• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قید و ابتلاء کے درمیان شیخ ناصر الفہد اور شیخ احمد موسیٰ جبریل کی یادیں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
820
ری ایکشن اسکور
225
پوائنٹ
111
قید و ابتلاء کے درمیان شیخ ناصر الفہد اور شیخ احمد موسیٰ جبریل کی یادیں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

یہ تحریر شیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ کی ہے، جس میں انہوں نے اپنے محبوب شیخ ناصر الفہد حفظہ اللہ کو یاد کرتے ہوئے ان کے ساتھ گزرے ہوئے دعوتی ایام، ان کی نصیحتوں، محبتوں اور جیل سے بھیجے گئے خطوط کا ذکر کیا ہے۔

یہ صرف یادوں کا بیان نہیں بلکہ اہل علم کے درمیان اخوت، وفاداری اور ثابت قدمی کی ایک مؤثر تصویر ہے۔ خصوصاً وہ خط جو شیخ ناصر الفہد نے قید و بند کی سختیوں کے باوجود کافی اور پانی کی سیاہی سے لکھ کر بھیجا، اہل ایمان کے لیے صبر، امید اور استقامت کا عظیم پیغام اپنے اندر رکھتا ہے۔

شیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

میں اکثر ان خاص شیوخ کو یاد کرتا ہوں جن سے میں نے اللہ کے لیے محبت کی، اور ایسا شاید ہی کوئی دن گزرتا ہو جس میں میں بار بار ان کے لیے دعا نہ کرتا ہوں۔ اپنے والدین کے بعد جن شخصیات کا میں سب سے زیادہ ذکر کرتا ہوں، ان میں میرے دل کے محبوب، شیخ الإمام ناصر الفہد فكَّ اللهُ بالعزِّ أسره سرفہرست ہیں ۔

میں دعوت و تبلیغ کے وہ دن یاد کرتا ہوں جو ہم نے ایک ساتھ گزارے۔ اسی دوران مجھے امام احمد رحمہ اللہ کا یہ قول یاد آتا ہے: "إذا مات أصدقاء الرجل ذلّ" جب انسان کے دوست مرجاتے ہیں تو وہ کمزور اور بے سہارا ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی میں اپنے دل میں اس قول کے معنی کو بڑھا دیتا ہوں کہ جب انسان کے دوست مر جائیں یا قید کردیے جائیں، تو وہ ٹوٹ جاتا ہے۔

گزشتہ برسوں میں مجھے بارہا یہ خواہش ہوتی رہی کہ کاش میں ان خطوط کو دوبارہ پڑھ سکوں، لیکن میرا گمان تھا کہ بار بار ہونے والے چھاپوں میں وہ سب ضبط کرلیے گئے ہوں گے، جن میں کمپیوٹر، کاغذات اور ذاتی سامان تک اٹھا لیا جاتا تھا۔ کئی مرتبہ تو وہ میری لائبریری کی ہر کتاب کو الٹ پلٹ کر دیکھتے، الماریاں خالی کردیتے اور کتابیں زمین پر بکھیر دیتے تھے۔

مگر چند ہفتے پہلے مجھے بے حد خوشی ہوئی جب اچانک معلوم ہوا کہ میں نے شیخ کے ایک خط کو کبھی پرنٹ کرکے اپنی نوٹ بک میں بطور بک مارک رکھ لیا تھا۔

شیخ ناصر الفہد فكَّ اللهُ بالعزِّ أسره خاص اہتمام کرکے جیل سے مجھے کئی خطوط بھیجتے تھے۔ وہ خطوط کافی اور پانی ملا کر بنائی گئی سیاہی سے لکھے جاتے تھے، جبکہ قلم کے طور پر ایک تنکا استعمال کیا جاتا تھا۔

ان خطوط میں پہلا خط وہ تھا جو میری جیل سے رہائی کی خبر سننے کے بعد مجھے بھیجا گیا۔ اس میں ایسی حوصلہ افزا اور محبت بھری باتیں تھیں جو اس وقت مجھے اپنے گھر والوں کے علاوہ کسی اور سے سننے کو نہیں ملیں۔ صرف اسی احسان کی وجہ سے، ان کے دوسرے بے شمار احسانات کو چھوڑ بھی دیا جائے، تو بھی مجھے نہیں لگتا کہ میں ان کے لیے کبھی کافی دعائیں کرسکوں گا۔

میرے والد اللہ انہیں نیک اعمال کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے ان کے علاوہ میرا کوئی قریبی ساتھی نہیں۔ اسی لیے میں اکثر تنہائی کے لمحات میں شیخ ناصر الفہد فكَّ اللهُ بالعزِّ أسره کی کتابوں کی طرف رجوع کرکے ان کی صحبت محسوس کرتا ہوں۔ میں ان کی کتابیں ہمیشہ اپنے قریب رکھتا ہوں؛ وہ میرے دل کو سکون دیتی ہیں، اور میں انہیں بار بار پڑھ کر بھی نہیں تھکتا۔

اس خط کا دوبارہ مل جانا، خاص طور پر ایسے وقت میں، میرے لیے مزید تسلی اور راحت کا سبب بنا۔

اللہ تعالیٰ شیخ ناصر الفہد اور ان کے قید بھائیوں کو حق پر ثابت قدم رکھے، عزت کے ساتھ ان کی جلد رہائی فرمائے، اور ہمیں جلد وہ دن دکھائے جب وہ اس امت کی امامت و رہنمائی کررہے ہوں۔

اور اللہ ان لوگوں کو ذلیل کرے جنہوں نے انہیں قید کیا، اور ان کو بھی جو ان کی قید اور مظلومیت پر خوش ہوتے ہیں، اور ہمیں جنت الفردوس میں ان کے ساتھ جمع فرمائے۔

احمد موسیٰ جبرائیل
4 ذوالحجہ 1447ھ

شیخ ناصر الفہد فكَّ اللهُ بالعزِّ أسره کا ایک خط

بسم الله الرحمن الرحيم.

«مِنْ نَاصِرِ بْنِ حَمَدِ الفَهْدِ إِلَى الأَخَوَيْنِ الكَرِيمَيْنِ وَالشَّيْخَيْنِ الفَاضِلَيْنِ/مُوسَى بْنِ جِبْرِيلَ وَابْنِهِ أَحْمَدَ سَلَّمَهُمَا اللَّهُ مِنْ كُلِّ سُوءٍ وَوَفَّقَهُمَا لِكُلِّ خَيْرٍ—آمِينَ.
سَلَامٌ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ: وَبَعْدُ: فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكُمَا اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، وَأَسْأَلُهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تَصِلَ إِلَيْكُمُ الرِّسَالَةُ وَأَنْتُمْ بِخَيْرٍ وَعَافِيَةٍ، وَقَدْ بَلَغَتْنِي أَخْبَارُكُمْ عَنْ طَرِيقِ «...»–وَفَّقَهُ اللَّهُ– وَسَرَّنِي مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ الآنَ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، وَمَا حَصَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الِابْتِلَاءِ فَهُوَ طَرِيقُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُصْلِحِينَ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ سُبْحَانَهُ أَنْ يَجْعَلَ مَا أَصَابَكُمْ رِفْعَةً لِدَرَجَاتِكُمْ وَكَفَّارَةً لِسَيِّئَاتِكُمْ، وَأَنْ يُثَبِّتَنَا وَإِيَّاكُمْ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَأُبَشِّرُكُمْ أَنَّنَا –وَجَمِيعَ الإِخْوَةِ فِي السِّجْنِ– فِي نِعْمَةٍ عَظِيمَةٍ تُذَكِّرُنَا بِقَوْلِ شَيْخِ الإِسْلَامِ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي سِجْنِهِ الأَخِيرِ فِي الْقَلْعَةِ: ”لَوْ بَذَلْتُ مِلْءَ هَذِهِ الْقَلْعَةِ ذَهَبًا، مَا عَدَلَ عِنْدِي شُكْرَ هَذِهِ النِّعْمَةِ“، وَبَلِّغُوا سَلَامِي لِجَمِيعِ الإِخْوَةِ لَدَيْكُمْ، وَاللَّهُ تَعَالَى يَحْفَظُكُمْ وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ.»

-الثلاثاء: ١٤٣٤/٤/٢٠، سجن الحائر-الرياض.


ناصر بن حمد الفہد کی طرف سے دو معزز بھائیوں اور فاضل شیوخ، موسیٰ بن جبریل اور ان کے بیٹے احمد کے نام۔ اللہ انہیں ہر شر سے محفوظ رکھے اور ہر خیر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته، اما بعد:

میں آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ یہ خط آپ تک اس حال میں پہنچے کہ آپ خیریت اور عافیت میں ہوں۔

آپ کی خبریں مجھے (*****) کے ذریعے ملیں -اللہ انہیں توفیق دے- اور آپ اس وقت جس دعوتی کام میں مصروف ہیں، اسے جان کر مجھے خوشی ہوئی، والحمدللہ۔ آپ پر جو آزمائشیں آئیں، یہ انبیاء اور نیک مصلحین کا راستہ ہے۔

میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ان مصیبتوں کو آپ کے درجات کی بلندی اور گناہوں کا کفارہ بنائے، اور ہمیں اور آپ کو دنیا و آخرت میں حق پر ثابت قدم رکھے۔

اور میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ ہم اور تمام قید بھائی ایسی عظیم نعمت میں ہیں جو ہمیں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے اس قول کی یاد دلاتی ہے، جو انہوں نے قلعہ میں اپنی آخری قید کے دوران فرمایا تھا:

“اگر مجھے اس قلعے کے برابر سونا بھی دے دیا جائے، تب بھی وہ اس نعمت کے شکر کے برابر نہیں ہوسکتا جو اللہ نے مجھے عطا کی ہے۔”

آپ کے ساتھ موجود تمام بھائیوں کو میرا سلام پہنچائیں، اور اللہ آپ کی حفاظت فرمائے۔

والسلام علیکم ورحمة الله وبرکاته۔

الحائر جیل

20 ربیع الثانی 1434ھ

7064.jpg

یہ خط اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اہل حق اگرچہ آزمائشوں، قید خانوں اور ظلم کا سامنا کرتے ہیں، لیکن ان کے دل ایمان، یقین اور اللہ پر توکل سے زندہ رہتے ہیں۔ اور یہی استقامت آخرکار اہل حق کی اصل کامیابی اور عزت کا سبب بنتی ہے۔

اللہ تعالیٰ شیخ ناصر الفہد حفظہ اللہ کو عزت و عافیت کے ساتھ رہائی عطا فرمائے، ان کی تکالیف کو ان کے درجات کی بلندی کا سبب بنائے، اور انہیں حق پر ثابت قدم رکھے۔ نیز اللہ تعالیٰ شیخ احمد موسیٰ جبریل حفظہ اللہ کی حفاظت فرمائے اور انہیں دین اسلام کی خدمت، دعوت اور نصرت حق میں قبول فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top