• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قربانی کا گوشت

شمولیت
جولائی 04، 2013
پیغامات
38
ری ایکشن اسکور
68
پوائنٹ
31
اگر کوئی ایک بکرہ قربانی کرے عید پر او پھر تین حصے کریں۔ دو حصے بانٹ دے غریب او رشتہ داروں میں او اپنا حصہ کھا نہ سکیں یا خراب ہونے کا خدشہ ہو۔ اور قربانی دینے والے شخص کا ہوٹل ہو تو وہ شخص اپنا حصہ ہوٹل میں پکا کر بھیچ سکتا ہے؟
 
  • پسند
Reactions: Dua

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
اگر کوئی ایک بکرہ قربانی کرے عید پر او پھر تین حصے کریں۔ دو حصے بانٹ دے غریب او رشتہ داروں میں اور اپنا حصہ کھا نہ سکیں یا خراب ہونے کا خدشہ ہو۔ اور قربانی دینے والے شخص کا ہوٹل ہو تو وہ شخص اپنا حصہ ہوٹل میں پکا کر بھیچ سکتا ہے؟
بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ یہ اس کا حق ہے ، اس سے جیسے مرضی فائدہ اٹھا سکتا ہے ، لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کی کھال تک بیچنے کو ناجائز قرار دیا ہے بلکہ فرمایا کہ قصاب کو اجرت بھی اس سے نہ دی جائے :
عَنْ عَلِيٍّ رضي الله عنه قَالَ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ وَأَنْ أَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهَا وَجُلُودِهَا وَأَجِلَّتِهَا وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَزَّارَ مِنْهَا . قَالَ : نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا .( بخاری 1717مسلم 1317 )
ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھے جانوروں کی قربانی کا نگران بنایا اور فرمایا کہ ان کا گوشت ، کھال وغیرہ صدقہ کردیا جائے ، اور قصائی کو اجرت بھی اس سے نہ دی جائے ، حضرت علی فرماتے ہیں : ہم قصائی کو اجرت علیحدہ مال سے دیا کرتےتھے ۔
تو جب کھال بیچنا حرام ہے تو اس کا گوشت بیچنا بالاولی حرام ہے ، کیونکہ قربانی کا جانور ہم اللہ کے نام پر ذبح کرتے ہیں اور جو چیز اللہ کے نام پر ذبح کی جائے اس کے ساتھ کاروبار کرنا درست نہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,515
پوائنٹ
964
یہ جواب لکھنے کے بعد میں نے اہل علم دوستوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا تو مزید یہ بات سامنے آئی ، کہ قربانی کے گوشت کے بیچنے کےناجائز ہونے پر تمام علماء کا اجماع ہے ، یعنی ابھی تک کسی بھی عالم دین نے اس کو جائز قرار نہیں دیا ۔
شارح بخاری ابن بطال رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی اس حوالے سے گفتگو کی ہے ۔
 
Top