ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 813
- ری ایکشن اسکور
- 225
- پوائنٹ
- 111
قبر پرستوں کی تکفیر معین پر شیخ صالح الفوزان کا جواب
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده.
آج کے دور میں بعض مرجئہ صفت لوگ توحید و شرک کے واضح مسائل میں بھی ایسی گمراہی پھیلا رہے ہیں کہ کھلے مشرک کی تکفیرِ معین کو ہی جرم بنا کر پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ جس شخص کا شرک اکبر ظاہر و علانیہ ہو، جو غیر اللہ کو پکارے، قبروں والوں سے فریاد کرے، غیر اللہ کے لیے سجدہ یا ذبح کرے، اس کے بارے میں کتاب و سنت اور اہل سنت کے ائمہ کا حکم بالکل واضح ہے۔ مگر مرجئہ نے توقف، عذر، اور "فتنہ تکفیر" جیسے نعروں کے ذریعے عقیدہ توحید کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔
شیخ صالح الفوزان نے اس باطل شبہے کو جڑ سے اکھاڑتے ہوئے فرمایا:
"نحن ما لنا إلا الظاهر، نحكم على الظاهر" یعنی ہمارا معاملہ صرف ظاہر کے ساتھ ہے، ہم ظاہر ہی کے مطابق حکم لگاتے ہیں۔
یہ اہلِ سنت والجماعت کا عظیم اصول ہے کہ احکام ظاہر پر جاری ہوتے ہیں، دلوں کا علم اللہ کے سپرد ہے۔ لہٰذا جب کوئی شخص علانیہ غیر اللہ کو پکار رہا ہو، قبروں پر سجدے کر رہا ہو، یا غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز دے رہا ہو تو پھر مرجئہ کی طرح اس کے باطن میں ممکنہ عذر تلاش کرنا شریعت نہیں بلکہ گمراہی ہے۔
اسی طرح شیخ نے صاف الفاظ میں فرمایا: "مَن دَعَا غير الله، ذبح لغير الله، سجد لغير الله ؛ تحكم عليه بالكفر بما ظهر منه" یعنی جو غیر اللہ کو پکارے، غیر اللہ کے لیے ذبح کرے، یا غیر اللہ کو سجدہ کرے؛ اس کے ظاہر کی بنیاد پر اس پر کفر کا حکم لگایا جائے گا۔
یہ مرجئہ کے اس فتنے کا قاطع رد ہے جو کہتے ہیں کہ تکفیر معین نہ کرو، نام لے کر مشرک نہ کہو، یا صرف عمل کو شرک کہو، شخص کو نہیں۔ حالانکہ جب شرک اکبر ظاہر ہو جائے تو صرف عمل کو شرک کہنا اور فاعل کو مسلمان قرار دینا، یہی ارجاء کی بدترین شکل ہے۔
پھر شیخ صالح الفوزان سے پوچھا گیا: "هل من سجد لصنم أو دعا صاحب قبر، هل يُكَفِّر بعينه؟" یعنی جو بت کو سجدہ کرے یا قبر والے کو پکارے، کیا اس کی تکفیر معین کی جائے گی؟
تو شیخ نے نہایت واضح اور فیصلہ کن جواب دیا: "نعم يكفر بعينه"جی ہاں! اس کی تکفیر معین کی جائے گی۔ پھر دلیل دیتے ہوئے فرمایا: "إذا دعا صاحب القبر دعا غير الله، ومن دعا غير الله فهو مشرك" جب اس نے قبر والے کو پکارا تو اس نے غیر اللہ کو پکارا، اور جو غیر اللہ کو پکارے وہ مشرک ہے۔
[أجوبة الشيخ صالح الفوزان عن مسائل الكفر والإيمان، ص : ١٠]
یہی وہ صریح سلفی منہج ہے جسے مرجئہ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ قبروں سے فریاد کرنے والے، مردوں سے مدد مانگنے والے، اور غیر اللہ کے لیے عبادات کرنے والے بھی مسلمان کہلاتے رہیں، تاکہ شرک و توحید کی سرحدیں مٹ جائیں۔
اہلِ سنت کا منہج یہ ہے کہ جس شخص کا شرک اکبر ظاہر ہو جائے، اس پر ظاہری حکم جاری کیا جائے گا، جیسا کہ شیخ صالح الفوزان نے واضح فرمایا۔ جبکہ مرجئہ کا منہج یہ ہے کہ کھلے مشرک کے لیے بھی عذر تراشو، اس کی تکفیر کو جرم کہو، اور اہل توحید کو خوارج کا طعنہ دو۔ یہ طرزِ عمل دراصل مشرکین کی وکالت اور توحید کے باب میں نرمی پیدا کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔
نسأل الله الثبات على التوحيد والسنة، وأن يفضح أهل الإرجاء والضلال۔
Last edited: