیقی مسلمان کے لیے اس کا کھانا حلال نہیں، کیونکہ وہ مردار کے حکم میں ہے۔
بل حاله أشد من حال هؤلاء، لأنه مرتد عن الاسلام الذي يزعمه، من أجل لجئه الى غير الله، فيما لا يقدر عليه إلا الله، من توفيق ضال وشفاء مريض، وأمثال ذلك، مما تنتسب فيه الآثار الى ما وراء الاسباب المادية، من اسرار الأموات وبركاتهم ومن في حكم الأموات من الغائبين الذين يناديهم الجهلة لإعتقادهم فيهم البركة وأن لهم من الخواص ما يمكنهم من سماع دعاء من استغاث بهم، لكشف ضر أو جلب نفع، وان كان الداعي في أقصى الشرق والمدعو في أقصى المغرب.
بلکہ اس شخص کی حالت ان مشرکین سے بھی زیادہ سنگین ہے، کیونکہ یہ اس اسلام سے مرتد ہو چکا ہے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے، اس وجہ سے کہ اس نے ایسی چیزوں میں اللہ کے سوا دوسروں کی پناہ اور مدد لی جن پر صرف اللہ قادر ہے، جیسے کسی گمراہ کو ہدایت دینا، مریض کو شفا دینا، اور اس جیسی دوسری چیزیں، جن میں ظاہری مادی اسباب سے ماورا امور اور غیبی تاثیرات کا عقیدہ پایا جاتا ہے؛ مثلاً مردوں کے اسرار، ان کی برکتیں، یا ان لوگوں کی برکتیں جو مردوں کے حکم میں ہیں یعنی غائب افراد، جنہیں جاہل لوگ پکارتے ہیں، اس عقیدے کے ساتھ کہ ان میں برکت ہے اور ان کے اندر ایسی خاص طاقتیں ہیں کہ وہ مدد کے لیے پکارنے والے کی فریاد سن سکتے ہیں تاکہ اس کی تکلیف دور کریں یا اسے نفع پہنچائیں، اگرچہ پکارنے والا مشرق کے آخری کنارے میں ہو اور جسے پکارا جا رہا ہے وہ مغرب کے آخری کنارے میں ہو۔
وعلى من يعيش في بلادهم من أهل السنة أن ينصحوهم ويرشدوهم الى التوحيد الخالص، فان استجابوا فالحمد لله، وان لم يستجيبوا بعد البيان فلا عذر لهم. أما ان لم يعرف حال الذابح لكن غلب على من يدعى الاسلام في بلاده أنهم ممن يستغيثون بالأموات ويضرعون اليهم فيحكم لذبيحته بحكم الغالب فلا يحل أكلها.
ایسے لوگوں کے درمیان رہنے والے اہل سنت پر لازم ہے کہ وہ انہیں نصیحت کریں اور خالص توحید کی طرف رہنمائی کریں۔ اگر وہ قبول کر لیں تو الحمد للہ، اور اگر واضح طور پر حق بیان کر دینے کے بعد بھی قبول نہ کریں تو پھر ان کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ اور اگر ذبح کرنے والے کا حال معلوم نہ ہو، لیکن اس کے ملک میں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کی اکثریت مردوں سے فریاد کرنے اور ان کے سامنے گڑگڑانے والی ہو، تو غالب حال کے اعتبار سے اس کے ذبیحہ پر بھی وہی حکم لگے گا، لہٰذا اس کا کھانا حلال نہیں ہوگا۔
[فتاوی الدین الخالص، ج : ٦، ص : ٤٤٩]
شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کے اس فتویٰ سے ان بریلویوں اور شیعوں کے باطل مذہب کی حقیقت معلوم ہوتی ہے جو قبروں میں دفن مردوں سے فریادیں کرتے ہیں پھر بھی اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، اور بعض جاہل لوگ ان کے ذبیحہ کو بھی حلال قرار دینے کی جسارت کرتے ہیں۔ حالانکہ شیخ نے واضح الفاظ میں فرمایا: "فذبيحته كذبيحة المشركين الوثنيين عباد اللات والعزى ومناة وود، وسواع، ويعوق، ونسر، لا يحل للمسلم الحقيقى أكلها لأنها ميتة" یعنی ایسے شخص کا ذبیحہ لات و عزیٰ کے پجاریوں کے ذبیحہ کی طرح ہے، اور کسی حقیقی مسلمان کے لیے اس کا کھانا حلال نہیں کیونکہ وہ مردار ہے۔
پس جو لوگ قبروں سے مدد یا رسول الله، یا غوث اعظم، یا علی مدد اور اسی قسم کی شرکیہ فریادیں کرتے ہیں اور شہادتین کا زبانی اقرار کر خود کو مسلمان سمجھتے ہیں شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ نے ایسے لوگوں کے متعلق صاف فرمایا: "بل حاله أشد من حال هؤلاء، لأنه مرتد عن الاسلام الذي يزعمه" یعنی اس کی حالت بت پرست مشرکوں سے بھی بدتر ہے کیونکہ وہ اس اسلام سے مرتد ہو چکا ہے جس کا دعویٰ کرتا ہے۔
شیخ نے اس شرک کی حقیقت بھی واضح کی کہ یہ صرف الفاظ کا معاملہ نہیں بلکہ عقیدہ غیب اور الوہیت میں شرکت ہے۔ چنانچہ فرمایا: "من أجل لجئه الى غير الله، فيما لا يقدر عليه إلا الله" یعنی اس نے ایسی چیزوں میں غیر اللہ کی پناہ لی جن پر صرف اللہ قادر ہے۔
پھر مزید فرمایا: "من توفيق ضال وشفاء مريض، وأمثال ذلك" یعنی گمراہ کو ہدایت دینا، مریض کو شفا دینا اور اس جیسے امور؛ یہ وہی امور ہیں جو رب العالمین کے خصائص میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص کسی قبر والے، پیر، یا مردہ ہستی کے متعلق یہ عقیدہ رکھے کہ وہ دور سے پکار سنتا، مشکلات حل کرتا یا مصیبتیں ٹالتا ہے، تو وہ حقیقت میں اسی شرک میں مبتلا ہے جس میں لات و عزیٰ کے پجاری مبتلا تھے۔
شیخ نے ان جاہل مشرکین کے باطل عقیدے کا پردہ بھی چاک کیا جو سمجھتے ہیں کہ اولیاء ہر جگہ سے ان کی پکار سن لیتے ہیں۔ فرمایا: "وأن لهم من الخواص ما يمكنهم من سماع دعاء من استغاث بهم، لكشف ضر أو جلب نفع، وان كان الداعي في أقصى الشرق والمدعو في أقصى المغرب" یعنی وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان اولیاء میں ایسی خاص طاقتیں ہیں کہ وہ مدد کے لیے پکارنے والوں کی فریاد سن لیتے ہیں تاکہ نقصان دور کریں یا نفع پہنچائیں، اگرچہ پکارنے والا مشرق میں ہو اور جسے پکارا جا رہا ہو وہ مغرب میں۔
یہ عقیدہ صریح شرک، کھلی گمراہی اور رب العالمین کی صفات میں مخلوق کو شریک کرنے کے مترادف ہے۔ پھر ایسے لوگوں کے ذبیحہ کو حلال کہنا دراصل شرک کے دروازے کھولنا اور توحید کو مسخ کرنا ہے۔ اسی لیے شیخ نے آخر میں یہ اصول بھی بیان فرمایا کہ اگر کسی علاقے میں غالب اکثریت ایسے شرکیہ اعمال میں مبتلا ہو تو ان کے ذبیحہ پر بھی غالب حال کے مطابق حکم لگے گا۔ چنانچہ فرمایا: "فلا يحل أكلها" یعنی اس کا کھانا حلال نہیں۔
پس اہلِ توحید پر لازم ہے کہ وہ اس باب میں مداہنت، نرمی اور باطل تاویلات سے بچیں، کیونکہ توحید و شرک کا مسئلہ جذبات یا رسم و رواج کا نہیں بلکہ جنت و جہنم، اسلام و کفر اور ایمان و ارتداد کا مسئلہ ہے۔
نسأل الله أن يحيينا على التوحيد والسنة، وأن يميتنا عليهما، وأن يجنبنا الشرك وأهله، إنه ولي ذلك والقادر عليه۔
وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔