اگر کوئی ایک
بکرہ قربانی کرے عید پر او پھر تین حصے کریں۔ دو حصے بانٹ دے غریب او رشتہ داروں میں
اور اپنا حصہ کھا نہ سکیں یا خراب ہونے کا خدشہ ہو۔ اور قربانی دینے والے شخص کا ہوٹل ہو تو وہ شخص اپنا حصہ ہوٹل میں پکا کر بھیچ سکتا ہے؟
بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ یہ اس کا حق ہے ، اس سے جیسے مرضی فائدہ اٹھا سکتا ہے ، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کی کھال تک بیچنے کو ناجائز قرار دیا ہے بلکہ فرمایا کہ قصاب کو اجرت بھی اس سے نہ دی جائے :
عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا . قَالَ : نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا .( بخاری 1717مسلم 1317 )
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھے جانوروں کی قربانی کا نگران بنایا اور فرمایا کہ ان کا گوشت ، کھال وغیرہ صدقہ کردیا جائے ، اور قصائی کو اجرت بھی اس سے نہ دی جائے ، حضرت علی فرماتے ہیں : ہم قصائی کو اجرت علیحدہ مال سے دیا کرتےتھے ۔
تو جب کھال بیچنا حرام ہے تو اس کا گوشت بیچنا بالاولی حرام ہے ، کیونکہ قربانی کا جانور ہم اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہیں اور جو چیز اللہ کے نام پر ذبح کی جائے اس کے ساتھ کاروبار کرنا درست نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔