• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآت کے متعلق چند سوال

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
کیا ایک ہی سورت کو دونوں رکعتوں میں پڑھ سکتے ہیں۔
کیا ایک ہی سورت کو ایک رکعت میں دو مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔
کیا اگر سورت پڑھنا بھول جائے اور صرف سورۃ الفاتحہ پڑھ کر رکوع کر لیں تو سجدہ سہو کرنا ہو گا۔
نماز میں کم سے کم کتنی آیتوں کی تلاوت کی جا سکتی ہے؟
جب سے میں نے حدیث مبارکہ پڑھی ہے جس کا مفہوم ہے کہ سورۃ اخلاص کی محبت جنت میں داخل کرتی ہے تو میں پہلی رکعت میں کوئی اور سورت اور دوسری رکعت میں سورۃ اخلاص ہی پڑھتا ہوں۔چاہے فرض نماز ہو سنت ہو نوافل ہوں۔تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
١۔
کیا ایک ہی سورت کو دونوں رکعتوں میں پڑھ سکتے ہیں۔
کیا ایک ہی سورت کو ایک رکعت میں دو مرتبہ پڑھ سکتے ہیں۔
جی ہاں! ایسا کر سکتے ہیں۔شیخ صالح المنجد اس باے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں؛
سوال:ميں ابھى قرآن مجيد پڑھنا سيكھ رہا ہوں اور مجھے زيادہ سورتيں ياد نہيں، تو كيا ميں وہى سورتيں نماز تراوايح ميں بار بار پڑھ سكتا ہوں ؟
الحمد للہ:
نماز تراويح يا كسى دوسرى نماز ميں ايك ہى سورۃ بار بار پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں، پہلى ركعت ميں ايك سورۃ پڑھى جائے اور وہى سورۃ دوسرى ركعت ميں بھى پڑھ لے اس كى دليل مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى كا عموم ہے:
﴿يقينا آپ كا رب جانتا ہے كہ آپ اور آپ كے ساتھ كے لوگوں كى ايك جماعت قريب قريب دو تہائى رات، اور آدھى رات، اور ايك تہائى رات كے تہجد پڑھتے ہيں، اور رات اور دن كا پورا اندازہ اللہ تعالى كو ہى ہے، وہ خوب جانتا ہے كہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سكو گے، پس اس نے تم پر مہربانى كرتے ہوئے توبہ قبول كى، لہذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے ليے آسان ہو اتنا ہى پڑھو﴾ المزمل ( 20 ).
ابو داود رحمہ اللہ تعالى نے معاذ بن عبد اللہ الجھنى رحمہ اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ جہينہ قبيلہ كے اس شخص نے انہيں بتايا
کہ انہوں نے سنا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صبح كى نماز كى دونوں ركعتوں ميں اذا زلزلت الارض زالزالہا پڑھى، مجھے علم نہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھول كر ايسا كيا يا كہ انہوں نے عمدا ايسا كيا ؟ "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 816 )علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے حسن قرار ديا ہے.
عبد العظيم آبادى كہتے ہيں:
صحابى كا اس ميں تردد كہ آيا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عادت سے ہٹ كر دوسرى ركعت ميں وہى سورۃ جو پہلى ركعت ميں پڑھى تھى كو دھرانا كيا غلطى سے تھا يا كہ اس كے جواز كے ليے عمدا ايسا كيا ؟ تو يہ امت كے ليے مشروع نہيں ہو گا.
تو اس طرح كہ آيا وہى سورۃ دوسرى ركعت ميں دھرانى مشروع ہے يا نہيں جب اس ميں تردد ہو تو پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فعل مشروعيت پر محمول كرنا زيادہ اولى ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے افعال ميں اصل مشروعيت ہى ہے، اور نسيان اور بھول اصل كے خلاف ہے "
ديكھيں: عون المعبود ( 3 / 23 ).
نسائى اور ابن ماجہ نے ابو ذر رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايك ہى آيت پر ٹھر گئے اور اسے بار بار دھرانے لگے: وہ آيت يہ تھى :
﴿ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴾
سنن نسائى حديث نمبر ( 1010 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 1350 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح نسائى ميں اسے حسن قرار ديا ہے.
اور امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ انہوں نے ايك شخص كو بار بار قل ہو اللہ احد پڑھتے ہوئے سنا تو صبح وہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور اس كا ذكر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے كيا، گويا كہ وہ شخص اسے كم تصور كرتا تھا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اس ذات كى قسم جس كے ہاتھ ميں ميرى جان ہے، بلا شبہ يہ قرآن كے ايك تہائى كے برابر ہے "
اور ايك روايت ميں ہے :
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں ايك شخص رات كى نماز ميں صرف قل ہو اللہ احد ہى پڑھتا تھا اس كے علاوہ كچھ نہيں"
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس كا اس سورۃ كو تكرار سے پڑھنے كو صحيح قرار ديا ہے.
صحيح بخارى حديث نمبر ( 5014 ).
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
وہ پڑھنے والے شخص قتادۃ بن نعمان رضى اللہ تعالى عنہ تھے، امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے ابى الھيثم عن ابى سعد كے طريق سے بيان كيا ہے كہ:
" قتادۃ بن نعمان رضى اللہ تعالى تعالى عنہ سارى رات صرق قل ہو اللہ احد پڑھتے رہے اور اس سے كچھ زيادہ نہ پڑھا " الحديث .
اور دار قطنى نے اسحاق بن الطباع عن مالك كے طريق سے ان الفاظ كے ساتھ روايت كي ہے:
" ميرا ايك پڑوسى قيام الليل ميں صرف قل ہو اللہ احد ہى پڑھتا ہے" انتہى
اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ آپ كو اپنى كتاب قرآن مجيد حفظ كرنےاور اس پر عمل كرنے كى توفيق عطا فرمائے.
واللہ اعلم .
الاسلام سوال وجواب
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
٢۔
نماز میں کم سے کم کتنی آیتوں کی تلاوت کی جا سکتی ہے؟
اس کی کوئی مقدار متعین نہیں ہے۔ بس معنی کے اعتبار سے مضمون مکمل ہونا چاہیے۔ اگر مضمون مکمل ہو جائے تو ایک آیت مثلا آیت الکرسی کی بھی تلاوت جائز ہے۔ یہ واضح رہے کہ آیات کی جگہ مکمل سورت کا پڑھنا افضل اور مستحب ہے۔ شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں؛
سوال؛نماز كى ہر ركعت ميں سورۃ فاتحہ كى قرآت كے بعد كيا مكمل سورۃ كى بجائے كسى لمبى سورۃ كا كچھ حصہ تلاوت كرنا جائز ہے، اس طرح نماز ميں كئى ايك چھوٹى سورتيں تلاوت كرنے كى بجائے ہم بعض لمبى سورتيں پڑھ سكتے ہيں ؟
الحمد للہ :
جى ہاں نماز ميں چھوٹى مكمل سورۃ كے بدلے كسى لمبى سورۃ كا كچھ حصہ تلاوت كرنا جائز ہے، ليكن افضل يہ ہے كہ ہر ركعت ميں مكمل سورۃ كى تلاوت كى جائے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا غالبا عمل يہى تھا.
امام بخارى اور مسلم رحمہما اللہ نے ابو قتادہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ظہر اور عصر كى دو ركعتوں ميں سورۃ فاتحہ اور ايك ايك سورۃ پڑھا كرتے تھے ـ يعنى ہر ركعت ميں ايك سورۃ كى تلاوت كرتے ـ "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 762 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 451 ).
يہ حديث اس كى دليل ہے كہ: ( چھوٹى مكمل سورۃ كى قرآت كسى لمبى سورۃ كا كچھ حصہ پڑھنےسے افضل ہے ) اھـ
ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 4 / 174 ).
كيونكہ ابو قتادہ رضى اللہ تعالى عنہ كا يہ قول: " نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم پڑھا كرتے تھے "
اس پر مداومت اور ہميشگى كى دليل ہے، يا پھر غالبا ان كا يہى فعل ہوا كرتا تھا.
ديكھيں: فتح البارى ( 2 / 244 ).
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ايك ركعت ميں سورۃ كا كچھ حصہ تلاوت كرنا بھى ثابت ہے:
امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے روايت كيا ہے كہ:
" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز فجر ميں كى دونوں ركعتوں ميں ﴿ قولوا آمنا باللہ و ما انزل الينا ..... ﴾البقرۃ ( 136 ) اور جو آل عمران ميں ہے ﴿ تعالوا الى كلمۃ سواء بيننا و بينكم ﴾آل عمران ( 43 ) كى تلاوت كيا كرتے تھے "
صحيح مسلم حديث نمبر ( 727 ).
يہ حديث ايك ركعت ميں سورۃ كا كچھ حصہ تلاوت كرنے كى دليل ہے.
ديكھيں: نيل الاوطار ( 2 / 255 ).
ابن قيم رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ بھى طريقہ تھا كہ پورى سورۃ كى تلاوت كيا كرتے تھے، اور بعض اوقات اسے دونوں ركعتوں ميں پڑھتے، اور بعض اوقات سورۃ كا ابتدائى حصہ تلاوت كرتے.ليكن سورتوں كا آخرى يا درميان كا حصہ كى تلاوت كرنا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے بيان نہيں كيا جاتا، اور ايك ہى ركعت ميں دو سورتيں پڑھنا، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نفلى نماز ميں ايسا كيا كرتے تھے، ليكن فرضى نماز ميں نبى صلى اللہ عليہ وسلم سے بيان نہيں كيا جاتا.
اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہ كى يہ حديث:
" ميں ان نظائر كو جانتا ہوں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايك ركعت ميں جن كو ملا كر پڑھا كرتے تھے، نجم اور الرحمن ايك ركعت ميں، اور اقتربت الساعۃ اور الحاقۃ ايك ركعت ميں، سورۃ الطور اور الذاريات ايك ركعت ميں، اور اذا وقعت الواقعۃ اور سورۃ نون ايك ركعت ميں، اور سال سائل اور سورۃ النازعات ايك ركعت ميں، اور ويل للمطففين اور سورۃ عبس ايك ركعت ميں سورۃ المدثر اور المزمل ايك ركعت ميں ھل اتى على الانسان اور لا اقسم بيوم القيمۃ ايك ركعت ميں، اور عم يتسالون، اور المرسلات ايك ركعت ميں اور سورۃ الدخان اور اذا الشمس كورت ايك ركعت ميں " الحديث.
یہ فعل كا بيان ہوا ہے، اس ميں جگہ كى تعيين نہيں، آيا يہ فرضى نماز ميں تھا يا كہ نفلى نماز ميں ؟ اس كا احتمال ہے.
اور دو ركعتوں ميں ايك سورۃ كى قرآت بہت ہى كم كيا كرتے تھے، ابو داود رحمہ اللہ تعالى نے جھنى قبيلہ كے ايك شخص سے بيان كيا ہے كہ انہوں نے فجر كى نماز ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اذا زلزلت الارض دونوں ركعتوں ميں سنى تھى.
وہ كہتے ہيں: مجھے علم نہيں كہ آيا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا بھول كر كيا يا عمدا " ؟ اھـ
ديكھيں: زاد المعاد ( 1 / 214 - 215 ).
اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
" فرضى اور نفلى نماز ميں انسان كے ليے كسى سورۃ كى كوئى آيت پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں"
ہو سكتا ہے انہوں نے درج ذيل فرمان بارى تعالى كے عموم سے استدلال كيا ہو.
فرمان بارى تعالى ہے:
﴿چنانچہ تمہارے ليے جتنا قرآن پڑھنا آسان ہو اتنا پڑھو ﴾المزمل ( 20 ).
ليكن سنت اور افضل يہ ہے كہ وہ مكمل سورۃ پڑھے، اور اكمل و زيادہ بہتر و اچھا يہ ہے كہ ہر ركعت ميں ايك سورۃ ہو، اگر اس ميں مشقت ہو تو پھر ايك سورۃ كو ركعتوں ميں تقسيم كر كے پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں. اھـ
ديكھيں: الشرح الممتع ( 3 / 104 ).
اللہ تعالى ہم سب كو علم نافع اور اعمال صالحہ كى توفيق نصيب فرمائے.
اللہ تعالى ہى زيادہ علم ركھنے والا ہے، اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.
واللہ اعلم .
الشيخ محمد صالح المنجد
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
٣۔
جب سے میں نے حدیث مبارکہ پڑھی ہے جس کا مفہوم ہے کہ سورۃ اخلاص کی محبت جنت میں داخل کرتی ہے تو میں پہلی رکعت میں کوئی اور سورت اور دوسری رکعت میں سورۃ اخلاص ہی پڑھتا ہوں۔چاہے فرض نماز ہو سنت ہو نوافل ہوں۔تو کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟
شیخ صالح المنجد کے مطابق ایسا کرنا جائز ہے لیکن مستحب نہیں ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا ہے۔ وہ اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں؛
سوال:كيا نمازى نماز باجماعت يا انفرادى نماز كى ايك ہى ركعت ميں دو سورتيں پڑھ سكتا ہے، يہ علم ميں ركھيں كہ ميں ہر ركعت سورۃ اخلاص پڑھنا پسند كرتا ہوں ؟
الحمد للہ:
اول:
نمازى چاہے امام ہو يا مقتدى كے ليے سورۃ فاتحہ كے بعد ايك يا دو سورتيں پڑھنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن بعض اوقات امام كو اس كا جواز بيان كرنے كے ليے ايسا كرنا چاہيے، ليكن وہ نمازيوں كو لمبى نماز نہ پڑھائے جيسا كہ فرضى اور نفلى نماز ميں ايسا كرنا جائز ہے.
بہت سى نمازوں ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے سورۃ فاتحہ كے بعد دو سورتوں كا پڑھنا ثابت ہے، اور ان سورتوں كو نظائر كے نام سے موسوم كيا گيا ہے، اس سلسلے ميں كئى ايك احاديث ہيں:
عمرو بن مرۃ رحمہ اللہ تعالى بيان كرتے ہيں كہ ميں نے بو وائل سے سنا وہ بيان كر رہے تھے كہ ابن مسعود رضى اللہ تعالى كے پاس ايك شخص آيا اور كہنے لگا:
میں رات ايك ہى ركعت ميں مفصل سورۃ كى تلاوت كى تو انہوں نے فرمايا:
يہ تو تيزى سے شعر پڑھنا ہے ؟ ميں ان نظائر كو جانتا ہوں جن كو ملايا كرتے تھے، انہوں نے سور مفصل كى بيس سورتوں كا ذكر كيا جن ميں سے دو سورتيں ملا كر ہر ركعت ميں پڑھا كرتے تھے "
صحيح بخارى حديث نمبر ( 743 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 822 ).
امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے پر باب باندھتے ہوئے كہا ہے: ايك ہى ركعت ميں دو سوتيں جمع كرنا "
مفصل سورۃ ق سے ليكر سورۃ الناس تك ہيں.
الھذ: تيزى سے قرآت كرنا.
علقمہ اور اسود رحمہ اللہ تعالى بيان كرتے ہيں كہ ايك شخص ابن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما كے پاس آ كر كہنے لگا: ميں سور مفصل ايك ركعت ميں پڑھتا ہوں، تو انہوں نے جواب ديا:
كيا يہ شعر كى طرح تيزى اور ردى كھجور كى طرح نثر ہے؟
ليكن نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايك ركعت ايك جيسى نظائر دو سورتيں پڑھا كرتے تھے، نجم اور الرحمن ايك ركعت ميں، اور اقتربت الساعۃ اور الحاقۃ ايك ركعت ميں، سورۃ الطور اور الذاريات ايك ركعت ميں، اور اذا وقعت الواقعۃ اور سورۃ نون ايك ركعت ميں، اور سال سائل اور سورۃ النازعات ايك ركعت ميں، اور ويل للمطففين اور سورۃ عبس ايك ركعت ميں سورۃ المدثر اور المزمل ايك ركعت ميں ھل اتى على الانسان اور لا اقسم بيوم القيمۃ ايك ركعت ميں، اور عم يتسالون، اور المرسلات ايك ركعت ميں اور سورۃ الدخان اور اذا الشمس كورت ايك ركعت ميں "
سنن ابو داود حديث نمبر ( 1396 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
الدقل: ردى كھجور كو كہتے ہيں.
اور ايك حديث ميں ہے كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قيام الليل كى ايك ركعت ميں سورۃ البقرۃ، النساء اور آل عمران پڑھى، جيسا كہ حذيفہ رضى اللہ تعالى عنہ نے بيان كيا ہے اور اسے امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے صحيح مسلم حديث نمبر ( 772 ) ميں روايت كيا ہے.
شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
انسان كے ليے سورۃ فاتحہ كے بعد دو يا تين سورتيں پڑھنا جائز ہے، اور ايك سورۃ پر اقتصار كرنا بھى جائز ہے، يا پھر وہ ايك سورۃ كو دو حصوں ميں تقسيم كر سكتا ہے، يہ سب جائز ہے، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا عمومى فرمان ہے:
﴿چنانچہ تمہارے ليے جتنا قرآن پڑھنا آسان ہو اتنا پڑھو ﴾المزمل ( 20 ).
اور اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
" پھر آپ كے ليے جو آسان ہو قرآن كى قرآت كرو"
ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 13 ) سوال نمبر ( 500 ).
شيخ البانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
بعض اوقات نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايك ہى ركعت ميں دو يا زيادہ سورتيں جمع كر كے پڑھا كرتے تھے
ديكھيں: صفۃ صلاۃ النبى صلى اللہ عليہ وسلم ( 103 - 105 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اس ميں اس كے متعلقہ احاديث ذكر كے ان كى تخريج كى ہے، لھذا اس كا مطالعہ كريں.
دوم:
اور رہا مسئلہ ہرركعت ميں قرآت كے بعد سورۃ اخلاص پڑھنا ايك صحابى سے ثابت ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے برقرار ركھا جو كہ سوال كے اصل ہر ركعت ميں دو سورتيں پڑھنے كى دليل ہے.
عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ نے ايك شخص كو ايك پارٹى كا امير بنا پر بھيجا اور وہ انہيں نماز پڑھانے ميں قرآت كے بعد سورۃ اخلاص پڑھ كر قرآت ختم كرتا، جب وہ واپس آئے تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كا ذكر كيا چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
" اسے پوچھو وہ ايسا كيوں كرتا ہے ؟
چنانچہ انہوں نے اس سے دريافت كيا تو وہ كہنے لگا: اس ليے كہ يہ اللہ و رحمن كى صفت ہے، اور ميں اسے پڑھنا پسند كرنا ہوں، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
اسے بتادو كہ اللہ تعالى بھى اس سے محبت كرتا ہے"
صحيح بخارى حديث نمبر ( 6940 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 813 ).
يہ حديث اس فعل كے جواز كى دليل ہے، رہا استحباب تو يہ مستحب ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے يہ فعل نہيں كيا، اور نہ ہى اس پر مداومت كى، اور سب سے بہترين طريقہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ ہے.
واللہ اعلم .
الاسلام سوال وجواب
 
Top