- شمولیت
- اگست 28، 2019
- پیغامات
- 82
- ری ایکشن اسکور
- 13
- پوائنٹ
- 56
بسم اللہ الرحمن الرحیم
لینا کبھی نہ دینا
لینا کبھی نہ دینا
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی رسولہ الکریم،امابعد:
میرے دوستو!آج کے خطبۂ جمعہ کے لئےجو موضوع میں لے کرحاضر ہواہوں وہ ہم سب کے لئے بہت ہی زیادہ اہم ہے،یہ ایک ایسامسئلہ ہے جس نے بہت سارے لوگوں کی زندگیوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ہے ،صرف یہی نہیں بلکہ یہ تو ایک ایسامسئلہ ہے جس سے بسااوقات لوگ خودکشی کرنے پر بھی مجبور ہوجاتے ہیں ،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا ہے؟اور یہ کون سا موضوع ہے تو وہ موضوع ہے’’ لینا کبھی نہ دینا ‘‘ یعنی قرض لینا،ادھارلینا اور پھر اسے بھول جانا ،آج ہم نے اس قرض کو معمولی سمجھ لیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں قرض لینے میں کوئی ڈروخوف نہیں ہوتاہے ،کوئی کہتاہے کہ بھائی کچھ پیسے ادھار دے دو،تنخواہ آتے ہی واپس کردوں گا،کوئی کہتاہے کہ بس چند مہینے کی تو بات ہے پھرجب سب ٹھیک ہوجائے گا تو قرض لوٹادیں گے،کوئی کہتاہے کہ آج یہ چیز لے لیتے ہیں بعد میں پیسہ دے دیں گے،لیکن میرے بھائیو !یہ جملہ ’’ بعد میں دے دیں گے‘‘ کبھی کبھی ہماری زندگی کا بہت بڑا مسئلہ بن جاتاہےبلکہ بسا اوقات تو یہ بہت بڑی پریشانی کا سبب بھی بن جاتاہے،انسان کا چین وسکون ختم ہوجاتاہے،راتوں کی نیند اڑجاتی ہے،کیوں کہ قرض لینا تو بہت آسان ہے مگر اس کی بھرپائی کرنا بہت مشکل ہے،قرض لینے میں تو بہت مزہ آتاہے مگر اس کی ادائیگی میں نانی دادی یاد آجاتی ہے،قرض لیتے وقت ایک انسان کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے مگر جب اداکرنے کا وقت آتاہے تو اس کے چہرے پر سوائے اداسی کے اور کچھ نہیں ہوتا،قرض لیتے وقت انسان کے جیب میں پیسے تو آجاتے ہیں مگرجب دینے کی باری آتی ہے تو اس کا جیب ہی نہیں بلکہ اس کی زمین وجائیداد اور گھرومکان تک بِک جاتےہیں،اس لیے اے مسلمانوں قرض لینے سے ہمیشہ بچو! اس مہنگائی کے دور میں کون کس کا ہوتاہے؟اس لیے ہمیشہ اپنی کمائی کے حساب سے ہی زندگی جیا کرو اور خواہشات کے پیچھے پڑکراپنی شان دکھانے کے لئے قرضے نہ لیا کرو، دیکھا یہ جاتا ہے کہ اکثر وبیشتر لوگ اپنی شان دکھانے کے لئے ہی سودی قرض لیتے ہیں یعنی لوگ ضرورت کے لئے نہیں بلکہ اپنی شان دکھانے کے لئے قرض لیتے ہیں ،دیکھا یہ جاتاہے کہ پہلے سے ہی کسی کے پاس ایک اچھاگھرومکان ہوتاہےجواس کے لئے کافی ہوتاہے مگر سماج ومعاشرے میں اپنی شان دکھانے کے لئے بینک سے سودی قرض لےکر ایک نیا گھر تعمیر کرتاہے اور پھر سالوں سال تک قسطے چکاتارہتاہے،یادرکھ لیجئے!جب کوئی انسان اپنی خواہشات کو پوری کرنے کے لئے قرضے لینا شروع کردیتاہے تو یہ قرضے کبھی ختم نہیں ہوتے ہیں ،ایک قرض لیا،پھر اس کو چکانے کے لئے اور ایک قرض لیا،ایک قسط ختم ہوئی کی نہیں دوسری شروع ہوگئی،اس طرح سے ایک انسان پوری زندگی قسطوں کو چکانے میں گذاردیتاہے،الغرض لوگ ضرورت کے لئے قرضے نہیں لیتے ہیں بلکہ اپنی خواہشات کو پوری کرنے کے لئے قرضے لیتے ہیں اور یہی تو سب سے بڑی دنیا کی خرابی اور پھر آخرت کی ہلاکت وبربادی ہے۔
(1)قرض اور شادی:
میرے دوستو! دیکھا یہ جارہاہے کہ لوگ شادیوں اور رسم ورواج کے نام پر خوب قرض لیتے ہیں بلکہ یہ بھی دیکھا اور سنا گیا ہے کہ لوگ شادی کے نام پر اپنے اپنے گھروں کوبھی گروی رکھ کر قرض لے لیتے ہیں ،اور بسااوقات یہ قرض کبھی دولہے والوں کی حرام وناجائز ڈیمانڈ کو پوری کرنے یاپھر اپنی بیٹی کو جہیز دینے کے نام پرلیاجاتاہے تو کبھی یہ قرض صرف اورصرف یہی سوچ کرلیا جاتاہے کہ میرے بیٹے کی شادی ہے،میری بیٹی کی شادی ہےاگر زیادہ خرچ نہیں کروں گا تولوگ کیا کہیں گے؟رشتہ دار کیا کہیں گے؟محلے والے کیا کہیں گے؟اگر ہم نے بڑا ہال نہیں لیا تو لوگ کیا کہیں گے؟اگر دس قسم کے کھانے نہیں بنائے تو لوگ کیا کہیں گے؟اگر اتنا خرچ نہیں کیا تو ہماری عزت کیا رہ جائے گی؟اوروہ بھی قرض ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں لیا جاتاہے،پانچ لاکھ ،دس لاکھ، توکبھی اس سے بھی زیادہ،اور یہ سارے قرضے سودپرلئے جاتے ہیں !اب ذرا سوچئے کہ کیا چند گھنٹوں کی شادی کے لیے انسان اپنی پوری زندگی کا سکون داؤ پر لگا دینا عقلمندی ہے؟کیا لوگوں کے سامنے عزت دکھانے کے لیے اپنے گھر کو قرض میں ڈبو دینا عقلمندی ہے؟کیا لوگوں کی واہ واہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینا عقلمندی ہے؟نہیں !ہرگز نہیں! یہ تو سراسر بیوقوفی اور حماقت ہے، یادرکھنا!لوگ کھانا کھا کر چلے جاتے ہیں!کسی نے بریانی کھائی،کسی نے گوشت کھایا،کسی نے مٹھائی کھائی،اورپھرکسی نے کہا ،ماشاء اللہ! بہت اچھا انتظام تھا، پھرایک دن کی شادی تھی ختم ہوجاتی ہے،فنکشن ختم ہوجاتا ہے،سجاوٹ ختم ہوجاتی ہے،کھانا ختم ہوجاتاہےمگر قرض باقی رہ جاتا ہے!سب اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں لیکن قرض کہاں جاتا ہے؟قرض تو گھر میں رہ جاتا ہے، ایک دن کی خوشی ختم ہوجاتی ہے مگر زندگی بھر کے لئے آنکھوں میں آنسوباقی رہ جاتے ہیں!مہمان چلے جاتے ہیں مگرقرض باقی رہتا ہے،اِدھر کھانا ختم ہوتاہے اور اُدھرقرض کی قسطیں شروع ہو جاتی ہیں،اِدھرشادی کی رونق ختم ہوتی ہےاور اُدھرقرض دینے والے کا تقاضا شروع ہو جاتا ہے،اور افسوس!جن لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اتنا خرچ کیا گیا تھا، وہی لوگ کچھ دن بعد کہتے ہیں کہ کھانا اچھا نہیں تھا،انتظام میں کمی تھی،یہ چیز نہیں تھی،وہ چیز نہیں تھی ، یہ کمی تھی تووہ کمی تھی ،یہ اچھا نہیں تھا تو وہ اچھا نہیں تھا ،اور کبھی تو یہی لوگ پیٹھ پیچھے بدنام بھی کرتے ہیں، برائیاں بیان کرتے ہیں، مذاق بھی اڑاتے ہیں، اب ذرا سوچئے کہ جن لوگوں کی زبان کو خوش کرنے کے لیے آپ نے قرض لیا، کیا وہ آپ کا قرض ادا کریں گے؟کیا وہ آپ کے گھر کی قسطیں بھریں گے؟کیا وہ آپ کی پریشانی میں آپ کا ہاتھ پکڑیں گے؟نہیں!ہرگز نہیں!تو پھر صرف لوگوں کی خوشی کے لیے اتنا بوجھ کیوں؟
میرے دوستو!قرض لےکر اپنے بچوں کی شادی بیاہ نہ کیا کرو،یقیناً شادی خوشی کا موقع ہے مگر سودی قرض لے کر اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ذریعہ نہ بناؤ ،ذرا سوچئے کہ جس کام کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر رکھی جائے گی کیا اس میں برکت رہے گی،ہرگز نہیں !کبھی نہیں ! اس لئے شادی سادی کیا کرو،اورمیں تو یہ کہوں گا کہ آپ جو نام وشہرت کے لئے اپنی اولاد کی شادیوں میں خرچ کررہے ہیں اس کو چھوڑ دو اور اس کی جگہ پر وہی رقم اپنی اولاد کو دے دوتاکہ وہ اس رقم سے اپنا کوئی بزنس وتجارت شروع کرلے اورکائنات کے رب کی قسم !میں یہ دعوے کے ساتھ کہہ رہاہوں کہ اگر آپ ایساکریں گے تواولاد ہمیشہ آپ کے لئے دعائے خیر اور دعائے مغفرت کرے گی اور میری یہ نصیحت یاد رکھنا اے لوگو!آج اگر آپ کے پاس دس لاکھ ہیں تو دس لاکھ کی ہی شادی کریں،اگر پانچ لاکھ ہیں تو پانچ لاکھ کی ہی شادی کریں،اگر ایک لاکھ ہیں تو ایک لاکھ کی ہی شادی کریں ، اگر پیسے نہیں ہیں تو شادی سادی ہی کرلیں،اگرپیسے نہیں ہیں تو پھر شادی گھرکے سامنے ہی سڑکوں پر کرلیں،اگر پیسے نہیں ہیں تو پھر ولیمہ کھجور اور چھوہارے سے ہی کرلیںلیکن صرف اس لیے کہ لوگ کیا کہیں گے؟اپنی چادر سے باہر پاؤں نہ پھیلائیں،اور خاص طور پر سودی قرض کے ذریعے شادی کا انتظام نہ کیاکریں،یاد رکھ لیں کہ لوگ چند گھنٹوں کی شادی دیکھتے ہیں، لیکن آپ کو اس قرض کا بوجھ سالوں اٹھانا پڑتا ہے،اس لیے لوگوں کی واہ واہ کے پیچھے نہ بھاگیں،اللہ کی رضا کے پیچھے بھاگیں،سادہ نکاح کریں،حلال طریقے سے شادی کریں،فضول خرچی سے بچیں، سادگی اختیار کریں، سود اور دکھاوے سے بچیں اور اپنی اولاد کے لیے ایسی زندگی کا آغاز کریں جس میں قرض کا بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی برکت ہو،اوراپنے نبیﷺ کا یہ فرمان ہمیشہ اپنے ذہن ودماغ میں رکھیں کہ ’’ خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ ‘‘ بابرکت شادی وہ نہیں جس میں زیادہ خرچ کیا جائے بلکہ خیروبرکت والی شادی تو وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔ (ابوداؤد:2117،الصحیحۃ:1842) ذرا سوچئے کہ اسلام نے نکاح کو کتنا آسان بنایا ہےمگر ہم نے اسے مشکل بنادیا،اسلام نے سادگی سکھائی مگر ہم نے مقابلہ کرنا شروع کردیا،اس لیے میرے بھائیو شادی بیاہ کے نام پر قرضے نہ لیا کرو!ذرا سوچئے اور آپ خود ہی یہ فیصلہ کریں کہ ایک دن کی شادی کے لئے سالوں کی پریشانی خریدنا کیا یہ عقلمندی ہے؟نہیں ،نہیں !ہرگز نہیں بلکہ یہ تو ایک سراسر بیوقوفی اور احمقانہ حرکت ہے،یہ مال کی بربادی اور زندگی بھر کی پریشانی کے سوا کچھ نہیں ہے،اس لئے میری یہ نصیحت یاد رکھیں کہ اپنی کمائی اور اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرنا غربت نہیں بلکہ عقل مندی ہے۔
(2)قرض اور سود:
محترم سامعین!اب اس قرض کے بارے میں ایک سب سے خطرناک بات تو سنئے کہ لوگ اپنی شوق کو پوری کرنے یاپھر اولاد کی شادی کے نام پر سودی قرضے بھی بڑے ہی شوق وذوق سے لے رہے ہیں ،جب کہ ہرمسلمان اس بات سے اچھی طرح سے واقف ہے کہ سود کا لینا دینا حرام ہے،لوگ یہ سوچتے ہیں کہ سود کا لینا حرام ہے دینا نہیں ،ہرگز نہیں !جیسا سود لینا حرام ہے ویسا ہی سود دینا بھی حرام ہے ،اور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ یہ جناب محمدعربی ﷺ نے کہہ دیا ہے ،جیسا کہ سیدنا جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ ‘‘آپﷺ نے سود کھانے والے،سود کھلانے والے،سود کو لکھنے والےاور سود پر گواہ بننے والوں کے اوپر لعنت بھیجی اور کہا کہ ’’ هُمْ سَوَاءٌ ‘‘ یہ سب کےسب گناہ میں برابر ہے۔(مسلم:1598)یعنی جتنا گناہ سود کھانا ہے اتنا ہی گناہ سود کھلانا بھی ہے،اللہ کی پناہ!ہم جانتے ہیں کہ سود حرام ہے مگرپھر بھی ہم سود پرقرضہ لیتے ہیں ،بینک سے لون لیتے ہیں،اور یہ سمجھتے ہیں کہ سود کا لینا حرام ہے دینا نہیں!استغفراللہ! نہیں میرے بھائیو نہیں!ہرگز ایسانہ سمجھنا ،سود دینا بھی حرام ہے اور لینا بھی حرام ہے،دونوں کے گناہوں میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں ہے،دیکھا یہ جاتاہے کہ لوگوں کے اوپر تھوڑی سی مجبوری کیا آگئی فوراً سود پر قرضہ لے لیتے ہیں اور پھر یہ دلیل دیتے ہیں کہ بھائی اس دورمیں بغیر سود کے قرضہ کون دیتا ہے،ہمارے ساتھ مجبوری تھی،یہ پریشانی تھی،وہ پریشانی تھی،اورسن لیجئے!کائنات کے رب کی قسم! لوگوں کے پاس نہ توکوئی مجبوری ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی پریشانی ،بلکہ لوگ تو اپنی شوق پوری کرنے یاپھر سماج ومعاشرے میں اپنی حیثیت بتانے کےلیے سودی قرضے لیتے ہیں،اورجن جن لوگوں نے یہ سوچ کرسودی قرضے لیے کہ اچھے دن آئیں گے،ان سب لوگوں کے اچھے دن کبھی نہیں آئیں گےکیونکہ باری تعالی نے یہ اعلان کردیا ہے کہ سود ی معاملات کرنے والے یہ ہمیشہ نقصان میں رہیں گے،جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا ‘‘ اللہ سود کو مٹاتا ہے۔(البقرۃ:276)اور ایک دوسری جگہ اللہ نے فرمایا کہ ’’ وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ ‘‘ تم جو سود پر دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے وہ اللہ کے ہاں نہیں بڑھتا۔(الروم:39) اسی بات کو آپﷺ نے بالکل ہی واضح الفاظ میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ مَا أَحَدٌ أَكْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلَّا كَانَ عَاقِبَةُ أَمْرِهِ إِلَى قِلَّةٍ ‘‘جوشخص سود کے ذریعے سے مال میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے گا تو آخر میں اس کے مال کی بربادی بالکل ہی یقینی امر ہے۔(ابن ماجہ:2279،صحیح الجامع للألبانیؒ:5518)اور یہ حقیقت ہے کیاآپ دیکھتے نہیں ہیں کہ ایک انسان سود پر ایک قرض لیتاہےتاکہ وہ اپنی تجارت کو بڑھاسکے پھر وہ سود بڑھتاجاتاہے،یہاں تک کہ اس کو اداکرنے کے لئے ایک اور سودی قرض لیتاہے،پھرسود در سود وہ بھی قرض بڑھتاجاتاہے اور یہ انسان قرض کے پہاڑوں تلے دبتا جاتاہے ،اور جب سود ی قرض حد سے زیادہ ہوجاتاہے تواسے اپنے قرض کی بھرپائی کرنے کے لئے اپنامکان یاپھر کوئی اپنی خاص زمین وجائیداد بیچنی پڑتی ہے ،پھر بھی قرض مکمل ادا نہیں ہوتاہے بالآخر وہ ایک دن خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتاہے،یہ ہے سود کا انجام!اس لیے اے میرے بھائیو اور بہنو!اپنی ضرورت اور شوق کو پوری کرنے یاپھر اپنی شہرت کے لئے سودی قرض نہ لیاکرو، اگر پیسے کم ہیں تو سستی چیز ہی لے لیاکرو،اگر پیسے نہیں ہیں تو پرانے گھرمیں رہو،اگر پیسے نہیں ہیں تو کرائے کے مکان میں ہی رہو مگر اس سود کے قریب بھی نہ جاؤ ورنہ جیتے جی دنیا میں اورپھر آخرت میں ہلاک وبرباد ہوجاؤگے۔
(3)قرض اور دوبڑے گناہ:
محترم سامعین وسامعات! یہ قرض لینا کتنا خطرناک اور کتنا نقصان دِہ ہے اگر آپ اس کا اندازہ لگاناچاہتے ہیں تو بس اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ نبیٔ اکرم ومکرمﷺ اپنی ہرنماز کے آخری تشہد میں یہ دعا کیا کرتے تھے کہ ’’ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ ‘‘ اے اللہ !تو مجھے گناہوں سے اورقرض کے بوجھ سے ہمیشہ بچاکر اپنی حفاظت میں رکھنا،میرے بھائیو !ذرا سوچو کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ ﷺ ہر نماز کے آخری تشہد میں یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تو مجھے قرض سے ہمیشہ محفوظ رکھنا ،تو اس کا جواب بھی حدیث کی روشنی میں ہی سن لیجئے ،صدیقۂ کائنات امی عائشہؓ کہتی ہیں کہ کسی نے آپ سے یہ سوال کیا کہ اے میرے محبوبﷺ ’’ مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ المَغْرَمِ ‘‘ آپ اس قرض سے اتنی زیادہ اللہ کی پناہ کیوں پکڑتے ہیں ،یعنی آپ اس قرض سے کیوں ڈرتے ہیں ؟توسنئے اس کا جواب آپﷺ نے کیا دیا تھا؟اور جوجواب آپﷺ نے دیاتھا کائنات کے رب کی قسم! ہرمقروض یہی کرتا ہے، آپﷺ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کیونکہ’’ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ ‘‘جب ایک انسان مقروض ہوتاہے تو جھوٹ بھی بہت بولتاہے اور وعدہ خلافی بھی بہت کرتاہے۔(بخاری:832،مسلم:589) اللہ اکبرکبیرا!یہ حدیث ہمیں ایک بہت بڑی حقیقت بتاتی ہے کہ قرض صرف ایک انسان کے جیب کو ہی ڈھیلا نہیں کرتاہے بلکہ اس کے اخلاق وکردار کو بھی داغدار کردیتاہے اور کتنا سچ فرمایا ہے ہمارے نبیﷺ نے کہ جب ایک انسان مقروض ہوجاتاہے اور جب قرض لوٹانے کی باری ہوتی ہے توانسان جھوٹ پر جھوٹ بولتاہے اور خوب وعدہ خلافی کرتاہے کہ آج دے دوں گا تو کل دے دوں گا،کبھی کہتا ہے کہ آج میرے پاس پیسے نہیں ہے،کل آنا،اور جب قرض دینے والا شخص کل اس کے پاس جاتاہے تو کوئی اور بہانہ کرکے جھوٹ بولتاہے ،فون آنے پر موبائل بند کردیتا ہےبلکہ بسااوقات تو مقروض قرض دینے والے کو دیکھ کر راستہ ہی بدل لیتا ہے،الغرض یہ قرض ایک انسان کو جھوٹ اوروعدہ خلافی جو دونوں بھی بڑے گناہ ہیں اس کے اندر ملوث کردیتاہے۔
(4) قرض اور مرض:
میرے دوستو! اس قرض کےنقصانات میں سے اب جو میں نقصان بتانے جارہاہوں ذرا اس کو غورسے سنئے !قرض کا ایک سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جب ایک انسان مقروض ہوتاہے تو اس کی زندگی سےچین وسکون ختم ہوجاتی ہے، قرض ایک انسان کی راتوں کی نیند چھین لیتا ہے، وہ رات کو بستر پر جاتا ہے لیکن نیند نہیں آتی، آنکھیں بند ہوتی ہیں لیکن دماغ چل رہا ہوتا ہے،اور وہ یہی سوچ رہاہوتاہے کہ قرض کیسے ادا ہوگا؟ کل کس کو پیسے دینے ہیں؟ قسط کہاں سے آئے گی ؟اور پھر گھر کا خرچ کیسے چلے گا ؟کل دوکان ومکان کے سامنے کون کون اپنا پیسہ مانگنے آ سکتاہے،غرضیکہ اس کی پوری رات یہی سب سوچنے میں گذرجاتی ہے اور جب صبح ہوتی ہے تو وہ انسان بے چین وبے قرار ،ڈرا اور سہما ہوا رہتاہے کہ پتہ نہیں کون اس سے پیسہ مانگنے کے لئے آ جائے،قرض لینے والا بظاہر لوگوں کے سامنے مسکرا رہاہوتاہے ،لیکن اس کے دل ودماغ میں ایک فکر ہوتی ہے کہ قرض کیسے ادا ہوگا؟دن میں فکر،رات میں فکر،موبائل بجتاہے تو ڈر لگتاہے کہ کہیں قرض دینے والے کا تو فون نہیں ہے،دروازے پر دستک ہوتی ہے دل گھبراتاہے کہ کہیں قرض مانگنے والا تو نہیں آ گیا،آپ نے بھی یہ دیکھا ہوگا اور سنا ہوگا کہ جب ایک انسان زیادہ مقروض ہوجاتاہے تو یاتو وہ گاؤں چھوڑ کربھاگ جاتاہے یاپھر خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتاہے،اس لیے میرے بھائیو! دوسروں کو خوشحال نظر آنے کے لیے اپنی زندگی کو قرض میں مت ڈالو،ورنہ تمہاری زندگی کی ہرخوشی ماند پڑجائے گی،اگر آپ کو میری باتوں پر یقین نہ آرہاہوں تو ذرا اپنے آس پاس سماج ومعاشرے کے اندر لوگوں کی حالتوں کا جائزہ لیجئے آپ کو یہ بات ضرور معلوم ہوجائے گی کہ اس قرض کی وجہ سے نہ جانے آج کتنے گھر وخاندان حیران وپریشان ہیں ،کسی کے بھائی نے قرض لیااور دوسرے بھائی سے لڑائی وجھگڑے شروع ہوگئے،کسی کے باپ نے قرض لیا اور اولاد سےلڑائی وجھگڑے شروع ہوگئے،اولاد نے قرض لیے اور باپ نے اولاد کو گھر سے نکال دیا،اسی طرح سےکسی کے شوہر نے قرض لیا،قسطیں بڑھتی گئیں،آمدنی وہی رہی،خرچے بڑھتے گئے ،اب شوہر نے بیوی پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا کہ اپنے میکے سے پیسے لاؤ ،پھر بیوی سے جھگڑاہوا،بچوں پر غصہ آیا،گھرمیں سکون ختم،اور کبھی کبھی تو معاملہ اتنا بڑھ جاتاہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرانے لگتے ہیں کہ ہم نے تمہاری وجہ سے ہی قرض لیا تھا!اور پھر کیا ہے؟ہرآئے دن لڑائی وجھگڑے اور گالی گلوچ ہوتی ہےاور اس طرح سے ایک انسان کی زندگی سے چین وسکون ختم ہوجاتاہے،اس لیے میرے بھائیو!اگر زندگی میں چین وسکون سے رہنا چاہتے ہو تو پھر کبھی بھی اس قرض کے قریب بھی نہ جاؤکیونکہ یہ قرض نہیں مرض ہے،اور یہ میری نصیحت یاد رکھ لو کہ قرض صرف جیب پر ہی بوجھ نہیں ہوتاہے بلکہ ایک انسان کے ذہن ودماغ اور دل پر بھی بوجھ بن جاتاہے۔
(5) قرض اور ڈر:
میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ مقروض کی زندگی سے چین وسکون ختم ہوجاتاہے ،اب اس قرض کے بارے ایک اور بات سنئے کہ جب ایک انسان مقروض ہوتاہے تو وہ ڈر وخوف کے اندر ہی زندگی گذارتاہے،اسے ہروقت یہی دھچکا لگارہتاہے کہ پتہ نہیں کون کب اور کہاں اس سے اپنا قرض مانگنے کے لئے آجائے اس لیے وہ اپنے قرض دینے والے شخص سے چھپاچھپاپھرتاہے،آئیے اس بارے میں ایک حدیث سنتے ہیں ،سیدنا عقبہ بن عامرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ لَا تُخِيفُوا أَنْفُسَكُمْ بَعْدَ أَمْنِهَا ‘‘کہ چین وسکون کے بعد اپنے آپ کو نہ ڈراؤ! صحابۂ کرامؓ نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ ’’ وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ ‘‘ یہ اپنے آپ کو ڈرانا کیا ہے ؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’الدَّيْنُ ‘‘ اور کیا یہی قرض تو ہے۔(الصحیحۃ:2420)یعنی جب ایک انسان قرض لیتاہے توپھر ڈرڈر کرزندگی گذارتاہے۔دیکھا اور سنا آپ نے کہ جوقرض لیتا تو وہ خود اپنے اہاتھوں سے اپنی زندگی کی خوشحالی کا گلاگھونٹتاہے،ذرا سنئے کہ سیدنا عمربن خطابؓ نے اس قرض کے بارے میں کیا کہا تھا،انہوں نے کہا کہ اے لوگو!’’ وَإِيَّاكُمْ وَالدَّيْنَ فَإِنَّ أَوَّلَهُ هَمٌّ وَآخِرَهُ حَرْبٌ ‘‘قرض سے دور رہاکرو کیونکہ اس کی ابتدا تو غم والم سے ہوتی ہے اور اختتام لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ پرہوتی ہے۔(مؤطا امام مالک:2846) اور امام قرطبیؒ نے کہا کہ ’’ أَنَّ الدَّيْنَ شَيْنٌ ألدَّيْنُ هَمٌّ بِاللَّيْلِ وَمَذَلَّةٌ بِالنَّهَارِ وِإِخَافَةٌ لِلنُّفُوْسِ بَلْ وَإِرْقَاقٌ لَهَا ‘‘اے لوگو!ایک بات یاد رکھنا قرض ایک عیب ہے،قرض رات کوپریشان،دن کو ذلت اور جانوں کو ڈرانے بلکہ کمزور کرنے کا سبب ہے۔(الکوکب الوھاج شرح صحیح مسلم:18/42)اس لئے میرے بھائیو!اس قرض کے چکر میں کبھی نہ پڑو ورنہ ہمیشہ ڈر ڈرکر منہ چھپاتے پھروگے۔
(6) قرض اور ذلت:
میرے بھائیو! قرض ایک ایسی بلا ہے کہ اس کی وجہ سے ایک انسان کی عزت داؤ پرلگ جاتی ہے،اب آپ کہیں گے کہ کیسے تو دیکھئے جب ایک انسان مقروض ہوتاہے تو اپنی عزت بچانے کے لئے قرض لینے والے شخص سے نظریں چراتاپھرتا ہےکیونکہ ہروقت اسے یہ ڈر لگارہتاہے کہ کہیں قرض دینے والا شخص سب کے سامنے میں اپنا مطالبہ نہ شروع کردے،اوربسااوقات تو یہ بھی ہوتاہے کہ سب کے سامنے میں قرض دینے والاشخص اسے برابھلاکہنا شروع کردیتاہے،اور انسان جب مقروض ہوتاہے تو اس کو ذلیل ورسوا ہونا ہی پڑتاہے،اور یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب مقروض پیسہ نہیں لوٹاتا ہے توقرض دینے والا شخص جان بوجھ کر سرعام اسے روکنا اور ٹوکنا یاپھر گالی گلوچ شروع کردیتاہے،اور مقروض کو یہ سب باتیں نہ چاہتے ہوئے بھی سننی پڑتی ہے ،آئیے اسی بارے میں ایک حدیث سنتے ہیں،سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يَتَقَاضَاهُ ‘‘ ایک آدمی آپﷺ کے پاس اپنا قرض لینے( وقت سے پہلے ہی) حاضر ہوگیا’’فَأَغْلَظَ لَهُ ‘‘اور سخت کلامی کرتے ہوئے تقاضاکرنے لگا،’’ فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ ‘‘توصحابۂ کرام نے اسے گوشمالی کرنی چاہی ،یہ دیکھ کرآپﷺ نے اپنے پیاروں سے فرمایا کہ ’’دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الحَقِّ مَقَالًا ‘‘ اسے چھوڑ دو،جوحقدارہوتاہے،جو روپیہ پیسہ دیتاہے اسے سخت کلامی کرنے کا حق ہے۔(بخاری:2401)دیکھا اور سنا آپ نے کہ آپﷺ نے کیاکہا کہ اسے چھوڑدو جو اپنا مال دیتاہے اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ سختی سے پیش آئے اور جس نے مال لیا ہے اس کو تو سننی ہی پڑتی ہے،اور کبھی کبھی تو یہ بھی ہوتاہے کہ انسان اپنے کسی دوست یاپھر رشتے دار سے قرض لیتاہے اور جب وقت پر ادانہیں کرپاتاہے تو دوستی دشمنی میں بدل جاتی ہے ،رشتے داروں کے درمیان ناچاقیاں پیداہوجاتی ہے، اس لیے میرے بھائیو!اگر اپنی عزت ،اپنے تعلقات اور اپنی رشتے داریاں بچانا چاہتے ہوتوپھر اس قرض سے دور ہی رہاکروکیونکہ قرض کا دوسرا نام ہی ذلت ہےاوریہ حقیقت ہے کہ جب ایک انسان مقروض ہوجاتاہے تو اس کی عزت ذلت میں بدل جاتی ہے۔
(7)قرض اور مغفرت:
میرے دوستو!قرض کی یہ خطرناکی تو کچھ بھی نہیں ہے ،اور آپ سن کر یہی سوچ رہے ہوں گے کہ چلو کوئی بات نہیں ہے ہم کسی کا قرض لے کر بھاگ جائیں گے اور اللہ سے معافی مانگ لیں گے ،اکثروبیشتر لوگ یہی سوچتے ہیں مگر لوگوں کو یہ پتہ نہیں ہے کہ لوگوں کو دیاگیا چکر تو ایساہے کہ خانۂ کعبہ کا چکر لگانے سے بھی معاف نہیں ہوگا،جولوگ بھی لوگوں کا قرض لے کر ناحق دباکر بیٹھ گئے ہیں ،آج ایسے لوگ یہ سن لیں اور جان لیں کہ جس طرح سے وہ لوگوں کو قرض لے کر رفوچکر یعنی بھاگ جاتے ہیں تو ایسے لوگوں کی روح زمین وآسمان کے بیچ میں لٹک جاتی ہے،جیسا کہ سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ،آپﷺ نے فرمایا ’’ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ ‘‘ کہ مومن کی روح اس کے قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے حتی کہ اس کی طرف سے قرض اداکردیا جائے۔(ابن ماجہ :2413،احمد:10156،صحیح ابن حبان للألبانیؒ:3050،المشکاۃ:2915) یعنی ایسے لوگوں کی مغفرت نہیں ہوتی ہے،میرے دوستو!سوچئے کہ جب ایک انسان مومن ہے یعنی نمازی ہے،حاجی ہے،اللہ والا ہے،مگر قرض کی وجہ سے اس کامعاملہ لٹک جاتاہے تو ان لوگوں کی کیا حالت بنے گی جو قرض بھی لیتے ہیں اور نیکیوں سے بھی کوسوں دور رہتے ہیں ۔
(8) قرض اور جنت:
میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ اگرکوئی مومن مقروض ہوتاہے تو اس کا معاملہ لٹک جاتاہے یعنی اس کی مغفرت نہیں ہوتی ہے ،اب مغفرت نہیں ہوتی ہے تو اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہوا کہ ایسے لوگ جنت میں بھی جانے سے رہے،اللہ کی پناہ! آج لوگوں نے اس قرض کومعمولی سمجھ لیاہے،جب کہ یہ تو جنت میں بھی جانے سے رکاوٹ ہے،اگرآپ کو میری باتوں پر یقین نہ ہورہاہو تو پھر فرمان مصطفیﷺ سن ہی لیجئے،سیدنا سمرہ بن جندبؓ کہتے ہیں کہ ’’ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْفَجْرَ ‘‘آپ ﷺ نے نماز فجر پڑھائی اور سلام پھیرتے ہی فرمایا کہ ’’ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ ‘‘ کیا یہاں فلاں(ہُذَیْل) قبیلے کا کوئی آدمی موجود ہے؟ ایک آدمی نے کہا کہ ہاں میں موجود ہوں تو آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ إِنَّ صَاحِبَكُمْ مَحْبُوسٌ بِبَابِ الْجَنَّةِ بِدَيْنٍ عَلَيْهِ ‘‘تمہارا ساتھی قرضے کی وجہ سے جنت کے دروازے پر ہی روک لیا گیا ہے۔(الصحیحۃ:3415،احمد:20222)اللہ اکبر! میرے دوستو!ذرا غورکیجئے کہ ایک انسان کے پاس جنت میں جانے کے لئے ہرنیکی موجود ہے اور وہ دروازے کے پاس بھی موجود ہے مگر اس قرض نے اسے جنت میں جانے سے روک دیا ہے،کیاحال بنے گا اس انسان کا جو نماز بھی پڑھتا ہے ،روزے بھی رکھتاہے،حج وعمرے بھی کرتاہے،صدقہ وخیرات بھی کرتاہے، مگر دوسروں کا روپیہ پیسہ لے کر دیتا نہیں ہے! کیا ایسے لوگ جنت میں جائیں گے ؟ہرگز نہیں! جیسا کہ سیدنا ثوبان ؓ راویٔ حدیث ہیں کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ ‘‘جو انسان اس حال میں مرا کہ وہ تین چیزوں سے پاک تھا تو ’’ دَخَلَ الْجَنَّةَ ‘‘ وہ جنت میں ضرور داخل ہوگا،’’ الْكِبْرِ وَالدَّيْنِ وَالْغُلُولِ ‘‘ نمبر ایک کبروغرور،،نمبر دو قرض اور نمبرتین خیانت سے۔(الصحیحۃ:2785،ابن ماجہ:2412،ترمذی:1673) اب ذرا سوچئے کہ جوقرض سے پاک نہیں ہوگا وہ جنت میں جاسکے گا ؟ہرگز نہیں بلکہ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں۔
(9)قرض اور جہنم کی چنگاری:
میرے دوستو!آج ہم قرض لیتے ہیں مگر اس کواداکرنے کی فکر نہیں کرتے ہیں ،اور یہ سوچتے ہیں کہ یہ قرض تھوڑی ہے ،10/20/100/ اور 200/یاپھر 500/اور 1000 روپئے کی تو بات ہے اداکردوں گا اور پھر انسان وہ ادا نہیں کرپاتاہے اور مرجاتاہے ،اسی طرح سے کوئی انسان دوکان والے سے کوئی چیز خریدتاہے ،کچھ 10/20 روپئےیعنی تھوڑے پیسے باقی رہ جاتے ہیں ،وہ بولتاہے بعد میں دوں گااور پھر دیتانہیں ہے ،تو ایسے لوگ یہ حدیث سن لیں جوتھوڑے پیسے کو معمولی سمجھتے ہیں،سیدہ اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ مَنْ تَرَكَ دِينَارَيْنِ فَقَدْ تَرَكَ كَيَّتَيْنِ ‘‘ جس نے دودینار قرضے میں چھوڑے تو گویاکہ اس نے اپنے لیے آگ کے دو داغ چھوڑے۔ (الصحیحۃ:2637)اور بعض روایتوں کے اندر تو صراحتاً اس کا ذکر ہےکہ جو انسان جتنا دینار چھوڑکر مرے گا ،دو یا تین یاپھر اس سے زیادہ اتنے ہی زیادہ اس کے لئے آگ کے داغ ہوں گے۔(الصحیحۃ:3483)اب آج کے دن میں ایک دینار کی قیمت کم وبیش 310/روپئے ،ذراسوچئے کہ اتنی کم رقم پر ایک انسان کےلئے جہنم کے انگارے ہیں تو پھر وہ انسان اپنے لئے کتنے جہنم کے انگاروں کوجمع کرلیتاہے جو ہزاروں اور لاکھوں روپئے قرض لے کر ادا نہیں کرتاہے؟اور میرے دوستو!یہ نہ سوچناکہ یہ جہنم کے انگارے بس دنیا کی چنگاری کی طرح ہوں گے ،نہیں ہرگز نہیں!جہنم کا ایک انگارہ اور ایک چنگاری تو ایک بہت بڑے محل اور بہت بڑے قلعہ کے برابرہے جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے’’ إِنَّهَا تَرْمِي بِشَرَرٍ كَالْقَصْرِ ‘‘یقیناً دوزخ چنگاریاں پھینکتی ہے جو مثل محل کے ہیں۔(المرسلات:32)اللہ کی پناہ!ذرا سوچو!میرے بھائیواور بہنو! دنیا کی ایک معمولی چنگاری سے ہی ایک انسان جل کر راکھ ہوجاتاہے تو اس انسان کا کیا حال ہوگا جو اپنے پیچھے لاکھوں روپئے قرض چھوڑ کر مرجاتاہے،اس لئے اگر کسی نے کسی کا قرض لے رکھا ہے تو وہ فوراً ادا کردے ورنہ وہ جہنم کے انگاروں میں جلنے کے لئے تیار رہے۔
(10) قرض اور نیکی وبدی:
میرے دوستو! اب اس قرض کے تعلق سے جو بات میں بتانے جارہاہوں اس کو اپنے دل میں اتار کرجائیےاور جیساہمارے نبیﷺ نے ہمیں حکم دیاہے اس کے مطابق فوراً عمل کرلیجئے ورنہ یاد رکھ لیجئےیہ آپ کی نمازیں ،یہ آپ کے صدقات وخیرات،یہ آپ کے روزے،یہ آپ کے حج وعمرے،یہ آپ کی ہرطرح کی نیکیاں کسی کام کی نہیں ہے،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ مولانا یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ یہ ہماری نیکیاں کسی کام کے نہیں ہیں ؟تو جی ہاں!سن لیجئے!اگرآپ مقروض ہیں اور قرض ادا کئے بغیر مرگئے تو یادرکھ لیجئے کہ یہ سب نیکیاں کسی کے کام کے نہیں ہیں ،اورہاں یہ نہ سوچنا کہ تمہاری اولاد تمہارا قرضہ چکائے گی،اولاد تو تمہارے مرتے ہی تمہارے مالوں پر قبضہ جمالے گی مگر قرض نہیں چکائے گی،میں آپ کو کیابتاؤں ؟سننے میں یہاں تک بات آئی ہے کہ لوگ قرض دینے والوں کو یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ بھائی میرے باپ نے قرض لیاتھا،تو میرے باپ کے قبرکے پاس جاؤ اور اسی سے مانگ لو،میں اپنے باپ کے قرض کا ذمہ دار نہیں ہوں،یہ دنیا کا رواج ہے کہ سب اولاد اپنے باپ کے جائیداد کو مکمل طور پر حاصل کرلیتی ہے مگر کوئی بھی اولاد اپنے باپ کا قرض ادا نہیں کرتی ہے،اس لیے میری یہ نصیحت یادرکھو اپنا قرضہ خود اپنے ہاتھوں سے اداکرکے اس دنیا سے جاؤ ورنہ اپنی نیکیاں قرض دینے والوں کو دینے کے لئے تیار رہنا،اور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ یہ توجناب محمدعربیﷺ کا فرمان ہے،جیسا کہ سیدنا ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ‘‘جوشخص اس حال میں مرا کہ اس کے ذمے ایک دینار یاپھر ایک درہم یعنی کچھ قرض تھے،تو وہ اس کی نیکیوں سے ادا کیاجائے گا ،اور وہاں نہ تو دینار ہوں گے اور نہ ہی درہم۔(ابن ماجہ:2414،) اور اگر کسی کے پاس نیکیاں نہیں ہوں گی تو پھر اس کے معاملات کو کیسے حل کیا جائے گا اس کی بھی وضاحت آپﷺ نے کردی ہے،جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ اليَوْمَ قَبْلَ أَنْ لاَ يَكُونَ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ ‘‘ اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا پھر کسی اور طریقے کا کوئی بھی معاملہ ہوتو وہ آج ہی ،اس دن کے آنے سے پہلے پہلے رفع دفع کرلیں جس دن رفع دفع کرنے کے لئے دینارودرہم یعنی روپئے پیسے نہ ہوں گے،’’ إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ ‘‘بلکہ وہاں تو اس کی صورت یہ ہوگی کہ اگر اس کے پاس کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم (یاپھر حق )کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا،’’ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ ‘‘اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس کے اوپر اس کے مظلوم وحقدار ساتھی کی برائیاں ہی اس پر ڈال دی جائیں گی۔(بخاری:2449)اور پھر کیا ہوگا اس کی بھی وضاحت خود جناب محمدعربیﷺ نے کردی ہے کہ ’’ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ ‘‘ پھر ایسے انسان کو جہنم کے اندر پھینک دیا جائے گا۔ (مسلم:2581)پتہ یہ چلا کہ جو لوگ بھی آج دوسروں کا روپیہ پیسہ ،مال ودولت رکھ لیتے ہیں تو وہ کل بروزقیامت یاتو وہ اپنی نیکی حقداروں کو اداکریں گے یاپھر حقداروں کی برائیاں اپنے سراٹھائیں گے،اب حدیث سننے کا بعد فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ آپ کیا اختیار کریں گے؟اس لیے ایسی نوبت آنے سے پہلے ہی اپنے معاملات و لین دین اور قرض وغیرہ کو مرنے سے پہلے پہلے ہی رفع دفع کرلو ورنہ قیامت کے دن بہت پچھتاؤگے۔
(11)قرض اور نماز جنازہ:
میرے دوستو! قرض کا معاملہ کتنا خطرناک ہےاگر اس کو سننا چاہتے ہیں تو سنئے!اس قرض کا معاملہ اتنا خطرناک ہے ،اتنا خطرناک ہے کہ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ ’’ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ ‘‘ آپﷺ ایسے انسان یعنی مسلمان کا نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے جن کے اوپر ذرہ برابر بھی قرض ہوتاتھا،جب کوئی جنازہ لایاجاتا تو سب سے پہلا سوال آپﷺ یہی پوچھتے کہ ’’ هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ ‘‘ کیا اس کے اوپر قرض ہے؟اگر کہاجاتاہے کہ ہاں یہ انسان مقروض ہے توآپﷺ فوراً یہ کہتے کہ ’’ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ‘‘ چلو پھر تم لوگ ہی اپنے ساتھی کا نماز جنازہ ادا کرلو ،(احمد:14159،بخاری:2289) اللہ اکبر! سناآپ نے کہ آپﷺ مقروض کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کردیتے تھے،کیوں؟ سوچئے کیا آپﷺ یہ کام اپنی مرضی سے کرتے تھے؟نہیں! ہرگز نہیں !ہم سب یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ آپﷺ اپنی خواہش ومرضی سے کوئی بات نہ تو کہتے تھے اور نہ ہی کرتے تھے ،قرآن گواہی دے رہاہے ’’ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى ،إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى ‘‘ اور نہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں ،وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے۔(النجم:3-4)اب اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپﷺ کا کسی مقروض کے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کرنا یہ اس با ت کی دلیل ہے کہ یہ حکم اللہ ہی نے آپ کو دیا کہ آپ کسی مقروض کی نماز جنازہ نہ پڑھا کریں کیونکہ مقروض کی مغفرت ہی نہیں ہوتی ہے،ویسےاہل علم آپﷺ کے اس عمل کی یہ حکمت بھی بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ اپنی امت کو یعنی ہم کو اور آپ کو قرض سے ڈرانے کے لئے یہ عمل کیا کرتے تھے،یعنی مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھایاکرتے تھے۔اس لئے میرے بھائیو اس قرض سے ڈرو اور مقروض ہوکر نہ مرو ورنہ تمہاری روح زمین وآسمان کے بیچ میں لٹک جائے گی۔
(12)قرض اور نیت:
میرے دوستو!اس قرض کو لے کرکے سماج ومعاشرے کے اندر دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ،ایک تو ایسے لوگ جو قرض لیتے ہی ہیں اس مقصد سے کہ ہم کو دینا تھوڑی ہے ،وہ پہلے سے ہی یہ سوچ لیتے ہیں کہ اگر زیادہ قرض ہوا تو گاؤں چھوڑ کربھاگ جاؤں گا اور پھر کچھ دنوں کے بعد پولیس کی آئی پی نوٹس لے کر واپس آ جاؤں گا جب میراکوئی کچھ بگاڑ نہیں سکے گا،اور دوسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو قرض تو لیتے ہیں مگر ان کی نیت ہمیشہ ادا کرنے کی ہی ہوتی ہے،تو جولوگ بھی قرض لے کر ڈبودیتے ہیں یاپھر لے کر بھاگ جاتے ہیں اور اپناقرض ادا نہیں کرتے ہیں ،ایسے لوگ یہ سن لیں اور جان لیں کہ ایسے لوگوں کو اللہ ہلاک وبرباد کردیتاہے جو قرض نہیں لوٹاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی اللہ مدد کرتاہے جو قرض اداکرنے کی فکر میں رہتے ہیں جیسا کہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ إِتْلَافَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ ‘‘کہ جوبھی انسان لوگوں کا مال اس نیت سے لے گا تاکہ وہ اس کو ہڑپ کرجائے تو اللہ اسے ہلاک وبرباد کردے گا۔(ابن ماجہ:2411،صحیح الجامع للألبانیؒ:5980)اورایسا ہوا ہے تاریخ گواہ ہے کہ جولوگوں کا مال لے کر ہڑپ کرجاتاہے تو اس کا پورا کا پورا کاروبار بھی ٹھپ پڑجاتاہےاور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کو اپنا گھربار،دوکان ومکان سب کچھ بیچنا پڑتا ہے،اس لیے اگرکسی نے کسی کا قرض لے رکھا ہے تو وہ آج ہی اداکردے ورنہ اس کی ہلاکت وبربادی بالکل ہی یقینی ہے کیونکہ یہ جناب محمدعربیﷺ کا فرمان ہے،اور تو اور ہے جولوگ قرض لے لیتے ہیں مگر ادانہیں کرتے ہیں تو ایسے لوگ کل بروزقیامت اللہ سےکس حال میں ملاقات کریں گے ،سنئے حدیث!آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ أَيُّمَا رَجُلٍ تَدَيَّنَ دَيْنًا وَهُوَ مُجْمِعٌ أَنْ لَا يُوَفِّيَهُ إِيَّاهُ لَقِيَ اللَّهَ سَارِقًا ‘‘ جوشخص قرض لیتاہے اور اس کا پختہ ارادہ ہوتاہے کہ وہ اسے واپس ہی نہیں کرے گا تو ایسا انسان کل بروز قیامت اللہ سے چور بن کر ملے گا۔(ابن ماجہ:2410،اسنادہ:حسن)
میرے دوستو!اب اس انسان کے بارے میں سنئے جو قرض لیتاتوہے مگر اس کی نیت اداکرنے کی ہوتی ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ کیسا معاملہ کرتاہے ،سیدنا ابوہریرہؓ ہی راویٔ حدیث ہیں،کہتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’ مَنْ أَخَذَ أَمْوَالَ النَّاسِ يُرِيدُ أَدَاءَهَا أَدَّى اللَّهُ عَنْهُ وَمَنْ أَخَذَ يُرِيدُ إِتْلاَفَهَا أَتْلَفَهُ اللَّهُ ‘‘جوکوئی لوگوں کامال قرض کے طور پر اداکرنے کی نیت سے لیتاہے تو اللہ تعالی بھی اس کی طرف سے اداکرے گا یعنی اللہ اس کے قرض کی ادائیگی کی کوئی نہ کوئی صورت ضرور پیدافرمادے گا،پھر آخر میں آپﷺ نے یہی فرمایا کہ اور جوکوئی قرض ادانہ کرنے کی نیت سے لے گا تو اللہ رب العالمین اس کو تباہ وبرباد کردے گا۔(بخاری:2387)اسی سلسلے میں ایک اور پیاری سی حدیث سنئے اورذرا اندازہ لگائیے کہ جوقرض اداکرنے کی نیت رکھتے ہیں اللہ ان کے ساتھ کیسا معاملہ کرتاہے،امی عائشہ کہتی ہیں کہ آپﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ يَنْوِي أَدَاءَهُ كَانَ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ عَوْنٌ ‘‘ جوشخص مقروض ہوتاہے اور اس کی نیت اداکرنے کی ہوتی ہے تو اللہ رب العزت اس کی مدد ضرور فرماتا ہے،’’ وسَبَّبَ اللَّهُ لَهُ رِزْقًا ‘‘ اور صرف یہی نہیں بلکہ اللہ اس کے لئے روزی روٹی کے اسباب کو بھی مہیا کردیتاہے۔(الصحیحۃ:2822)اور ایک دوسری روایت کےاندر ہے ،آپﷺ نے یہ فرمایا ’’ مَنْ أَخَذَ دَيْنًا وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُؤَدِّيَهُ أَعَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‘‘ کہ جو قرض اداکرنے کی نیت سے قرض لیتاہے تو بذات خود اللہ سبحانہ تعالی اس کی مدد فرماتاہے۔(نسائی:4687،الصحیحۃ:1029)سبحان اللہ کتنی عمدہ فضیلت ہے،اور ایک تیسری روایت کے اندر ہے ،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ - أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ - لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ ‘‘ جوکوئی مقروض ہوتاہے اور اس کی نیت اس کو اداکرنے کی ہوتی ہے توبرابر ہمیشہ اللہ کی طرف سے اس کی نگہبانی کی جاتی ہے۔(احمد:26187،الصحیحۃ:2822)اس لیے اے میرے بھائیو !اگر آپ مقروض ہیں تو اداکرنے کی نیت رکھیں ،مایوس نہ ہوں،گھبرائیں نہیں،ٹینشن نہ لیں ،محنت ومزدوری کرکے اپنے قرضے کو اداکرنے کی فکرمیں ہمیشہ رہاکریں کیونکہ یہ جناب محمدعربیﷺ کا فرمان ہے کہ جو قرض کو اداکرنے کی نیت رکھے گا تو اللہ اس کی ضروربالضرور مدد فرمائے گاجیسا کہ ام المومنین سیدہ میمونہ بنت حارث ؓ کہتی ہیں کہ میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَدَّانُ دَيْنًا يَعْلَمُ اللَّهُ مِنْهُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَدَاءَهُ إِلَّا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدُّنْيَا ‘‘جومسلمان بھی قرض لیتا ہے اور اللہ کو اس کے بارے میں یہ علم ہوتاہے کہ وہ اسے اداکرنے کا ارادہ رکھتاہے تو اللہ تعالی اس کا قرض دنیا ہی میں اتار دیتاہے۔(ابن ماجہ:2408،نسائی:4686،صحیح الجامع للألبانیؒ:1837) میرے دوستو! یقینا قرض لینے والوں کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہےمگر ایک شرط ہے اور وہ شرط یہ ہےکہ انسان نے وہ قرضہ اس کام کے لئے نہ لیا ہو جس میں اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے،اب کوئی انسان فضول خرچی کرنے کے لئے یاپھر اپنی اولاد کی شادی میں اپنی شان دکھانے کے لئے قرض لے اورپھر یہ سوچے کہ اللہ میری مدد کرے گا تو سن لیجئے ایسے لوگوں کی اللہ مدد نہیں کرتاہے جو ناجائز کاموں میں خرچ کرنے کے لئے قرض لیتے ہیں جیسا کہ آپﷺ کا یہ واضح فرمان ہے ’’ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ ‘‘کہ اللہ تعالی قرض لینے والے کے ساتھ ہوتا ہے حتی کہ وہ قرض ادا کردے،لیکن ’’ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ ‘‘ وہ قرض اس کام کے لئے نہ ہو جو اللہ جو ناپسند ہے۔(ابن ماجہ:2409،الصحیحۃ:1000)اورایسا ہم نے دیکھا ہے کہ جولوگ حرام وناجائز کاموں میں خرچ کرنے کے لئے قرض لیتے ہیں تو ایسے لوگ اپنی زمین وجائیداد اور مال ودولت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ،اس لیے اے میرے بھائیو! اس قرض سے اپنے آپ کو ہمیشہ بچایا کرواورناجائز اور حرام کاموں کے لئے کبھی بھی قرض نہ لیا کرو۔
(13) قرض اور ظلم:
میرے دوستو!سماج ومعاشرے کے اندردیکھا یہ جاتا ہے کہ لوگ قرض مانگتے وقت تو بہت ہی زیادہ عاجزی دکھاتے ہیں ،روتے اور گڑگڑاتے ہیں ،بیوی بچوں کا حوالہ دیتے ہیں ،اپنی بے روزگاری کا رونا روتے ہیں،مہنگائی کا بھی رونا روتے ہیں ، رشتے وناطوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ بھائی اللہ کا واسطہ ،کچھ مدد کردیجئے ،اور جب یہ لوگ قرض لے لیتے ہیں تو پھریہی عاجزی وانکساری دکھانے والے لوگ ہٹ دھرمی پر اتر جاتے ہیں،الٹا قرض دینے والوں کو ہی ڈراتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ بھائی میں قرض تجھے واپس نہیں کروں گا !تجھے جوکرنا ہے کرلے،اوریہی لوگ جنہوں نے رو رو کر قرض لیاہوتاہے ،بسااوقات قرض دینے والوں کو تو اتنا دوڑاتے ہیں کہ قرض دینے والا انسان تنگ آکر یاتو گالی گلوچ اور بیٹی روٹی کردیتاہے،یاپھر مارپیٹ کرتاہے ،پھر بھی وہ انسان قرض واپس دینےکے لئے تیار نہیں ہوتاہے،سماج ومعاشرے میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ قرض تو رورو کر اوراپنی مجبوری بتابتاکر قرض تولیتے ہیں مگر جب لوٹانے کی باری آتی ہے تو قرض دینےوالے کو رونا پڑتا ہے اور اپنی مجبوری بتانی پڑتی ہے کہ بھائی مجھے یہ ضرورت ہے ،میرے پیسے دے دو،اور کچھ لوگ تو ایسے ہوتے ہیں کہ مگرمچھ کے آنسوبہاکرقرض تو لے لیتے ہیں ،پھرجب قرض دینے والا رقم مانگتاہے تو بڑے ہی بے شرمی سے جواب دیتے ہیں کہ بھائی!آج کل حالات ٹھیک نہیں ہیں،آج کل دھندہ مندہ ہےاس لئے کمائی بالکل بھی نہیں ہے،لیکن یہی شخص نئے موبائل اور نئی گاڑی بھی خریدتا رہتاہے،نئے نئے کپڑے اور نئے جوتے بھی خریدتا رہتاہے،دنیاوجہان کا سارا کام وہ انسان کرتارہتاہے،مگر قرض دینے کے لئے اس کے پاس روپئے پیسے نہیں ہوتے ہیں تو جولوگ بھی اس طرح کی حرکت کرتے ہیں تو ایسے لوگ یہ سن لیں کہ جو قرضہ دینے والوں کوجان بوجھ کر بار بار دوڑاتا ہے تو ایسا انسان ظالم ہے،اور یہ میری بات نہیں ہے بلکہ ہمارے نبیﷺ نے کہا ہے کہ ’’ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ‘‘دولت مند کا ٹال مٹول کرناسراسر ظلم ہے۔(ابن ماجہ:2404،صحیح الجامع للألبانیؒ:5875) یعنی جس کے پاس قرض واپس کرنے کےلئے روپیہ پیسہ ہے مگر پھر بھی وہ ٹال مٹول سے کام لیتا ہے تو ایسے انسان کاقرض اداکرنے کے لئے ٹال مٹول کرنا یہ ظلم ہے ،اب جب ظلم ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا انسان ظالم ہے اور ظالموں کو اللہ پسند نہیں کرتاہے،’’ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ ‘‘(آل عمران:57)اوریقیناً ایسے ہی ظالموں کی وجہ سے ہی آج کل کوئی کسی کو قرض حسنہ دینا نہیں چاہتاہے،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ سودی قرضوں میں بھی پھنستے جارہے ہیں،اس لیےمیرے دوستو!قرض کو ٹال مٹول کرکے ظالم نہ بنو بلکہ قرض کو وقت پر اداکرکےاچھے انسان بننے کا شرف حاصل کرو جیسا کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا ’’ إِنَّ خَيْرَكُمْ - أَوْ مِنْ خَيْرِكُمْ - أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً ‘‘کہ بے شک تم میں سب سے اچھے اور بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنا قرض اچھے طریقے سے ادا کرتے ہیں ۔(ابن ماجہ:2423،بخاری:2606،مسلم:1601)
(14) قرض اور صدقہ:
میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ اکثروبیشتر لوگ قرض تو لے لیتے ہیں مگر واپس نہیں کرتے ہیں اور قرض دینے والوں کو پریشان کرتے ہیں جس کی وجہ آج کل کوئی کسی کو قرض حسنہ دینا نہیں چاہتاہے ،جس کا ایک سب سے بڑا نقصان یہ ہورہاہے کہ لوگ سودی قرضوں کے جال میں پھنستے جارہے ہیں ،قرض لے کر نہ دینا یقیناً قرض لینے والوں کے لئے بہت بڑی ہلاکت وبربادی ہے مگر ہماری شریعت ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ اگرتم صاحب حیثیت ہو اورلوگ تمہارے پاس قرض لینے آجاتے ہیں تو پھر تم اسے قرض دے دیا کرو کیونکہ کسی کو قرض دینا تمہارے لئے صدقے کا ثواب ہےجیسا کہ آپ ﷺ کا یہ فرمان صحیح حدیث میں موجود ہے کہ ’’ إِنَّ السَّلَفَ يَجْرِي مَجْرَى شَطْرِ الصَّدَقَةِ ‘‘بے شک قرض دینا یہ نصف صدقہ کے قائم مقام ہوتاہے۔(الصحیحۃ:1553،احمد:3911)اورمقروض كو مہلت دینے سے بھی صدقے کا ثواب ملتاہے جیسا کہ آپﷺ یہ فرمان صحیح حدیث میں موجود ہے کہ ’’ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا كَانَ لَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ ‘‘جو شخص کسی تنگ دست مقروض کو مہلت دیتاہے تو اسے ہردن صدقے کا ثواب ملتا ہے،’’ وَمَنْ أَنْظَرَهُ بَعْدَ حِلِّهِ كَانَ لَهُ مِثْلُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ ‘‘اورجس نے قرض کے واجب الادا ہونے کے بعد بھی مزید مہلت دی تو اسے بھی یہی ثواب ملتا ہے یعنی ہردن صدقے کا ثواب ملتا ہے۔(ابن ماجہ:2418،الصحیحۃ:86)اسی بارے میں ایک دوسری حدیث سنئے،سیدنا بُریدہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ ‘‘جس نے کسی تنگ دست مقروض کو مہلت دی تو اسے ہردن قرض کے برابر صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ،سیدنا بُریدہؓ کہتے ہیں کہ پھر کچھ دنوں کے بعد میں نے آپﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ ‘‘جس نے کسی تنگ دست مقروض کو مہلت دی تو اسے ہردن قرض کے برابر دوگناصدقہ کرنے کا ثواب ملے گا،اس پر میں نے کہا کہ اے اللہ کے نبیٔ اکرم ومکرمﷺ!آپ نے پہلے ایسا فرمایا تھا تنگ دست مقروض کو مہلت دینے پر ہر دن صدقہ کرنے کے برابر ثواب ملے گا اور اب آپ نے یہ کہا ہے کہ تنگ دست مقروض کو مہلت دینے پر دوگنا صدقہ کرنے کے برابر ثواب ملے گا!توآپﷺ نے فرمایا کہ ’’ بِكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ ‘‘قرض کی ادائیگی سے پہلے تک اسے ہردن اتنی ہی مقدار میں صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا ،اور پھر ’’ فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ فَأَنْظَرَهُ فَلَهُ بِكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ ‘‘جب وعدے کے مطابق قرض واجب الادا ہوجائے لیکن وہ پھر بھی مہلت دے دے تو ایسی صورت میں اسے دوگنا صدقہ کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔(احمد:23046،الصحیحۃ:86)
(15) قرض اوردعا:
میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ جو قرض کے لئے تگ ودَو کرے گا تو اللہ اس کی مدد ضرور فرمائے گا ،اب آئیے میں آپ کو ایک ایسا طریقہ بتادیتاہوں کہ اگر آپ محنت ومزدوری کرنے کے ساتھ ساتھ اس کو اختیار کریں گے تو آپ کے سارے قرضے اداہوجائیں گے گرچہ آپ کے اوپر پہاڑوں کے برابر ہی قرضے کیوں نہ ہو،اور یہ میں نہیں کہہ رہاہوں بلکہ یہ جناب محمدعربیﷺ کا فرمان ہے،سیدنا علیؓ کہتے ہیں کہ آپﷺ نے مجھے قرض سے نجات پانے کے لئے ایک ایسی دعاسکھائی کہ ’’ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ صِيرٍ دَيْنًا أَدَّاهُ اللَّهُ عَنْكَ ‘‘ اگر تمہارے اوپرصِیر پہاڑ کے برابر بھی قرضہ ہوگا تو اللہ تعالی تمہاری طرف سے اس قرضے کو اداکردے گا،اور وہ دعا ہے ’’ اللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَأَغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ‘‘ اس کا معنی ومفہوم یہ ہے کہ اے اللہ!تومجھے اپنے حلال کے ساتھ اپنی حرام کردہ چیزوں سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل وکرم کے ساتھ اپنے ماسوا ہرایک چیز سے بے نیاز کردے۔ (ترمذی:3563،الصحیحۃ:266)سبحان اللہ!کتنی عظیم فضیلت ہے اس دعاکی تو میرے بھائیو اگر آپ مقروض ہیں توپھر اس دعاکو لازم پکڑیں اور ساتھ میں محنت ومزدوری کرکے اپنی کمائی کو بھی بڑھانے کی کوشش کرتے رہاکریں اور دھیرے دھیرے اپنے ہرقرضے کو لوٹاتے رہا کریں اورجہاں تک ہوسکے ہرطرح کے قرضوں سے اپنے آپ کو دور رکھیں ورنہ زندگی بھر دنیامیں پریشان تورہیں گےہی ساتھ میں آپ کی آخرت بھی برباد ہوجائے گی۔
میرے دوستو!ابھی آپ نے یہ سنا کہ اگر کوئی مقروض ہوتو وہ کیادعاپڑھے،اب میں آپ کو یہ بتانے جارہاہوں کہ آپ ایسی دعائیں ہمیشہ پڑھتے رہاکریں کہ اے اللہ تو مجھے قرض کے جھنجھٹ سے دورہی رکھنا،تومجھے ہمیشہ قرض سے دور ہی رکھنا،اور یہ آپﷺ کی زندگی کا معمول تھا کہ آپ ہمیشہ قرض سے اللہ کی پناہ پکڑا کرتے تھے،جیسا کہ آپ نے سنا کہ آپﷺ ہمیشہ اپنی ہرنماز کے آخری تشہدمیں قرض سے بچے رہنے کے لئے دعائیں کیاکرتے تھے،صرف نماز ہی نہیں بلکہ حدیثوں کے اندر تو اس بات کا ذکر ہے کہ آپﷺ ہمیشہ ہی یہی دعاکیاکرتے تھے کہ اے اللہ!تومجھے ہمیشہ قرض سے بچا کررکھنا،جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ کہتے ہیں کہ ’’ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ ‘‘ آپﷺ ہمیشہ ان کلمات کے ذریعے دعائیں مانگا کرتے تھے کہ ’’ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ، وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ ‘‘ اے اللہ! میں قرض کے بوجھ اور دشمن کے غلبے اور اپنے دشمنوں کے خوش ہونے سے تیری پناہ چاہتاہوں۔(نسائی:5475،الصحیحۃ:1541)اور ایک دوسری روایت کے اندر ہے،سیدنا انس بن مالکؓ راویٔ حدیث ہیں ،کہتے ہیں کہ ’’ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتٌ لَا يَدَعُهُنَّ ‘‘کچھ دعائیں ایسی ہیں جنہیں آپﷺ کبھی بھی نہیں چھوڑا کرتے تھے،یعنی ہمیشہ مانگا کرتے تھے کہ ’’ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَالدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ ‘‘اے اللہ! میں غم وفکر ،عاجزی وسستی،بخیلی وبزدلی،قرض اورلوگوں کے غلبےسے تیری پناہ میں آتاہوں۔(نسائی:5450،صحیح الجامع للألبانیؒ:1289،الصحیحۃ:1541)میرے دوستو!ذراسوچئے کہ جب آپﷺ اس قرض سے بچنے کے لئے ہمیشہ اللہ سے دعائیں کیاکرتے تھے توہم کو اور آپ کو اس مہنگائی کے دور میں اس دعا کی کتنی سخت ضرورت ہے،اس لئے میرے بھائیو اوربہنو !اس دعا کو لازم پکڑ لو ،اللہ تمہیں قرض سے بچالے گا۔
(16)قرض اور سہولت:
میرے دوستو!اب تک آپ نے قرض اورمقروض کے بارے میں بہت کچھ سنا اورجانا،اب آئیے میں آپ کو ایک اور بات کی طرف رہنمائی کردیتا ہوں کہ جولوگ کسی کو قرضہ دئے ہیں ان کے بارے میں ہماری شریعت کیا کہتی ہے؟توقرض دینے والوں کے نام اللہ اور اس کے رسولﷺ کا پیغام یہ ہے کہ اگر تم صاحب استطاعت ہوتو قرض کو اللہ کی رضاوخوشنودی حاصل کرنے کےلئے معاف ہی کردیا کرو ،اوراگر معاف نہیں کرسکتے ہو تو پھر کم ازکم اپنے بھائی کو مہلت ہی دےدیا کرو،سنئے اللہ کا فرمان،فرمایا’’وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ‘‘اوراگر کوئی تنگی والا ہو تو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے اور صدقہ کرو(یعنی قرض معاف ہی کردو)تو تمہارے لیے بہت ہی بہتر ہے،اگرتم میں علم ہو۔(البقرۃ:280)سنا آپ نے کہ اللہ نے خودیہ کہا کہ قرض معاف کردیاکرویہی تمہارے لئے دنیاوآخرت میں بہتر ہے اوراگر معاف نہیں کرسکتے ہو تو کم از کم مہلت ہی دے دیاکرو،اب آپ یہ سوچیں گے کہ اگر ہم قرض کو معاف کردیں گے یاپھر کسی کو مہلت دے دیں گے تودنیا وآخرت میں ہمارے لئے کیا فائدہ ہے؟ تو پھر اپنے نبیﷺ کا یہ فرمان سن لیں ! سیدناابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ لَهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ القِيَامَةِ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ ‘‘کہ جوشخص کسی تنگ دست مقروض کو مہلت دے گا یاپھر وہ قرضہ معاف ہی کردے گا تو کل بروزقیامت اللہ تعالی اسے اپنےعرش کےسائے میں جگہ دے گا جس دن صرف اسی کا سایہ ہوگا۔(ترمذی:1306، اسنادہ صحیح ،مسند احمد:8696،مسلم:3006)سبحان اللہ کتنی عظیم فضیلت ہے مگر آج کل کے دور میں کون اپنا پیسہ چھوڑتاہے بھائی،لوگ تو جب اپنا قرضہ وصولتے ہیں تو مقروض کو گالی بھی دیتے ہیں،مارتے پیٹتے بھی ہیں اور مقروض کی بیٹی روٹی بھی کرتے ہیں بلکہ بسا اوقات تو مقروض کے اوپر ظلم ڈھانے سے بھی باز نہیں آتے ہیں،جب کہ مقروض کو مہلت دینایہ کتنی بڑی فضیلت ہے یہ ابھی آپ نے سن لیا ہے،اور اس بارے میں ایک دوسری بہت بڑی فضیلت بھی سنئے،سیدنا ابوہریرہؓ ہی راویٔ حدیث ہیں ،کہتے ہیں کہ جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا’’ كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ ‘‘ کہ ایک تاجرلوگوں کو قرضے دیا کرتاتھا تو’’ فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ ‘‘ جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہتا کہ ’’ تَجَاوَزُوا عَنْهُ ‘‘اس سے درگزر کرو یعنی اسے ابھی اور کچھ دنوں کی مہلت دے دو،’’ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا ‘‘ شاید کہ اللہ تعالی بھی ہم سے آخرت میں درگزر فرمادے،پھر اس کے ساتھ کیا ہوا اس کی جانکاری دیتے ہوئے جناب محمدعربیﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُ ‘‘ اس کے مرنے کے بعداللہ نے اسے بخش دیا۔(بخاری:2078)سبحان اللہ۔ مقروض کوصرف مہلت دینے کی کتنی بڑی فضیلت ہے ،اوربخاری شریف ہی کی ایک دوسری روایت کے اندر ہے،سیدناحذیفہؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَتَاهُ المَلَكُ لِيَقْبِضَ رُوحَهُ ‘‘پہلے زمانے میں ایک شخص کے پاس ملک الموت ان کی روح قبض کرنے آیا تو اس سے پوچھا گیا کہ ’’ هَلْ عَمِلْتَ مِنْ خَيْرٍ ‘‘ کیا تونے کوئی نیک عمل بھی کیاہے؟ اس نے کہا کہ ’’ مَا أَعْلَمُ ‘‘ مجھے تو اپنی کوئی ایک نیکی بھی معلوم نہیں ہے،پھر اس سے دوبارہ کہاگیا ہے،’’ انْظُرْ ‘‘ ذرا اپنے دماغ پر زورڈال کریاد کرو!شاید کہ تجھے اپنی کوئی نیکی یادآجائے ،اس نے کہا کہ ’’ مَا أَعْلَمُ شَيْئًا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا وَأُجَازِيهِمْ ‘‘ مجھے تو اپنی کوئی نیکی یاد نہیں آتی ہے سوائے اس کے کہ میں دنیا میں لوگوں کے ساتھ خریدوفروخت اور ان کے ساتھ لین دین کیا کرتاتھا،’’ فَأُنْظِرُ المُوسِرَ ‘‘تو جولوگ خوشحال ہوتے تھے میں انہیں مہلت دیاکرتاتھا،’’ وَأَتَجَاوَزُ عَنِ المُعْسِرِ ‘‘ اور تنگ دست والوں کو قرض معاف کردیاکرتاتھا،آپﷺ نے فرمایا کہ ’’ فَأَدْخَلَهُ اللَّهُ الجَنَّةَ ‘‘ اس کی اسی نیکی کی وجہ سے اللہ نے اسے جنت میں داخل کردیا۔(بخاری:3451)اور ابن ماجہ کے اندر یہ حدیث بھی موجود ہے کہ آپﷺ نے فرمایا ’’ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُظِلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ فَلْيُنْظِرْ مُعْسِرًا أَوْ لِيَضَعْ عَنْهُ ‘‘ جو شخص پسندکرتاہے کہ اللہ تعالی اسے اپنے سائے میں جگہ دے تو اسے چاہئے کہ تنگ دست کو مہلت دے دے یاپھر اس کا قرض ہی معاف کردے۔(ابن ماجہ:2419،اسنادہ صحیح)اس لئے میرے بھائیو! اگر کسی کوقرضہ دو تو اسے مہلت دے دیا کرویاپھر معاف ہی کردیا کرو۔
(17)قرض اور سوال:
میرے دوستو!اگر آپ کو کبھی قرض لینے کی ضرورت پیش آجائے تو سب سے پہلے اپنے آپ سے یہ پانچ سوال ضرورکریں:
(1) کیا واقعی مجھے اس قرض کی ضرورت ہے؟
(2) کیا یہ ضرورت بغیر قرض کے پوری ہوسکتی ہے؟
(3) کیا میں یہ قرض وقت پر واپس کرسکوں گا؟
(4) کیا اس قرض میں سود توشامل نہیں ؟
(5)کیا میں یہ قرض اپنی شان دکھانے کے لئے تو نہیں لے رہاہوں؟
اگر جواب آئے کہ یہ صرف میری خواہش ہے ضرورت نہیں !تو قرض ہرگز ہرگز نہ لیں !اور میری یہ نصیحت یاد رکھ لیں کہ غریب ہونا شرم کی بات نہیں ،لیکن اپنی حیثیت سے بڑھ کر زندگی گذارنے کے لئے قرض کے پہاڑ تلے دب جانا دین ودنیا کی بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے۔سادہ لباس پہن لیجئے،سادہ کھانا کھا لیجئے ،چھوٹا گھر ہےاسی میں رہ لیجئےپر دل پر قرض کا بوجھ نہ اٹھائیے۔
(18)قرض سے ہم کیسے بچیں؟
میرے دوستو!اب آئیے میں آپ کو یہ بھی بتادیتاہوں کہ ہم اس قرض سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟اگر ہم اور آپ اس قرض سے بچنا چاہتے ہیں توپھر اپنے زندگی کا کچھ اصول بنالیجئے:
(1) اپنی آمدنی کے مطابق خرچ کیجئے!
(2)ضرورت اور خواہش کے فرق کو سمجھئے!
(3)دوسروں سے مقابلہ نہ کیجئے!
(4) غیرضروری قسطوں اور لون سے بچئے!
(5)بھوکے رہ جائیں مگر سودی قرض کبھی نہ لیجئے!
(6) قرض لینے کی نوبت ہی نہ آئے اس لیے اپنی آمدنی سے کچھ رقم ضرور بچالیا کیجئے!
(7)قرض مرض ہے،یہ ہمیشہ یاد رکھیں!
(8)قرض سے دنیا وآخرت میں بربادی ہے ،یہ ہمیشہ یاد رکھیں!
(9) وقتا فوقتا اپنی اولاد کو قرض کی خطرناکی سے ڈرایا کیجئے!
(10) فضول خرچی یاپھر لوگوں کو دکھانے یاپھر شادی بیاہ کے نام پر کبھی بھی قرض نہ لیا کیجئے!
(19)قرض اور اسلام کی نصیحت:
میرے دوستو!اب تک آپ نے اسلام کی اس تعلیم کواچھی طرح سے سمجھ لیاہوگا کہ اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتاہے کہ قرض لینے سے بچو،اوراگر قرض لیے ہوتو پھر فوراً اپنے قرض کو ادا کرو اور کسی کا بھی حق اپنے ذمہ باقی نہ رکھو،اتنا سب کچھ سننے کے باوجود بھی اگر آپ قرض میں پھنسیں گے تو اپنی ہی دنیا وآخرت بربادکریں گے،اب آئیے آخر میں اس قرض کے تعلق سے سب سے اہم اور ایک ایسی ضروری بات سنا کر اپنی بات کو ختم کردیتاہوں جس کو اللہ رب العالمین نے بہت ہی تاکیدی حکم کے ساتھ بیان فرمایا ہے مگر ہم اور آپ اپنے رب کے اس حکم پر عمل کرتے نہیں ہیں ،جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ہم خود نقصان اٹھاتے ہیں ،اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایساکیا ہے جس پر ہم عمل نہیں کرتے ہیں تو وہ ہے کہ جب ہم کسی سے کسی بھی قسم کا لین دین کریں ،قرض لیں یاپھر قرض دیں تو اس کو دوگواہوں کو سامنے میں طے کریں اور اسے لکھ لیا کریں،سنئے اللہ کا فرمان ’’ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ ‘‘۔اے ایمان والو!جب تم آپس میں ایک دوسرے سے میعاد مقرر پر قرض کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔(البقرۃ:282)یہ قرآن مجید کی سب سے بڑی آیت کا ایک ٹکڑا ہےجسے آیت دین کہاجاتاہے،سوچئے کہ اللہ رب العالمین نے اس قرض کی وضاحت کے لئے اپنے کلام پاک میں سب سے بڑی آیت نازل کررکھی ہے تو ہم کو اور آپ کو اس قرض اور اپنے ضروری معاملات کو لکھ کر رکھ لینے کی کتنی سخت ضرورت ہے،آیت دین کی تفصیلات سے ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ اللہ کا یہ کہنا ہے کہ قرض واضح ہو،اسے لکھ لیا جائے،ایگریمنٹ کرلیاجائے،اداکرنے کی مدت کی وضاحت بھی کردی جائے،اور ساتھ میں گواہ بھی ہو تاکہ کل جھگڑا نہ ہو،اللہ اکبر کبیرا!رب کے اس فرمان پر ہم اورآپ قربان ہوجائیں ،ذرا اپنے سماج ومعاشرے کا جائزہ لیجئے اور پھر رب کے کلام میں جو حکمتیں پوشیدہ ہیں اس پر غور کیجئے،لوگ کیا کرتے ہیں ،بغیر کسی گواہ اور بغیر کسی پروف کے اندر ہی اندر کوئی معاملہ طے کرلیتے ہیں ،دونوں کو ایک دوسرے پر بھروسہ ہوتاہے،مگر پھر ایک وقت ایسا آتاہے کہ مال کو دیکھ کر کسی ایک کی نیت بدل جاتی ہے اوروہ اپنے قول وقرار سے مُکر جاتاہے،پھر کیا ہے؟دونوں دوستوں!یاپھر دونوں بھائیوں کے درمیان لڑائی وجھگڑے،کیس ومقدمات ہوتے ہیں،وہ اس کو جھوٹا بولتاہے تو وہ اس کو جھوٹا ثابت کرنے پر تلا رہتاہے،یقیناً اللہ نے بلاوجہ میں اپنے کلام پاک کے اندر اتنی بڑی آیت نازل نہیں کررکھی ہے ،وہ ہم انسانوں کی فطرتوں سے اچھی طرح سے واقف ہے،تبھی تو اللہ نے کہا کہ اپنے معاملات،لین دین ، قرض اور وصیت وغیرہ کو ایک نہیں بلکہ دو ،دو گواہوں کے سامنے میں لکھ لیا کرو، یاد رکھ لیجئے اگر ہم اپنے معاملات کو نہیں لکھیں گے تو ہم خود دنیا وآخرت میں نقصان اٹھائیں گے،سماج ومعاشرے کے اندر ہم نے ایسے کتنے سارے واقعات سن رکھےہیں کہ کسی نے کسی سے کچھ لیا ،اب جس سے معاہدہ ہوا تھا وہ مر گیا یاپھر اس کی نیت بدل گئی ،لیکن اس کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہ تھا جس کانتیجہ یہ ہوا کہ اس کا لاکھوں روپیہ بھی ضائع وبرباد ہوگیا اور اسے وہ چیز بھی حاصل نہ ہوئی ،یہی وجہ ہے کہ حبیب کائنات ومحبوب خداﷺ نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ اگر تمہارے پاس کسی کی امانت ہے،کوئی معاملات ہے،کوئی لین دین ہے،کوئی قرض ہےیاپھر کوئی وصیت کرنے کی چیز ہے تو اسے فوراً لکھ کر محفوظ کرلیا کرو،جیسا کہ سیدنا ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا’’مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُرِيدُ أَنْ يُوصِيَ فِيهِ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ ‘‘کہ جس مسلمان کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتاہوتو اسے اس بات کا حق نہیں ہےیعنی اس کے لئے یہ درست اورجائزنہیں ہے کہ وہ دوراتیں بھی گزارے مگر اس طرح کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہو۔(مسلم:1627،بخاری:2738)اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایساآپﷺ نے کیوں حکم دیا کہ ہرانسان اپنی ضروری چیزوں کو لکھ لے تو اس کا جواب توبالکل ہی واضح ہے کہ اگرکوئی مقروض ہوکرمرے گا تو اس کی بخشش ومغفرت بھی نہ ہوگی،اوراگر کسی کے پاس کسی کی امانت ہوگی یاپھر کسی کو زمین وجائیداد دینے کی بات ہوگی تونہ لکھنے اور گواہ نہ رہنے وجہ سے اس کے مرتے ہی اس کے گھروالے پریشانیوں میں مبتلاہوجائیں گے،اور ایسا ہم نے اورآپ نے بارہادیکھا ہے کہ کاغذی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے دوخاندان ،دوبھائی یاپھر دولین دین کرنے والے لڑائی جھگڑے اور کیس ومقدمات کے اندر پھنس جاتے ہیں،اس لئے اے میرے بھائیو اوربہنو!اللہ اور اس کے رسولﷺ کے حکموں پر عمل کیاکرو اسی میں تمہارے لئے خیروبھلائی ہے۔
محترم سامعین وسامعات!دیکھا یہ جاتاہے کہ لین دین یاپھر کوئی معاملات کےوقت اگر کوئی لکھنے یاپھر گواہ رکھنے کی بات کہہ دے تو لوگ اسےطعنہ دینا اور عار دلانا شروع کردیتے ہیں کہ کیا تجھے میرے اوپر بھروسہ نہیں؟کیا تجھے اپنے بھائی پر بھروسہ نہیں؟کیا تجھے اپنے دوست پر بھروسہ نہیں؟ اس طرح کی باتیں کہہ کر اسے چپ کرادیاجاتاہے اور پھر جب وقت آتاہے تو اس طرح کی باتیں کہنے والے لوگ ہی سب سے پہلے اپنے دوست کے گلے پر چھری چلاتے ہیں ،اس لئے اے میرے بھائیو اور بہنو! اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی یہ نصیحت ہمیشہ یادرکھو کہ اپنے زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو ،قرض ہو یاپھر کوئی لین دین ہو،زمین وجائیداد کا مسئلہ ہو یاپھر دوکان ومکان کا ،اپنے بھائی کے ساتھ معاملہ ہو یاپھر کسی غیر کے ساتھ اسے ضروربالضرور لکھ لیا کریں،گواہ رکھ لیاکریں،ویڈیوریکارڈ بنالیاکریں،اوراگرکوئی حیلے وبہانے کر ے تو آپ اسے واضح طور پر یہ کہہ دیں کہ بھائی مجھے آپ پر پورا بھروسہ ہے مگر یہ میرے رب اور میرے رسول کا حکم ہے اور میں اسے چھوڑ نہیں سکتا ،اتنا سننے کے باوجود بھی اگر وہ نہ مانے تو اس کے ساتھ بغیرپروف کے ہرگز ہرگز کوئی ڈیل ہی نہ کریں ورنہ آپ خود اپنا نقصان اٹھائیں گے۔
اب آخر میں اللہ رب العالمین سے دعاگو ہوں کہ اے بارالہ ہم میں سے جو بھی مقروض ہیں تو ان کے قرضوں کی ادائیگی کی کوئی نہ کوئی صورت پیدافرمادے اور ہم میں سے ہرشخص کو ہرطرح کے قرضے لینے سے ہمیشہ محفوظ رکھ۔آمین۔ثم آمین یارب العالمین۔
مرتب
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی
ابومعاویہ شارب بن شاکرالسلفی