• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

لڑکی سے زنا کرنے کے بعد نکاح کرنا

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,079
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
111
شریعت میں زنا کبیرہ گناہ اور سنگین ترین جرم ہے، بلکہ اسلام میں کسی بھی جرم پر اتنی سخت سزا مقرر نہیں کی گئی جتنی سزا زنا کرنے پر رکھی گئی ہے۔ اگر غیر شادی شدہ شخص زنا کرے تو اسے 100 کوڑے مارنے کا حکم ہے، اور ایک سال کے لیےجلاوطن کر دیا جائے گا۔ اگر شادی شدہ مرد یا عورت زنا کرے تو اسے سنگسار کیا جائے گا۔

ارشاد باری تعالی ہے:
الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ. (النور: 2).
’’جو زنا کرنے والی عورت ہے اور جو زنا کرنے والا مرد ہے، سو دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور تمہیں ان کے متعلق اللہ کے دین میں کوئی نرمی نہ پکڑے، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور لازم ہے کہ ان کی سزا کے وقت مومنوں کی ایک جماعت موجود ہو‘‘۔

سیدنا ابوہریرہ اور زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی کے غیرشادی شدہ بیٹے نے ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ زنا کیا تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان فیصلہ فرمایا:
((َعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا)). (صحيح البخاري، الشروط: 2724).
’’کہ تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی کی جائے گی، اے انیس تو کل اس آدمی کی بیوی کی طرف جانا اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دینا۔‘‘

  • زانيہ عورت يا زانى مرد سے اس وقت تک نكاح صحيح نہيں ہے جب تك وہ سچی اور پکی توبہ نہ كر لے۔ اپنے جرم پر نادم ہو اور آئندہ ایسا جرم نہ کرنے پکا عز م کرے ۔ اگر زانیہ عورت يا زانی مرد توبہ نہيں كرتا تو اس سے نكاح کرناصحيح نہيں ہوگا۔
اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور:3)
’’زانى مرد نکاح نہیں کرے گا مگر کسی زانیہ عورت سے، یا کسی مشرکہ عورت سے، اور زانیہ عورت، اس سے نکاح نہیں کرے گا مگر کوئی زانی یا مشرک ، اور یہ کام ايمان والوں پر حرام كر ديا گيا ہے ۔‘‘

مرثد بن ابو مرثد غنوى رضى اللہ تعالى عنہ مكہ سے قيديوں كو اٹھا كر لايا كرتے تھے، اور مكہ ميں ايك بدكار اور زانيہ عورت تھى جس كا نام عناق تھا، وہ ان كى دوست تھى۔ وہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آيا اور عرض كى اے اللہ كے رسول ! كيا ميں عناق سے شادى كر لوں ؟ تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خاموشى اختيار كى چنانچہ يہ آيت نازل ہوئى: الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ (النور:3)، تو رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے بلا كر ميرے سامنے يہ آيت تلاوت فرمائى اور كہنے لگے: تم اس سے نكاح مت كرو۔ (صحیح سنن أبي داود: 2051 )

  • چنانچہ سوال میں مذکورہ صورت حال میں اگر وہ دونوں زنا سے پکی اور سچی توبہ کر لیتے ہیں، انہیں اپنے جرم پر ندامت بھی ہے ، آئندہ ایسا جرم نہ کرنے کا پکا عزم کرتے ہیں اور نکاح کے ارکان وشروط پورے ہیں تو ان کا نکاح صحیح ہو گا۔
  • واضح رہے کہ عورت کے لیے نکاح سے پہلے ایک حیض گزارنا لازمی ہے تاکہ استبراء رحم ہو جائے۔

والله أعلم بالصواب.
 

ملک اعوان

مبتدی
شمولیت
جون 27، 2026
پیغامات
16
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
السلام علیکم سب دوستوں کو! میں اس گروپ میں نیا ہوں، لیکن اس پوسٹ کو پڑھ کر اور اس میں دیے گئے حوالوں کو دیکھ کر میرا دل مانا کہ اس پر تھوڑی گہری تحقیق کروں تاکہ ہم سب کے سامنے پوری تصویر آ سکے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ جو حوالے یہاں دیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ بہت مستند ہیں، لیکن جب ہم اللہ کی کتاب قرآنِ مجید کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو کچھ ایسے علمی نکات سامنے آتے ہیں جو اس پورے مسئلے کو ایک نیا رخ دیتے ہیں۔

سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ قرآنِ پاک کی سورۃ النساء کی پچیسویں آیت میں اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کی سزا کے بارے میں ایک بہت بڑا اصول بیان کیا ہے کہ ان کی سزا آزاد عورتوں کے مقابلے میں آدھی یعنی نصف ہوگی۔ اب یہاں سے ایک بہت گہری علمی بحث نکلتی ہے جس کا ذکر امام فخر الدین رازی نے اپنی تفسیرِ کبیر میں اور امام قرطبی نے بھی کیا ہے کہ اگر آزاد عورت کی سزا سنگساری یا موت ہو، تو موت کا آدھا کرنا تو عقلی اور شرعی طور پر ممکن ہی نہیں ہے، جبکہ کوڑوں کی سزا کو آسانی سے آدھا کیا جا سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر ان بڑے ائمہ نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ قرآن کی نظر میں زنا کی اصل حد وہی سو کوڑے ہی ہے جو سورۃ النور میں بیان ہوئی ہے، کیونکہ اسی کو تقسیم کر کے آدھا کرنا ممکن ہے۔ یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے بلکہ براہِ راست قرآن کے اپنے بیان کردہ ایک قانونی قاعدے سے نکلنے والی دلیل ہے۔

جہاں تک احادیث میں رجم یا سنگساری کے واقعات کا ذکر ہے، تو ان کا انکار کوئی بھی صاحبِ ایمان نہیں کر سکتا، لیکن اس کی سب سے بہترین تشریح ہمیں حضرت علیؓ کے ایک مشہور فیصلے سے ملتی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ جب حضرت علیؓ نے ایک خاتون (شراحہ ہمدانیہ) پر حد جاری کی، تو انہوں نے اسے جمعرات کے دن کوڑے مارے اور جمعہ کے دن رجم کیا۔ جب ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ میں نے اسے اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق کوڑے مارے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مطابق رجم کیا۔ یہ عمل ہمیں سمجھاتا ہے کہ قرآن کی اصل حد وہی سو کوڑے ہی ہے، جبکہ رجم کی سزا ایک اضافی یا تعزیری حکم کے طور پر رہی ہے۔ ائمہِ دین اور محققین کا ایک بڑا گروہ اسی بنیاد پر کہتا ہے کہ ہمیں قرآن اور حدیث میں تطبیق پیدا کرنی چاہیے تاکہ قرآن کا وہ 'نصف سزا' والا اصول بھی برقرار رہے اور سنتِ رسول ﷺ کی اہمیت بھی واضح رہے۔

اسی طرح نکاح کے معاملے میں بھی ایک باریک فقہی نکتہ ہے جو ہمیں سمجھنا چاہیے۔ اگرچہ توبہ کرنا روح کی پاکیزگی کے لیے لازمی ہے، لیکن امام ابوحنیفہ اور امام شافعی جیسے جلیل القدر ائمہ کا موقف یہ ہے کہ زنا سے نکاح باطل نہیں ہوتا۔ ان کے نزدیک سورۃ النور کی تیسری آیت کا مقصد اس فعل کی برائی اور کراہت کو واضح کرنا ہے، نہ کہ قانونی طور پر نکاح کے بندھن کو سرے سے ختم کر دینا۔ یعنی اگر کوئی توبہ سے پہلے بھی نکاح کر لیتا ہے تو وہ گناہ گار تو ہو سکتا ہے لیکن ان کا نکاح قانونی طور پر منعقد ہو جائے گا۔

میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم دین کو اس کی پوری وسعت اور قرآن کی دی ہوئی منطق کے ساتھ دیکھیں۔ جب ہم حضرت علیؓ کے فیصلے اور امام رازی اور امام قرطبی جیسے قدیم ائمہ کے ان علمی نکات کو سامنے رکھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کی کتاب نے ہر چیز کو کتنی خوبصورت حکمت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ہمیں کسی ایک گروہ یا سوچ کے پیچھے چلنے کے بجائے براہِ راست قرآن کے ان اصولوں پر غور کرنا چاہیے جو ہر دور کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ امید ہے کہ یہ علمی پہلو ہم سب کے لیے سوچ کے نئے دروازے کھولے گا۔

واللہ اعلم بالصواب۔
 

محدث میڈیا

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 02، 2023
پیغامات
1,079
ری ایکشن اسکور
34
پوائنٹ
111
محترم!
اللہ تعالی آپ کو ڈھیروں خوشیوں سے نوازے۔
آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے ہاں اسلام میں حدیث کا کیا مقام ہے؟
 

ملک اعوان

مبتدی
شمولیت
جون 27، 2026
پیغامات
16
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
محترم!
اللہ تعالی آپ کو ڈھیروں خوشیوں سے نوازے۔
آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے ہاں اسلام میں حدیث کا کیا مقام ہے؟

"محترم! آپ کی دعاؤں کا بہت شکریہ، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی جزائے خیر عطا فرمائے۔ آپ نے بہت ہی بنیادی اور اہم سوال پوچھا ہے۔

میرے نزدیک حدیثِ رسول ﷺ کا مقام وہی ہے جو امتِ مسلمہ کے جمہور علماء اور ائمہ کا رہا ہے۔ حدیثِ مبارکہ قرآنِ مجید کے بعد شریعت کا دوسرا بڑا ماخذ ہے اور اس کے بغیر نہ تو ہم قرآن کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی دین پر عمل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، قرآن نے نماز کا حکم تو دیا ہے، لیکن نماز پڑھنے کا طریقہ ہمیں صرف اللہ کے رسول ﷺ کی سنت اور احادیث ہی سے ملتا ہے۔ لہٰذا، حدیث کو مانے بغیر کوئی بھی شخص مسلمان ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

جہاں تک میری پچھلی گفتگو کا تعلق ہے، تو میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جب کوئی شخص کسی مسئلے کی تحقیق کرتا ہے، تو ایک سچے محقق کا فرض ہوتا ہے کہ وہ بالکل غیر جانبدار رہ کر معاملے کے ہر پہلو کا جائزہ لے۔ شاید بہت سے دوستوں کے لیے یہ بات حیران کن ہو، لیکن خود **امام بخاریؒ** کے استاد اور جلیل القدر محدث **امام اسحاق بن راہویہؒ** اور **امام ابنِ حزمؒ** جیسے بڑے ناموں نے اس مسئلے پر ایسی علمی بحثیں کی ہیں جو عام طور پر سامنے نہیں آتیں۔

مثال کے طور پر، **امام ابنِ حزمؒ** (جو ظاہری تھے اور حدیث کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے) نے اپنی کتاب **'المحلیٰ'** میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ رجم کی سزا کے حوالے سے جو روایات ہیں، ان میں سے بعض پر عمل کرنے میں خود صحابہ کے دور میں بھی علمی باریکیاں موجود تھیں۔ سب سے بڑھ کر **حضرت علیؓ** کا وہ عمل جو صحیح بخاری میں موجود ہے کہ انہوں نے 'کتاب اللہ کے مطابق کوڑے مارے اور سنت کے مطابق رجم کیا'۔

ایک اور حیران کن نکتہ یہ ہے کہ **صحیح بخاری** میں ہی حضرت عمر فاروقؓ کا وہ خطبہ موجود ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ 'مجھے ڈر ہے کہ کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ ہمیں اللہ کی کتاب میں رجم کا حکم نہیں ملتا'۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر رجم کا حکم قرآن کی مستقل 'حد' تھا، تو حضرت عمرؓ کو یہ خدشہ کیوں ہوا؟ اس کا جواب وہی 'نصف سزا' والا قرآنی قاعدہ (سورۃ النساء: 25) دیتا ہے جو میں نے پہلے ذکر کیا کہ لونڈی کی سزا آزاد عورت سے آدھی ہوگی۔

ایک غیر جانبدار طالبِ علم ہونے کے ناطے، میرا مقصد صرف یہ دکھانا ہے کہ یہ علمی سوالات کوئی 'جدید فتنہ' نہیں بلکہ خود بڑے بڑے محدثین اور صحابہ کے اقوال سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہمیں قرآن اور حدیث میں ایسی تطبیق تلاش کرنی چاہیے جو اللہ کی کتاب کے کسی بھی قاعدے سے نہ ٹکرائے۔ خلاصہ یہ کہ حدیثِ رسول ﷺ میرے لیے واجب الاتباع اور سر آنکھوں پر ہے، اور میری تمام گفتگو کا مقصد صرف اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے درمیان اس گہری حکمت کو تلاش کرنا ہے جو ہمارے اسلاف اور ائمہ نے ہمیں سکھائی ہے۔ واللہ اعلم۔"
 

ملک اعوان

مبتدی
شمولیت
جون 27، 2026
پیغامات
16
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
محترم!
اللہ تعالی آپ کو ڈھیروں خوشیوں سے نوازے۔
آپ سے مؤدبانہ سوال ہے کہ آپ کے ہاں اسلام میں حدیث کا کیا مقام ہے؟

اور اگر میں یہی سوال آپ سے پوچھوں تو آپ کا جواب کیا ہو گا۔

اللہ آپ کو بھی ڈھیروں خو شیوں دے۔ آمین ۔
 

ملک اعوان

مبتدی
شمولیت
جون 27، 2026
پیغامات
16
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
حديث بھی قرآن کی طرح وحی ہے۔


محترم! آپ نے بالکل بجا فرمایا، اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زبانِ مبارک سے نکلنے والا ہر لفظ حق ہے اور اللہ ہی کی رہنمائی (وحی) کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی لیے ہم حدیث کو 'وحیِ غیر متلو' مانتے ہیں۔ لیکن ایک غیر جانبدار محقق کے طور پر جب ہم اس وحی کو قرآن کی 'میزان' پر رکھتے ہیں، تو کچھ ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو شاید بہت سے دوستوں کے لیے حیران کن ہوں۔

کیا آپ کے علم میں ہے کہ امام بخاریؒ کے جلیل القدر استاد، امام اسحاق بن راہویہؒ (جو اہلحدیث کے بہت بڑے امام ہیں) کے نزدیک یہ مسئلہ اتنا سادہ نہیں تھا؟ خود امام ابنِ حزمؒ نے اپنی کتاب 'المحلیٰ' میں یہ حیرت انگیز بات نقل کی ہے کہ تابعین کے دور کے ایک بہت بڑے فقیہ اور امام، ابراہیم نخعیؒ (جن سے امام ابوحنیفہؒ نے علم پایا) کا موقف یہ تھا کہ رجم (سنگساری) کی سزا دراصل قرآن کی اس آیت کے آنے سے پہلے تھی جو سورۃ النور میں نازل ہوئی، اور سورۃ النور کی آیت (100 کوڑے) نے پچھلی تمام سزاؤں کو منسوخ کر دیا تھا۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ صحیح بخاری (حدیث نمبر 6829) میں خود ایک صحابیِ رسول، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ سے جب پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے رجم کی سزا سورۃ النور (کوڑوں والی آیت) کے نازل ہونے سے پہلے دی تھی یا بعد میں؟ تو انہوں نے جواب دیا: 'لا أدري' (مجھے نہیں معلوم)۔

اب ذرا سوچیے، اگر رجم قرآن کا دائمی حکم ہوتا، تو ایک جلیل القدر صحابی اس بارے میں شک میں نہ ہوتے۔

یہیں سے وہ علمی نکتہ پیدا ہوتا ہے جو امام فخر الدین رازیؒ اور امام قرطبیؒ نے اٹھایا کہ اللہ نے اپنی 'وحیِ متلو' (قرآن) میں ایک واضح قانون دیا ہے کہ لونڈی کی سزا آزاد عورت سے 'آدھی' ہوگی (سورۃ النساء: 25)۔ اب اگر ہم دوسری وحی (حدیث) کے ذریعے آزاد عورت کی سزا 'موت' مان لیں، تو قرآن کا وہ 'نصف سزا' والا ریاضیاتی اور قانونی قاعدہ کیسے پورا ہوگا؟

کیا اللہ کی ایک وحی، اللہ ہی کی دوسری وحی کے بیان کردہ ایک واضح قاعدے کو 'ناممکن' بنا سکتی ہے؟

اہلحدیث کے ایک اور بڑے امام، امام ابنِ قیمؒ نے 'اعلام الموقعین' میں یہ سنہری اصول لکھا ہے کہ صحیح حدیث کبھی قرآن کے خلاف نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا، جب ہم حضرت علیؓ کا وہ عمل دیکھتے ہیں کہ انہوں نے 'کتاب اللہ کے مطابق کوڑے مارے اور سنت کے مطابق رجم کیا'، تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ قرآن کی اصل 'حد' وہی سو کوڑے ہی ہے، جبکہ رجم ایک اضافی تعزیری سزا تھی جو خاص حالات کے لیے تھی۔

خلاصہ یہ کہ میں حدیث کو وحی مانتا ہوں، لیکن میں اس وحی کو قرآن کی اس 'میزان' پر رکھ کر سمجھنا چاہتا ہوں جو خود اللہ نے ہمیں عطا کی ہے۔ کیا اللہ کی وحی (حدیث) اللہ ہی کے واضح قانون (قرآن) کو معطل یا ناممکن بنا سکتی ہے؟

یہ وہ سوال ہے جو ہمیں ائمہِ سلف کی ان علمی باریکیوں پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

واللہ اعلم
 

ملک اعوان

مبتدی
شمولیت
جون 27، 2026
پیغامات
16
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
5
حديث بھی قرآن کی طرح وحی ہے۔

محترم! آخر میں ایک طالبِ علم کی حیثیت سے میرا آپ سے صرف ایک ہی سادہ سا سوال ہے.

اگر ہم رجم (موت) کو مستقل قرآنی 'حد' مان لیں، تو ہم قرآنِ مجید کے اس واضح اور موجودہ حکم (سورۃ النساء: 25) پر کیسے عمل کریں گے جس میں اللہ نے سزا کو 'آدھا' کرنے کا حکم دیا ہے؟

کیا آپ کے نزدیک اللہ کی وحی (حدیث) اللہ ہی کے ایک اور واضح قانونی قاعدے (قرآن) کو 'ناقابلِ عمل' (Impossible) بنا سکتی ہے؟ یا پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ قرآن کی اصل 'حد' وہی ہے جس کا آدھا ہونا ممکن ہے؟
 
Top