• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قرآن کو ہاتھ میں پکڑ کر سننا ؟

نجم

رکن
شمولیت
اپریل 18، 2011
پیغامات
99
ری ایکشن اسکور
480
پوائنٹ
79
السلام علیکم!
-کیا نماز تراویح کے دوران امام کے پیچھے کوئی بھی مقتدی قرآن کو کھول کر قرآت سن سکتا ہے ؟ حانکہ وہ حافظ قرآن بھی ہو۔
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ موبائل میں قرآن مجید کر لیتے ہیں اور دورانِ نماز جیب سے موبائل نکال کر اس سے دیکھ کر سنتے ہیں۔
صحیح عمل کونسا ہے؟
حافظ قران کو زبانی قرآن سننا چاہیئے یا پھر دیکھ کر سن سکتا ہے ؟
- اگر امام غلطی کرے تو مقرر کردہ حافظ اگر غلطی نہ نکالے تو کیا کوئی اور موجودہ حافظ اس کی اصلاح کر سکتا ہے ؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
صحیح اور سنت عمل یہی ہے کہ نماز فرض اور نفل میں قرآن زبانی پڑھا جائے اور زبانی ہی سنا جائے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہی طرز عمل تھا لیکن اگر ضرورت ہو تو امام یا مقتدی کے لیے مصحف سے دیکھ کر قرآن پڑھنا یا سننا جاِئز ہے جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کو مولی ذکوان انہیں نماز تراویح میں مصحف سے پڑھ کر سناتا تھا کیونکہ وہ حافظ قرآن نہیں تھا۔
اس عمل کا خشوع خضوع کے منافی ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ بغیر ضرورت وحاجت کے ایسا نہ کیا جائے۔ شیخ صالح المنجد اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں:

سوال ؛ کیا قرآن کریم مصحف کو دیکھ کر پڑھنا افضل ہے یا کہ حفظ سے ؟
الحمد للہ
نماز کے بغیرمصحف کو دیکھ کرپڑھنا افضل ہے کیونکہ اس میں غلطی کا امکان کم اورحفظ کے زیادہ قریب ہے لیکن اگر قرآن کودیکھے بغیراپنے حفظ سے پڑھنا اس کے خشوع کوزيادہ کرتا ہوتویہ زيادہ بہترہے ۔
اورنماز میں افضل یہ ہے کہ وہ اپنے حفظ سے پڑھے اس لیے کہ مصحف دیکھ کر پڑھنے سے اس کو کئ کام کرنے پڑيں گے جو کہ اس کے خشوع میں خلل انداز ہونے کا باعث بنیں گے مثلا مصحف اٹھانا اوربار بار صفحہ پلٹنا ،اوردیکھنا اور اسے جیب میں ڈالنا اور اسی طرح قیام کی حالت میں وہ ایک ھاتھ بھی دوسرے پرباندھ نہیں سکتا ۔
اورہوسکتا ہے کہ اگر وہ مصحف کو اپنی بغل میں رکھے تو رکوع اور سجود میں کہنیوں کو اپنے جسم دور بھی نہیں کرسکتا ، اسی بنا پر ہم نے نماز کی حالت میں حفظ کیا ہوا قرآن کریم پڑھنے کو راجح کہا ہے اور دیکھنے پر ترجیح دی ہے ۔
اوراسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بعض مقتدی امام کے پیچھے قرآن مجید لے کر کھڑے ہوتے ہيں تو یہ کام ان کے لائق نہیں کیونکہ اس میں وہی امور پاۓ جاتے ہیں جو کہ ہم نے ابھی اوپر ذکر کیے ہیں ، اور پھر اس لیے بھی کہ ان کو اس کی کوئ‏ ضرورت نہیں بلکہ ان کو امام کی متابعت کرنی چاہیے ۔
جی ہاں اگر یہ فرض کیا جاۓ کہ امام کا حفظ صحیح نہیں اور امام نے کسی ایک مقتدی کو کہا ہو کہ تم مصحف سے دیکھ کرسنو اور غلطیاں نکالوتو اس میں کو‏ئی حرج والی بات نہیں ۔ .
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے فتاوی سے ، دیکھیں کتاب : فتاوی اسلامیۃ ( 4 / 8 ) ۔
 
Top