• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لاء نفی جنس کا بیان⁦

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
67
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
17
لاء نفی جنس کا بیان⁦ (پہلی قسط)

✍ہدایت اللہ فارس

لاء نفی جنس
: یہ "لا" جنس کی نفی کے لیے آتا ہے، جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے اور حروف مشبہ بالفعل جیسا عمل کرتا ہے۔ یعنی اپنے اسم کو نصب دیتا ہے بغیر تنوین کے اور اپنی خبر کو رفع دیتا ہے۔ عمل صرف نکرات پر کرتا ہے۔
لا رجلَ قائم

لاء نفی جنس کے اسم کے اقسام:
١/ لاء نفی جنس کا اسم مضاف ہوتاہے
٢/ لاء نفی جنس کا اسم کا شبہ مضاف ہوتا ہے
٣/ لاء نفی جنس کا اسم مفرد ہوتا ہے۔

پہلی قسم: اسم کا مضاف ہونا
یعنی لاء نفی جنس کے اسم کی اضافت کسی دوسرے اسم کی طرف کی جائے۔ ایسی صورت میں لا کا اسم معرب اور منصوب ہوگا۔
جیسے: لا شاهدَ زورٍ فالحٌ
شاهد: لا کا اسم معرب منصوب ہے کیوں کہ اس کی اضافت دوسرے اسم(زور) کی طرف کی گئی۔
فالح: اس کی خبر ہے۔
مثنی کی مثال: لا فاعلَى منكرٍ محبوبان
فاعلى: "لا" کا اسم معرب ہے، اصل میں فاعلین تھا اضافت کی وجہ سے نون کو حذف کردیا گیا۔کیوں کہ یہ تثنیہ ہے اور حالت نصب میں ہے۔
محبوبان: اس کی خبر ہے۔
جمع کی مثال: لا ناصرى حقٍ هالكون
ناصرى: لا کا اسم معرب ہے "حق" کی طرف مضاف ہے۔ اصل میں ناصرین تھا، جمع مذکر سالم ہے اضافت کی وجہ سے نون کو حذف کردیا گیا۔ (حالت نصب میں ہے)
اور "ھالکون" خبر مرفوع ہے۔

دوسری قسم: لاء نفی جنس کا اسم شبہ مضاف ہو یعنی لا کا اسم کسی دوسرے اسم سے متصل ہو /مل کر آئے اور وہ اسم اس کے معنی کو پورا کردے۔ خواہ وہ فاعل ہو یا نائب فاعل ہو یا مفعول ہو یا جار مجرور ہو۔ اور ایسی صورت میں بھی لا کا اسم معرب و منصوب ہوتا ہے۔
جیسے: لا طالعاََ جبلاََ ضعيفٌ
طالعا: لا نفی جنس کا اسم(معرب) منصوب بالتنوین ہے اور علامت نصب فتحہ ہے کیوں کہ یہ شبہ مضاف ہے۔
جبلا: (مفعول بہ منصوب) یہ مفعول ہے اسم فاعل "طالع" کا جو کہ فعل جیسا عمل کرتا ہے۔
ضعیف: خبر مرفوع ہے۔
دوسری مثال: لا مستكبرا على العباد محبوب
مستكبرا: اسم معرب منصوب بالتوین ہے کیوں کہ شبہ مضاف ہے۔
محبوب: خبر
تیسری مثال: لا واعظینَ الناس خاسرون
واعظین: لاء نفی جنس کا اسم(معرب) منصوب ہے، علامت نصب یاء ماقبل مکسور کیوں کہ یہ جمع مذکر سالم ہے۔
الناس: مفعول بہ منصوب
خاسرون: لا کی خبر مرفوع ہے، علامت رفع واؤ ماقبل مضموم ۔کیوں کہ یہ بھی جمع مذکر سالم ہے اور حالت رفع میں ہے۔
#ملحوظ: یہ ساری مثالیں شبہ مضاف کی ہیں اس وجہ سے " طالعاً و مستکبراً " نصب بالتوین ہیں۔ اسی طرح "واعظین" سے نون حذف نہیں ہوا۔ ایسا نہیں کہ نون کو حذف نہیں کرسکتے ہیں۔ بلکہ حذف کیا جاسکتا ہے لیکن ایسی صورت میں اس کا مابعد مضاف الیہ ہوگا اور یہ اس وقت مضاف کی مثال ہوگی ناکہ شبہ مضاف کی۔

تیسری قسم: اسم لاء نفی جنس کا مفرد ہونا۔
یعنی اس کا اسم نہ تو مضاف ہو اور نہ شبہ مضاف ہو۔ ایسی صورت میں "لا" کا اسم مبنی ہوتا ہے۔( مبنی بر فتحہ،مبنی بر یاء ومبنی بر کسرہ بغیر تنوین)
مثال: لا مؤمنَ كذابٌ
مؤمن: لا کا اسم ہے، مفرد ہونے کی بنا پر مبنی بر فتحہ ہے۔
کذابٌ: لا کی خبر مرفوع ہے۔ علامت رفع ضمہ ہے۔
دوسری مثال: لا صدیقین خائنان
صدیقین: لا کا اسم منصوب۔ علامت نصب یاء ماقبل مفتوح ہے کیوں کہ یہ تثنیہ ہے ( یہاں بھی "لا" کا اسم مفرد ہے اور وہ ہے "صدیقین")
خائنان: لا کی خبر مرفوع ہے۔اور علامت رفع الف ہے تثنیہ ہونے کی وجہ سے۔
تیسری مثال: لا شریفاتٍ یفرطنَ في كرامتهن
شریفات: لا کا اسم مبنی بر کسرہ ہے کیوں کہ جمع مؤنث سالم ہے(حالت نصب میں ہے، اور "شریفات" مفرد ہے)

خلاصہ:
لاء نفی جنس کے اسم کی تین قسمیں ہیں
(١)مضاف (٢) شبہ مضاف (٣) مفرد
ایک حالت میں لا کا اسم مبنی ہوتا ہے۔ اور دو حالتوں میں معرب
١_ مفرد ہونے کی صورت میں مبنی
٢_ مضاف یا شبہ مضاف کی صورت میں معرب۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔؛؛
 

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
67
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
17
لاء نفی جنس کا بیان⁦ (دوسری قسط)

ہدایت اللہ فارس

پہلی قسط میں "لاء نفی جنس" کے اسم کی کتنی قسمیں ہیں ، کیا کیا ہیں اور استعمال کی کیا صورتیں ہیں۔ اس پر تفصیلی بحث ہوئی تھی۔

آئیے اب اس کی خبر کے سلسلے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں۔
معلوم ہونا چاہیے کہ لاء نفی جنس کی خبر جس طرح مفرد ہوا کرتی ہے۔ اسی طرح کبھی جملہ یا شبہ جملہ کی صورت میں بھی آیا کرتی ہے۔

ہر ایک کو مع مثال سمجھتے ہیں۔

پہلی قسم: لاء نفی جنس کی خبر کا مفرد ہونا (یعنی خبر نہ تو جملہ ہو اور نہ شبہ جملہ بلکہ خبر اسم مفرد ہو۔۔)
مثال: لا عالمَ جھولٌ
اس میں "جھول" لا کی خبر مرفوع مفرد ہے۔ علامت رفع اس پر ضمہ ہے۔

لا ضدّین مجتمعان
مجتمعان: لا کی خبر مرفوع ہے علامت رفع الف ہے کیوں کہ یہ مثنی ہے( اور یہ خبر مفرد ہے)

لا منافقین صادقون
صادقون: لاء نفی جنس کی خبر مرفوع مفرد ہے، علامت رفع واؤ ماقبل مضموم۔ جمع مذکر سالم ہونے کی بنا پر۔

دوسری قسم: خبر کا جملہ کی صورت میں آنا۔
واضح رہے! لاء نفی جنس کی خبر جملے کی صورت میں بھی آتے ہیں۔ خواہ جملہ اسمیہ ہو یا جملہ فعلیہ۔ اور یہ جملے "لا" کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہوتے ہیں۔

خبر جملہ اسمیہ کی صورت میں
(یاد رہے جملہ اسمیہ مبتدا وخبر سے مل کر بنتا ہے) جیسے:

لا مؤمنَ اخلاقُه سيئةٌ
مؤمن: لا کا اسم مفرد منصوب ہے۔
اخلاقُه: مبتدا مرفوع، علامت رفع اس پر ضمہ ہونا ہے۔ "ہ " ضمیر مضاف الیہ (حالت جر میں ہے)
سيئةٌ: خبر مرفوع۔(مبتدا "اخلاقُه" کی وجہ سے) علامت رفع ضمہ ہے۔ اور یہ پورا جملہ (اخلاقُه سيئةٌ) جملہ اسمیہ ہے جو کہ لاء نفی جنس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔

لا صادقَ ھو المقوتُ
صادق: اسم لا، حالت نصب میں ہے
ھو ضمیر مبتدا
المقوتُ: "ھو" کی خبر مرفوع، علامت رفع اس پر ضمہ ہونا ہے۔
اور یہ پورا جملہ (ھو المقوتُ) جملہ اسمیہ ہے، "لا" کی خبر ہے اس لیے حالت رفع میں ہے۔

خبر جملہ فعلیہ کی صورت میں۔
لاء نفی جنس کی خبر جملہ اسمیہ کی طرح کبھی جملہ فعلیہ بھی ہوا کرتی ہے۔ جیسے:

لا متکبرَ يحبه الناسُ
متکبرَ: لاء نفی جنس کا اسم منصوب ہے۔ مفرد ہونے کی وجہ سے مبنی بر فتحہ ہے۔
يحبه: فعل مضارع مرفوع اور "ہ" ضمیر مفعول بہ ہے۔
الناسُ: فاعل مرفوع۔ علامت رفع ضمہ ہے اور یہ جملہ(يحبه الناسُ) فعلیہ ہے "لا" کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔

لا امواتَ ینفعون الناس
ینفعون الناس: جملہ فعلیہ۔ لا کی خبر ہے اس لیے حالت رفع میں ہے۔

تیسری قسم: لا کی خبر شبہ جملہ کی صورت میں۔
یاد رہے شبہ جملہ جار مجرور یا ظرف سے مل کر بنتا ہے۔
شبہ جملہ جار مجرور کی مثال:

لا رجلَ في البيتِ
رجل: اسم لا منصوب
في: حرف جار
البیت: اسم مجبور( "في" کی وجہ سے) علامت جر کسرہ ہے۔ شبہ جملہ (في البيتِ) لاء نفی جنس کی خبر ہے اس لیے حالت رفع میں ہے۔

ظرف کی مثال:

لا ضغينةَ بينَ المسلمين
ضغينةَ: اسم لا منصوب۔ علامت نصب اس پر فتحہ ہے۔
بین: ظرف مکان منصوب
المسلمين: مضاف الیہ مجرور۔ علامت جر یاء ماقبل مکسور کیوں کہ یہ جمع مذکر سالم ہے۔
شبہ جملہ (بينَ المسلمِينَ) لاء نفی جنس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔

فَلَاۤ أَنسَابَ بَیۡنَهُمۡ یَوۡمَىِٕذࣲ وَلَا یَتَسَاۤءَلُونَ (القرآن)
لا معصیة بعد اليوم
معصیة: اسم لا منصوب
بعد: ظرف زمان منصوب(مضاف)
اليوم: مضاف الیہ مجرور۔۔۔۔

شبہ جملہ (بعد اليوم) لاء نفی جنس کی خبر ہونے کی وجہ سے حالت رفع میں ہے۔
قرآن مجید میں ہے" لَا ظُلۡمَ ٱلۡیَوۡمَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِیعُ ٱلۡحِسَابِ﴾ [غافر ١٧]"

ظلم: لا کا اسم منصوب ہے۔
یوم: ظرف خبر محذوف سے متعلق ہے
سریع الحساب: لا کی خبر ہے۔

لاء نفی جنس کی خبر کو کبھی حذف کردیا جاتا ہے جب اس پر کوئی چیز دلالت کرے، یا سیاق کلام سے بات سمجھ میں آجائے۔

جیسے کسی کا کسی سے پوچھنا :من المریض؟
تو جوابا کہنا: لا أحد
یہاں سے خبر کو حذف کر دیا گیا ہے
تقدیری عبارت ہے " لا أحدَ مریضٌ۔
اسی طرح سے کلمہ " لا إله إلا الله" میں بھی خبر محذوف ہے۔
اس کی تقدیر ہے: لا إله حق إلا الله.
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔؛؛
 

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
67
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
17
لاء نفی جنس کا بیان⁦⁦⁩ (تیسری قسط)

ہدایت اللہ فارس


لاء نفی جنس کے اسم اور اس کی خبر کے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے بعد اب جانتے ہیں کہ لاء نفی جنس کب عمل کرتا ہے اور کب نہیں۔ اس کے عامل ہونے کی کیا شرطیں ہیں۔
  • ⁩تین شرطوں کی بنیاد پر لاء نفی جنس عمل کرتا ہے۔ اور وہ مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) اس کا معمول نکرہ ہو (یہ معارف پر عمل نہیں کرتا۔)
(۲) لاء نفی جنس اور اسم کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو۔
(۳) لاء کی تکرار نہ ہو۔

پہلی شرط نے معارف کو خارج کردیا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس کا اسم بھی نکرہ ہو اور خبر بھی۔

اب اگر کوئی کہے " لا زيدَ قائمٌ " تو یہ غلط ہوگا کیوں کہ زید معرفہ ہے، اس پر نصب نہیں دیا جاسکتا۔

اسی طرح سے کوئی کہے " لا القومَ قادمون " تو بھی غلط ہوگا کیوں کہ "القوم" معرفہ ہے اس پر نصب دینا ممکن نہیں۔

لا الرجلَ قائمٌ ⁦❎
لا رجلَ القائمُ ❎
لا رجلَ قائمٌ ☑

لہذا معلوم ہوا کہ لاء نفی جنس صرف نکرات پر ہی عمل کرتا ہے معارف پر نہیں۔

تنبیہ: لاء نفی جنس اپنے اسم کو تنوین نہیں دیتا۔ اب اگر (لا رجلَ قائم) کی بجائے (لا رجلاً قائم) کہا جائے تو درست نہ ہوگا۔

کلمہ " لا إله إلا الله " اسی باب سے ہے۔

لا نافیہ۔ جنس کے لیے " إله" (نكره) اس کا اسم منصوب (بغیر تنوین) ہے۔ اور یہ " لا " سے متصل بھی ہے۔ دونوں کے بیچ فاصلہ نہیں ہے۔

واضح رہے إلا کے بعد لفظ الجلالة (اللہ) اس کی خبر نہیں ہے کیوں کہ معرفہ ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ " لا إله إلا الله " میں خبر کہاں ہے؟
جواب یہ ہے کہ اس کی خبر "حق" محذوف ہے۔ گویا تقدیری عبارت اس طرح ہوگی:

لا إله حق إلا الله ( حق خبر ہے اور اللہ بدل ہے حق سے)

بعض لوگ کلمہ مذکورہ میں "موجود" کو خبر محذوف مانتے ہیں لیکن واضح رہے یہ عقیدے کی رو سے بہت بڑی غلطی ہے۔
مذکورہ کلمہ کو دیکھتے ہوئے کوئی سوال کرسکتا ہے کہ " لا رجل إلا قائم " میں خبر کہاں ہے؟

تو جوابا کہیں گے کہ جملہ میں مذکور "قائم" ہی اس کی خبر ہے کیوں کہ یہ نکرہ ہے اس کے خبر ہونے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔

لہذا معلوم ہوا کہ کلمہ " لا إله إلا الله " میں إلا کے بعد لفظ الجلالة (الله) کو اس لیے خبر نہیں کہہ سکتے کیوں کہ وہ معرفہ ہے جبکہ (لا رجل إلا قائم) میں "قائم" کو خبر اس لیے کہیں گے کیوں کہ وہ نکرہ ہے۔

جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔؛؛
 

ابو داؤد

مبتدی
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
67
ری ایکشن اسکور
5
پوائنٹ
17
لاء نفی جنس کا بیان⁦ (چوتھی قسط)

ہدایت اللہ فارس


لاء نفی جنس کے عامل ہونے کی شرطیں تیسری قسط میں بتائی گئی ہے۔

پہلی شرط یہ ہے کہ"لا" کا معمول نکرہ ہو لہذا یہ معارف پر عمل نہیں کرتا ( اس پر تفصیلی بحث ہوچکی ہے)

لا کے عامل ہونے کی دوسری شرط "لا اور اس کے اسم کے درمیان فاصلہ نہ ہونا ہے"

اب دیکھتے ہیں کہ اگر یہ شرط مفقود ہو یعنی دونوں کے بیچ فاصلہ ہوجائے تو اس کے اعراب کی کیا صورتیں ہوں گی۔
اس سلسلے میں دو قول ہیں:

پہلا قول: لا کے اسم کو رفع دینا اور "لا" کو مکرر لانا واجب ہے۔( لا في الدار رجلٌ ولا امرأةٌ-
لَا فِیهَا غَوۡلࣱ وَلَا هُمۡ عَنۡهَا یُنزَفُونَ)

اب اگر کوئی "لا فی الدار رجل" کہہ کر خاموش ہوجائے تو اس قول کی بنیاد پر جملہ درست نہ ہوگا۔ بلکہ اسے لازمی طور "لا" کو مکرر لانا ہوگا۔(لا فی الدار رجل ولا امرأة)

دوسرا قول: "لا" اور اسم کے درمیان فاصلے کی صورت میں "اسمِ لا" کو رفع دینا واجب ہے، اور "لا" کی تکرار مستحسن ہے واجب نہیں۔

لہذا اس قول کی بنیاد پر اس طرح کے جملے "لا فی الدار رجل،،۔ لا فی القرية ولد " درست کہلائے جائیں گے، غیر درست نہیں۔

لیکن بہتر یہی ہے کہ "لا" کو مکرر لایا جائے۔
(لا فی الدار رجل ولا امرأة ،، لا فی القرية ولد ولا بنت)
اور یہی دوسرا قول راجح ہے۔ کیوں کہ یہ پہلے کی بنسبت زیادہ آسان ہے۔

اور افصح کی بات کی جائے تو "لا" کو مکرر لانا ہی (فصیح) ہے۔ لیکن اگر مکرر نہ لایا جائے تو کوئی حرج نہیں۔

(شرح الآجرومبة لابن عثيمين رحمه الله ص: ٤٦٨ )

اور یاد ہونا چاہیے کہ جب کسی مسئلے میں نحویوں کے درمیان اختلاف ہوجائے تو اس قول کو مقدم رکھا جائے گا جو دوسروں کے بنسبت زیادہ آسان ہے۔

(شرح الفیه ابن مالك ١/ ٢٠)

یہ ساری باتیں فاصلے کی صورت میں ہے۔
رہا مسئلہ کہ "لا" اور اس کے اسم کے درمیان فاصلہ نہ ہو اور "لا" کی تکرار بھی ہو، یا اگر تکرار نہ ہو۔۔۔ تو اس وقت "لا" کے اعراب کی تین صورتیں ہوں گی۔

١- اگر "لا" اور اسم دونوں متصل ہو (فاصلہ نہ ہو) اور لا کی تکرار بھی نہ ہو تو "اسم لا" کو نصب دینا واجب ہوگا۔

٢- دونوں کے بیچ فاصلہ کی صورت میں اسم کو رفع دینا واجب ہے۔ اور "لا" کی تکرار مستحسن تو ہے پر واجب نہیں۔

٣- لا اور اس کا اسم متصل ہو (فاصلہ نہ ہو) اور "لا" کی تکرار بھی ہو تو دو وجہیں جائز ہیں:

(١) اسم کو رفع دینا (٢) اسے نصب دینا۔

"لا حول ولا قوۃ الا باللہ " کا تعلق بھی اسی تیسری قسم سے ہے۔ ان شاءاللہ اس کی وضاحت اگلی قسط میں۔
 
Top