ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 871
- ری ایکشن اسکور
- 229
- پوائنٹ
- 111
مار پیٹ اور رونا بچوں کی نشوونما کا حصہ ہے
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
بہت سے والدین اس بات پر بہت ناراض ہوتے ہیں اگر کوئی دوسرا بچہ ان کے بچے کو مارے، گرائے یا رلائے، جو کہ محض ان کی لاعلمی ہوتی ہے۔
دراصل مار کھانا، دوسرے کو مارنا، گرنا، رونا، کھیلنا کودنا، بھاگنا دوڑنا، سب بچے کی فطری تربیت اور نشوونما کا حصہ ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ترتیب دیا ہوا ہے۔ آپ دیکھیں کہ ایک بچہ صبح اٹھتا ہے اور رات دیر تک مسلسل کسی تتلی یا مکھی کی طرح تیز حرکت کرتا رہتا ہے اور تھکتا نہیں ہے، جبکہ ایک بڑا انسان اس کا دسواں حصہ بھی کرے تو اگلے دن بستر پر ہی پڑا رہے۔
یہ اس لیے تاکہ بچے کو مسلسل ورزش پر رکھا جائے، جس سے اس کے دل، دماغ، خون کا بہاؤ، پٹھوں کی مضبوطی، ہڈیوں کی نشوونما سمیت ہر چیز تیار ہو رہی ہوتی ہے۔ اسی تیاری میں ان کا گرنا، لڑنا اور مار کھانا یا مارنا بھی شامل ہے، جس سے اس کو مضبوطی ملتی ہے نہ کہ کوئی نقصان ہوتا ہے۔
یہ فطری بات ہے کہ اپنے بچے کو روتا یا مار کھاتا دیکھ کر والدین بے چین ہو جاتے ہیں، لیکن آپ اگر ٹھنڈے دماغ سے سوچیں کہ وہ دوسرا بچہ کیا کر لے گا آپ کے بچے کا؟ ہاتھ، ٹانگ یا ہڈیاں تو توڑے گا نہیں، تھپڑ یا مکہ ہی مارے گا، اور اس لڑائی کے چند منٹ بعد دونوں دوبارہ کھیل رہے ہوں گے آپس میں!
آپ نے اگر بلی پالی ہے یا شیروں چیتوں کی ڈاکومنٹریز دیکھی ہیں تو آپ کو پتہ ہوگا کہ بلی اور شیرنی خود ہی اپنے بچے کو وہ مار دیتی ہے، جو انسانوں کے بچوں کو ساتھ کھیلنے والے بچوں سے ملتی ہے۔ کیونکہ اگر بلی یا شیرنی ایسا نہ کرے تو ان کا بچہ شکاری نہیں بن سکے گا، اور زندگی بھر دوسروں پر انحصار کا محتاج ہوگا، بالفاظِ دیگر "ممی ڈیڈی" بچہ بن جائے گا۔
اس لیے اس معاملے کو ٹھنڈے دماغ سے سوچا کریں اور زیادہ جذباتی نہ ہوں۔ میں نے بچوں کے معاملے پر لوگوں میں ناراضگی اور لڑائیاں دیکھی ہیں، جو کہ افسوسناک روش ہے۔ بچوں کو بھرپور انداز میں کھیلنے دیں۔ اگر اس میں ان کے کپڑے خراب ہوتے ہیں یا وہ مٹی میں کھیلتے ہیں یا لڑتے جھگڑتے ہیں، تو اس پر سنجیدہ نہ ہوں اور بچوں کو "ممی ڈیڈی" ٹائپ نہ بنائیں۔