محمد اویس میر
رکن
- شمولیت
- نومبر 07، 2021
- پیغامات
- 121
- ری ایکشن اسکور
- 1
- پوائنٹ
- 47
خلاصہ روبوٹ :انشورنس پر حکم سے قطع نظر یہ دونوں ہی وجوہات مکمل نہیں ہیں،اولاًاس لئے کہ انشورنس اصولی طورپر بیع نہیں ہے بلکہ وہ ایک خدمت ہے جس کا معاوضہ لیاجارہاہے۔
دوسری بات اگرہم مان لیں کہ یہ بیع ہے تویہ بیع مجہول کس طرح ہے،جب یہ معلوم ہے کہ اداکرنے والا ایک سال کیلئے چار سو روپے اداکرے گا اوراس کے بدلے میں اسے فلاں فلاں بیماریوں کیلئے اتنے سے اتنے تک کا علاج ہوگا،توجہالت کس جگہ باقی رہی؟
رہی بات کلیم پر اٹھنے والے جھگڑے اورنزاعات کی تویہ اوراس قسم کے نزاعات تو بذات خود صحیح اورشفاف بیع میں بھی پیش آتے ہیں جس کی وجہ سے کیس مقدموں کی نوبت آتی ہے۔
دوسری وجہ بتائی گئی ہے کہ یہ جوا ہے،اس پر بھی فیہ نظروالی بات ہے،جواکیاہوتاہے،جوا میں صرف اتناہی نہیں ہوتاکہ جیتنے پر کم رقم کے بدلے بڑی رقم ملتی ہے ،بلکہ جوا میں ہار جیت کا پہلو بالکل غیرواضح ہوتاہے ،پتہ نہیں کہ وہ لاکھوں جیتے گایااپنی رقم سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے گا۔
اس کے برخلاف زیر بحث انشورنس میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ وہ اداکرنے والاچارسو روپے اداکرے گا اوربدلے میں اسے ایک مقررہ رقم تک کے علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔
یہ جوا اوربیع مجہول وہی علماء احناف کی گردان ہے جس کو اہل حدیث حضرات بھی رٹ رہے ہیں،ضرورت ہے کہ فقہاء سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے معاملات پر اصولی اعتبار سے نظرڈالی جائے ،نہ کہ ائمہ وفقہاء حضرات کی تفریعات کے چشمے سے ہی اسے دیکھاجائے۔
بظاہر دوچیزیں کبھی ایک سی لگتی ہیں لیکن دونوں میں کچھ فرق بھی ہوتاہے اسی فرق کی بنیاد پر حلت اورحرمت کاانحصار ہوتاہے، بیع اور ربا ایک سے لگتے ہیں لیکن دونوں میں فرق ہے ،جس کی وجہ سے ایک حلال اور دوسرا حرام ہے،اسی طرح جوا اور انشورنس میں بظاہر کچھ مطابقت ہوسکتی ہے لیکن اگرآپ غورکریں گے تواس میں بنیاد فرق ملے گا اوریہ بنیادی فرق اس پر دلیل ہے کہ جوا اورانشورنس ایک نہیں ہیں۔
تیسری بات :معاملات میں آسانی اورنرمی کاپہلو ہوناچاہئے،آج اگرکسی شخص کو ہاسپٹیل میں داخل ہونے کی نوبت آجائے تولاکھوں کا بل بنتے ہوئے دیر نہیں لگتی،ایک غریب آدمی جس کی بمشکل آمدنی پندرہ ہزار کے دائرہ میں ہے، وہ چاربچوں کی پرورش ،تعلیم وتربیت ،دیگر اخراجات کے ساتھ بیماری پر اٹھنے والے اخراجات کیسے برداشت کرے گا۔
غریبوں کوچھوڑدیجئے خود علماء کا گمنام طبقہ کس مشقت سے زندگی بسر کرتاہے وہ کسی سے مخفی نہیں، آج اگر کوئی بیمار ہوجائے اوربیماری تھوڑی سنگین نوعیت کی ہو اور ہاسپٹل میں داخل ہوناپڑجائے توسوائے اس کے کہ وہ کہیں ہاتھ پھیلائے کوئی اورچارہ نہیں بچتا۔
علماء کا وہ طبقہ جو کسی وجہ سے مشہور ہے،یا جو علماء کےاشرافیہ وایلیٹ طبقہ میں شامل ہے،اورافتاء پر عموماایسے ہی لوگوں کاغلبہ ہے،ایسے حضرات وہ پہلو نہیں دیکھ پاتے جس سے علماء کا گمنام طبقہ گزرتاہے جیسے ہمارے سیاستدانوں کو غریبوں کے دکھ درد کا پتہ نہیں ہوتا،اور روٹی نہ ملنے پر کیک کھانے کا مشورہ دیاجاتاہے،یاپھر بعض نفسیاتی قسم کے لوگوں کا خیال ہوتاہے کہ ہم نے بھی شروع میں سختیاں برداشت کی ہیں، زمانے کے مصائب جھیلے ہیں، لہذا دوسروں کوبھی اسے لازماجھیلناہی چاہئے، جیسے ہرساس اپنی بہو سے اپنے ساس کے مظالم کا بدلہ لیناچاہتی ہے،شعوری یاغیرشعوری طورپر۔
سود = بیع حرام = جمع کرائ گئ تجارتی قرض کی رقم (راس المال) پر طے شدہ منافع لینا چاہے “مقروض تاجر بھائ” زیادہ منافع کمائے یا نقصان میں جائے !
انشورنس روبوٹ = میں نے ۷ سال میں انشورنس کمپنی (تامین شرکہ) کو ۱۰ ہزار درہم جمع کرائے ۔
میرے احتیاطی اور حفاظتی تجارتی روبوٹکس کی وجہ سے کوئ نقصان نہیں ہوا۔
دوسرے رکن نے اپنی جہالت اور لاپرواہی کی وجہ سے اپنا ۲۰ ہزار درہم کا تجارتی نقصان کیا !
اسے میرے جیسے ۲ افراد کے جمع شدہ ۲۰ ہزار درہم “تامین دعوی” Insurance Claim میں مل گئے !
=جوا روبوٹ !
اسلامی تکافل روبوٹ = پاکستانی کمیٹی روبوٹ =
میں نے ہر سال میں ۱۲ لاکھ روپے “اجتماعی تاجر برادری بینک” میں جمع کرائے۔
ہر سال قرعہ اندازی میں ایک رکن کو ۱۲ لاکھ ملتے ہیں۔
اب یہ نہیں پتہ کس کو ملتے ہیں ؟
لہذا ہر تاجر احتیاطی اور حفاظتی تجارتی روبوٹس کو توڑنے سے ڈرے گا !
Arbitrary Loss Robot Governed by Arbitrary Pool Amount Distribution Robot