• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مالی کامیابی کا حقیقی راز

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
855
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
مالی کامیابی کا حقیقی راز

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

شریعت اسلامیہ نے انسان کو رزق کے اسباب اختیار کرنے، زمین میں چلنے پھرنے، تجارت کرنے اور حلال ذرائع سے مال کمانے کا حکم دیا ہے۔ شریعت اسلامیہ نہ رہبانیت کی تعلیم دیتی ہے اور نہ مال کو مطلقا مذموم قرار دیتی ہے، بلکہ مال کو ایک امانت قرار دیتی ہے جس کے متعلق بندے سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ» وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کر دیا، پس اس کے راستوں میں چلو اور اللہ کا رزق کھاؤ۔ [سورۃ الملک: 15]

اور فرمایا: «وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا» اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ [سورۃ البقرۃ: 275]

یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلام محنت، تجارت اور سرمایہ کاری کی ترغیب دیتا ہے، مگر اس کی بنیاد حلال ذرائع اور شرعی اصولوں پر ہونی چاہیے۔

معاشرے میں یہ تصور عام ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اسناد لازما مالی کامیابی کی ضمانت ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد مالی مشکلات کا شکار رہتے ہیں، جبکہ بعض کم تعلیم یافتہ لوگ کامیاب تاجر اور سرمایہ کار بن جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مالی بصیرت (Financial Literacy) ایک مستقل علم ہے، جو عام تعلیمی ڈگریوں سے مختلف ہے۔

بعض لوگ ہر وقت یہ سوچتے ہیں کہ میری ملازمت محفوظ رہے، میری تنخواہ بڑھ جائے، میرے اخراجات کسی طرح پورے ہوتے رہیں۔ جبکہ دور اندیش لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ میں ایسا کون سا حلال اثاثہ حاصل کروں جو مستقل آمدنی پیدا کرے؟، میں اپنے مال کو افراط زر سے کیسے محفوظ رکھوں؟، میں اپنی آئندہ نسلوں کے لیے جائز معاشی بنیاد کیسے قائم کروں؟

یہی سوچ مستقبل کا رخ متعین کرتی ہے۔ بہترین سرمایہ کاری وہ ہے جس کے بارے میں انسان کو علم، تجربہ اور رہنمائی حاصل ہو۔ جہالت کے ساتھ تجارت بھی نقصان دہ ہے، اور علم کے ساتھ محدود سرمایہ بھی ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

بعض لوگ ہر نئی چیز سے خوف کھاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں سرمایہ کاری خطرناک ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بغیر علم کے سرمایہ کاری خطرناک ہے، جبکہ علم کے ساتھ منصوبہ بندی انسان کو بہت سے خطرات سے بچا لیتی ہے۔

مسلمان کے نزدیک دولت صرف آسائش کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنے اہل و عیال کی کفالت، فقراء کی مدد، زکوٰۃ و صدقات، دینی خدمات اور امت کی تقویت کا ذریعہ بھی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ» نیک آدمی کے ہاتھ میں نیک مال بہت ہی عمدہ چیز ہے۔

اگرچہ دنیا میں مختلف سرمایہ کاری کے ذرائع موجود ہیں، لیکن مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سود، قمار، دھوکہ، غرر اور دیگر حرام مالی معاملات سے بچے۔ دولت میں برکت صرف اسی مال میں ہوتی ہے جو حلال طریقے سے حاصل کیا جائے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مالی کامیابی صرف اعلیٰ ڈگری، زیادہ تنخواہ کا نام نہیں، بلکہ صحیح علم، دور اندیشی، حلال تجارت، جائز سرمایہ کاری اور اللہ تعالیٰ پر توکل کے ساتھ اسباب اختیار کرنے کا نام ہے۔

جو شخص علم حاصل کرتا ہے، اپنے مال کو شریعت کے مطابق استعمال کرتا ہے، حرام ذرائع سے بچتا ہے اور اپنی دولت کو امت اور اپنے اہل و عیال کی بھلائی میں صرف کرتا ہے، وہی حقیقی کامیابی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق عطا فرمائے، ہمارے مال میں برکت دے، ہمیں سود اور ہر حرام مالی معاملے سے محفوظ رکھے، اور ہمیں اپنی شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top