- شمولیت
- ستمبر 26، 2011
- پیغامات
- 2,767
- ری ایکشن اسکور
- 5,412
- پوائنٹ
- 562
حافظ سعید نے لاہور میں بہت بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیر کو آزاد کرائیں گے اور بنگال (بنگلہ دیش) بھی پاکستان کا حصہ بنے گا۔
بہت اچھی اطلاع ہے' لیکن یہ ہوگا کیسے؟ ابھی تو اسٹیبلشمنٹ کی مہربانیوں سے بلوچستان اور سندھ کی علیحدگی کے لئے تحریکیں زور پکڑ گئی ہیں اور صوبہ خیبر کا جو حال ہے وہ تو بتانے کی ضرورت نہیں۔ برسبیل تذکرہ' سندھ میں علیحدگی کی تحریک کو ضیاء الحق مرحوم نے طاقت استعمال کئے بغیر ختم کر دیا تھا اور یہی ماجرا انہوں نے بلوچستان میں کیا جہاں ٹکّا خاں نے بھٹو دور میں قیامت خیز قتل و غارت گری کرکے اس صوبے کو علیحدگی کے کنارے کھڑا کر دیا تھا۔ کشمیر کی آزادی اور بنگلہ دیش کی واپسی تو بہت دور کی بات ہے' فی الحال تو مشرف اور کیانی کے لگائے گئے زخم مندمل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ بلوچستان اور سندھ کو وفاق پاکستان میں رکھنے کے لئے اتنا زور لگانا پڑے گا کہ سارا کس بل نکل جائے گا۔
بنگال کی واپسی کے ذکر سے یاد آیا' 1971ء کی جنگ رمضان میں چھڑی یا شاید چھڑنے والی تھی۔ مشرقی پاکستان کے ایک وزیر نے بیان دیاکہ بھارت نے حملہ کیا تو عید کی نماز کلکتہ میں پڑھیں گے۔ یہ بڑا بول تھا اور زمینی حقائق کے خلاف بھی۔ زمینی حقائق یہ تھے کہ بھارتی فوج کے سپاہی ڈھاکہ میں ہولی کھیلنے والے تھے۔ پاکستان میں بڑے بول نے ہمیشہ نقصان پہنچایا۔1965ء کی جنگ میں بہت سے اچھے جنگی ترانے بنے لیکن کسی ''ٹن'' شاعر نے ایک ایسا نغمہ بھی لکھا جو بڑے بول کے ساتھ ساتھ انسانیت کی تذلیل کا منشور بھی تھا۔ اس انسانیت سوز ترانے کے بول تھے
بڑا بول بھی اور عورتوں کی تذلیل بھی۔ عورتوں نے خود کو دی گئی اس گالی پر احتجاج اس لئے نہیں کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے قدیم ہندوستان کا وارث ہونے کے ناطے عورتوں کو انسانی تو کجا' کبھی حیوانی حقوق دینے کے قابل بھی نہیں سمجھا۔ یہ نغمہ اثر آفرینی میں الٹا ثابت ہوا اور پاکستان کو بھارت پر ہتھیاروں کی برتری ہونے کے باوجود تکلیف دہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کارگل جو قبائلیوں نے آزاد کراکے پاکستان میں شامل کیا تھا' ہاتھ سے نکل گیا۔ بعدازاں تاشقند میں سوویت یونین نے پاکستان اور بھارت کی صلح کرائی اور پاکستان کو اپنے قریب لانے کے لئے بھارت کو مجبور کر دیا کہ وہ کارگل پاکستان کو واپس دے دے۔ کارگل مزید چھ برسوں کے لئے پاکستان کا حصہ بنا رہا پھر بھٹو نے شملہ معاہدہ کے ذریعے پاکستان کی پشت میں چھرا گھونپا اور جہاں مسئلہ کشمیر کو عوامی اصطلاح میں کھڈے لائن لگا دیا وہاں کارگل سمیت کشمیر کا وسیع رقبہ بھی بھارت کو تحفے میں دے دیا۔(ڈھاکہ کا تحفہ کافی نہیں تھا)۔ اس وقت پاکستان کے خلاف جو سازش ہوئی اس کا سرغنہ بظاہر تو یحییٰ خاں تھا لیکن اصل کردار بھٹو' ٹکا' گل حسن اور شمیم تھے۔ اسی کارگل کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف ایک اور بڑی سازش مشرف عزیز و محمود نے کی۔ یہ قصہ تو سب کے سامنے ہے۔
تازہ واقعہ بھی ایک وجہ ہے۔ جئے سندھ کے رہنما مقصود قریشی ساتھی سمیت پر اسرار انداز میں قتل کر دیئے گئے۔ قتل بھی کیسا' زندہ جلا دیا گیا اور ان کی لاشیں کار سے ملیں جو نوشہرہ فیروز کی ایک سڑک پر کھڑی تھی۔ خدا جانے یہ کس نے کیا لیکن اندرون سندھ یہ تاثر عام ہے کہ ایجنسیوں نے مارا۔ یہ تو تازہ واقعہ تھا لیکن مشرف اور اسٹیبلشمنٹ نے کراچی میں اپنے ''تزویراتی بھائی '' کی پارٹی کو جس طرح سندھیوں کو دبانے کا لائسنس دیئے رکھا' اس کی وجہ سے علیحدگی کا دم توڑتا نعرہ پھر سے توانا ہوگیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کھیل میں زرداری اسٹیبلشمنٹ کے ''پارٹنر'' بنے رہے۔ سندھیوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر آزادی حاصل نہ کی توسندھ میں وہ اقلیت بن جائیں گے اور کراچی سمیت آدھا سندھ ''بھائی '' کو دے دیا جائے گا۔ دیکھئے' تزویراتی اثاثے کو خوش کرتے کرتے پاکستان سندھ ہی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔
لیکن روس یہ آسانی سے نہیں کر سکے گا۔ اس کی سخت مزاحمت ہوگی اور ایسے واقعات ہوں گے جن کے نتیجے میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔ فی الحال تو روس کی پالیسی یہ ہے کہ وہ ا مریکہ اور یورپ کی طرف سے مزید سخت پابندیاں لگائے جانے کی صورت میں چین وغیرہ سے اتحاد کرے۔
ایسا ہوا تو بڑی مزے کی صورتحال ہوگی۔ نئے اتحاد میں سپر پاور روس نہیں' چین ہوگا اور روس کو چین کی وہ ساری شرطیں ماننا ہوں گی جن کے ماننے میں زیادہ فائدہ چین کا ہوگا روس کا کم' مثلاً روسی گیس کی بہت سستی خریداری جو اس وقت یورپ مہنگے داموں خرید رہا ہے۔ ویسے بھی چین کے سامنے روس بونا ہے۔ چین کی ڈیڑھ ارب آبادی ہے اور ہزاروں میل لمبا ساحل ہے۔ روس محض15کروڑ کی آبادی کا برفانی ساحلوں سے گھرا ہوا ملک ہے ۔ چین میں سنکیانگ' تبت وغیرہ اور روس کو کاکیشیا کی مسلمان ریاستوں میں بڑھتی ہوئی علیحدگی پسندی کا سامنا ہے اور یہ وہ دو ''کمزور'' مقامات ہیں جہاں سرد جنگ کی نئی شروعات کی صورت میں امریکہ اور یورپ کارگر وار کر سکتے ہیں۔
ایسی ہی پیش گوئی لاہور سے میٹرو کے آغاز پر بھی کی گئی تھی لیکن لاہور میں مسلم لیگ تقریباً ساری سیٹیں لے گئی اگرچہ اس کو ملنے والے دونوں کا تناسب کم ہو اور دھاندلی کا الزام سچ مانا جائے تو لاہور سے کل تین سیٹیں مسلم لیگ کے ہاتھ سے نکلیں۔
پنڈی میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ میٹرو بس سے مقبولیت کم ہوگی لیکن اتنی کم نہیں کہ لیگ ہر سیٹ پر ہار جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس بس سے امیر غریب کا فرق مٹ گیا۔ یہ فقرہ کسی نے تقریر میں لکھ دیا ہوگا ' وزیراعظم نے پڑھ دیا۔ سوچتے تو کبھی یہ بات نہ کہتے۔ اگر غریب امیر کا فرق ایک بس میں بیٹھنے سے مٹ جاتا ہے تو یہ تو کبھی کا مٹ چکا۔ ٹرین میں عام دہاڑی دار بھی سفر کرتے ہیں اور کروڑ پتی بھی۔ مزدور بھی وہی چائے پیتا ہے اور ارب پتی بھی۔ غریب بھی55روپے کلو والی چینی خریدتا ہے اور ارب پتی بھی وہی۔
سارے وسائل ایک دو منصوبوں پر لگانا بھی امانت داری کی خلاف ورزی ہے۔ صرف کرپشن ہی نہیں' غلط منصوبوں پر خزانہ اجاڑ نے سے بھی ملک تباہ ہو جاتے ہیں۔ بہرحال' نواز حکومت میں اتنا تو ہے کہ ایک کام غلط کرتی ہے تو ایک ٹھیک بھی کرتی ہے۔ فی الحال مریض کے لئے یہ خوشخبری بھی کم نہیں کہ اسے ساری دوائیں غلط نہیں دی جا رہیں۔
بہت اچھی اطلاع ہے' لیکن یہ ہوگا کیسے؟ ابھی تو اسٹیبلشمنٹ کی مہربانیوں سے بلوچستان اور سندھ کی علیحدگی کے لئے تحریکیں زور پکڑ گئی ہیں اور صوبہ خیبر کا جو حال ہے وہ تو بتانے کی ضرورت نہیں۔ برسبیل تذکرہ' سندھ میں علیحدگی کی تحریک کو ضیاء الحق مرحوم نے طاقت استعمال کئے بغیر ختم کر دیا تھا اور یہی ماجرا انہوں نے بلوچستان میں کیا جہاں ٹکّا خاں نے بھٹو دور میں قیامت خیز قتل و غارت گری کرکے اس صوبے کو علیحدگی کے کنارے کھڑا کر دیا تھا۔ کشمیر کی آزادی اور بنگلہ دیش کی واپسی تو بہت دور کی بات ہے' فی الحال تو مشرف اور کیانی کے لگائے گئے زخم مندمل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ بلوچستان اور سندھ کو وفاق پاکستان میں رکھنے کے لئے اتنا زور لگانا پڑے گا کہ سارا کس بل نکل جائے گا۔
بنگال کی واپسی کے ذکر سے یاد آیا' 1971ء کی جنگ رمضان میں چھڑی یا شاید چھڑنے والی تھی۔ مشرقی پاکستان کے ایک وزیر نے بیان دیاکہ بھارت نے حملہ کیا تو عید کی نماز کلکتہ میں پڑھیں گے۔ یہ بڑا بول تھا اور زمینی حقائق کے خلاف بھی۔ زمینی حقائق یہ تھے کہ بھارتی فوج کے سپاہی ڈھاکہ میں ہولی کھیلنے والے تھے۔ پاکستان میں بڑے بول نے ہمیشہ نقصان پہنچایا۔1965ء کی جنگ میں بہت سے اچھے جنگی ترانے بنے لیکن کسی ''ٹن'' شاعر نے ایک ایسا نغمہ بھی لکھا جو بڑے بول کے ساتھ ساتھ انسانیت کی تذلیل کا منشور بھی تھا۔ اس انسانیت سوز ترانے کے بول تھے
مہاراج ایہہ کھیڈ تلوار دی اے
جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنا نیاں دی
بڑا بول بھی اور عورتوں کی تذلیل بھی۔ عورتوں نے خود کو دی گئی اس گالی پر احتجاج اس لئے نہیں کیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے قدیم ہندوستان کا وارث ہونے کے ناطے عورتوں کو انسانی تو کجا' کبھی حیوانی حقوق دینے کے قابل بھی نہیں سمجھا۔ یہ نغمہ اثر آفرینی میں الٹا ثابت ہوا اور پاکستان کو بھارت پر ہتھیاروں کی برتری ہونے کے باوجود تکلیف دہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کارگل جو قبائلیوں نے آزاد کراکے پاکستان میں شامل کیا تھا' ہاتھ سے نکل گیا۔ بعدازاں تاشقند میں سوویت یونین نے پاکستان اور بھارت کی صلح کرائی اور پاکستان کو اپنے قریب لانے کے لئے بھارت کو مجبور کر دیا کہ وہ کارگل پاکستان کو واپس دے دے۔ کارگل مزید چھ برسوں کے لئے پاکستان کا حصہ بنا رہا پھر بھٹو نے شملہ معاہدہ کے ذریعے پاکستان کی پشت میں چھرا گھونپا اور جہاں مسئلہ کشمیر کو عوامی اصطلاح میں کھڈے لائن لگا دیا وہاں کارگل سمیت کشمیر کا وسیع رقبہ بھی بھارت کو تحفے میں دے دیا۔(ڈھاکہ کا تحفہ کافی نہیں تھا)۔ اس وقت پاکستان کے خلاف جو سازش ہوئی اس کا سرغنہ بظاہر تو یحییٰ خاں تھا لیکن اصل کردار بھٹو' ٹکا' گل حسن اور شمیم تھے۔ اسی کارگل کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف ایک اور بڑی سازش مشرف عزیز و محمود نے کی۔ یہ قصہ تو سب کے سامنے ہے۔
______________________
سندھ کا تذکرہ پھر چل نکلا ہے۔ کراچی میں شہدا مارچ سے خطاب کرتے ہوئے جسقم کے رہنما نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کو آزادی دلانے میں کردار ادا کرے۔ مارچ بہت بڑا تھا اور سوچنے کی بات ہے' سندھ میں علیحدگی کا جومطالبہ بالکل دب گیا تھا۔ پھر سے کیسے ابھرا؟ چلئے' ریل کی پٹڑیوں کو اڑانے والے گوریلے ہو سکتا ہے سارے کے سارے بھارت نے بجھوائے ہوں گے لیکن اندرون سندھ علیحدگی کے جذبات دن بدن کیوں بڑھنے لگے ہیں۔تازہ واقعہ بھی ایک وجہ ہے۔ جئے سندھ کے رہنما مقصود قریشی ساتھی سمیت پر اسرار انداز میں قتل کر دیئے گئے۔ قتل بھی کیسا' زندہ جلا دیا گیا اور ان کی لاشیں کار سے ملیں جو نوشہرہ فیروز کی ایک سڑک پر کھڑی تھی۔ خدا جانے یہ کس نے کیا لیکن اندرون سندھ یہ تاثر عام ہے کہ ایجنسیوں نے مارا۔ یہ تو تازہ واقعہ تھا لیکن مشرف اور اسٹیبلشمنٹ نے کراچی میں اپنے ''تزویراتی بھائی '' کی پارٹی کو جس طرح سندھیوں کو دبانے کا لائسنس دیئے رکھا' اس کی وجہ سے علیحدگی کا دم توڑتا نعرہ پھر سے توانا ہوگیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کھیل میں زرداری اسٹیبلشمنٹ کے ''پارٹنر'' بنے رہے۔ سندھیوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر آزادی حاصل نہ کی توسندھ میں وہ اقلیت بن جائیں گے اور کراچی سمیت آدھا سندھ ''بھائی '' کو دے دیا جائے گا۔ دیکھئے' تزویراتی اثاثے کو خوش کرتے کرتے پاکستان سندھ ہی سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔
________________________
یوکرائن کا جھگڑا تیزی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یوکرائنی حکام نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ روس مشرقی یوکرائن کے صنعتی علاقوں پر حملہ کرنے والا ہے اور روسی فوجوں کا سرحد پر بھاری اجتماع ہو رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق روس نے مشرقی یوکرائن فتح کر لیا تو اس کے بعد اگلا نشانہ وہ چھوٹے چھوٹے ساحلی ملک ہوں گے جو بالٹک ریاستیں کہلاتے ہیں اور سوویت زمانے میں روس کے زیر قبضہ تھے یعنی اسٹونیا' لٹویا اور لتھوانیا۔ ان ریاستوں کی واحد اہمیّت روس کے لئے یہ ہے کہ ان کی آزادی سے سمندر تک روس کی رسائی محدود تر ہوگئی ہے۔ روس کی یورپ کی طرف کھلے سمندر تک رسائی اس وقت ایک بہت ہی محدود اور تنگ ساحل کے ذریعے سے ہے۔ اسی ساحل پر پیٹرز برگ ( روس کا دوسرا بڑا شہر ) کی بندرگاہ ہے۔جو ایک تنگ سمندری راہداری کے سرے پر ہے ۔ان تینوں ریاستوں پر قبضہ سے اس کے ساحل میں ہزار میل سے زیادہ کا اضافہ ہو جائے گا۔لیکن روس یہ آسانی سے نہیں کر سکے گا۔ اس کی سخت مزاحمت ہوگی اور ایسے واقعات ہوں گے جن کے نتیجے میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔ فی الحال تو روس کی پالیسی یہ ہے کہ وہ ا مریکہ اور یورپ کی طرف سے مزید سخت پابندیاں لگائے جانے کی صورت میں چین وغیرہ سے اتحاد کرے۔
ایسا ہوا تو بڑی مزے کی صورتحال ہوگی۔ نئے اتحاد میں سپر پاور روس نہیں' چین ہوگا اور روس کو چین کی وہ ساری شرطیں ماننا ہوں گی جن کے ماننے میں زیادہ فائدہ چین کا ہوگا روس کا کم' مثلاً روسی گیس کی بہت سستی خریداری جو اس وقت یورپ مہنگے داموں خرید رہا ہے۔ ویسے بھی چین کے سامنے روس بونا ہے۔ چین کی ڈیڑھ ارب آبادی ہے اور ہزاروں میل لمبا ساحل ہے۔ روس محض15کروڑ کی آبادی کا برفانی ساحلوں سے گھرا ہوا ملک ہے ۔ چین میں سنکیانگ' تبت وغیرہ اور روس کو کاکیشیا کی مسلمان ریاستوں میں بڑھتی ہوئی علیحدگی پسندی کا سامنا ہے اور یہ وہ دو ''کمزور'' مقامات ہیں جہاں سرد جنگ کی نئی شروعات کی صورت میں امریکہ اور یورپ کارگر وار کر سکتے ہیں۔
________________________
شیخ رشید نے راولپنڈی میں میٹرو بس پر تبصرہ کرتے ہوئے پیش گوئی کی کہ آئندہ راولپنڈی سے مسلم لیگ (ن)کو ایک سیٹ بھی نہیں ملے۔ایسی ہی پیش گوئی لاہور سے میٹرو کے آغاز پر بھی کی گئی تھی لیکن لاہور میں مسلم لیگ تقریباً ساری سیٹیں لے گئی اگرچہ اس کو ملنے والے دونوں کا تناسب کم ہو اور دھاندلی کا الزام سچ مانا جائے تو لاہور سے کل تین سیٹیں مسلم لیگ کے ہاتھ سے نکلیں۔
پنڈی میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ میٹرو بس سے مقبولیت کم ہوگی لیکن اتنی کم نہیں کہ لیگ ہر سیٹ پر ہار جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس بس سے امیر غریب کا فرق مٹ گیا۔ یہ فقرہ کسی نے تقریر میں لکھ دیا ہوگا ' وزیراعظم نے پڑھ دیا۔ سوچتے تو کبھی یہ بات نہ کہتے۔ اگر غریب امیر کا فرق ایک بس میں بیٹھنے سے مٹ جاتا ہے تو یہ تو کبھی کا مٹ چکا۔ ٹرین میں عام دہاڑی دار بھی سفر کرتے ہیں اور کروڑ پتی بھی۔ مزدور بھی وہی چائے پیتا ہے اور ارب پتی بھی۔ غریب بھی55روپے کلو والی چینی خریدتا ہے اور ارب پتی بھی وہی۔
سارے وسائل ایک دو منصوبوں پر لگانا بھی امانت داری کی خلاف ورزی ہے۔ صرف کرپشن ہی نہیں' غلط منصوبوں پر خزانہ اجاڑ نے سے بھی ملک تباہ ہو جاتے ہیں۔ بہرحال' نواز حکومت میں اتنا تو ہے کہ ایک کام غلط کرتی ہے تو ایک ٹھیک بھی کرتی ہے۔ فی الحال مریض کے لئے یہ خوشخبری بھی کم نہیں کہ اسے ساری دوائیں غلط نہیں دی جا رہیں۔