• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لاتحزن - غم نہ کریں - عشرے کی بسٹ سیلر کتاب

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
287
ری ایکشن اسکور
500
پوائنٹ
120
بشکریہ : تعمیر نیوز
سعودی عالم کی تصنیف عشرے کی بسٹ سیلر کتاب - لاتحزن

معروف سعودی عالم و مبلغ شیخ عائض القرنی کی تصنیف "لاتحزن" عشرے کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب قرار پائی ہے ۔ 10 برسوں کے دوران کتاب کے ایک کروڑسے زائد نسخے فروخت ہو چکے ہیں ۔ اردو سمیت 30زبانوں میں ترجمہ کی جانے والی کتاب کو اس دہائی کے دوران لکھی جانے والی عرب کتب میں سب سے زیادہ پسندیدہ اور مقبول ترین تصنیف قراردیا گیا ہے ۔ مذکورہ کتاب سعودی ولی عہد کے علاوہ سابق عراقی صدر، صدام حسین اور لیبیا کے حکمران معمر قذافی کے بھی زیر مطالعہ رہی ہے ۔ العربیہ نیٹ کے مطابق، سعودی عرب کے عالم دین اور مبلغ، عائض القرانی کی کتاب "لا تحزن" کو گذشتہ دہائی میں سب سے زیادہ فروخت ہونیوالی عربی تصنیف قراردیا گیا ہے ۔ یہ فیصلہ مصری دارالحکومت قاہرہ میں گذشتہ روز عرب پبلشرز کی جانب سے منعقد ہونے والے کتب میلے میں کیا گیا ہے ۔ بیسٹ سیلر ثابت ہونے والی کتاب کو نہ صرف عوام الناس میں پسندیدگی اور مقبولیت ملی ہے بلکہ اسے سراہنے والوں میں مشہور عالمی شخصیات بھی شامل ہیں ۔ ان میں پہلا نام سعودی عرب کے حالیہ ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کا آتا ہے ۔ جنہوں نے اس کتاب کا تین مرتبہ مطالعہ کیا ہے ۔
لیبیا کے سابق حکمراں معمر قذانی بھی اس کتاب کا مطالعہ کرتے تھے ۔ سابق عرصی صدر، صدام حسین، اپنے آخری یاما میں جیل کی کوٹھری میں اس کا بہت زیادہ مطالعہ کرتے تھے ۔ ان کی پھانسی کے بعد یہ کتاب ان کے سامان سے برآمد ہونے والی اشیاء میں موجود تھی جس پر انہوں نے جا بجا نشانیاں بھی لگائی تھیں ۔ سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے اس کتاب سے متعلق اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ تین مرتبہ "لاتحزن" کا مطالعہ کر چکے ہیں اور اب بھی یہ کتاب ان کے بک شیلف میں نمایاں رکھی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق کتاب پر اب تک دو پی ایچ ڈی مقالے بھی لکھے جا چکے ہیں ۔
تھیسس لکھنے والوں میں سے ایک جرمن خاتون ہیں ۔ انہوں نے برلن یونیورسٹی سے اس کتاب پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے ۔ سعودی عالم کی تصنیف پر پی ایچ ڈی کرنے والی دوسری شخصیت بھی ایک خاتون ہیں جو مصر کی رہائشی ہیں انہوں نے مصری یونیورسٹی "عین الشمس" سے اس کتاب پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ہے ۔ کتاب سے متعلق حالیہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد اس پر مقالہ لکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کی توقع ہے ۔ واضح رہے کہ مذکورہ کتاب کا ترجمہ 30 زبانوں میں کیا گیا ہے ۔
ان میں جرمن، فرانسیسی، انگریزی، اطالوی، ہسپانوی، اردو، فارسی، یونانی اور دیگر زبانیں شامل ہیں ۔ کتاب کا اردو ترجمہ "غم نہ کریں " کے نام سے شائع ہوا ہے ۔ کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں سب سے زیادہ بڑا بوجھ غموں کا حاوی ہو جاتا ہے اس بوجھ کو سر سے اتارنے کی ضرورت ہے ۔ مصنف نے کتاب میں ایسی ضروری ہدایات تحریر کی ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے انسان مایوسی اور پریشانی کی کیفیت سے چھٹکارا پاسکتا ہے ۔ یہ تمام ہدایات اور تجاویز قرآن و حدیث کی تعلیمات سے مزین ہیں ۔ اس کے مطالعہ سے انسان کی قلبی روحانی کیفیت میں بہتری آ جاتی ہے اور مصائف سے پریشان حال قارئین غم و اندوہ کے چنگل سے نکل کر خوشی اور مسرت کی فضاء میں سانس لیتے ہیں ۔ العربیہ کے مطابق ممتاز عرب نقادوں نے "لا تحزن" پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کتاب کی مقبولیت کی وجہ، عالم عرب سمیت پوری دنیا کو درپیش بدترین اقتصادی، سماجی اور سیاسی صورتحال ہے ۔ اس وجہہ سے اکثر لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں ایسے میں اس کتاب کامطالعہ ان کی ذہنی اور روحانی قوتوں کو مضبوط بنا کر انہیں اطمینان قلب پہنچاتا ہے ۔ کتاب کے مصنف شیخ عائض القرنی نے العربیہ سے اپنی تصنیف کو حاصل ہونے والے حالیہ اعزاز کے حوالے سے کہاکہ انہوں نے اس نیت سے یہ کتاب لکھی ہے کہ یہ رنگ و نسل اور دین و مذہب کے امتیاز سے بالاتر، ہر قاری کیلئے مفید ثابت ہو، شائد یہی وجہ اس کی عالمی مقبولیت کا سبب بنی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق کتاب نے اب تک 5کروڑسعودی ریال کا بزنس کیا ہے جبکہ انٹرنیٹ پر بھی اسے سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں پر پہلی پوزیشن حاصل ہے ۔ واضح رہے کہ کتاب کا پہلا ایڈیشن 2002ء میں سعودی عرب کے پبلشنگ ادارے "مکتبہ العبیکان" نے نے شائع کیا۔ 584 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا اردو ترجمہ "غم نہ کریں " کے نام سے پاکستانی قارئین میں مقبولیت پا چکا ہے ۔ خاص طورپر دینی مدارس میں اسے بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے ۔ مدارس کے طلبہ اور اساتذہ زیادہ تر کتاب کے عربی ایڈیشن ہی سے مستفید ہوتے ہیں کیونکہ وسعت و فصاحت عربی میں ہے وہ دنیا کی کسی اور زبان میں نہیں ۔ مدارس میں منعقد تقریری و تحرے ی مقابلوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی اکثر وبیشتر انعام میں یہی کتاب دی جاتی ہے ۔ العربیہ کے مطابق "لاتحزن" کے مصنف اور عالم دین شیخ عائض القرنی، سعودی عرب کے علاقے "ابہا" کی مرکزی جامع مسجد کی پیش امام ہیں ۔ وہ ابہا اور ریاض کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہیں ۔ ٹیلی ویژن پر لاکھوں لوگ ان کے لیکچرز سنتے ہیں ۔ شیخ عائض القرنی، عالمی مصنفین مولانا ابواعلی مودودی، شیخ ابوالحسن علی ندوی، شیخ قطب اور شیخ عبدالعزیز بن باز کی تصنیفات سے کافی متاثر ہیں ۔

اردو ترجمہ کتاب (بشکریہ کتاب و سنت لائبریری) : ڈاؤن لوڈ
انگریزی ترجمہ : مصنف کی ویب سائیٹ
 

خضر حیات

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 14، 2011
پیغامات
8,767
ری ایکشن اسکور
8,514
پوائنٹ
964
جزاکم اللہ خیرا مفید معلومات پر ۔
اسی کتاب ’’ لا تحزن ‘‘ جیسی چند کتب اور بھی ہیں جن میں سے سلمان العودۃ کی کتاب ’’ شکرا أیہا الأعداء ‘‘ اور محمد العریفی کی کتاب ’’ استمتع بحیاتک ‘‘ (زندگی سے لطف اٹھائیے ) بہت مشہور ہوئی ہیں خاص طور پر مؤخر الذکر کتاب بہت معروف ہے ، دارالسلام کے ایک زمیل نے اس کو نہایت مہارت سے اردو قالب میں ڈھالا ہے جس نے کتاب کی اہمیت کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔
شکرا أیہا الأعداء کتاب بھی بہت زبردست ہے خاص طور پر علماء حضرات کو ضرور پڑھنی چاہیے ۔
 

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
287
ری ایکشن اسکور
500
پوائنٹ
120
عائض علمی سرقے کے مقدمے میں سزا یافتہ ہیں
سعودی اسکالر عائض القرنی کا نوبل امن انعام مسترد کرنے کا اعلان
خبر بحوالہ : العربيہ.نیٹ | مشرق وسطی
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
محمد العریفی کی کتاب ’’ استمتع بحیاتک ‘‘ (زندگی سے لطف اٹھائیے ) بہت مشہور ہوئی ہیں خاص طور پر مؤخر الذکر کتاب بہت معروف ہے ، دارالسلام کے ایک زمیل نے اس کو نہایت مہارت سے اردو قالب میں ڈھالا ہے جس نے کتاب کی اہمیت کو چار چاند لگا دیے ہیں ۔
لنک
 
Top